پشاور: قبروں سے میتیں نکال کر اُن کی مبینہ بے حرمتی کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم ’مسلح افراد کی فائرنگ‘ سے ہلاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عزیز اللہ خان، بلال احمد
- عہدہ, بی بی سی اُردو، پشاور
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
اس رپورٹ میں موجود تفصیلات قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔
پشاور پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ بڈھ بیر کے علاقے میں قبروں کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں گرفتار ملزم نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 19 سالہ سلمان نامی ملزم کو پیر کے روز اُس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ مبینہ طور پر قبرستان میں حال ہی میں دفن کی گئی ایک بچی کی میت نکال کر اس کی بے حرمتی کر رہا تھا۔
اس مقدمے کی ایف آئی آر بڈھ بیر کے علاقے 'دیہہ شیخان' کے ایک رہائشی کی مدعیت میں درج کی گئی تھی۔
یہ ایف آئی آر عبادت گاہ یا قبرستان کے تقدس کی پامالی، ریپ، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ اور فارنرز ایکٹ کی متعدد دفعات کے تحت درج کی گئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فارنرز ایکٹ کی دفعہ اس لیے شامل کی گئی تھی کیونکہ ملزم کا تعلق افغانستان سے تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق مدعی مقدمہ نے پولیس کو بتایا تھا کہ دیہہ شیخان میں رہنے والوں کا ایک اپنا مقامی قبرستان ہے جس میں وفات پا جانے والے اہل علاقہ کی تدفین کی جاتی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق 21 ستمبر کو قبرستان کے چوکیدار نے ایک شخص کو پکڑا جس نے دو، تین سال کی بچی کی میت نکال کر اور اُس کا کفن اُتار اسے کپڑے پہنائے ہوئے تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم کو اہل علاقہ کی مدد سے موقع پر قابو کر لیا گیا۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ ملزم اس سے پہلے بھی قبریں کھود کر خواتین کی میتوں کا ریپ کر چکا ہے اور ماضی میں پانچ ایسے واقعات ہوئے جن کے بعد اہل علاقہ کو میتوں کی دوبارہ تدفین کرنی پڑی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ماضی قریب کے واقعات کو انھوں نے پولیس میں رپورٹ نہیں کیا تاہم اب جبکہ ملزم رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تو اسے پولیس کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے قبرستان سے پکڑے جانے کے بعد بڑی تعد اد میں لوگ قبرستان پہنچے تھے اور مشتعل تھے، جنھیں منتشر کیا گیا اور ملزم کو حراست میں لیا گیا۔
گذشتہ روز پشاور پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے اہل علاقہ سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام کو فوری طور پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا اور واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے کر شفاف اور مکمل تحقیقات یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔
ملزم کی ہلاکت

،تصویر کا ذریعہPeshawar Police
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
منگل کی شام پشاور پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ زیر حراست ملزم سلمان کو جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے شیخان قبرستان لے جایا جا رہا تھا جب تین موٹر سائیکلوں پر سوار چھ نامعلوم مسلح ملزمان نے پولیس ٹیم پر اچانک فائرنگ کر دی۔
پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا کہ فائرنگ سے پولیس کی سرکاری گاڑی اور ایک اہلکار کی بلٹ پروف جیکٹ اور ہیلمٹ کو نقصان پہنچا جبکہ فائرنگ کی زد میں آ کر زیرِ حراست ملزم شدید زخمی ہوا جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا مگر وہ راستے میں دم توڑ گیا۔
پولیس کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر 10 قبروں کی بے حرمتی کا اعتراف کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زیر حراست ملزم پر حملے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
پشاور میں کسی زیر حراست ملزم کی مشکوک حالات میں موت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔
رواں ماہ 11 ستمبر کو بھی پشاور کی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ مبینہ طور پر ایک گھر میں گھس کر دو خواتین کا گینگ ریپ کرنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے چار ملزمان اس وقت نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے جب انھیں جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔
پشاور کے تھانہ رحمان بابا کی حدود میں مبینہ گینگ ریپ کا یہ واقعہ چھ ستمبر کی شب پیش آیا تھا۔ اس کیس کی ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اِن ملزمان نے مبینہ طور پر اُن کے گھر زبردستی داخل ہو کر اُن کی دو بیویوں کو باری باری مبینہ ریپ کا نشانہ بنایا جبکہ اُن کی ایک کمسن بیٹی کے ساتھ نازیبا حرکات کی اور فرار ہو گئے۔
اس سے قبل دسمبر 2025 میں سمیع اللہ نامی شخص، جن کو اپنی ہی بھتیجی کے ریپ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، بھی پولیس تحویل میں ہوتے ہوئے اسی طرح مشکوک انداز میں ہلاک ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں سنگین جرائم، بالخصوص خواتین اور بچوں کے ساتھ ریپ جیسے جرائم، کے الزام میں گرفتار ہونے والا ملزم پولیس کی حراست میں مشکوک حالات میں مارا گیا ہو۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بھی خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے الزام میں گرفتار ملزمان کی پولیس تحویل میں ہوتے ہوئے مشکوک حالات میں ہلاکت کی خبریں بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔
اس نوعیت کے کیسز میں پولیس ملزم کی گرفتاری کا اعلان کرتی ہے، اُس کا اعترافی بیان حاصل کرنے کا دعویٰ کرتی ہے اور پھر جائے وقوعہ کی نشاندہی یا آلہ قتل کی برآمدگی یا پولیس حراست سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران ملزمان مشکوک حالات میں مارے جاتے ہیں۔
گذشتہ سال پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کی جانب سے جاری کی گئی ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے مبینہ مقابلوں کی ایک دانستہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے جو بہت سے معاملات میں ماورائے عدالت ہلاکتوں پر منتج ہوتی ہے جو قانون کی حکمرانی اور آئینی تحفظات کو بنیادی طور پر کمزور کرتی ہے۔




















