’سگریٹ اور شراب دے کر سیکس کا مطالبہ کیا جاتا تھا‘: آکسفورڈ میں گرومینگ گینگ کا شکار ہونے لڑکیوں کی کہانی

- مصنف, پینوراما ٹیم، لیان ہیمن اور ایسیلا ہاکی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
انتباہ: اس خبر میں جنسی تشدد کی تفصیلات شامل ہیں۔
برطانیہ میں آکسفورڈ شہر کے ایک گرومینگ گینگ کی جانب سے جنسی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اُن مردوں کو شہر میں گھومتے پھرتے دیکھتی ہیں جنھیں اُن کے مبینہ جرائم کی پاداش میں انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔
متاثرین میں شامل سارہ نامی خاتون نے بی بی سی کے پروگرام پینوراما کو بتایا کہ ’دکان، پیٹرول سٹیشن، ریستوران۔۔ ہر وہ جگہ جس کا آپ تصور کر سکتے ہیں، وہاں آپ کو ایسا آدمی نظر آئے گا جس نے کچھ کیا ہو۔‘
سارہ اور دو دیگر متاثرہ خواتین کو یقین ہے کہ ’سینکڑوں مجرم اب بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔‘
آکسفورڈ میں گرومینگ گینگز سے متعلق ابتدائی تحقیقات کی قیادت کرنے والے ایک سابق پولیس جاسوس بھی اس بات سے متفق ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ سارہ (جن کا نام ہم نے تبدیل کر دیا ہے) اور ایک دوسری خاتون نے عوامی طور پر اس بارے میں بات کی ہے کہ اُن کے ساتھ کیا ہوا تھا۔
1990 اور 2010 کی دہائیوں کے دوران کئی برطانوی قصبوں اور شہروں میں مردوں کے گروہوں کی جانب سے کم عمر لڑکیوں کو جنسی استحصال اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان علاقوں میں روتھرم، روچڈیل، ٹیلفورڈ اور آکسفورڈ شامل ہیں۔
آکسفورڈ اُن مقامات میں سے ایک تھا جہاں زیادہ تر مجرموں کی شناخت پاکستانی نژاد عمر رسیدہ مردوں کے طور پر ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعض معاملات میں جیسے روتھرم میں، پولیس پر یہ الزام لگا تھا اس نے نسلی تعصب کے دعوؤں سے بچنے کے لیے کارروائی میں ہچکچاہٹ دکھائی۔ تاہم آکسفورڈ میں ایک سنگین نوعیت کے کیس کے جائزے میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔
اب حکومت نے یہ جاننے کے لیے ایک قومی تحقیقاتی عمل شروع کیا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز میں کمزور اور غیر محفوظ بچوں کو تحفظ کیوں نہیں دیا گیا۔ اس میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ آیا لڑکیوں کے بارے میں رویوں یا مجرموں کی نسل نے ان ناکامیوں میں کردار ادا کیا تھا۔
’اُنھیں ہمیشہ جیل میں رہنا چاہیے کیونکہ اُنھوں نے مجھ سے میری زندگی چھین لی ہے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سارہ کا کہنا ہے کہ 11 سال کی عمر سے اُن پر جنسی تشدد کیا گیا اور اُنھیں ہیروئن دی جاتی رہی۔ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد تین مرد اُس وقت مجرم قرار پائے جب سارہ نے عدالت میں اُن کے خلاف گواہی دی۔
سنہ 2020 میں ان تین افراد کو پانچ سے 24 سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔
لیکن سارہ کے لیے یہ بہت کم اور بہت دیر سے ہونے والا انصاف تھا۔ وہ اپنی زندگی کے اکثر حصے میں منشیات کی لت سے لڑتی رہی ہیں اور جیل بھی جا چکی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں اُنھیں ہمیشہ کے لیے جیل میں رہنا چاہیے کیونکہ اُنھوں نے مجھ سے میری زندگی چھین لی ہے۔‘
ایک اور متاثرہ خاتون کلوئی (جن کا نام تبدیل کیا گیا) کہتی ہیں کہ وہ بھی اپنے علاقے میں ماضی میں ان پر جنسی تشدد کرنے والوں کو دیکھتی رہتی ہیں۔
بہت سی دیگر متاثرین کی طرح اُنھوں نے بھی پولیس کے تحقیقاتی عمل میں شامل ہونے سے گریز کیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ مشکل ہے کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں میں رہتی ہوں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں میں بڑی ہوئی۔ ایسے چند لوگ ہیں جنھیں میں کئی بار دیکھ چکی ہوں، حتیٰ کہ سپر مارکیٹ میں یا گاڑی چلاتے ہوئے بھی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ اُنھیں دیکھ کر اُن کی طبیعت ’خراب‘ ہو جاتی ہے اور وہ بُرا محسوس کرتی ہیں۔
ایک تیسری خاتون ریچل (جن کا نام تبدیل کیا گیا) 12 سے 15 سال کی عمر کے درمیان جنسی تشدد کا نشانہ بنیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان مردوں میں سے بہت سے اب بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔
وہ سنہ 2013 میں آکسفورڈ گرومینگ گینگ کے ارکان کے پہلے مقدمے میں اہم گواہ تھیں جس میں سات مردوں کو مجرم قرار دیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں انکشاف ہوا تھا کہ شہر میں آٹھ سال کے عرصے کے دوران چھ لڑکیوں کا جنسی استحصال کیا گیا، انھیں انسانی سمگلنگ کا شکار بنایا گیا اور ان کا ریپ کیا گیا۔
تاہم بعد کی کارروائیوں میں مزید کئی متاثرین کی نشاندہی ہوئی اور سنہ 2015 میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ 370 سے زیادہ لڑکیاں متاثر ہوئی تھیں۔
ریچل کہتی ہیں کہ برسوں تک پولیس اُن کی بات پر یقین نہیں کرتی تھی جب وہ اُنھیں بتاتی تھیں کہ اُن کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔
وہ اور دوسری خواتین کہتی ہیں کہ تحقیقات اس قدر آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔
تھیمز ویلی پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ فورس ان ہولناک جرائم میں ملوث مجرموں کی تحقیقات اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے انتھک محنت کرتی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ’سامنے آنے کے لیے کبھی بھی بہت دیر نہیں ہوتی۔ فورس متاثرین، زندہ بچ جانے والوں اور اُن کے خاندانوں کی بات سنے گی اور اُن کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔‘

جنسی تشدد اور منشیات کی لت میں قید
سارہ کہتی ہیں کہ ان کا جنسی استحصال کرنے والوں کی طرف سے دی جانے والی سگریٹوں میں ہیروئن بھی شامل ہوتی تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میری پوری زندگی کی لت کی بنیاد وہی سگریٹیں تھیں جو وہ ہمیں دیتے تھے۔‘
پینوراما سے بات کرنے سے پہلے اُنھوں نے منشیات استعمال نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور انھیں کیس ورکر کی مدد میسر رہی تھی۔
سارہ کا کہنا ہے کہ جن مردوں نے اُنھیں سگریٹ اور شراب دی بعد میں انھوں نے ہی کہا کہ وہ اب اُن کی مقروض ہیں اور رقم کی واپسی کے بدلے انھیں سیکس کرنا ہو گا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’وہ کہتے تھے آپ پر ہمارا اتنا پیسہ واجب الادا ہے، تو آپ کو یہ کرنا پڑے گا۔‘
’وہ کہتے تھے یہ پیو، وہ پیو۔ یہاں تک کہ میں قے کرنے لگتی اور بیمار ہو جاتی۔ اُن گھروں میں رہنا اور خود کو قید محسوس کرنا۔ وہ ہمیں بند کر دیا کرتے تھے۔‘
’پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک، دو، چھ، سات لوگ آ جاتے تھے۔‘
ریچل بھی 12 سال کی عمر سے جنسی تشدد اور منشیات کی لت کے ایک چکر میں قید ہو گئی تھیں۔ اُنھیں دوسرے قصبوں اور شہروں میں لے جایا جاتا تھا جہاں مرد ان کے ساتھ سیکس کے لیے گرومینگ گینگز کو رقم ادا کرتے تھے۔
ریچل کا کہنا ہے کہ آکسفورڈ میں ایک پولیس افسر نے بھی اُن سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن انھوں نے کبھی اس واقعے کو رپورٹ نہیں کیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے کاؤلی روڈ پر ایک پولیس وین کے پچھلے حصے میں بٹھایا گیا تھا اور وہاں دو مرد افسر تھے۔ اُن میں سے ایک نے کہا ’ہم جانتے ہیں، تم کس قسم کی ہو‘۔
پھر اُس نے ان سے اورل سیکس کا مطالبہ کیا۔
اگرچہ آکسفورڈ گرومینگ گینگ سے تعلق کے الزام میں اب تک مجموعی طور پر 21 مرد مجرم قرار دیے جا چکے ہیں تاہم ریچل کہتی ہیں کہ بہت سے مجرموں کو کبھی نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
’بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کسی نہ کسی درجے میں اس میں ملوث تھے اور بچوں کے جنسی استحصال میں شامل ہونے کے باوجود اپنی زندگیاں معمول کے مطابق گزار رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کلوئی آکسفورڈ گرومینگ گینگ کا شکار بننے والی ایسی خاتون ہیں جنھیں انصاف نہیں ملا۔
اب تک وہ صرف چند لوگوں کو بتا پائی ہیں کہ 13 سال کی عمر سے اُن کے ساتھ کیا ہوا تھا۔
اُن کی کہانی کئی متاثرین کی کہانیوں سے ملتی جلتی ہے۔ یہ مرد اُن سے دوستی کرتے ہیں، اُن کے اخراجات اٹھاتے ہیں، اُنھیں شراب دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ وہ مقروض ہیں جس کے بعد انھیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اب 30 سال سے زیادہ عمر کی کلوئی یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’وہ ہمیں لینے آتے اور گاڑی میں کوئی عمر رسیدہ اجنبی آدمی ہوتا، پھر مثال کے طور پر ہم کسی فلیٹ میں جاتے۔‘
جب اُن سے پوچھا گیا کہ فلیٹ میں کیا ہوتا تھا تو اُنھوں نے کہا کہ ’ہمیشہ کی طرح وہی۔ وہ ہمیں ریپ کرتے تھے۔‘
سابق سینیئر جاسوس سائمن مورٹن نے آکسفورڈ میں گرومینگ گینگ کے خلاف ابتدائی تحقیقات کی قیادت کی تھی۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ابتدا میں وہ خود اور اُن کی فورس یہ سمجھنے میں ناکام رہی کہ کیا ہو رہا تھا۔
مورٹن کہتے ہیں کہ ’اس میں شامل لوگوں کی تعداد چونکا دینے والی ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ اُن کے خیال میں اس نوعیت کے کیسز اب بھی آکسفورڈ میں ’یقیناً‘ جاری ہیں۔
’ہم نے مرکزی گروہ تک رسائی حاصل کی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مزید لوگ نہیں ہیں۔‘
’میں چاہتا ہوں کہ سب کو سزا ملے، لیکن شناخت کرنا انتہائی مشکل ہے۔ لڑکیوں کو اکثر منشیات دی جاتی تھیں، انھیں فرش پر رکھے گدے والے کمرے میں پھینک دیا جاتا تھا اور پھر ساری رات اور سارا دن مردوں کی آمد و رفت جاری رہتی تھی۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ انھیں خواتین کی باتوں پر یقین تھا ’لیکن ایک سال بعد کسی متاثرہ خاتون کو عدالت میں لا کر کھڑا کرنا ایک الگ بات ہے۔ جب وہ ان تمام حالات سے گزر چکی ہو اور پھر بار بار اُن زخموں کو دوبارہ کھولنا پڑے۔‘

جن خواتین سے ہم نے بات کی وہ آج بھی اُن واقعات کے نتائج کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔
سارہ کہتی ہیں کہ ’میں اپنے بچوں کے لیے جذباتی طور پر موجود نہیں رہی کیونکہ میں خود اپنے لیے جذباتی طور پر موجود نہیں ہوں۔‘
کلوئی کہتی ہیں کہ ماں بننے نے ’مجھے یہ احساس دلایا کہ اُنھوں نے جو کیا وہ کتنا بیمار ذہنیت کا حامل عمل تھا۔‘
’اس نے سب کچھ دوبارہ زندہ کر دیا۔ میں مستقبل کے بارے میں بہت گھبراہٹ محسوس کرتی ہوں اور یہ کہ میں اپنی بیٹی کی زندگی کو کیسے محفوظ رکھ سکوں گی۔‘
ریچل کے لیے یہ تاثر کہ تمام مجرموں کو جیل بھیج دیا گیا ہے اور انصاف ہو چکا ہے ’حقیقت میں جو کچھ ہوا اس کی عکاسی نہیں کرتا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ اس پیمانے کی کوئی چیز دوبارہ کبھی نہ دہرائی جائے۔‘
’یہ ایک دور کا سب سے بڑا سکینڈل ہے۔‘




















