’مجھے علم ہی نہیں تھا کہ میرا پارٹنر نیند کے دوران میرا ریپ کر رہا تھا‘

سٹیون اور ایڈیل اپنے تعلق کے ابتدائی دنوں میں
    • مصنف, کیرولین لو برج
    • عہدہ, ایسٹ مڈلینڈز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

انتباہ: اس تحریر میں ایسی تفصیلات موجود ہیں جو چند قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

’میری نظر میں، کم از کم اس دن سے ایک دن پہلے تک جب اس نے اعتراف کیا کہ اس نے کیا کیا تھا، یہ میری زندگی کا بہترین تعلق تھا۔‘

ایڈیل اوورٹن کے 13 سال تک بوائے فرینڈ رہنے والے سٹیون یوڈن ایک مثالی ساتھی دکھائی دیتے تھے۔

ان کی ملاقات ایک زومبی فلم کے سیٹ پر ہوئی تھی اور ان کی بہت سی دلچسپیاں مشترک تھیں۔

اوورٹن کا کہنا ہے کہ یوڈن مہربان اور محبت کرنے والے تھے اور جب وہ معذور ہو گئیں تو انھوں نے ان کی دیکھ بھال کے لیے اپنی ملازمت بھی چھوڑ دی۔

اوورٹن اپنے گھر میں صوفے پر بیٹھی ہوئی کہتی ہیں: ’وہ شاندار تھا۔ میں اس سے گہری محبت کرتی تھی، اور میرا خیال ہے کہ اب بھی کسی حد تک کرتی ہوں۔‘

اوورٹن کو یوڈن پر اعتماد تھا، لیکن یہ اعتماد اس وقت ٹوٹ گیا جب اس نے اعتراف کیا کہ وہ ان کی نیند کے دوران ان کا ریپ کرتا رہا تھا۔

اوورٹن کہتی ہیں: ’میں نے فوراً دھوکا محسوس کیا۔ اس سے پہلے میں نے کبھی کسی تعلق میں خود کو اتنا محفوظ محسوس نہیں کیا تھا۔‘

یوڈن نے اس وقت اوورٹن کی دیکھ بھال کی تھی جب وہ چھاتی کے کینسر کے علاج سے گزر رہی تھیں، لیکن بعد میں انھوں نے پولیس کو بتایا کہ یوڈن نے ان کے ساتھ اس وقت ریپ کیا جب وہ دوا کے اثر میں تھیں۔

اوورٹن کہتی ہیں: ’دھوکے کا وہ احساس، کہ میں سمجھتی تھی میں اسے جانتی ہوں، لیکن میں نہیں جانتی تھی کہ وہ کون تھا۔‘

’اور یہ سوچ کر کہ وہ 13 سال سے میرے ساتھ رہ رہا تھا، اس نے میرے بچوں کی پرورش میں مدد کی۔‘

یوڈن اب جیل میں ہے، اور اوورٹن نے امید ظاہر کی ہے کہ اپنی کہانی بیان کر کے وہ دوسروں کی مدد کر سکیں گی۔

ایڈیل اوورٹن سٹیون یوڈن کی طرف دیکھ رہی ہیں، جو کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAdelle Overton

،تصویر کا کیپشنایڈیل اوورٹن سٹیون یوڈن کی طرف دیکھ رہی ہیں، جو کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا رہے ہیں

اوورٹن اور یوڈن کی ملاقات 2009 میں ناٹنگھم میں بنائی جانے والی ایک زومبی فلم کی شوٹنگ کے دوران ہوئی، جب اوورٹن 29 اور یوڈن 27 برس کے تھے۔

یوڈن میک اپ اور اداکاری کرتے تھے جبکہ اوورٹن بھی اداکاروں میں شامل تھیں۔

اس وقت دونوں دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلقات میں تھے، لیکن دوستوں کے طور پر رابطے میں رہے۔

آخرکار 13 جنوری 2012 کو وہ ایک جوڑا بن گئے۔ اوورٹن کو یہ تاریخ اس لیے یاد ہے کیونکہ انھوں نے ’فرائیڈے دی تھرٹینتھ‘ فلموں کا میراتھن دیکھا تھا۔

اوورٹن کہتی ہیں کہ یوڈن کے ساتھ رہنا ان کے سابقہ تعلقات سے مختلف محسوس ہوتا تھا۔

وہ کہتی ہیں: ’وہ خوش مزاج اور خیال رکھنے والا تھا اور میں خود کو اس کی محبت میں محفوظ محسوس کرتی تھی۔‘

سٹیون یوڈن اور ایڈیل اوورٹن زومبی کے لباس میں

،تصویر کا ذریعہAdelle Overton

،تصویر کا کیپشنسٹیون یوڈن اور ایڈیل اوورٹن زومبی کے لباس میں

ان کی ملاقات غیر روایتی انداز میں ہوئی تھی اور ان کی مشترکہ زندگی بھی غیر روایتی تھی۔

وہ ایک کمپنی کے لیے پیشہ ور زومبی کے طور پر کام کرتے تھے۔

زومبی کا کردار ادا کرنے کے لیے جسمانی سرگرمی درکار تھی، لیکن 2017 میں ایہلرز ڈینلوس سنڈروم کی تشخیص کے بعد اوورٹن کو یہ کام چھوڑنا پڑا۔

2018 کے آغاز میں یوڈن ان کے دیکھ بھال کرنے والے بن گئے۔

وہ کہتی ہیں: ’وہ تقریباً ہر کام میرے لیے کرتے تھے۔‘

ماضی پر نظر ڈالتے ہوئے، اوورٹن، جنھیں ’ڈیل‘ بھی کہا جاتا ہے، سمجھتی ہیں کہ یوڈن کچھ حد تک قابو پانے والے رویے اختیار کرنے لگے تھے۔

وہ کہتی ہیں: ’وہ دوسروں کو یہ بتانے میں لطف محسوس کرتے تھے کہ میں کیا کر سکتی ہوں اور کیا نہیں۔‘

’اگر کوئی کسی سرگرمی کی تجویز دیتا تو وہ اکثر کہتے، 'میرا خیال نہیں کہ ڈیل یہ سنبھال پائے گی، آئیے کچھ اور سوچتے ہیں۔‘

اوورٹن کے مطابق یوڈن ان کے دوستوں اور خاندان کو ایک مثالی ساتھی دکھائی دیتے تھے۔

ایڈیل اور اسٹیون

،تصویر کا ذریعہAdelle Overton

لیکن اوورٹن اب جانتی ہیں کہ یوڈن کا رویہ ان کے تصور سے کہیں زیادہ خوفناک تھا۔

انھیں پہلی بار 2020 میں شک ہوا جب وہ چھاتی کے کینسر کے لیے کیموتھراپی کروا رہی تھیں۔

وہ کہتی ہیں: ’مجھے نہیں معلوم کہ میرے جسم کی بے آرامی زیادہ نمایاں تھی یا نہیں، لیکن میں اس دوران جاگ گئی جب وہ یہ کر رہا تھا۔‘

’اس نے بہت سے بہانے بنائے، جیسے ’میں نے سمجھا تم جاگ رہی ہو اور تم بالکل ویسی ہی آوازیں نکال رہی تھی جیسے کوئی جاگتا ہوا شخص نکالتا ہے۔‘

’میں اس تمام دباؤ کے بارے میں سوچ رہی تھی جس سے ہم گزر رہے تھے، اور وہ کہہ رہا تھا کہ یہ غلطی سے ہوا۔‘

اسی لیے اوورٹن نے اپنی تشویش کو نظر انداز کر دیا۔

وہ کہتی ہیں: ’شاید جھوٹ پر یقین کرنا اس حقیقت کا سامنا کرنے سے آسان تھا کہ سچ کیا ہو سکتا تھا۔‘

ایڈیل اوورٹن اپنے گھر میں صوفے پر بیٹھی ہوئی

لیکن اوورٹن کو سونے میں دشواری ہونے لگی۔

وہ کہتی ہیں: ’میرے دماغ میں کہیں نہ کہیں مجھے سوتے وقت خود کو محفوظ محسوس نہیں ہوتا تھا۔‘

اوورٹن کا کہنا ہے کہ انھیں یوڈن کے ساتھ قربت میں بھی مشکل پیش آنے لگی اور ماضی میں جنسی استحصال کے تجربے سے متعلق ڈراؤنے خواب بڑھ گئے۔

وہ کہتی ہیں: ’اس وقت میں سمجھتی تھی کہ میں اسے اپنے ماضی کے صدمے سے جوڑ رہی ہوں، اور اسی وجہ سے میں اس کے کیے کو زیادہ سختی سے دیکھ رہی ہوں۔

’میں خود کو قصوروار محسوس کرنے لگی اور اندر ہی اندر خود کو ملامت کرتی رہتی تھی۔‘

یوڈن کا اعتراف

یوڈن نے پانچ سال بعد، 2025 میں، اس وقت اعتراف کیا جب وہ خود آنتوں کے کینسر کا علاج کروا رہا تھا۔

اوورٹن کہتی ہیں: ’میرا خیال ہے کہ یہ بات اس کے ذہن پر بوجھ بنی ہوئی تھی، کیونکہ اب وہ دوسری طرف سے وہ سب دیکھ رہے تھے جس سے میں گزری تھی۔

’وہ بار بار یہ بات کرتا کہ اس نے علاج کے دوران میری اچھی طرح دیکھ بھال نہیں کی تھی۔‘

اس سے اوورٹن کو پانچ سال پہلے کا وہ لمحہ یاد آ گیا جب وہ جاگیں اور یوڈن کو اپنے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے ہوئے پایا۔

وہ کہتی ہیں: ’میں نے اس پر دباؤ ڈالا۔ ’تمھارا کیا مطلب ہے؟ کس لحاظ سے تم نے میری اچھی دیکھ بھال نہیں کی؟‘

سٹیون یوڈن کی گرفتاری کے بعد ڈربی شائر پولیس کی جانب سے لی گئی تصویر

،تصویر کا ذریعہDERBYSHIRE POLICE

،تصویر کا کیپشنسٹیون یوڈن کی گرفتاری کے بعد ڈربی شائر پولیس کی جانب سے لی گئی تصویر

اوورٹن کے مطابق دو دن پر مشتمل اس گفتگو کے دوران کسی وقت یوڈن نے ایک دوست کو فون کیا اور اپنے کیے کا اعتراف کیا، پھر گھر واپس آ کر اوورٹن کے سامنے بھی سب کچھ تسلیم کر لیا۔

اوورٹن ماضی کے جنسی استحصال کے حوالے سے پہلے ہی گروپ تھیراپی لے رہی تھیں اور اگلے سیشن میں انھوں نے یہ بات بتائی۔

وہ کہتی ہیں: ’ایک کونسلر نے مجھے جھنجھوڑ کر حقیقت کا احساس دلایا۔ میں مسلسل رو رہی تھی اور کہہ رہی تھی، ’میں کیا کروں؟ میں اسے یہ سب دوبارہ کرنے سے کیسے روکوں؟‘

’اس نے کہا، ’اسے گھر سے نکالو اور پولیس کو فون کرو۔‘

’انھوں نے بتایا کہ وہ خود بھی پولیس سے رابطہ کریں گے۔ اس وقت مجھے اندازہ ہو گیا کہ معاملہ اب میرے ہاتھ میں نہیں رہا۔‘

ڈیٹیکٹو سارجنٹ ایلنور کرٹن کا کہنا ہے کہ اوورٹن کی بہادری نے دیگر خواتین کے تحفظ میں مدد دی۔

 ڈیٹیکٹو سارجنٹ ایلنور کرٹن، رپلی میں ڈربی شائر کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر کے اندر۔
،تصویر کا کیپشنڈیٹیکٹو سارجنٹ ایلنور کرٹن کا کہنا ہے کہ اوورٹن کی بہادری نے دیگر خواتین کے تحفظ میں مدد دی
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ مقدمہ ڈربی شائر پولیس کی ڈیٹیکٹو سارجنٹ ایلنور کرٹن کے سپرد کیا گیا۔

وہ کہتی ہیں: ’میں نے سب سے پہلے ایڈیل سے رابطہ کیا۔ ظاہر ہے کہ جو کچھ ہوا تھا اس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی اذیت میں تھیں۔‘

اوورٹن سے انٹرویو کے بعد پولیس نے یوڈن کو گرفتار کر لیا۔

ایلنور کہتی ہیں: ’جب میں نے اس سے پوچھ گچھ کی تو اس نے فوراً اعتراف کر لیا۔ اس نے فوراً تسلیم کیا کہ اس نے ان کے ساتھ ریپ کیا تھا، جو ہماری تحقیقات میں بہت غیر معمولی بات ہے کہ معاملہ اتنی جلدی اس مرحلے تک پہنچ جائے۔‘

یوڈن پر دو الزامات عائد کیے گئے، جنھیں اس نے بعد میں عدالت میں قبول کر لیا، اور اسے چھ سال آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

کرٹن کہتی ہیں کہ اوورٹن کے اقدامات نے دیگر خواتین کے تحفظ میں مدد دی ہے۔

وہ مزید کہتی ہیں: ’ان کی بہادری اور ثابت قدمی کی وجہ سے ہم بہت سے دوسرے لوگوں کو محفوظ بنا سکے جن کے ساتھ یہ شخص ممکنہ طور پر ایسے جرائم جاری رکھ سکتا تھا۔‘

’اگر کسی کو لگتا ہے کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہو رہا ہے تو میں انھیں ضرور ترغیب دوں گی کہ وہ ہم سے بات کریں، کیونکہ ہم مدد کر سکتے ہیں، اور یہ مقدمہ اس بات کا ثبوت ہے۔‘

اوورٹن کا کہنا ہے کہ یوڈن کو سوئی ہوئی خواتین میں 'دلچسپی' تھی

،تصویر کا ذریعہAdelle Overton

،تصویر کا کیپشناوورٹن کا کہنا ہے کہ یوڈن کو سوئی ہوئی خواتین میں 'دلچسپی' تھی

لیکن اوورٹن اب بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ 13 سال تک محبت کرنے والا ساتھی ان کی نیند کے دوران ان کا ریپ کیوں کرتا رہا۔

وہ کہتی ہیں: ’میں نہیں سمجھتی کہ کوئی شخص ایسے فرد سے لطف کیسے حاصل کر سکتا ہے جو کوئی ردعمل ہی نہ دے رہا ہو۔

’میں نہیں جانتی اسے کیسے بیان کروں، اسے سوئی ہوئی خواتین میں دلچسپی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ میں سوئی رہوں اور مجھے معلوم نہ ہو کہ وہ کیا کر رہا ہے۔‘

اوورٹن کو شبہ ہے کہ یوڈن انھیں ان ہی کی دوائیں دے کر ضرورت سے زیادہ غنودگی میں رکھتا تھا، کیونکہ دواؤں پر مکمل اختیار اسی کا تھا۔

وہ کہتی ہیں: ’میرے پاس گولیوں کے چھوٹے ڈبے ہوتے تھے اور وہ میری تمام دوائیں نکال کر تیار کر دیتا تھا۔

’اب میں دیکھتی ہوں کہ سکون آور دوا دوسری دواؤں کے مقابلے میں کہیں کم بچتی تھی، اس لیے مجھے مضبوط شبہ ہے کہ وہ مجھے زیادہ مقدار دیتا تھا تاکہ میں سوتی رہوں۔‘

کرٹن کا کہنا ہے کہ پولیس کی اصطلاح میں یہ ایک ’تاریخی مقدمہ‘ تھا، اس لیے فرانزک اور ٹاکسی کولوجی یہ ثابت نہیں کر سکتے تھے کہ ایسا ہوا تھا یا نہیں۔

مزید یہ کہ عدالت میں اس بارے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

تاہم یوڈن نے پولیس کو بتایا کہ اس نے ایک موقع پر اوورٹن کے ساتھ اس وقت ریپ کیا تھا جب وہ کیموتھراپی کروا رہی تھیں، جس کے باعث انسان زیادہ تھکا ہوا ہوتا ہے۔

کرٹن کہتی ہیں: ’میرا خیال ہے کہ اس نے خود یہ بات اٹھائی تھی کہ وہ کیموتھراپی کروا رہی تھیں، اور وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ اس موقع پر وہ دوا کے اثر میں تھیں۔‘

شاری اوورٹن کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی والدہ پر پر فخر ہے
،تصویر کا کیپشنشاری اوورٹن کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی والدہ پر پر فخر ہے

اگرچہ یوڈن پر دو مواقع پر ریپ کا الزام عائد کیا گیا تھا، اوورٹن کا خیال ہے کہ ایسا اس سے زیادہ مرتبہ ہوا۔

اوورٹن کہتی ہیں: ’اس نے مجھے بتایا تھا کہ وہ سات یا آٹھ بار ایسا کر چکا تھا۔‘

ان کی بیٹی شاری اوورٹن کہتی ہیں کہ یہ دیکھنا مشکل رہا ہے کہ یوڈن کے جرائم نے ان کی والدہ پر کیا اثر ڈالا۔

شاری کہتی ہیں: ’وہ اب بہت مختلف ہیں۔ میں دیکھ سکتی ہوں کہ ان کا اعتماد بہت کم ہو گیا ہے۔‘

’مجھے ان پر بے حد فخر بھی ہے کہ انھوں نے اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا، پولیس اور عدالت سے بات کی اور اپنے لیے آواز اٹھائی۔‘

اوورٹن امید کرتی ہیں کہ ان کی کہانی دوسرے کمزور اور محتاج افراد کو یہ دکھائے گی کہ انھیں ان لوگوں کے ہاتھوں بدسلوکی برداشت کرنے کی ضرورت نہیں جو خود کو ان کا نگہبان کہتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں: "’مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مجھے بولنا چاہیے، کیونکہ اس سے میں یہ سوچنے پر مجبور ہوئی کہ کتنے معذور افراد ایسے حالات میں ہوں گے جہاں کسی اور کو ان پر اختیار حاصل ہو۔‘

’جب مجھے حقیقت کا پتا چلا تو چند ماہ تک میں یہ سوچتی رہی کہ شاید یہ اس کی دیکھ بھال کی کوئی قیمت تھی۔ شاید میں اس قربت کی مقروض تھی۔‘

نوٹ: اگر آپ اس کہانی میں بیان کیے گئے کسی مسئلے سے متاثر ہوئے ہیں تو بی بی سی ایکشن لائن کے ذریعے مدد دستیاب ہے۔