توہینِ مذہب کے مقدمے میں سزائے موت کے خلاف اپیل پر چھ برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید حفیظ جیل میں ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘

Junaid Hafeez
،تصویر کا کیپشنجنید حفیظ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں انگلش کے لیکچرار تھے
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 3 منٹ

لاہور ہائیکورٹ نے منگل کے روز توہینِ مذہب کے کیس میں سزائے موت پانے والے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی (ملتان) کے سابق لیکچرار جنید حفیظ کی سزا کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کرتے ہوئے الیکٹرانک شواہد کی قانونی حیثیت پر استغاثہ سے دلائل طلب کر لیے ہیں۔

جنید حفیظ نے اپنی سزائے موت کے خلاف اپیل نو جنوری 2020 کو لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی تھی اور آج لگ بھگ چھ سال بعد اس پر پہلی باقاعدہ سماعت ہوئی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صادق محمود خرم اور جسٹس جواد ظفر پر مشتمل بینچ نے سماعت کے دوران استغاثہ کو جنید حفیظ کے خلاف الیکٹرانک شواہد پر درخواست گزار (جنید) کے وکلا اور عدالت کو مطمئن کرنے کی ہدایت کی ہے۔

جنید حفیظ کے وکیل اسد جمال کے مطابق اُن کے مؤکل کے لیپ ٹاپ اور فون کا فارنزک معائنہ نہیں کروایا گیا تھا اور ایسے میں ان ڈیوائسز میں موجود کسی بھی مواد کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔

اسد جمال نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ منگل کو عدالت میں اس اپیل پر اچھی ’پیشرفت‘ ہوئی ہے۔

جنید حفیظ کی قانونی ٹیم میں شامل وکیل سیف الملوک نے بی بی سی کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ وہ اپیل کی سماعت کے حوالے سے ’پُرامید‘ ہیں کیونکہ اس کیس پر بہت عرصے بعد سماعت ہوئی ہے۔

جنید حفیظ کے خاندان کے ایک فرد نے بی بی سی اردو کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ: ’ہمیں بہت امید ہے کیونکہ اتنے عرصے بعد بالآخر اس اپیل پر سماعت ہوئی ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے اس لیے بھی پرامید ہیں کیونکہ ’اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے، یہ بوگس کیس ہے۔‘

جب اُن سے جنید حفیظ کی صحت کے بارے میں پوچھا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ ’ہماری ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ ہم کتابیں وغیرہ لے کر جاتے ہیں، کھانا دے آتے ہیں۔ وہ پرامید ہیں مگر بہت تنہا ہیں۔‘

جنید حفیظ کو سزائے موت کیوں ہوئی تھی؟

Junaid Hafeez

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور سے تعلق رکھنے والے جنید حفیظ ملتان کی بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی میں بطور وزٹنگ لیکچرار تعینات تھے۔ انھوں نے فل برائٹ سکالرشپ کے تحت امریکہ میں اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی تھی۔

سنہ 2013 میں اُن کے خلاف مذہبی دل آزاری والے کلمات ادا کرنے اور سوشل میڈیا پر مذہبی دل آزاری پر مبنی تبصرے کرنے کے الزام میں توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

سکیورٹی خدشات کے باعث اس مقدمے کی سماعت ملتان کی سینٹرل جیل میں ہوتی تھی۔

اس کیس میں جنید حفیظ کے پہلے وکیل راشد رحمٰن تھے جنھیں سات مئی 2014 کو اُن کے چیمبر میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ راشد کی ہلاکت کے بعد جنید حفیظ کا کیس لینے والے دوسرے وکیل بھی اس کیس کی پیروی سے دستبردار ہو گئے تھے جبکہ اس کیس کی پیروی کرنے والے تیسرے وکیل نے بھی دھمکیاں ملنے کا دعویٰ کیا تھا۔

جنید حفیظ کے خلاف 15 گواہوں کی شہادتیں اور بیانات ریکارڈ کا حصہ بنائے گئے تھے جبکہ اس مقدمے میں 11 گواہوں کے بیانات کو غیر ضروری قرار دے کر کر دیا گیا تھا۔ استغاثہ کی جانب سے بیانات ریکارڈ کروانے والوں میں یونیورسٹی کے دیگر اساتذہ، طالبعلم اور پولیس اہلکار شامل تھے۔

انتہائی حساس حالات کی وجہ سے اس مقدمے کا ٹرائل ملتان سنٹرل جیل میں ہوا تھا اور 21 دسمبر 2019 کو اس کیس کا فیصلہ بھی ملتان جیل ہی میں سنایا گیا تھا۔

جنید حفیظ کے مقدمے کی شنوائی کے دوران آدھ درجن سے زیادہ جج بھی تبدیل ہوئے تھے جس کے باعث اس کیس نے طوالت اختیار کی۔

دوران سماعت جنید حفیظ کے وکلا نے اپنے مؤکل کی بے گناہی کے حق میں دلائل دیے تھے۔

اس کیس میں 12 دسمبر 2019 کو محفوظ کیا گیا فیصلہ 21 دسمبر 2019 کو سنایا گیا، جس میں عدالت نے جنید حفیظ کو سزائے موت کا حکم دیا تھا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے مذہبی منافرت پھیلانے کے دیگر الزامات ثابت ہونے پر جنید حفیظ کو عمر قید اور علیحدہ سے دس سال قید کا بھی حکم سنایا تھا اور اُن پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔

فیصلہ سنائے جانے کے بعد جنید حفیظ کے خاندانی ذرائع کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ انھوں نے اس کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

اہلخانہ کی جانب سے نو جنوری 2020 کوسیشنز کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ میں اپیل دائر کی گئی، تاہم اگلے برس اس اپیل کو لاہور منتقل کر دیا گیا۔

وکلا کے مطابق گذشتہ چھ سال کے وقفے کے بعد اب منگل کے روز اس اپیل پر پہلی باقاعدہ سماعت ممکن ہو سکی ہے۔