100 فٹ طویل سرخ قالین، فوجی اعزازات اور ٹرمپ کا غیرمعمولی استقبال: شی جن پنگ کا امریکی دورہ کیوں اہم ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 23 ستمبر 2026 کو میری لینڈ، امریکہ میں جوائنٹ بیس اینڈریوز پہنچنے پر چینی صدر شی جن پنگ کا استقبال کرتے ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, برنڈ ڈیبوسمین جونیئر
    • مقام, اینڈریوز ایئر فورس بیس
    • مصنف, نارڈین سعد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کا واشنگٹن میں ہونے والے تین روزہ سربراہی اجلاس کے آغاز پر غیر معمولی اعزاز کے ساتھ استقبال کیا، جہاں فوجی فلائی اوور کا مظاہرہ کیا گیا اور 100 فٹ طویل سرخ قالین بچھایا گیا۔

ایک غیر معمولی سفارتی اقدام کے تحت ٹرمپ خود ہوائی اڈے پر چینی صدر کے خیرمقدم کے لیے پہنچے۔ اس موقع پر امریکی فضائیہ کا بینڈ رن وے پر مارچ کر رہا تھا جبکہ امریکہ اور چین کے قومی پرچم فضا میں لہرائے جا رہے تھے۔

ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے بدھ کی شام ریاست میری لینڈ میں واقع جوائنٹ بیس اینڈریوز پر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کا استقبال کیا۔

2015 کے بعد شی جن پنگ کے واشنگٹن کے پہلے دورے کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ توقع ہے کہ تین روزہ سربراہی اجلاس کے دوران دونوں رہنما ملاقاتیں کریں گے، سرکاری عشائیے میں شرکت کریں گے اور مصنوعی ذہانت، ایران سے متعلق کشیدگی، تائیوان کے مسئلے اور امریکہ چین تجارتی جنگ بندی میں توسیع سمیت کئی اہم عالمی اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (دائیں) 23 ستمبر 2026 کو میری لینڈ میں جوائنٹ بیس اینڈریوز پہنچنے پر چینی صدر شی جن پنگ کا استقبال کرتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیہ 2015 کے بعد شی کا واشنگٹن کا پہلا دورہ ہے

چینی صدر شی جن پنگ مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بج کر 39 منٹ پر ایئر چائنا کے خصوصی طیارے میں اینڈریوز ملٹری بیس پہنچے۔ ان کی آمد سے قبل اعزازی دستے نے طیارے کی جانب مارچ کیا اور سرخ قالین کے دونوں جانب صف بندی کر لی، جبکہ دو لموزین گاڑیاں بھی موقع پر لا کر کھڑی کی گئیں۔

شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان طیارے سے اترے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں اور ان کی اہلیاؤں نے مصافحہ کیا، مختصر گفتگو کی اور پھر سرخ قالین پر ساتھ چلتے ہوئے تصاویر بنوائیں۔

استقبالی تقریب کے دوران امریکی قومی ترانہ بجایا گیا، جبکہ آرمی ایئر فورس بینڈ نے دھن پیش کی۔ اسی موقع پر دو بی-1 بمبار طیاروں نے فضائی مظاہرہ کرتے ہوئے تقریب کے مقام کے اوپر سے پرواز کی۔ یہ سپرسونک طیارے امریکی فضائی طاقت اور اس کے سٹریٹجک عسکری اثاثوں کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

خیرسگالی کے تبادلے کے بعد دونوں رہنما اپنی اپنی گاڑیوں میں واشنگٹن روانہ ہو گئے۔

یہ 1962 کے بعد پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی صدر نے ذاتی طور پر کسی غیر ملکی رہنما کا اینڈریوز ملٹری بیس پر استقبال کیا ہو۔ اس سے اس دورے کی اہمیت اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چین کے ساتھ مذاکرات کو دی جانے والی ترجیح کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس سے قبل 1962 میں صدر جان ایف کینیڈی نے برطانوی وزیر اعظم ہیرالڈ میک ملن کا اسی نوعیت کا استقبال کیا تھا۔

اسی روز امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا کہ امریکہ اور چین اپنی تجارتی جنگ بندی میں جنوری تک توسیع پر متفق ہو گئے ہیں۔ یہ معاہدہ، جس کے تحت امریکہ نے بعض چینی مصنوعات پر عائد محصولات میں نرمی کی تھی جبکہ چین نے نایاب زمینی معدنیات کی برآمدات سے متعلق کچھ پابندیاں نرم کی تھیں، 10 نومبر کو ختم ہونے والا تھا۔

چینی نائب وزیر اعظم ہی لی فنگ سے ملاقات کے بعد سکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ دونوں فریقوں نے مستقبل میں ایک زیادہ جامع اور دیرپا تجارتی معاہدے کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

چین کے رہنما شی جن پنگ اور چینی خاتونِ اول پینگ لی یوان جوائنٹ بیس اینڈریوز پہنچنے پر ایئر چائنا کے بوئنگ طیارے سے اترتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہEPA

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا میں شائع ہونے والے ایک تحریری بیان میں چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں عظیم قومیں ہیں اور ان کے عوام بھی عظیم ہیں۔

انھوں نے زور دیا کہ ’دونوں ممالک کو حریفوں کے بجائے شراکت دار ہونا چاہیے۔‘

اُدھر امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انھوں نے شی جن پنگ کے دورے کے پروگرام کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ فاکس نیوز سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود ہوائی اڈے جا کر چینی صدر کا استقبال کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ’بہت اچھے تعلقات‘ ہیں۔

شی جن پنگ کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا چینی وفد بھی امریکہ پہنچا ہے، جس میں کمیونسٹ پارٹی کی پولٹ بیورو قائمہ کمیٹی کے رکن اور شی کے قریبی ساتھی چائی چی، نائب وزیر اعظم ہی لی فنگ، وزیر خارجہ وانگ یی اور دیگر سینیئر حکام شامل ہیں۔

شنہوا میں شائع بیان میں شی نے کہا کہ ’چینی قوم کی عظیم نشاۃ ثانیہ اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کا خواب ایک ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں، ایک دوسرے کو تقویت دے سکتے ہیں اور دنیا کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔‘

انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ ان کا یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مثبت پیش رفت اور ’ثمر آور نتائج‘ کا باعث بنے گا۔

تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا چینی صدر اپنے ساتھ کسی بڑے کاروباری وفد یا نمایاں کاروباری شخصیات کو بھی لائے ہیں یا نہیں۔ مبصرین کے مطابق چینی کمپنیوں کی امریکہ میں ممکنہ سرمایہ کاری یا موجودگی، بیجنگ کی صنعتی سبسڈیز، تجارتی پالیسیوں اور اضافی پیداواری صلاحیت سے متعلق دیرینہ امریکی تحفظات کو دوبارہ موضوعِ بحث بنا سکتی ہے۔

اس کے برعکس، گذشتہ مئی میں صدر ٹرمپ کے بیجنگ دورے کے دوران کئی بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان ان کے ہمراہ تھے، جن میں ایپل کے ٹِم کُک، ٹیسلا کے ایلون مسک اور این ویڈیا کے جینسن ہوانگ شامل تھے۔

رپورٹس کے مطابق جمعرات کو ہونے والی سرکاری ضیافت میں امریکی مصنوعی ذہانت کی صنعت کی کئی نمایاں شخصیات کی شرکت متوقع ہے، جبکہ شی جن پنگ کا دورہ جمعے کو اختتام پذیر ہوگا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور چین مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ صدر ٹرمپ حالیہ مہینوں میں صنعت کے بعض ماہرین کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے متعلق انتباہات کو ’فریب‘ قرار دے چکے ہیں، جبکہ دونوں ممالک اس اہم ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شی جن پنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بش چائنا فاؤنڈیشن کے نائب صدر ڈیوڈ فائرسٹین کے مطابق صدر ٹرمپ اس ملاقات کے دوران تجارت اور محصولات سے متعلق مزید پیش رفت کے خواہاں ہوں گے۔ ان کی ترجیحات میں امریکی مصنوعات پر عائد چینی ٹیرف میں کمی، چین سے نایاب زمینی معدنیات کی فراہمی میں اضافہ اور امریکی زرعی مصنوعات کی برآمدات کے لیے بہتر رسائی حاصل کرنا شامل ہے۔

تاہم بعض اشارے یہ بھی ملے ہیں کہ بیجنگ امریکی زرعی اجناس کی خرید بڑھانے اور امریکہ کو مزید نایاب زمینی معدنیات فراہم کرنے سے متعلق سابقہ وعدوں پر مکمل طور پر عملدرآمد کے لیے آمادہ نہیں۔

فائرسٹین کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ کو تائیوان کے لیے امریکی کانگریس سے منظور شدہ 14 ارب ڈالر مالیت کے اسلحہ پیکج کو مزید مؤخر کرنے یا منسوخ کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ امریکہ اور چین کے درمیان اقتصادی اور تجارتی روابط کو مزید گہرا کرنے پر بھی زور دے سکتے ہیں۔

فائرسٹین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ دونوں ممالک کے تعلقات میں برسوں سے زیرِ بحث آنے والے وہی بنیادی مسائل ہیں، تاہم اس مرتبہ فضا نسبتاً مختلف دکھائی دیتی ہے۔

ان کے بقول، ’اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اور چین کے تعلقات میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ استحکام پایا جاتا ہے اور گذشتہ سال کے مقابلے میں غیر یقینی صورتحال بھی کم نظر آ رہی ہے۔‘

امریکہ اور چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

شی جن پنگ کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ میں چین کے بارے میں عوامی رائے نسبتاً نرم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

شکاگو کونسل آن گلوبل افیئرز کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 41 فیصد امریکی چین کے علاقائی عزائم کو امریکہ کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں، جبکہ 2022 میں یہ شرح 52 فیصد تھی۔

سروے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ 57 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ واشنگٹن کو بیجنگ کے ساتھ تعاون اور رابطے برقرار رکھنے چاہییں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رجحان امریکی سیاست کے مختلف دھڑوں میں دیکھا جا رہا ہے۔

خود کو ’میگا‘ تحریک سے وابستہ نہ سمجھنے والے ریپبلکن ووٹروں میں 57 فیصد چین کے ساتھ تعاون کے حامی ہیں، جبکہ معتدل اور لبرل ڈیموکریٹس کی اکثریت بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتی ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ کے پُرجوش حامیوں کی اکثریت، یعنی 63 فیصد، چین کے ساتھ تعلقات کو محدود کرنے کے حق میں ہے۔ یہ مؤقف شی جن پنگ کے لیے ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے گرمجوش اور غیر معمولی استقبال سے کسی حد تک مختلف دکھائی دیتا ہے۔

سفارتی سرگرمیوں کے علاوہ خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے اپنی چینی ہم منصب پینگ لی یوان کے لیے سمتھسونین نیشنل میوزیم آف ایشین آرٹ کے خصوصی دورے کا بھی اہتمام کیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کو اجاگر کرنا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ تاریخی دورہ نیشنل آرکائیوز کی عمارت میں اختتام پذیر ہوگا، جہاں ٹرمپ اور شی اپنے اپنے شریکِ حیات کے ہمراہ اہم تاریخی دستاویزات کا مشاہدہ کریں گے۔ ان ریکارڈز میں وہ دستاویزات بھی شامل ہیں جنھیں امریکہ اور چین کے تعلقات کی تاریخ میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔