شی جن پنگ: وہ ’شہزادہ‘ جس نے چین کا طاقتور رہنما بننے سے پہلے سب کچھ کھو دیا

،تصویر کا ذریعہReuters/Getty Images
- مصنف, شاون یوان، جیک لاؤ
- عہدہ, بی بی سی گلوبل چائنا یونٹ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
جب چین کے صدر شی جن پنگ بدھ کے روز واشنگٹن ڈی سی پہنچیں گے تو یہ امریکا کا ان کا 11 برس میں پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔
لیکن امریکا سے ان کا پہلا تعارف اُس وقت ہوا تھا جب وہ چین کے سب سے طاقتور رہنما نہیں بنے تھے۔
چار دہائیاں قبل شی ملک کے شمالی حصے سے تعلق رکھنے والے ایک ضلعی عہدیدار تھے جو ایک دورے پر امریکی مڈویسٹ گئے تھے۔
انھوں نے اس دورے کے دوران ریاست آئیووا میں کئی دن گزارے، جہاں انھوں نے زراعت کے بارے میں سیکھا، کھیتوں کا دورہ کیا اور ایک گھر میں مقامی خاندان کے ساتھ قیام کیا۔
چینی سرکاری میڈیا نے ان کی ٹیری برینسٹڈ کے ساتھ دوستی کو نمایاں کیا ہے، جو اُس وقت آئیووا کے گورنر تھے اور بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں چین میں امریکی سفیر بنے، تاکہ امریکا کے ساتھ شی کے ذاتی تعلقات کو اجاگر کیا جا سکے۔
آج امریکا اور چین کے تعلقات بالکل مختلف ہیں، جو عالمی اثر و رسوخ کی مسابقت، جوابی محصولات، ٹیکنالوجی پر پابندیوں اور فوجی رقابت سے متعین ہوتے ہیں۔
اور 73 سالہ شی بھی اب کوئی نچلے درجے کے عہدیدار نہیں رہے۔
چین کے رہنما کے طور پر تقریباً 14 برسوں میں انھوں نے کمیونسٹ پارٹی اور دنیا میں ملک کے مقام کو تبدیل کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ ’شہزادہ‘ جس نے سب کچھ کھو دیا
شی کے خاندان کو 1966 سے 1976 تک جاری رہنے والے ثقافتی انقلاب کے دوران ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا، جسے اُس وقت کے رہنما ماؤ زے تنگ نے اپنے سیاسی مخالفین سمجھے جانے والوں کے خلاف شروع کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
شی کی کہانی مراعات سے شروع ہوئی۔
1953 میں بیجنگ میں پیدا ہونے والے شی، شی ژونگ شون کے چھٹے بچے تھے، جو ایک کمیونسٹ انقلابی تھے اور جنھوں نے عوامی جمہوریہ چین کے قیام میں مدد دی تھی۔
بعد میں ان کے والد ایک سینئر پارٹی رہنما اور نائب وزیر اعظم بن گئے۔
بچپن میں شی نے ممتاز تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی اور ایسی سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جو زیادہ تر خاندانوں کو میسر نہیں تھیں۔ پھر سیاست نے ان کے خاندان کا رخ بدل دیا۔
1960 کی دہائی کے اوائل میں شی کے والد پر ایک ’اینٹی پارٹی‘ گروہ کا حصہ ہونے کا الزام لگایا گیا، انھیں دیہی علاقے میں ایک فیکٹری میں کام کرنے کے لیے بھیج دیا گیا اور پارٹی سے نکال دیا گیا۔
شی نے دور افتادہ گاؤں لیانگ جیا حے میں قیام کے دوران پہاڑی ڈھلوانوں میں تراشی گئی غار نما رہائش گاہوں میں زندگی گزاری۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایک ایسے شخص کے بیٹے ہونے کے باعث جسے ’مخالف انقلابی‘ قرار دیا گیا تھا، کم عمر شی کو زبردستی ایک اصلاحی مرکز بھیجا گیا۔
اُس وقت کے رہنما ماؤ زے تنگ کی اس اپیل پر لبیک کہتے ہوئے کہ دیہات کا رخ کیا جائے اور کسانوں سے سیکھا جائے، 15 سالہ شی لاکھوں دیگر شہری طلبہ کے ساتھ دیہی علاقوں میں چلے گئے۔
2004 کے ایک انٹرویو میں اپنے اس سفر کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’ٹرین میں ہر شخص رو رہا تھا۔ میں واحد شخص تھا جو مسکرا رہا تھا۔۔۔ اگر میں وہاں سے نہ نکلتا تو رو رہا ہوتا۔ اگر میں وہیں رہ جاتا تو مجھے نہیں معلوم کہ میں آج زندہ بھی ہوتا یا نہیں۔‘
وہ چین کے مغربی صوبے شانشی کے دور افتادہ پہاڑی گاؤں لیانگ جیا حے پہنچے جہاں انھوں نے سات برس ایک یاؤڈونگ، یعنی پہاڑی غار نما رہائش گاہ، میں گزارے اور کھیتی باڑی، کھاد اٹھانے اور نالیاں کھودنے کا کام کیا۔
انھوں نے وہاں گزارے گئے وقت کے بارے میں کہا: ’اچار والی سبزی میری پسندیدہ غذا بن گئی تھی۔ آج بھی میں اسے محبت سے یاد کرتا ہوں۔‘
وہ کام کے بوجھ سے ’حیران‘ رہ گئے تھے اور ابتدا میں بھوک سے پریشان رہے، لیکن دوپہر کے کھانے سے پہلے سگریٹ کے وقفوں میں انھیں کچھ سکون ملتا تھا۔
اقتدار تک رسائی
سال کی عمر میں انھوں نے یہ دیہی علاقہ چھوڑ دیا اور چین کے بہترین تعلیمی اداروں میں سے ایک سنگھوا یونیورسٹی میں کیمیائی انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے بیجنگ سے دور مقامی عہدیدار کے طور پر فوجیان اور ژیجیانگ میں کام کیا، جو ساحلی صوبے تھے اور 1980 کی دہائی میں معیشت کھلنے کے بعد چین کے امیر ترین علاقوں میں شامل ہو گئے۔
ماؤ کی وفات کے بعد ان کے والد کی بحالی نے شی کو مرکزی حکومت اور فوج میں عہدے حاصل کرنے میں مدد دی، جہاں انھوں نے پارٹی کے اندر تعلقات استوار کیے۔
ان میں سے کئی عہدیدار بعد میں ان کے قابل اعتماد حلقے کا حصہ بن گئے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
شی نے 1979 میں اپنی پہلی اہلیہ کے لنگ لنگ سے شادی کی، جو برطانیہ میں چین کے سابق سفیر کی بیٹی تھیں، لیکن تین سال بعد ان کی طلاق ہو گئی۔
ایک مشترکہ دوست نے شی کا تعارف ان کی دوسری اور موجودہ اہلیہ پینگ لی یوان سے کروایا، جو ایک لوک گلوکارہ تھیں اور چین میں پہلے ہی ایک معروف شخصیت بن چکی تھیں کیونکہ وہ قمری نئے سال کی سالانہ ٹیلی ویژن تقریبات میں پرفارم کرتی تھیں جنھیں کروڑوں ناظرین دیکھتے تھے۔
1980 اور 1990 کی دہائیوں میں بہت سے چینی شہریوں کے لیے پینگ اُس صوبائی عہدیدار کے مقابلے میں زیادہ معروف تھیں جس سے انھوں نے شادی کی تھی۔
پینگ اکثر شی کے ہمراہ غیر ملکی دوروں پر گئی ہیں، جو چین کی خاتونِ اول کے روایتی طور پر کم نمایاں کردار سے مختلف طرز کی نمائندگی کرتا ہے۔
ان کی بیٹی اور واحد اولاد شی منگ زے 1992 میں پیدا ہوئیں۔
ان کے بارے میں بہت کم معلومات موجود ہیں، سوائے اس کے کہ انھوں نے امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔
2007 میں شنگھائی میں مختصر عرصے کے لیے اعلیٰ رہنما رہنے کے بعد، شی پولیٹ بیورو سٹینڈنگ کمیٹی میں شامل ہوئے، جو چین کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ ہے۔
پانچ سال بعد انھوں نے ہو جن تاؤ کی جگہ کمیونسٹ پارٹی کی قیادت سنبھالی۔
چین کے رہنما کے طور پر شی نے معاشی اور سیاسی نظام کو ایسے طریقوں سے تبدیل کیا جن کی بہت کم لوگوں نے توقع کی تھی۔
وہ چین جو شی نے تشکیل دیا
شی کی 14 سالہ حکمرانی میں چین زیادہ خوداعتماد ہوتا گیا ہے۔
بیرونِ ملک شی نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو جیسے منصوبوں کے ذریعے چین کے عالمی اثر و رسوخ کو وسعت دی، جبکہ بیجنگ کو عالمی جنوب کے حامی کے طور پر پیش کیا۔
اسی دوران کئی بڑی جمہوریتوں کے ساتھ تعلقات زیادہ کشیدہ ہوئے، جن میں بحیرہ جنوبی چین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، تائیوان کے گرد دباؤ میں اضافہ اور امریکا کے ساتھ شدت اختیار کرتی مسابقت شامل ہیں۔
تاہم شی کی میراث کی ایک اہم خصوصیت چین کے اندر سیاسی کنٹرول میں اضافہ بھی ہے۔
شی کے دور میں چین نے سلامتی اور سیاسی استحکام پر کہیں زیادہ زور دیا ہے، اور سنکیانگ، تبت اور ہانگ کانگ جیسے مقامات پر ایسے اقدامات متعارف کروائے ہیں جن کے بارے میں حامیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے نظم بحال کیا، جبکہ ناقدین کے مطابق انھوں نے شہری آزادیوں کو نمایاں طور پر محدود کر دیا۔
انھوں نے اپنے نام سے منسوب ایک نظریہ فروغ دیا ’نئے عہد کے لیے چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم پر شی جن پنگ کی فکر‘ جو ان کے دو پیش رو نہ کر سکے تھے۔
شی نے صدارتی مدت کی آئینی حد بھی ختم کر دی تاکہ وہ دو مدتوں سے زیادہ عرصے تک منصب پر فائز رہ سکیں۔
چینی سرکاری میڈیا شی کو ایک سنجیدہ شخصیت کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن بعض اوقات انھوں نے اپنا دوسرا پہلو بھی دکھایا ہے۔
انھوں نے فٹبال سے اپنی محبت کا ذکر کیا، یہاں تک کہ تھائی وزیر اعظم کے ساتھ چینی مردوں کی ٹیم کے بارے میں اپنی مایوسی پر مذاق بھی کیا، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ ایک گلاس بیئر بھی پی، اور جنوبی کوریا کے صدر سے یہ کہہ کر مزاح کیا کہ ان کی جانب سے تحفے میں دیے گئے چینی ساختہ شیاؤمی فون قبول کرنے سے پہلے ان میں کسی ’بیک ڈور‘ کی جانچ کر لیں۔
دوست یا حریف؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
شی کے غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، جو چین کی وسیع تر خارجہ پالیسی کی ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔
کوئی بھی غیر ملکی رہنما ان کے اتنا قریب نہیں جتنا روس کے ولادیمیر پوتن۔
شی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دونوں 40 سے زیادہ بار ملاقات کر چکے ہیں اور شی نے پوتن کو اپنا "قریب ترین دوست" بھی قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کے ساتھ ان کا تعلق زیادہ پیچیدہ ہے۔
چین کے خلاف تجارتی جنگ شروع کرنے کے باوجود ٹرمپ اکثر شی کے بارے میں گرمجوشی سے بات کرتے ہیں، انھیں دوست قرار دیتے ہیں اور ان کی سیاسی طاقت کی تعریف کرتے ہیں۔
انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ شی نے ابتدا میں ذاتی سفارت کاری میں خاصی سرمایہ کاری کی۔
انھوں نے ایشیائی طاقتوں کے درمیان تعاون کو اجاگر کرنے کے لیے غیر رسمی ملاقاتوں میں گفتگو کی، لیکن 2020 میں سرحدی جھڑپوں میں ہلاکتوں نے چین اور انڈیا کے تعلقات کو دہائیوں کی بدترین سطح تک پہنچا دیا۔
ان رہنماؤں کے برعکس جو ذاتی کشش یا موقع پر فیصلہ سازی کے لیے مشہور ہیں، شی شاذ و نادر ہی انفرادی تعلقات کو ریاستی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔
جب شی اس ہفتے واشنگٹن ڈی سی جائیں گے تو وہ اُس متجسس ضلعی عہدیدار کے طور پر نہیں آئیں گے جس نے کبھی آئیووا کے کھیتوں کا دورہ کیا تھا، بلکہ اکیسویں صدی کی ایک نمایاں سیاسی شخصیت کے طور پر پہنچیں گے۔




















