برطانیہ قیام کے لیے پناہ گزینوں کے گھریلو تشدد کے جھوٹے دعوے، بی بی سی کی تحقیق میں انکشاف

BBC reporter told to fake domestic abuse claim to stay in the UK
،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے رپورٹر کو برطانیہ قیام کے لیے گھریلو تشدد کا جعلی دعویٰ دائر کرنے کا کہا گیا
    • مصنف, بیلی کینبر
    • عہدہ, سیاسی تحقیقات کے نامہ نگار
    • مصنف, فِل کیمپ
    • عہدہ, سیاسی امور کے نامہ نگار
  • مطالعے کا وقت: 15 منٹ

بی بی سی کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کچھ پناہ گزین برطانیہ میں رہنے کے لیے خود کو گھریلو تشدد کے متاثرین ظاہر کر رہے ہیں۔

یہ لوگ ان قوانین کا فائدہ اٹھا رہے ہیں جو وزرا نے حقیقی متاثرین کی مدد کے لیے متعارف کرائے تھے۔ اس کا مقصد دیگر راستوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے مستقل رہائش حاصل کرنا ہے۔

وکلا کا کہنا ہے کہ ہوم آفس کی ناکافی جانچ پڑتال کے باعث بہت کم شواہد کی بنیاد پر ایسے دعوے قبول ہو رہے ہیں جبکہ ان کے بے خبر برطانوی شریک حیات کی زندگیاں جھوٹے الزامات کے باعث بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

بی بی سی کی امیگریشن نظام سے متعلق تازہ تحقیق میں اس بات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ ان تحفظات کا کس طرح غلط استعمال ہو رہا ہے جنھیں مائیگرنٹ وکٹمز آف ڈومیسٹک ابیوز کنسیشن کہا جاتا ہے۔

آج ہم یہ بھی سامنے لا رہے ہیں کہ کچھ مرد و خواتین پناہ گزین برطانوی شہریوں کو تعلقات اور شادی میں دھوکہ دیتے ہیں اور پھر برطانیہ آنے کے بعد گھریلو تشدد کے جعلی دعوے دائر کرتے ہیں۔

آن لائن اشتہار دینے والے بعض قانونی مشیر لوگوں کو تشدد کے جھوٹے الزامات لگانے کا بھی مشورہ دے رہے ہیں۔

بی بی سی کے ایک انڈر کور رپورٹر نے ایک ایسے ہی مشیر سے ملاقات کی جس نے انھیں گھریلو تشدد کے جھوٹے الزامات لگانے کا مشورہ دیا۔

گھریلو تشدد کی بنیاد پر تیز رفتار رہائش کا دعویٰ کرنے والوں کی تعداد اب سالانہ ساڑھے پانچ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ تعداد صرف تین برس میں 50 فیصد سے زیادہ بڑھی۔

ایک کیس میں ایک برطانوی ماں نے اپنے مرد پارٹنر پر ریپ کی رپورٹ درج کروانے کے بعد اس سے علیحدگی اختیار کی۔ بعد ازاں اسی شخص نے ان پر گھریلو تشدد کا الزام عائد کر دیا۔ خاتون کے مطابق یہ الزام جھوٹا تھا اور اس کا مقصد ملک میں رہنے کی اجازت حاصل کرنا تھا۔

یہ الزامات کبھی ثابت نہیں ہو سکے لیکن اس کے باوجود اس شخص نے اسی بنیاد پر پاکستان واپس جانے سے بچنے میں کامیابی حاصل کر لی۔

جعلی دعوے دائر کرنے کے لیے صرف 900 پاؤنڈز درکار

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

فروری کے اواخر میں لندن کے علاقے سینٹ پینکراس کے ایک ہوٹل کے لاؤنج میں سمارٹ سوٹ پہنے ایک نوجوان امیگریشن ایڈوائزر ایک گاہک سے ملاقات کر رہا ہے۔

چند روز قبل اس سے ایک نئے کلائنٹ نے رابطہ کیا تھا جو پاکستان سے حال ہی میں برطانیہ آنے والا ایک پناہ گزین تھا۔

اس شخص نے بتایا کہ اسے ایک مسئلہ درپیش ہے۔ وہ اپنی برطانوی بیوی کو چھوڑ کر اپنی محبوبہ کے ساتھ رہنا چاہتا ہے تاہم اس کا ویزا اس کی شادی سے منسلک ہے اور اگر وہ علیحدگی اختیار کرتا ہے تو اسے ملک چھوڑنا پڑے گا۔

ابتدائی فون کال کے دوران ایڈوائزر ایلی سیس واکا نے فوراً ایک حل تجویز کیا۔ انھوں نے بغیر کسی سوال کے ممکنہ کلائنٹ کو مشورہ دیا کہ وہ خود کو گھریلو تشدد سے متاثرہ شخص ظاہر کریں۔

اب وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ کیا کر سکتے ہیں۔ وہ 900 پاؤنڈز کے عوض یہ دعویٰ دائر کر دیں گے اور ہوم آفس کو بتانے کے لیے ایک کہانی تیار کریں گے تاکہ برطانیہ میں ان کا قانونی درجہ محفوظ رہے۔

مگر ان کو یہ علم نہیں کہ یہ گاہک دراصل بی بی سی کا ایک خفیہ رپورٹر ہے جو تفتیش کر رہا ہے کہ کیسے بعض وکیل اور امیگریشن ایڈوائزر پناہ گزینوں کی قانون شکنی میں مدد کرتے ہیں تاکہ وہ جھوٹے دعوے گھڑ کر برطانیہ میں مستقل رہائش حاصل کر سکیں۔

ہوم آفس کے قواعد کے تحت وہ پناہ گزین جو گھریلو تشدد کا شکار ہوں اور برطانوی شہری کے پارٹنر کے طور پر عارضی ویزے پر برطانیہ میں مقیم ہوں، ایک خصوصی رعایت کے تحت ایسی درخواست دے سکتے ہیں۔

چونکہ ایسے افراد اکثر اپنے پارٹنر پر نہ صرف ویزے بلکہ خوراک اور رہائش کے لیے بھی انحصار کرتے ہیں اس لیے رعایت کا مقصد ان لوگوں کو سہارا دینا ہے جن کے تعلقات تشدد یا بدسلوکی کے باعث ٹوٹ جاتے ہیں۔

اگر درخواست منظور ہو جائے تو درخواست گزار کو تین ماہ کے لیے برطانیہ میں رہنے کی اجازت دی جاتی ہے اور وہ سرکاری مراعات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

اس مدت کے دوران وہ مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں جس کے تحت غیر ملکی شہریوں کو برطانیہ میں بغیر کسی مدت کی حد تک رہنے، کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی اجازت مل جاتی ہے۔

یہ طریقہ مستقل رہائش کے دیگر راستوں، جیسے پناہ کی درخواست، کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہے۔ عام طور پر ویزے پر کام اور رہائش رکھنے والے افراد کو مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے سے قبل کم از کم پانچ سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اس بات پر تشویش ہے کہ ان قواعد کا غلط استعمال ممکن ہے کیونکہ مستقل حیثیت بہت کم وقت میں حاصل کی جا سکتی ہے۔

اسی پس منظر میں بی بی سی نے اس معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا۔

ایلی سیس واکا کارپوریٹ امیگریشن یو کے کے نام سے کام کرتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر باقاعدگی سے گھریلو تشدد کی اس رعایت سے متعلق پوسٹس شیئر کرتے ہیں اور اس راستے سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔

سنیٹ پینکراس کے ہوٹل میں ہونے والی ملاقات کے دوران انھوں نے اس بات کی مزید وضاحت کی کہ وہ ہوم آفس کو کیسے قائل کریں گے۔

جب بی بی سی کے خفیہ رپورٹر نے سوال کیا کہ ثبوت کیا ہوں گے کیونکہ ان کی اہلیہ نے کبھی جسمانی طور پر نقصان نہیں پہنچایا اور اس لیے گھریلو تشدد کا کوئی واضح واقعہ نہیں بنتا۔ تو سیس واکا نے جواب دیا کہ ’زبانی بیانیہ ہی استعمال کیا جائے گا۔‘

ان کے مطابق دونوں کے درمیان جھگڑوں کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے جن میں پارٹنر کی جانب سے ایسے جملے کہے گئے ہوں جیسے کہ ’یاد رکھو، میں ہی آپ کو یہاں لے کر آئی ہوں۔‘

گفتگو کے بعد کے حصے میں انھوں نے اپنے منصوبے کی مزید تفصیل بھی بیان کی۔

ایلی سیس واکا کا کہنا تھا کہ وہ اس کیس کو ’نفسیاتی گھریلو تشدد‘ کے طور پر پیش کریں گے۔ اس کی مثال انھوں نے ’کسی کے ذہن سے کھیلنے‘ سے دی۔

انھوں نے بی بی سی کے خفیہ رپورٹر کو یقین دلایا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اس کے لیے خود ایک مکمل کہانی تیار کر دیں گے۔ ان کے مطابق انھیں اس نوعیت کے دیگر کیسز پر کام کرنے کا پہلے سے تجربہ حاصل ہے۔

جب رپورٹر نے پوچھا کہ اب تک کتنے معاملات میں کامیابی ملی ہے تو سیس واکا نے جواب دیا کہ ’سب میں۔‘

اپنے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے ایلی سیس واکا نے بی بی سی کے خفیہ رپورٹر کو ہوم آفس کی جانب سے جاری کیا گیا ایک خط دکھایا جو مبینہ طور پر ان کے ایک کلائنٹ کے لیے بھیجا گیا تھا۔

خط میں بتایا گیا تھا کہ درخواست منظور کر لی گئی ہے تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ آیا یہ کیس واقعی گھریلو تشدد کے مستند الزامات پر مبنی تھا یا نہیں۔

ایلی سیس واکا نہ تو رجسٹرڈ وکیل ہیں اور نہ ہی باقاعدہ طور پر ریگولیٹڈ امیگریشن ایڈوائزر۔ اس کا مطلب ہے کہ انھیں قانونی طور پر امیگریشن سے متعلق مشورہ دینے یا خدمات فراہم کرنے کی اجازت حاصل نہیں۔

اس کے باوجود اس خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہوم آفس ان کے ذریعے معاوضہ لینے والے کلائنٹس سے متعلق سرکاری خط و کتابت کر رہا تھا۔ بظاہر ان کی اہلیت یا اسناد کی جانچ کے بغیر ہی۔

بعد ازاں سیس واکا نے رپورٹر کو بتایا کہ درخواست جمع کروانے کے بعد آگے کیا ہو گا۔ ان کے مطابق تین ماہ کے لیے محدود مدت کی رہائش کی اجازت ملنے کے بعد رپورٹر اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ رہ سکتا ہے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ انھی تین ماہ کے دوران مستقل رہائش کے لیے درخواست دینا ضروری ہو گا۔

سیس واکا نے رپورٹر کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ اگر وہ اپنی بیوی پر گھریلو تشدد کا الزام لگاتے ہیں تو اس کے کوئی منفی نتائج سامنے نہیں آئیں گے۔

ان کے مطابق نہ تو انھیں پوچھ گچھ کے لیے بلایا جائے گا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی کارروائی ہو گی کیونکہ بقول ان کے، اس معاملے میں کوئی جرم ثابت نہیں ہوتا۔

ایلی سیس واکا نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی تحریری درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا تاہم جب بی بی سی نے فون کے ذریعے انھیں اپنی تحقیق کے بارے میں آگاہ کیا تو انھوں نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ خفیہ رپورٹر کے لیے گھریلو تشدد کا جھوٹا معاملہ گھڑنے کے لیے تیار تھے۔

امیگریشن ایڈوائس اتھارٹی، جو اس شعبے کی نگرانی کرتی ہے، کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے گی اور کسی بھی غلط کام میں ملوث افراد کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف فیصلہ کن اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ادارے کے کمشنر گاؤن ہارٹ نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’عوام کے لیے ہماری واضح ہدایت ہے کہ صرف رجسٹرڈ مشیروں کی خدمات حاصل کریں۔ اس کے علاوہ کسی اور پر انحصار کرنا آپ کو سنگین خطرے میں ڈال سکتا ہے۔‘

’کالا دھن‘

Jess Phillips MP. pictured against black background, looks off to the side
،تصویر کا کیپشنتحفظِ عوام کی وزیر جیس فلپس کا کہنا ہے کہ وہ ’اس قسم کی خفیہ اور فریب پر مبنی حکمتِ عملی‘ کے اثرات خود دیکھ چکی ہیں

فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت بی بی سی نیوز کو حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2025 تک کے 12 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 5,596 پناہ گزینوں نے گھریلو تشدد کا شکار ہونے کی بنیاد پر برطانیہ میں مستقل رہائش کے لیے درخواستیں جمع کروائیں۔ یہ وہ تازہ مدت ہے جس کا سرکاری ڈیٹا دستیاب ہے۔

ان درخواستوں میں سے تقریباً ایک چوتھائی یعنی 1,424 مردوں کی جانب سے دائر کی گئیں۔ یہ تعداد دو سال قبل کی اسی مدت کے مقابلے میں 66 فیصد اضافہ ہے جبکہ خواتین کی جانب سے جمع کروائی جانے والی درخواستوں میں 47 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

ان اعداد و شمار کے بعد بعض ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مرد اور عورت دونوں ہی ان قوانین سے فائدہ اٹھانے کے لیے جھوٹے الزامات گھڑ رہے ہوں گے۔

جھوٹے الزامات کا سامنا کرنے والے بعض افراد نے شکایت کی ہے کہ ان کے پارٹنر نے پولیس کو غلط رپورٹس دی ہیں جن کے نتیجے میں ایک کرائم نمبر جاری ہوا اور بعد ازاں ہوم آفس کو قائل کرنے کے لیے اسے بطور ثبوت استعمال کیا گیا حالانکہ پولیس کی تفتیش کے بعد کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں آئی۔

ہوم آفس کا کہنا ہے کہ صرف کرائم ریفرنس نمبر کو اس بات کا ثبوت نہیں مانا جاتا کہ واقعی گھریلو تشدد ہوا۔

بعض افراد نے مبینہ تشدد کی شکایات گھریلو تشدد سے نمٹنے والی فلاحی تنظیموں کو رپورٹ کیں اور ان کے خطوط کو بطور ثبوت استعمال کیا۔ یا پھر اپنے پارٹنر کے خلاف نان مولیسٹیشن آرڈر کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ اس نوعیت کا عدالتی حکم بعض صورتوں میں یکطرفہ طور پر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے، یعنی مخالف فریق کو پیشگی اطلاع دیے بغیر۔

ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل 2014 میں ہوم آفس کی ایک اندرونی جانچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ گھریلو تشدد کی بنیاد پر مستقل رہائش کے راستے کے غلط استعمال کا امکان موجود ہے۔

اس کے ایک سال بعد بارڈرز اینڈ امیگریشن کے آزاد چیف انسپکٹر کی رپورٹ میں بھی اس نظام میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حکام کی جانب سے گھریلو تشدد کے دعوؤں کی جانچ پڑتال ناکافی رہی جبکہ ایسے ’غیر تصدیق شدہ شواہد‘ کو غیر معمولی اہمیت دی گئی جو محض معاون اداروں کے خطوط پر مشتمل تھے اور جن میں مبینہ متاثرہ شخص کی اپنی بیان کردہ کہانی ہی دہرائی گئی تھی۔

ہوم آفس میں تحفظِ عوام کی امور کی وزیر جیس فلپس کا کہنا ہے کہ یہ راستہ گھریلو تشدد کے حقیقی متاثرین کو تباہ کن حالات سے بچانے کے لیے بنایا گیا مگر اس کا غلط استعمال انتہائی شرمناک ہے۔ ان کے مطابق وہ ذاتی طور پر اس طرح کے خفیہ اور دھوکے پر مبنی طریقوں کے تباہ کن اثرات دیکھ چکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اگر کوئی شخص برطانیہ میں رہنے کے لیے برطانوی عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کرے گا تو اس کی درخواست مسترد کر دی جائے گی اور اسے یکطرفہ ٹکٹ پر برطانیہ سے باہر بھیج دیا جائے گا۔

جیس فلپس نے مزید کہا کہ ایسے جعلی وکیل یا مشیر جو اس غلط استعمال میں سہولت کاری کرتے ہیں انھیں جیل بھیجا جائے گا جبکہ ضبط کیا گیا ’کالا دھن‘ اسی جرم کے خاتمے کے لیے دوبارہ استعمال کیا جائے گا۔

’بڑے بڑے وعدے، حد سے زیادہ توجہ‘

یہ معاملہ جیس فلپس کے لیے خاص طور پر اہم ہے کیونکہ انھیں اس بارے میں پہلی بار اپنے ہی حلقے کی ایک رہائشی نے آگاہ کیا تھا۔

عائشہ، جو اپنا اصل نام ظاہر نہیں کرنا چاہتیں، کا کہنا ہے کہ انھوں نے کورونا وبا کے دوران ایک مسلم ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے اپنے سابق شوہر سے ملاقات کی جس کے بعد تیزی سے تعلق آگے بڑھا۔

ان کے بقول ’وہ بڑے بڑے وعدے کر رہے تھے، حد سے زیادہ توجہ دیتے تھے۔ تحائف بھی دیتے رہے، جیسے بہت جلد مجھے محبت میں گرفتار کرنا چاہتے ہوں۔‘

عائشہ کے مطابق نکاح اور اس کے بعد ہونے والی باضابطہ شادی کے بعد تعلقات میں بگاڑ آنا شروع ہو گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ بعد میں انھیں معلوم ہوا کہ ان کے شوہر کے پاس برطانوی شہریت نہیں تھی، حالانکہ ملاقات کے آغاز میں انھوں نے یہی دعویٰ کیا تھا۔

درحقیقت وہ پاکستانی شہری تھے اور برطانیہ میں رہنے کے لیے عائشہ پر انحصار کر رہے تھے کیونکہ ان کا ویزا اسی رشتے سے منسلک تھا۔

عائشہ کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد ان کے شوہر کا رویہ مکمل طور پر ’کنٹرول کرنے والا‘ اور نہایت ’بدسلوکی پر مبنی‘ ہو گیا۔

ان کے مطابق وہ ’مسلسل اصرار کرنے لگا کہ اسے اسی ملک میں بچہ چاہیے۔‘

عائشہ کا کہنا ہے کہ انھیں لگتا ہے کہ ’اس دوران اس کے دوست بھی اسے یہ مشورہ دے رہے تھے کہ برطانیہ میں اپنا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے بچہ ہونا ضروری ہے۔‘ ان کے بقول ’اسی دباؤ کی وجہ سے وہ حاملہ کرنے کی بھرپور کوشش کرتا رہا جس میں ریپ بھی شامل تھا۔‘

عائشہ نے بالآخر گھر چھوڑ دیا اور پیش آنے والے واقعات کی اطلاع پولیس اور ہوم آفس دونوں کو دی۔

اس کے بعد حکام کی جانب سے اس شخص کو ایک خط بھیجا گیا جس میں بتایا گیا کہ پارٹنر کی معاونت کے بغیر ان کا ویزا مقررہ مدت پر ختم ہو جائے گا۔

عائشہ کا کہنا ہے کہ ’مجھے لگتا ہے جب اسے وہ خط ملا تو اسے محسوس ہوا کہ اب کوئی راستہ نہیں بچا۔ حکام اسے ملک چھوڑنے کا کہہ رہے ہیں اور اسے کچھ نہ کچھ کرنا ہو گا۔‘

Silhouette of a young woman standing by the kitchen sink with her back to us.
،تصویر کا کیپشنعائشہ، جو اپنا اصل نام ظاہر نہیں کرنا چاہتیں، کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد تعلقات بگڑنے لگے جب شوہر نے ’اسی ملک میں بچہ پیدا کرنے‘ کا مطالبہ شروع کر دیا

متاثرہ سے ملزم تک

عائشہ کا کہنا ہے کہ اس کے جواب میں ان کے شوہر نے خود پولیس سے رابطہ کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ خود گھریلو تشدد کا شکار ہوئے۔

ان کے مطابق اس نے پولیس کو بتایا کہ عائشہ اور اس کے خاندان نے اس پر ذہنی دباؤ ڈالا اور کنٹرول مسلط کیا اور یہ بھی الزام لگایا کہ عائشہ نے ان پر جسمانی تشدد کیا۔

عائشہ کا کہنا ہے کہ گھریلو تشدد کی رپورٹ درج کروانے سے کچھ دیر پہلے اس نے انھیں کہا تھا کہ ’فکر مت کرو، میرے پاس یہاں رہنے کے کئی طریقے ہیں۔ مجھے ملک میں رہنے کے لیے تمہاری ضرورت نہیں۔‘

ان کے مطابق وہ پہلے ہی حکام اور گھریلو تشدد سے متعلق اداروں کی جانب سے مدد حاصل کر رہی تھیں۔ اس سے کہیں پہلے کہ ان کے شوہر نے ان کے خلاف الزامات عائد کیے۔

عائشہ کہتی ہیں کہ ’جب اس نے معاملے کو الٹ کر مجھے ہی ملزم ظاہر کرنے کی کوشش کی تو یہ میرے لیے دل توڑ دینے والا لمحہ تھا۔‘

عائشہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کے سابق شوہر کے الزامات کے حوالے سے ان کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کی۔

دوسری جانب ان کے سابق شوہر کو بھی ریپ کے الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ عائشہ نے استغاثہ کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا تھا۔

تاہم کریمنل انجریز کمپنسیشن اتھارٹی نے عائشہ کو 17 ہزار پاؤنڈ سے زائد کی رقم ادا کی جس کا مطلب یہ تھا کہ ادارہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ریپ کے واقعے کا امکان زیادہ تھا۔

عائشہ کا کہنا ہے کہ ان کے سابق شوہر کی جانب سے ان کے خلاف مہم یہیں ختم نہیں ہوئی۔

عائشہ کا کہنا ہے کہ جنوری 2023 میں ان کے سابق شوہر کی جانب سے ایک اور الزام کے بعد پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا تھا۔

ان کے مطابق اس گرفتاری کے نتیجے میں انھیں اپنے اس بچے سے تقریباً آٹھ گھنٹے الگ رہنا پڑا جسے وہ اس وقت دودھ پلا رہی تھیں جبکہ ان کی بیٹی کو فارمولا دودھ سے الرجی تھی۔

عائشہ کہتی ہیں کہ ’جب میں گھر سے نکلی تو میں نے اپنی بچی کو دودھ پلایا تھا اور جب واپس آئی تو میری حالت ایسی تھی کہ میں اپنی زندگی ختم کرنا چاہتی تھی۔‘

اسی روز ان کی رکنِ پارلیمنٹ جیس فلپس نے پولیس کو خط لکھا جس میں کہا گیا کہ انھیں یقین نہیں کہ اگر پولیس عائشہ اور ان کے سابق شوہر کے درمیان ماضی کی مکمل تاریخ سے آگاہ ہوتی تو وہ انھیں گرفتار کرتی۔

برمنگھم یارڈلی سے تعلق رکھنے والی رکنِ پارلیمنٹ نے بعد میں بھی اس معاملے کو مسلسل اٹھائے رکھا اور ہوم آفس میں وزیر بننے کے بعد انھوں نے عائشہ کو مشورہ دیا کہ وہ دستیاب شواہد ہوم آفس کو بھیج دیں اور یقین دلایا کہ وہ خود اس پر کارروائی کی پیروی کریں گی۔

عائشہ کا کہنا ہے کہ ’ہوم آفس نے اس سب کو ہونے دیا۔ انھوں نے اسے یہ رویہ جاری رکھنے کی اجازت دی۔ میں نے ہوم آفس کی وجہ سے چار سال جہنم جیسی اذیت جھیلی۔‘

کئی لوگوں کی زندگیاں ’یکسر بدل گئیں‘

بریڈفورڈ میں قائم فوجداری قانون کے وکیل جبران حسین کا خیال ہے کہ عائشہ واحد برطانوی شہری نہیں جنھیں ویزا سے متعلق وجوہات کی بنا پر ان کے پناہ گزین پارٹنر سے گھریلو تشدد کے جھوٹے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

ان کے مطابق انھوں نے ایسے متعدد کیسز دیکھے ہیں جن میں ان کے موکلوں کی زندگیاں ’یکسر بدل کر رہ گئی ہیں۔‘ جبکہ الزامات عائد کرنے والا فریق اس کے باوجود مستقل رہائش حاصل کرنے کی پوزیشن میں رہتا ہے کیونکہ امیگریشن قوانین کے تحت گھریلو تشدد کے دعوے میں سزا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔

جبران حسین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پناہ گزین پارٹنر کے لیے عام حالات میں مستقل رہائش حاصل کرنے کے تقاضے سخت ہوتے ہیں، جن میں انگریزی زبان کے امتحانات اور بھاری فیسیں شامل ہیں تاہم گھریلو تشدد کی خصوصی رعایت کے تحت یہ شرائط لاگو نہیں ہوتیں۔

حسین کا کہنا تھا کہ یہ راستہ نیک نیتی کے تحت متعارف کرایا گیا تھا جس کا مقصد معاشرے کے سب سے کمزور افراد یعنی گھریلو تشدد کے متاثرین کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔

ان کے مطابق ’لیکن میرا خیال ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اسے اپنے ذاتی فائدے کے لیے یا تیز رفتار طریقے سے یہاں مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے غلط استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔‘

ان قواعد کے غلط استعمال سے متعلق خدشات پارلیمنٹ میں بھی اٹھائے جا چکے ہیں۔

نومبر 2024 میں ویسٹ یارکشائر سے کنزرویٹو رکنِ پارلیمنٹ روبی مور نے کہا تھا کہ وہ اپنے حلقے کیگلے میں حال ہی میں برطانیہ آنے والے بعض پارٹنرز کی جانب سے اپنے ساتھیوں پر جھوٹے الزامات لگانے کے ایک ’تشویشناک‘ رجحان کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

انھوں نے ارکانِ پارلیمنٹ کو بتایا کہ ’گھریلو تشدد کے بعض دعوے اب برطانیہ آمد کے صرف چند ہفتوں کے اندر سامنے آ رہے ہیں، چاہے دعوٰی کرنے والے مرد ہوں یا خواتین۔‘

روبی مور کا کہنا تھا کہ انھیں خدشہ ہے کہ بعض افراد حتیٰ کہ بظاہر خوشگوار تعلقات میں بھی گھریلو تشدد کے الزامات کو مستقل رہائش تیزی سے حاصل کرنے، یا اس سے وابستہ اخراجات اور ویزے میں توسیع کی فیس سے بچنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔