10 سالہ سارہ شریف کے قتل میں سزا کاٹ رہے عرفان شریف پر لندن کی جیل میں حملہ، ملزمان کا فردِ جرم سے انکار

Irfan Sharif

،تصویر کا ذریعہSurrey Police

    • مصنف, پیٹرک بارلو اور جوشوا سکیو
    • عہدہ, جنوب مشرقی ایشیا کے نامہ نگار
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

لندن کی بیلمارش جیل میں اپنی 10 سالہ بیٹی سارہ شریف کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے عرفان شریف پر مبینہ حملے کے مقدمے میں دو قیدیوں نے خود پر عائد الزامات سے انکار کیا ہے۔

47 سالہ سٹیون سانسم اور 39 سالہ ایڈم واٹسن پر جنوری 2025 میں ہونے والے اس حملے کے بعد گذشتہ ماہ فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں عرفان شریف کے چہرے پر زخم آئے تھے۔

یاد رہے کہ دسمبر 2024 میں برطانیہ کی ایک عدالت نے سارہ شریف کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر ان کے پاکستانی نژاد والد عرفان شریف اور سوتیلی ماں بینش بتول کو سرے کے علاقے ووکنگ میں واقع اپنے گھر میں سارا شریف کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

بدھ کے روز سانسم اور واٹسن نے ایچ ایم پی ویک فیلڈ سے ویڈیو لنک کے ذریعے اولڈ بیلی کی عدالت میں پیشی دی۔

سماعت کے دوران بتایا گیا کہ مبینہ طور پر سانسم نے عرفان شریف کو بیلمارش جیل میں ایک سیل میں آنے کی دعوت دی جہاں واٹسن پہلے سے موجود تھے۔ استغاثہ کے مطابق واٹسن نے عرفان شریف کو پکڑ کر متعدد بار مکے مارے جبکہ سانسم نے ان کا گلا دبایا۔

استغاثہ کا مزید کہنا ہے کہ بعد ازاں واٹسن نے سانسم کو ایک چیز پکڑائی جس کی مدد سے عرفان شریف کے گلے پر وار کرنے کی کوشش کی گئی۔

دونوں ملزمان نے شدید جسمانی نقصان پہنچانے کی نیت سے حملہ کرنے اور دو غیر مجاز ہتھیار رکھنے کے الزامات سے بھی انکار کیا ہے۔ ان ہتھیاروں میں ایک ٹن کے ڈھکن سے بنایا گیا آلہ اور ایک پین شامل ہے جسے دستہ لگایا گیا تھا۔

جج لن ٹیٹن کے سی نے مقدمے کی سماعت کے لیے 19 جولائی 2027 سے دو ہفتوں کا ٹرائل کا وقت مقرر کیا ہے، جبکہ مقدمے سے قبل کی سماعت جون 2027 میں ہو گی۔

Sarah Sharif

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنسارہ شریف

یاد رہے کہ سارہ شریف کی زخموں سے چُور لاش 10 اگست 2023 کو برطانیہ میں ووکنگ کے علاقے میں ایک گھر سے ملی تھی۔ استغاثہ کے مطابق سارہ پر ’شدید اور مسلسل تشدد‘ کیا گیا تھا۔ سارہ شریف کی لاش ملنے سے ایک ہی دن قبل ان کے اہلخانہ پاکستان روانہ ہو گئے تھے۔

13 ستمبر 2023 کو سارہ شریف کی ہلاکت کی تحقیقات میں پولیس کو پوچھ گچھ کے لیے مطلوب ان کے والد، سوتیلی والدہ اور چچا کو پاکستان سے برطانیہ پہنچنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں برطانیہ کی ایک عدالت نے عرفان شریف کو قتل کے جرم میں کم از کم 40 سال قید کی سزا سنائی، جبکہ ان کی اہلیہ بینش بتول، جن کی عمر 30 سال ہے، کو کم از کم 33 سال قید کی سزا دی گئی۔

سارہ کے چچا اور عرفان شریف کے بھائی فیصل ملک کو اس کیس میں قتل کے الزام میں تو نہیں تاہم ایک بچے کی موت کا سبب بننے یا ایسا ہونے دینے پر مجرم قرار دیا گیا اور انھیں اس کے لیے 16 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

Sara Sharif

ایک ’ہنس مکھ بچی‘ کی مختصر زندگی کی کہانی جو والدین کے تشدد کی نذر ہو گئی

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

گذشتہ سال 10 اگست کی رات دو بج کر 47 منٹ کا وقت تھا جب سرے پولیس کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے ایک فون کال موصول ہوئی۔

ایک لرزتی ہوئی آواز میں ہچکچاتے ہوئے مرد نے کہا ’میں نے اپنی بیٹی کو قتل کر دیا ہے۔ میں اسے مارنا نہیں چاہتا تھا لیکن میں نے اسے کچھ زیادہ پیٹ دیا۔‘

اس شخص نے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کو صرف سزا دینا چاہتا تھا۔ اس نے کہا ’میں ایک ظالم باپ ہوں۔‘ یہ شخص عرفان شریف تھا۔

کال ختم ہونے سے پہلے ہی پولیس اہلکار جارج وان ڈر وارٹ ووکنگ میں شریف خاندان کے گھر کا دروازہ بجا رہا تھا۔ اوپر کی منزل پر اسے بستر کی چادر کے نیچے سے 10 سالہ سارہ شریف کی لاش ملی۔

پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے علم ہوا کہ سارہ کی موت لاتعداد چوٹوں کی وجہ سے ہوئی۔ ان کا جسم زخموں سے بھرا ہوا تھا، سر پر بھی شدید چوٹ تھی، جسم پر دانتوں سے کاٹنے کے نشان اور بہت سے ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ سارہ کو جلتی ہوئی استری سے بھی جلایا گیا تھا۔

مکان اور باغیچے کی تلاشی سے خون آلود کرکٹ بیٹ سمیت دیگر اشیا بھی ملیں۔ یہ ایک ایسی چھوٹی سی بچی کی زندگی کا اختتام تھا جس کی استانی کے مطابق سارہ سب سے زیادہ خوش سٹیج پر ہوتی تھیں۔

عدالت میں سماعت کے دوران جیوری نے سارہ کے والد عرفان اور ان کی سوتیلی والدہ بینش کو قتل کا مجرم قرار دیا۔ سارہ کے چچا فیصل ملک کو قتل کے الزام سے بری کر دیا گیا لیکن انھیں ایک بچے کی موت کی وجہ بننے کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا۔

آٹھ ہفتوں پر محیط سماعت کے دوران ایک ایسی بچی کی تصویر ابھر کر سامنے آئی جسے اس کے سب سے قریبی لوگوں نے دھوکہ دیا اور تشدد کا نشانہ بنایا، وہ لوگ جن پر اسے اعتماد ہونا چاہیے تھا۔

سارہ کی تصاویر میں ان کو ہمیشہ مسکراتے ہوئے دیکھا گیا لیکن گھر پر انھیں پیٹا جاتا تھا۔ مقدمہ میں بار بار یہ بات سامنے آئی کہ سرے کاوئنٹی کی مقامی بچوں کی دیکھ بھال کی سروس سمیت پولیس اور سکول انتظامیہ ان کے گھر والوں کے رویے کے بارے میں جانتے تھے لیکن کوئی بھی ان کی زندگی نہیں بچا پایا۔

Sarah Sharif

،تصویر کا ذریعہSurrey Police handout

جوڈی لوزیرون ووکنگ میں عرفان شریف کے ہمسائے میں رہتی تھیں۔ وہ اکثر سارہ کو باغیچے میں دیکھتی تھیں۔ ان کے مطابق سارہ ایک چھوٹے بچے کا خیال رکھتی تھیں۔

تاہم جوڈی نے نہ تو کبھی چیخنے چلانے کی آوازیں سنیں اور نہ ہی کبھی سارہ کو چوٹوں کے نشان کے ساتھ دیکھا۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے اسے کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا اور یہ عجیب بات تھی۔ اس کے علاوہ کوئی مشکوک چیز نہیں تھی۔‘

25 مئی کو بینش نے اپنی بہن کو ایک پیغام بھیجا اور لکھا کہ ’اس نے پاگلوں کی طرح اسے پیٹا۔ اس کی آکسیجن کم ہو گئی اور اسے سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہے۔‘

سارہ کی زندگی کے آخری ایام میں ان پر ہونے والا تشدد بڑھتا چلا گیا۔ عرفان شریف نے عدالت میں اقرار کیا کہ انھوں نے کرکٹ بیٹ اور دھاتی ڈنڈے سے سارہ کو پیٹا تھا۔ تاہم سارہ کے جسم پر دانٹ سے کاٹنے کے نشان عرفان شریف کے دانتوں کے نمونوں سے نہیں ملے۔ عرفان نے سارہ کو استری سے جلانے کی بھی تردید کی۔ آخری ہفتوں میں سارہ کی ہڈیاں 25 بار ٹوٹیں لیکن ان کو ایک بار بھی ہسپتال نہیں لے جایا گیا۔

اگست میں فیونا، جو عرفان کے مکان کے عقب میں رہتی تھیں، ایک چیخ سنائی دی۔ چھ اگست کو سارہ کو گھر پر ٹی وی کے سامنے ڈانس کرتے ہوئے ایک ویڈیو میں دیکھا گیا جس میں وہ بظاہر ٹھیک تھیں۔ اسی دن ان کی سوتیلی والدہ کے وکیل کے مطابق عرفان نے ان کو ایک بار پھر پیٹا۔

آٹھ اگست کو سارہ کی حالت خراب ہونا شروع ہوئی۔ عرفان شریف نے فرض کر لیا کہ وہ ڈرامہ کر رہی ہے اور پھر سارہ کو دھاتی ڈنڈے سے دوبارہ پیٹا گیا۔ اسی رات دوسرے بچے، جس کا نام یو بتایا گیا، نے ایک دوست کو ٹیکسٹ میسج کیا: ’ہیلو، ارجنٹ، میری بہن مر گئی ہے۔‘

پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ ’سارہ کی موت ایک ایسی بچی کی زندگی کا اختتام تھا جس کے لیے تشدد ایک عام سی بات ہو چکی تھی۔‘