اسلام آباد میں تین سالہ سکینہ کے مبینہ ریپ اور قتل کا ملزم گرفتار: ’فوٹیج میں بچی کا بہنوئی ہی اُسے ساتھ لے جاتا نظر آیا‘

Islamabad rape

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجھنگی سیداں اسلام آباد کا پسماندہ علاقہ ہے جہاں رہنے والوں کی اکثریت محنت مزدوری کرتی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک، محمد زبیر خان
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے تین سالہ بچی کے قتل کے الزام ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر تین سالہ بچی کی لاش وفاقی دارالحکومت کے علاقے جھنگی سیداں کے قریب ایک برساتی نالے سے برآمد کر لی ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ بچی کو مبینہ ریپ کے بعد قتل کیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تین سالہ بچی سکینہ ملزم کی سالی ہے۔ ملزم کی شادی ڈیڑھ برس قبل بچی کی بڑی بہن سے ہوئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرکے اس سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

ایس پی انڈسٹریل ایریا ڈاکٹر ایاز حسین نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ سکینہ کے گمشدگی کا واقعہ 22 ستمبر (منگل) کو دن دو بجے کے قریب پیش آیا تھا۔ اس واقعے کی ایف آئی آر بچی کی والدہ (ملزم کی ساس) کی مدعیت میں درج کی گئی تھی۔

والدہ نے پولیس کو بتایا کہ اُن کی تین سالہ بیٹی سکینہ دن دو بجے کے لگ بھگ باہر گلی میں کھیل رہی تھی مگر جب انھوں نے تھوڑی دیر بعد چیک کیا تو بچی گلی میں موجود نہیں تھی۔

والدہ کے مطابق اہلخانہ کے پہلے اپنے طور پر بچی کی تلاش کا آغاز کیا مگر کوئی کامیابی نہیں ہوئی جس کے بعد پولیس سے رابطہ کیا گیا۔

والدہ نے اس خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہ اُن کی بیٹی سکینہ کو کسی نے اغوا کر لیا ہے، پولیس سے اسے تلاش کرنے کی درخواست کی۔

ایس پی انڈسٹریل ایریا ڈاکٹر ایاز حسین کے مطابق اسلام آباد کے نواحی علاقے جھنگی سیداں میں واقع یہ آبادی ایک پسماندہ علاقہ ہے جہاں کے زیادہ تر مکین محنت مزدوری کرتے ہیں اور ملک کے دوسرے شہروں سے آ کر یہاں آباد ہوئے ہیں۔

اُن کے مطابق اس علاقے کے مکین زیادہ تر لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے اپنا روزگار کماتے ہیں اور لاپتہ ہونے والی بچی کی والدہ بھی لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں۔

ملزم کی گرفتاری کیسے عمل میں آئی؟

islamabad girl alleged rape and murder

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ڈاکٹر ایاز حسین کے مطابق چونکہ یہ پسماندہ علاقہ ہے اس لیے یہاں گھروں کے باہر سی سی ٹی وی کیمرے نہیں لگے ہوئے جس کی وجہ سے پولیس کو تین سالہ سکینہ کو تلاش کرنے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔ اُن کے مطابق دن دو بچے لاپتہ ہونے والی بچی کی اطلاع پولیس کو رات 11 بجے کے قریب دی گئی تھی۔

مقامی پولیس کے مطابق علاقہ کے لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی اور بچی کی تلاش کے لیے مجموعی طور پر سات ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔

ڈاکٹر ایاز کا کہنا تھا کہ پولیس کی دیگر ٹیمیں اس آبادی کے قریب سنسان مقامات پر تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے تھیں۔ ’ہمارا خیال یہ تھا کہ بچی کم عمر ہے، اس لیے وہ زیادہ دور نہیں جا سکتی، ہمارا یہ بھی خیال تھا کہ بچی اپنے کسی جان پہچان والے فرد کے ساتھ ہی گئی ہو گئی۔‘

ڈاکٹر ایاز حسین کے مطابق شمس ٹاؤن، جو کہ جھنگی سیداں کا قریبی علاقہ ہے، میں ایک کمپوٹر سائنس کے پروفیسر کے گھر کے باہر کیمرے لگے تھے۔

انھوں نے کہا کہ اس کیمرے کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا تو لاپتہ بچی اس میں نظر آئی۔

ڈاکٹر ایاز کا کہنا تھا کہ یہ سی سی ٹی وی دن دو بجکر پندرہ منٹ کی تھی۔ اس سی سی ٹی وی میں بچی سکینہ ایک 23، 24 سالہ نوجوان کا ہاتھ پکڑ کر گلی سے گزر رہی تھی۔

اُن کے مطابق جب سی سی ٹی وی میں موجود افراد کی شناخت کروائی گئی تو بتایا گیا کہ سکینہ کے ساتھ موجود نوجوان کاشف ہے، جو کہ بچی کا بہنوئی ہے۔

ان کے مطابق آبادی کے قریب ویران علاقوں میں بچی کو تلاش کرنے کے عمل کے دوران ملزم بھی پولیس کی ٹیم کے ساتھ رہا اور ابتدائی طور پر پولیس کو اُس پر شک اس لیے نہیں گزرا۔

مقامی پولیس کے مطابق فوٹیج کی موجودگی میں جب ملزم سے پوچھ گچھ کی گئی تو وہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔

انھوں نے کہا کہ جو سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کو موصول ہوئی اس میں ملزم نے پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی جبکہ بچی کی تلاش کے عمل کے دوران ملزم شلوار قمیض میں ملبوس تھا۔

ڈاکٹر ایاز حسین کا دعویٰ ہے کہ جب ملزم سے مزید پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے اعتراف کیا کہ اُس نے اپنی سالی سکینہ کو مبینہ طور پر ریپ کرنے کے بعد اسے گلہ گھونٹ کر قتل کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر جب سکینہ کی لاش کو برآمد کروانے کے لیے لے جایا گیا، تو وہاں تین سالہ بچی کی میت برہنہ حالت میں موجود تھی۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی تفتیش میں ملزم نے بتایا کہ اس نے بچی کو اس خوف سے مارا کہ کہیں وہ گھر جا کر بتا نہ دے۔

ایس پی انڈسٹریل ایریا کے مطابق ملزم نے ازار بند جائے وقوعہ کے قریب پڑی ہوئی ایک پرانی شلوار سے نکالا تھا اور اُسی کی مدد سے بچی کو گلے میں پھندا ڈال کر ہلاک کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ملزم کی نشاندہی پر پولیس نے وہ پینٹ شرٹ بھی برآمد کر لی ہے جو وقوعہ کے وقت اس نے پہن رکھی تھی جبکہ سکینہ کا پوسٹ مارٹم کروانے کے بعد لاش کو ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ملزم اور ہلاک ہونے والی بچی کا ڈی این اے اور دیگر نمونے فرانزک کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والا ملزم چند ماہ قبل جھنگی سیداں منتقل ہوا تھا اور فی الحال کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا جبکہ ملزم کے بیوی (سکینہ کی بڑی بہن) گھروں میں کام کاج کرکے روزی کماتی ہے۔

تھانہ نون پولیس کے مطابق بچی کے گمشدگی کے مقدمے میں اب قتل کی دفعات کا بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

’سکینہ بہت لاڈلی تھی‘

تین سالہ سکینہ کے نانا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اُن کی بیٹی (ملزم کی ساس) بیوہ ہیں، جن کے شوہر کی وفات تقریباً دو برس قبل ہوئی تھی۔

نانا نے بتایا کہ اُن کی بیوہ بیٹی نے اپنی بڑی بیٹی کی شادی ملزم سے کچھ عرصہ قبل کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ شوہر کی غیرموجودگی میں وہ ہی اپنے بیٹی اور اپنے نواسے نواسیوں کی دیکھ بھال کرتے تھے اور جب ان کی بڑی نواسی کا ملزم کے ساتھ رشتہ آیا تو وہ بہت خوش ہوئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ سکینہ اُن کی سب سے چھوٹی نواسی تھی اور جب اُس (سکینہ) کی والدہ بچی کو دوسروں کے گھر کام کاج پر ساتھ لے جاتی تھیں تو کئی گھر والے اس بات کو محسوس کرتے تھے، چنانچہ بعد میں اُن کی بیٹی نے اُن کی نواسی (سکینہ) کو ساتھ لے جانا چھوڑ دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’سکینہ بہت اچھی بچی تھی اور بہت لاڈلی تھی۔ میں گھنٹوں اس کے ساتھ کھیلتا تھا۔‘

انھوں نے حکام سے اپیل کی انھیں انصاف فراہم کیا جائے۔