سلمان خان کی ’بیٹل آف گلوان‘ پر تنازع: فلم کے نام کی تبدیلی اور ریلیز میں تاخیر کے بعد اب ری شوٹنگ کی اطلاعات کیوں آ رہی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہInsta/beingsalmankhan
- مصنف, مہتاب عالم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
یہ کوئی بہت پرانی بات نہیں جب ہر سال نہیں تو اکثر عید کے موقع پر شائقین کو بالی ووڈ سپر سٹار سلمان خان کی نئی فلم کی لطف اندوز ہوتے تھے۔ عید الاضحیٰ کے موقع پر ریلیز ہونے والی سلمان خان کی فلمیں عموماً باکس آفس پر کامیاب بھی ہوتی تھیں۔
گذشتہ برس، ایک سال کے وقفے کے بعد، سلمان خان کی فلم ’سکندر‘ عید کے موقع پر ریلیز ہوئی تھی۔ اس سے قبل 2023 میں اُن کی فلم ’کسی کا بھائی کسی کی جان‘ ریلیز ہوئی تھی۔
لیکن یہاں بات عید پر ریلیز ہونے والی فلموں کی نہیں، بلکہ اس فلم کی ہے جو اپنے اعلان کے وقت سے ہی تنازعات کا شکار رہی ہے۔
اس فلم کو 17 اپریل 2026 (یعنی آج) ریلیز ہونا تھا مگر اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تنازعات کے بعد اس فلم کی دوبارہ شوٹنگ کی جا رہی ہے۔ اس فلم کی تشہیر کے لیے دسمبر 2025 میں ٹیزر بھی جاری کیا گیا تھا، جس میں سلمان خان ایک انڈین فوجی کا کردار ادا کرتے نظر آئے تھے۔
اس فلم کا ابتدائی نام ’بیٹل آف گلوان‘ تھا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہاں ’تھا‘ کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب فلم کا نام تبدیل کر کے ’ماتربھومی: مے وار ریسٹ ان پیس‘ رکھ دیا گیا ہے۔
نام کی تبدیلی کا اعلان خود سلمان خان نے گذشتہ ماہ ایک انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے کیا تھا، تاہم اس پوسٹ میں نہ تو نام بدلنے کی وجہ بتائی گئی اور نہ ہی اِس کا براہِ راست ذکر کیا گیا۔
اس پوسٹ کے نیچے کمنٹس سیکشن میں متعدد صارفین نے دعوے کیے کہ یہ فیصلہ حکومت کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ حکومت نہیں چاہتی کہ فلم کی وجہ سے انڈیا اور چین کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہو۔

،تصویر کا ذریعہSalman Khan Films
یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں ٹیزر ریلیز ہونے کے بعد چینی میڈیا میں اس فلم کے موضوع پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ چینی حکومت کے زیرِ اثر اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ نے ماہرین کے حوالے سے لکھا تھا کہ فلم کا موضوع اور وقت دونوں نامناسب ہیں، کیونکہ یہ یکطرفہ انڈین بیانیہ پیش کرتی ہے اور کشیدگی کو ہوا دے سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اخبار نے یہ بھی لکھا تھا کہ ایسے وقت میں جب انڈیا اور چین کے تعلقات میں بہتری آئی ہے، ایسی فلم دونوں ممالک کے درمیان حالات دوبارہ بگاڑ سکتی ہے۔ اس تنقید کے جواب میں انڈین حکومت نے معاملے کو تخلیقی آزادی سے جوڑا تھا اور کہا تھا کہ انڈین سینما میں تاریخی فوجی واقعات پر فلمیں بنانے کی ایک طویل روایت رہی ہے۔
فلم کا ٹیزر سامنے آتے ہی انڈین سوشل میڈیا پر کچھ حلقوں نے فلم کو ’حُب الوطنی کے جذبے کی عکاس‘ قرار دیا جبکہ دیگر نے اسے حساس موضوع پر مبنی پروپیگنڈہ فلم قرار دیا ہے اور اس پر تنقید کی ہے۔
واضح رہے کہ فلم کے اعلان کے وقت بتایا گیا تھا کہ یہ سنہ 2020 میں گلوان وادی میں انڈین اور چینی فوجیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ پر مبنی ہے۔ دسمبر میں جاری کیے گئے ٹیزر میں سلمان خان کو مشرقی لداخ میں چینی افواج کے خلاف دست بدست لڑائی میں اپنی یونٹ کی قیادت کرتے دکھایا گیا تھا، جس پر خاصی نکتہ چینی ہوئی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ بعد ازاں فلم کا نام تبدیل کرنا پڑا۔
یاد رہے کہ 15 جون 2020 کو گلوان وادی میں ہونے والی جھڑپ میں انڈیا کے 20 اور چین کے کم از کم چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
نام کی تبدیلی کے بعد اب اطلاعات ہیں کہ فلم کے سکرپٹ میں بھی بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ تبدیلیاں حکام کی ہدایت پر کی گئیں، تاہم بی بی سی ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کر سکتا ہے۔
فلمی خبریں شائع کرنے والی ویب سائٹ ’بالی ووڈ ہنگامہ‘ کے مطابق انڈین وزارتِ دفاع کی درخواست پر سلمان خان (جو فلم کے پروڈیوسر بھی ہیں) اور ہدایتکار اپوروا لاکھیا نے فلم کی کہانی میں نمایاں ترمیم کی ہے، اور فلم کا تقریباً 40 فیصد حصہ دوبارہ شوٹ کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزارتِ دفاع نے یہ شرط رکھی تھی کہ فلم میں چین کا براہِ راست ذکر بالکل نہ کیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق ’ماتربھومی‘ کا جو ورژن اس ماہ کے آغاز میں جمع کروایا گیا، اس میں چین کا کوئی حوالہ موجود نہیں۔
انڈین وزارت دفاع یا فلم کے ڈائریکٹرز و پروڈیوسرز نے ملک میں شائع ہونے والی اس نوعیت کی رپورٹس پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
تاہم یہ بھی بتایا گیا ہے کہ متعدد ترامیم کے باوجود فلم کو ریلیز کے لیے درکار حتمی مراحل سے ابھی گزارا جا رہا ہے اور مزید یہ کہ فلم ابھی تک سینسر بورڈ میں بھی منظوری کے لیے جمع نہیں کروائی گئی، جس کے باعث اس کی ریلیز میں مزید تاخیر کے امکانات ہیں۔
اس صورتحال کے دوران یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا فلم کو سینما گھروں میں ریلیز کیا جائے گا یا پھر اسے براہِ راست کسی او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ریلیز کی جائے گی۔ اس حوالے سے تاحال کوئی واضح اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
جہاں تک ریلیز کی تاریخ کا تعلق ہے، ابہام بدستور برقرار ہے۔
انڈیا کی فلمی صنعت پر رپورٹنگ کرنے والے ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ فلم 15 مئی کو ریلیز ہو سکتی ہے، جبکہ دیگر کے مطابق اب اسے 15 اگست، یعنی انڈیا کے یومِ آزادی کے موقع پر پیش کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
تاہم سلمان خان سمیت فلم کی ٹیم کی جانب سے اب تک کسی باقاعدہ تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، اور اس پورے معاملے پر فی الحال مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
























