’انتہائی معمولی چیرا اور جسم پر کوئی نشان نہیں‘: فسٹیولا کے پیچیدہ آپریشن کو روبوٹک سرجری نے کیسے آسان بنایا؟

روبوٹک سرجری
    • مصنف, آسیہ انصر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

فسٹیولا کا آپریشن پہلے ایک انتہائی پیچیدہ عمل تھا لیکن اب روبوٹک سرجری نے اسے اب مریضوں کے لیے کم تکلیف دہ اور ڈاکٹروں کے لیے نسبتاً آسان بنا دیا ہے۔

سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی(ایس آئی یو ٹی) کی ڈاکٹر پروفیسر شیریں پیار علی فسٹیولا سے متاثرہ مریضوں کی سرجری کرتی ہیں اور بی بی سی اردو نے ان سے گفتگو کر کے روبوٹک سرجری کے بارے میں جاننے کی کوشش کی ہے۔

وہ اس سرجری کے عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتی ہیں: ’فسٹیولا کی روبوٹک سرجری سے مریضوں کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس عمل کے دوران کوئی بڑا چیرا نہیں بلکہ ایک سے دو سینٹی میٹر کے دو سے تین چھوٹے چیرے لگتے ہیں۔‘

’روبوٹ کی مدد سے بآسانی جسم کی اس جگہ پر فوراً پہنچا جاتا ہے جہاں سرجن کو کام کرنا ہے، زیادہ خون نہیں بہتا اور دوسرے دن مریضہ پیشاب کی نلکی کے ساتھ گھر چلی جاتی ہے اور اپنے معمولات زندگی شروع کر دیتی ہے۔‘

پاکستان میں ہزاروں خواتین فسٹیولا جیسے طبی مسئلے کا سامنا کرتی ہیں۔ فسٹیولا ایک ایسی کیفیت ہے، جس میں مثانے، آنت یا دیگر اعضا کے درمیان غیر معمولی راستہ بن جاتا ہے، جس کے نتیجے میں متاثرہ خواتین پیشاب یا فضلے پر اختیار کھو سکتی ہیں اور جسمانی، نفسیاتی و سماجی مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔

وی وی ایف یعنی ’وزائکو وجائنل فسٹیولا‘ مثانے اور بچہ دانی کے نچلے حصے کے درمیان بن جانے والا راستہ ہے اور اس حالت میں پیشاب مثانے سے مستقل رِستا ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق ’فسٹیولا بن جانے پر مریض کی کوششوں کے باوجود پیشاب مسلسل بہتا رہے گا، وہ رکے گا نہیں اور اس کا حتمی علاج سرجری ہے۔‘

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ فسٹیولا کی بڑی وجوہات میں زچگی کے دوران پیچیدگیاں، کم عمری میں ماں بننا، بچہ دانی کی سرجری، ریڈیو تھیراپی اور بعض طبی حادثات شامل ہیں۔ تاہم بروقت تشخیص اور سرجری کے جدید طریقوں، خصوصاً روبوٹک سرجری نے اس بیماری کے آپریشن کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر اور آسان بنا دیا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تاہم تمام آسانیوں کے باوجود بدقسمتی سے اب بھی پاکستان میں نہ صرف فسٹیولا کے مرض کے بارے میں آگاہی کی کمی ہے بلکہ فرسودہ روایات اور سماجی دباؤ کے باعث متاثرہ مریض اس کیفیت کو عموماً ایک عرصے تک نہ صرف اسے چھپاتی ہیں بلکہ اس جھجک کے باعث بروقت علاج سے بھی محروم رہتی ہیں۔

ڈاکٹر شیریں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’روبوٹک سرجری میں مریض کے جسم پرسرجری کا کوئی نشان نہیں آتا، معمولی سے چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں، جس سے انسٹرومنٹ ڈالے جاتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ بھی مندمل ہو جاتا ہے۔ اگر مریضہ کا صبح آپریشن کیا جائے تو وہ شام میں اپنے گھر واپس جا سکتی ہیں۔‘

دوسری جانب ان کے مطابق روبوٹک سرجری سے ڈاکٹرز کے لیے بھی یہ آسانی ہے کہ ’جس آپریشن میں سات سے آٹھ گھنٹے لگتے تھے، اس میں اب ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ لگتا ہے اور ان کی طبی صلاحیتیں بھی بہترین ہو گئی ہے۔‘

اس رپورٹ میں ہم نہ صرف فسٹیولا کی وجوہات، علامات کے ساتھ ساتھ اس کے جدید طریقہ علاج یعنی روبوٹک سرجری کے حوالے سے بتائیں گے، بلکہ ان خواتین کی بات چیت بھی شامل کریں گے جو روبوٹک سرجری کی بدولت دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے میں کامیاب ہوئیں۔

’اب ہر کام کر سکتی ہوں‘

روبوٹک سرجری

ایس آئی یو ٹی میں جب ڈاکٹر شیریں ہم سے بات کر رہی تھیں، تو اس دوران ان کے کچھ مریض بھی چیک اپ کے لیے موجود تھے۔

ان ہی میں 40 سالہ عشرت بھی شامل تھیں، جن کا دو ماہ قبل روبوٹ کی مدد سے فسٹیولا کا آپریشن ہوا تھا اور اب وہ اپنے روٹین کے معائنے کے لیے موجود تھیں اور کافی مطمئن نظر آ رہی تھیں۔

یاد رہے کہ فسٹیولا سے متاثرہ خواتین ایک مسلسل اذیت سے گزرتی ہیں، جس میں ان کا پیشاب پر سے کنٹرول ختم ہوجاتا ہے اور وہ غیر اختیاری طور پر بہتا رہتا ہے۔

عشرت بتاتی ہیں کہ ’میری ماہواری بند نہیں ہوتی تھی۔ پھر دوا لینی ہوتی تھی جس کے بعد خون آنا بند ہوتا۔ پھر ڈاکٹر نے بچہ دانی نکالنے کا مشورہ دیا، نجی ہسپتال میں آپریشن ہوا تو اندر کٹ لگ گیا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’پیشاب نہیں رکتا تھا۔ بستر بھی خراب اور کپڑے بھی خراب۔ میں کسی سے مل نہیں سکتی تھی، آنا جانا بند ہو گیا۔ اب یہاں جب سرجری کروانے کے بعد پیشاب پر مکمل کنٹرول ہو گیا ہے۔‘

انھوں نے بیماری کے وقت کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’24 گھنٹے میں پیمپر پہنتی تھی۔ کہیں جا نہیں سکتی تھی اور نہ ہی کسی کے ساتھ بیٹھ نہیں سکتی تھی۔‘

’اس سے پہلے ڈیڑھ سال تک میں نے مختلف جگہوں سے علاج کروایا مگر کوئی فرق نہیں پڑا۔ میں ایک ہفتہ ایس آئی یو ٹی میں داخل رہی اور اب الحمداللہ ٹھیک ہوں۔ اس آپریشن کے بعد نماز پڑھ لیتی ہوں، کھانا بنانا اور تمام کام خود کر لیتی ہوں۔‘

’ڈلیوری کے لیے غلط آلات کا استعمال اور کم عمری میں ماں بننا فسٹیولا کی بڑی وجہ‘

خواتین کو جسمانی، جذباتی اور نفسیاتی طور پر شدید دباؤ اور اذیت سے گزارنے والا فسٹیولا کیسے بنتا ہے اور اس کی عام علامات کیا ہیں؟ اس سوال کا جواب ہمیں دیا ڈاکٹر اسد شہزاد نے، جو ایس آئی یو ٹی کے شعبہ یورولوجی کے سربراہ ہیں۔

ڈاکٹر اسد کے مطابق دو مختلف اعضا کے درمیان بننے والا راستہ یا سوراخ فسٹیولا کہلاتا ہے۔

ان کے مطابق ’دو مختلف اعضا کے درمیان یا ایک عضو اور جسم کے اوپری حصے میں کوئی سوراخ بن جائے یا راستہ بن جائے تو یہ فسٹیولا بن جاتا ہے۔ خواتین کے مثانے اور وجائنا یعنی بچہ دانی کے نچلے حصے کے درمیان راستہ یا سوراخ بن جائے، تو اسے فسٹیولا کہا جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر اسد اس کو بیماری نہیں بلکہ ’حادثہ‘ کہتے ہیں اور ان کے مطابق یہ حادثہ کب پیش آتا ہے، اس کے کچھ عوامل ہیں۔

ان کے مطابق ’ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گھروں کے اندر کسی تربیت یافتہ عملے یا ڈاکٹر کی نگرانی میں بچے کی پیدایش نہیں ہو رہی بلکہ دائیوں یا روایتی ہیلتھ ورکرز کے ذریعے ڈیلیوری ہو رہی ہے تو وہ ایسے آلات استعمال کرتے ہیں جو کہیں نہ کہیں سوراخ بنا دیتے ہیں اور اس سے فسٹیولا بن جاتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’دوران پیدائش پیچیدگی یہ ہوتی ہے کہ مثانے کی پوزیشن اور بچہ دانی کا نچلا حصہ دونوں قریب آ جاتے ہیں اور ان کے درمیان خون کی سپلائی کسی دباؤ کے تحت رک جاتی ہے۔ یہ دباؤ بچے کے سر کی پوزیشن کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو کافی دنوں تک خون کا دورانیہ رکا رہتا ہے اور طبی پیچیدگی کے باعث آخر کار دو مختلف اعضا کے درمیان راستہ یعنی فسٹیولا بن جاتا ہے۔‘

روبوٹک سرجری روایتی طریقہ کار سے کیسے مختلف ہے؟

روبوٹک سرجری

ڈاکٹر اسد کے مطابق روبوٹ ایک ٹول ہے، جو ڈاکٹر کی اپنی صلاحیت کو بہترین بناتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مثلاً طویل آپریشن کے دوران تھکن کی وجہ سے میرے ہاتھ لرز جائیں اور میں اس روبوٹ کا سہارا لوں تو وہ لرزہ میرے کام پر اثر انداز نہیں ہو گا۔

’یوں سمجھ لیں کہ روبوٹ یا مشین اس کمزوری کو دور کر دیتے ہیں۔‘

ان کے بقول ’وہ مشین تھکتی نہیں ہے، اس مشین کا ویژن انسانی آنکھ سے دُگنا ہے، تو اگر میں اس کا کنسول یا سکرین پر بیٹھ کر سرجری کرتا ہوں تو مجھے ہر چیز 10 گنا زیادہ بڑی نظر آتی ہے۔‘

اس روبوٹ کی مزید خصوصیات بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’اس کے اندر تھری ڈائمینشنز نظر آتی ہیں، تو یہ ٹول ہر طرح سے ہماری سرجری میں مدد دیتا ہے۔‘

ڈاکٹر اسد
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر اسد کے مطابق جسم پر لگا چیرا جسم کی اس سطح کو کمزور کر دیتے ہیں۔ جبکہ ماڈرن طریقے سے علاج میں مریض جلد اپنے کام اور معمولات زندگی میں آ سکتا ہے۔

تو یہاں سوال اُٹھتا ہے کہ روایتی طور پر بڑے کٹ لگا کر کی جانے والی سرجری اور روبوٹک سرجری میں فرق کیا ہے؟

اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر اسد نے کہا کہ ’روبوٹک طریقے سے کی جانے والی سرجری کے لیے مریضہ کو صرف 12 گھنٹے کے لیے ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے اور جسم پر کوئی نشان بھی نہیں بنتا، جبکہ روایتی طریقے کی سرجری میں اگر مریض کو کوئی پیچیدگی کا سامنا نہ بھی ہو تو تین دن ہسپتال میں رہنا ہوتا ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’اس کے بعد ڈریسنگ اور ٹانکوں کو ٹھیک ہونے میں مزید 10 سے 12 دن لگتے ہیں اور اس دورن مریضہ اس قابل نہیں ہوتیں کہ وزن اٹھائیں یا کوئی کام کر سکیں۔‘

ان کے مطابق جسم پر لگنے والا چیرا جسم کی سطح کو کمزور کر دیتا ہے، جبکہ جدید طریقے سے علاج میں مریض جلد اپنے کام اور معمولات زندگی کی طرف آ سکتا ہے۔

کس عمر کی خواتین علاج کے لیے آتی ہیں؟

ایس آئی یو ٹی سے منسلک ڈاکٹر شیریں پیار علی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فسٹیولا سے متاثرہ چھوٹی عمر کی بچیاں اور بڑی عمر کی خواتین دونوں ہی ہسپتال کا رُخ کرتی ہیں۔

’16 یا 17 سال کی کم عمر بچیاں، جن کی نئی نئی شادی ہوئی ہوتی ہے اور بڑی عمر کی ایسی خواتین جن کو بچہ دانی کے آپریشن کے بعد یہ مسئلہ ہو جاتا ہے۔ ‘

’ہم ان خواتین کی جب سرجیکل ہسٹری دیکھتے ہیں، مثلاً جن لڑکیوں کو دوران ڈیلیوری کوئی نہ کوئی پیچیدگی آتی ہے، جس میں چاہے نارمل ڈیلیوری ہو یا سی سیکشن کے دوران دباؤ کا بڑھنا، خون کا زیادہ اخراج یا کوئی دیگر پیچیدگی۔زچگی کے دوران یا اگر بڑی عمر کی خواتین جنھیں یوٹریس کے مسئلے کی وجہ سے سرجری کروانی پڑی ہو یا بچہ دانی کے اردگرد کینسر بن جانے کے سبب کوئی آپریشن ہوا ہو تو وہ فیسٹولا جیسے مسئلے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔‘

ڈاکٹر شیریں کے مطابق جتنے بھی مثانے اور وجائنا کے درمیان فسٹیولا بننے کے مریض ان کے پاس آتے ہیں ان کا علاج سرجری ہی ہوتی ہے۔

’اگر کوئی مریضہ ایسی ہو جس کی کسی دوسرے ادارے سے سرجری ہوئی ہو اور فیسٹولا بن جانے کے کچھ ہی ہفتوں کے اندر وہ یہاں آ جائیں تو ہم انھیں پیشاب کی نلکی لگاتے ہیں تاکہ مثانے کا ٹشو ٹھیک ہو جائے۔ ان کو میڈیسن دیتے ہیں مگر یہ حتمی علاج نہیں۔ کچھ مریض ابتدائی طور پر ٹھیک ہو جاتی ہیں، لیکن اس کا مکمل علاج سرجری ہی ہوتا ہے اور خواتین کی اکثریت سرجری سے ہی ٹھیک ہوتی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ایس آئی یو ٹی میں سب سے پہلے ادیب رضوی نے 1982 میں اوپن میتھڈ سے سرجری کی تاہم پھر اس میں تبدیلیاں آتی رہیں۔

’شروع میں چیرا لگا کے پیٹ کا آپریشن کیا جاتا تھا، مریضہ کو چلنے پھرنے سے منع کیا جاتا تھا، پیشاب کی نلکی لگی ہوتی تھی اور اس کے کئی دن بعد ہسپتال سے چھٹی ہوتی تھی اور اس کے بعد بھی پیچیدگیاں سامنے آتی تھیں۔‘

ان کے مطابق ’آہستہ آہستہ یہ ٹرینڈ بدل کر انویسیو سرجری (Invasive Surgery) یا جدید سرجری کی طرف جانے لگا، جس کا مقصد یہ ہے کہ مریض کے فائدے کے لیے جتنا ہو سکے بڑے چیرے سے بچا جا سکے تاکہ وہ جلد از جلد صحت مند ہو کر گھر جائے اور اس کی تکلیف بھی جلد سے جلد کم ہو۔‘

’فیسٹولا کے آپریشن میں ٹرانس ویجائنل سرجری بھی کی گئی، یعنی زچگی کی جگہ سے آپریشن کیا جاتا ہے اس کے فائدے یہ ہیں کہ خون بہنے کا امکان کم ہوتا ہے اور مریض جلد صحت مند ہوتا ہے۔

’اگر ایسے مریض ہوتے ہیں جن کے فسٹیولا زیادہ بڑے ہوتے ہیں، انھیں نیچے سے اپروچ نہیں کیا جا سکتا تو اس میں پھر ہم چیرا لگانے کے بجائے روبوٹ سے سرجری کرتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ انویسیو سرجری ایسی جراحی کارروائی ہے، جس میں جسم کے اندر پہنچنے کے لیے جلد پر چھوٹا سا سوراخ کیا جاتا ہے یا کسی قدرتی جسمانی راستے کے ذریعے اندر داخل ہوا جاتا ہے۔ اس سے مریض جلد صحتیاب ہوتا ہے۔

علامات اور وجوہات

پیلوک فلور مسلز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

پاکستان میں فسٹیولا سے متاثرہ کتنی حواتین ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر شیریں نے عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ آج بھی تقریباً 10 سے 20 فیصد تک خواتین میں یہ مسئلہ عام ہے اور ان میں بڑی تعداد ان خواتین کی بھی ہے جن تک طبی امداد نہیں پہنچ پاتی۔

ان کے مطابق پاکستان میں اس کیسز کی رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے درست اعداد و شمار تو موجود نہیں، تاہم اس کے باوجود خواتین کی ایک بڑی تعداد اس عارضے میں مبتلا ہو جاتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’فسٹیولا کی وجوہات کو اگر عموماً دیکھا جائے تو امریکہ اور کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں زچگی کے دوران فسٹیولا بننے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ وہاں ماں اور بچے کی پیدائش اور صحت کے حوالے سے انفراسٹرکچر بہت اچھا موجود ہے۔‘

ان کے مطابق ’ہمارے ہاں زچگی کے دوران جو پیچیدگیاں ہوتی ہیں ان کی وجہ سے بننے والے فیسٹولا عام ہیں۔ تاہم ایسی خواتین جن کا کسی بھی وجہ سے یوٹرس نکالا جاتا ہے، اس سرجری کے دوران بھی ایسے پیچیدگی ہو جاتی ہے کہ فسٹیولا بن جاتا ہے۔‘

’فیسٹولا کئی وجوہات کی بنا پر بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی سرجری یا علاج میں ریڈی ایشن تھراپی شامل ہو تو ٹشوز کے درست طور پر مندمل نہ ہونے سے بھی فیسٹولا بن جاتا ہے۔ تاہم زچگی کے دوران مناسب طبی نگہداشت نہ ہونے کی وجہ سے فیسٹولا کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آتے ہیں۔‘

فسٹیولا بننے کے حادثے سے کیسے بچا جائے

فسٹیولا کا علاج
،تصویر کا کیپشنماہرین کے مطابق زچگی کے دوران درست طریقے سے ہینڈلنگ نہ کرنے کی وجہ سے سب سے یادہ فیسٹولا بنتے ہیں

ڈاکٹر شیریں کے مطابق فسٹیولا میں جس طریقے سے بھی سرجری کی جائے اس میں کامیابی کا چانس بہت زیادہ ہوتا ہے۔

’اگر ٹشو ہیلننگ صحیح نہ ہو اور پوسٹ آپریشن نگہداشت اچھی نہ کی جائے تو اس میں دوبارہ بھی مسئلہ ہو سکتا ہے تاہم اس کا ریشو کم ہے۔‘

ان کے مطابق ایس آئی یو ٹی میں کراچی سمیت چاروں صوبوں، کشمیر یہاں تک کے افغانستان اور ایران تک سے خواتین فسٹیولا کے علاج کے لیے آتی ہیں اور جب یہ صحت یاب ہو کر واپس جاتی ہیں تو ہم ڈاکٹرز ان کو زندگی کی جانب لوٹتا دیکھ کر اپنے اندر بھی اطمینان محسوس کرتے ہیں۔

دوسری جانب اس سے بچاؤ کے حوالے سے ڈاکٹر اسد نے تجویز کیا کہ ’اگر مائیں بچے کی پیدائش سے پہلے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں تو وہ یہ پتا چل سکتا ہے کہ مریضہ آگے چل کر کسی پیچیدگی کا شکار تو نہیں ہو سکتیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اگر بچے کی ولادت سے پہلے چیک اپ اور ولادت سے قبل بروقت ہسپتال پہنچ سکیں تو فسٹیولا بننے کے حادثے سے بچا جا سکتا ہے۔‘

سرجری کے بعد صحت یاب ہونے والی عشرت کا چھوٹا بیٹا اب چھ سال کا ہے۔ اب وہ اپنے علاقے میں خواتین کی صحت کے حوالے سے آگاہی بھی دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں عورتیں اس بیماری سے ڈریں نہیں بلکہ جلد از جلد علاج کی جانب رجوع کریں تاکہ صحت مند ہو کر معمولات زندگی گزار سکیں۔