کیا پیشاب کرنے کے بعد قطروں کا بہنا کوئی سنگین بیماری ہے؟

Urine

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, اومکر کرمبیلکر
    • عہدہ, بی بی سی
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

پیشاب کرنے کے بعد قطرے ٹپکنے کو طبّی زبان میں ’پوسٹ وائڈ ڈربلنگ‘ (پی وی ڈی) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ حالت ہے جس میں پیشاب کرنے کے چند سیکنڈ یا بیت الخلا سے نکلنے کے دوران یا فوراً بعد اچانک پیشاب کے چند قطرے خارج ہو جاتے ہیں۔

بہت سے لوگ اسے معمولی مسئلہ سمجھتے ہیں لیکن یہ مردوں کی روزمرہ زندگی، خود اعتمادی اور نفسیاتی صحت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مسئلہ صرف بڑھاپے میں ہی ہوتا ہے لیکن درحقیقت یہ مسئلہ نوجوان افراد میں بھی کافی عام ہے۔

بہت سے مرد اس بات کو محسوس کر سکتے ہیں کہ پیشاب کرنے کے بعد چند قطرے غیرارادی طور پر نکل آتے ہیں، جس سے اُن کا زیرِ جامہ (انڈر ویئر) یا شلوار گیلی ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتے ہوئے انھیں تکلیف بھی محسوس ہوتی ہے۔

یہ ایک عام سی بات ہے لیکن زیادہ تر مرد اس بارے میں بات کرنے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔

دن کے اوقات میں پیشاب کے ان قطروں کا آنا، خاص طور پر دفتر میں یا سفر کے دوران، متاثرہ شخص کو یہ احساس دلا سکتا ہے کہ اس کا زیرِ جامہ گیلا ہے اور وہ بے آرام ہو رہے ہیں۔ وہ بار بار اپنے کپڑوں کو چیک کرنے لگتے ہیں۔ اس صورتحال سے ذہنی دباؤ بڑھ سکتا ہے اور خود اعتمادی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ کوئی سنگین بیماری نہیں۔ باقاعدہ ورزش، چند سادہ طریقوں اور پیشاب کرنے کے درست اصولوں پر عمل کے ذریعے اسے آسانی سے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے، اس کی علامات کیا ہیں اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے کون سے حل واقعی مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔

پی وی ڈی ہے کیا؟

پیشاب سے فارغ ہو جانے کے باوجود بھی کچھ قطروں کے رساؤ کو پی وی ڈی کہا جاتا ہے۔

اس مسئلے کی اہم علامت یہ ہے کہ بیت الخلا چھوڑنے کے چند سیکنڈ یا چند منٹ بعد اچانک پیشاب کے چند قطرے خارج ہو جاتے ہیں۔

Doctor

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیمز ہسپتال سے منسلک ڈاکٹر عقیل خان نے بی بی سی مراٹھی کو بتایا کہ پیشاب کی نالی ’یوریتھرا‘ میں پیشاب کی تھوڑی مقدار رہ جائے تو اکثر ایسا ہو جاتا ہے۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’پیشاب کرنے کے بعد قطرے ٹپکنا عام طور پر ’پیشاب پر قابو نہ رہنے‘ (یورینری اِنکونٹیننس) کی درجہ بندی میں شامل نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے یہ ایک الگ کیفیت میں آتا ہے، جسے ’وائڈنگ ڈس فنکشن‘ کہا جاتا ہے، جس میں پیشاب کی نالی میں پیشاب کی تھوڑی مقدار باقی رہ جاتی ہے اور بعد میں رسنے لگتی ہے۔‘

یہ مسئلہ شرمندگی یا جھجھک کا باعث بن سکتا ہے لیکن ماہرین کے مطابق یہ کوئی سنگین حالت نہیں اور مناسب ورزشوں اور سادہ طریقۂ کار پر عمل کر کے اسے آسانی سے قابو میں کیا جا سکتا ہے۔

پیلوِک فلور کیا ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پیلوک فلور مضبوط مگر لچکدار پٹھوں، بافتوں اور رباطوں کا مجموعہ ہے جو پیٹ کے نچلے حصے میں ہوتا ہے۔

جسم کا یہ حصہ کسی جھولے یا وزن سنبھالنے والے نظام کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ اس حصے میں موجود اہم اعضا کو سہارا دیتا ہے، جیسے مثانہ، پیشاب کی نالی، آنتیں اور مردوں میں پروسٹیٹ غدود۔

یہ پٹھے ان اعضا کا وزن سنبھالنے میں مدد دیتے ہیں اور جب کوئی شخص کھڑا ہوتا ہے، چلتا یا حرکت کرتا ہے تو انھیں اپنی درست جگہ پر برقرار رکھتے ہیں۔

پیلوک فلور کا ایک اور اہم کام ان اعضا کو سہارا دینا ہے جو پیشاب اور پاخانے کے اخراج کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جب پیٹ کے حصے میں دباؤ بڑھتا ہے، مثال کے طور پر گہرا سانس لینے، کھانسنے، چھینکنے، بھاری چیزیں اٹھانے یا ورزش کرنے کے دوران، تو پیلوک فلور کے پٹھے اس دباؤ کو برداشت کرنے میں مدد دیتے ہیں اور اعضا کو اپنی جگہ پر مستحکم رکھتے ہیں۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ پیلوک فلور توازن قائم رکھنے، جسم کے مرکزی حصے کی مضبوطی اور پیشاب و پاخانے پر کنٹرول کے لیے نہایت ضروری ہے۔ صحت مند جسم میں اس کے اہم کردار کے باوجود بہت سے لوگ اس نظام پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے۔

پی وی ڈی ہے کیا اور اس کا پروسٹیٹ غدود سے کیا تعلق ہے؟

پی وی ڈی کی سب سے عام وجوہات پیلوک فلور کا کمزور ہونا یا اس کا صحیح طریقے سے کام نہ کرنا ہوتا ہے۔

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مسئلہ صرف عمر بڑھنے کے ساتھ ہوتا ہے لیکن یہ نوجوان مردوں میں بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا، ورزش نہ کرنا، وزن زیادہ ہونا اور پیشاب کرنے کی غلط عادات اس خطرے کو بڑھا سکتی ہیں۔

Doctor

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہاں ایک غلط فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ پی وی ڈی کا مسئلہ ہمیشہ پروسٹیٹ غدود کے سبب ہوتا ہے۔ کبھی کبھار بڑھے ہوئے غدود بھی اس مسئلے کا باعث بن سکتے ہیں۔

تاہم زیادہ تر مرد خاص طور پر جوان افراد کو پروسٹیٹ کی کوئی بیماری لاحق نہیں ہوتی۔

ایسی صورت میں پی وی ڈی کا مسئلہ جسم میں کسی قسم کے نقصان یا کسی ساختی مسئلے کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ اس کا تعلق پیلوِک فلور کے درست طریقے سے کام نہ کرنے سے ہو سکتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اگر پی وی ڈی کے ساتھ دیگر مسائل بھی سامنے آ رہے ہوں تو اس کا باقاعدہ طبّی جائزہ لینا ضروری ہوجاتا ہے۔

ان علامات میں پیشاب کرتے وقت جلن کا احساس، پیشاب کی دھار کا کمزور ہونا، پیشاب کرنے میں دشواری، بار بار بیت الخلا جانا، پیشاب میں خون آنا اور پیٹ کے نچلے حصے میں درد شامل ہیں۔

اگر یہ علامات موجود ہوں تو معالجین مریضوں میں دیگر بیماریاں بھی تلاش کرنے پر غور کرتے ہیں، جیسے پیشاب کی نالی کا انفیکشن، یوریتھرا میں تنگی یا پروسٹیٹ کی سوزش۔

تشخیص کا طریقہ اور آسان حل

یہ جانچنے کے لیے کہ کسی شخص کو پیشاب کے بعد اپنے قطروں پر قابو ہے یا نہیں، ڈاکٹر عموماً سب سے پہلے اس کی علامات کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور پھر ایک سادہ جسمانی معائنہ کرتے ہیں۔

بعض اوقات ڈاکٹر ’یورو فلومیٹری‘ جیسے ٹیسٹ کرنے کا مشورہ بھی دیتے ہیں (جس سے پیشاب کے بہاؤ کی جانچ ہوتی ہے) یا یورینلائسز‘ (پیشاب کے تجزیے کے ذریعے کسی مسئلے کی نشاندہی کرنا)۔

علاج کا سب سے اہم حصہ پیلوک فلور کی ورزشیں درست طریقے سے کرنا ہے۔

Urine testing

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈاکٹر عقیل خان کے مطابق ’اس مسئلے کی تشخیص عموماً علامات کی طبّی تاریخ اور جسمانی معائنے کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ بعض اوقات یورینلائسز یا یورو فلومیٹری جیسے ٹیسٹ تجویز کیے جا سکتے ہیں۔ کسی شخص کو خود بھی کچھ باتوں کا احساس ہو سکتا ہے، مثلاً پیشاب روک دینے کے بعد بھی پیشاب کا جاری رہنا۔‘

’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کہیں کوئی سنگین وجہ تو موجود نہیں، باقاعدہ طبی معائنہ ضروری ہے۔‘

وہ مزید بتاتے ہیں کہ پی وی ڈی کو قابو میں رکھنے کے لیے پیلوک فلور کی ورزشیں بے حد اہم ہیں۔

’یوریتھرا ملکنگ کا مطلب یہ ہے کہ پیشاب کرنے کے بعد خصیوں کے پیچھے والے حصے پر ہلکا دباؤ ڈالا جائے، جس سے باقی رہ جانے والا پیشاب خارج ہو جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر عقیل خان مزید بتاتے ہیں کہ ’ایک عام غلطی یہ ہے کہ ورزشیں غلط طریقے یا بےقاعدگی سے کی جاتی ہیں۔ درست رہنمائی نہایت ضروری ہے، جب تک کوئی مسئلہ، جیسے کہ انفیکشن یا پروسٹیٹ کے بڑھ جانے کی کیفیت، موجود نہ ہو تو ادویات کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘

پی وی ڈی اور دیگر سنگین علامات

اگر کسی شخص کے جسم میں پی وی ڈی کے علاوہ دیگر علامات بھی موجود ہوں تو یہ سنگین مسئلہ ہو سکتا ہے۔ ان سنگین علامات میں پیشاب میں خون آنا، پیشاب کرتے وقت جلن، بخار، پیٹ کے نچلے حصے یا ٹانگوں کے درمیان درد، پیشاب کی دھار کا کمزور ہونا یا بار بار انفیکشن ہونا شامل ہیں۔

اگر آپ کو یہ علامات محسوس ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ یہ علامات پیشاب کی نالی میں رکاوٹ، انفیکشن یا تنگی جیسے مسائل کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

کوکیلابین دھیروبھائی امبانی ہسپتال سے منسلک ڈاکٹر شیام ورما ان مسائل پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اگر پی وی ڈی کی علامات کے علاوہ پیشاب میں خون آ رہا ہے، تکلیف ہو رہی ہو یا پیشاب کی دھار کمزور ہو تو یہ صرف پی وی ڈی کا مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی اور بیماری کی علامات بھی ہو سکتی ہیں۔ اس لیے اس کا باقاعدہ طبّی معائنہ کروانا ضروری ہے۔‘

پی وی ڈی پیشاب کے دیگر مسائل کے سبب بھی ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اوورایکٹو مثانہ ہونے کی صورت میں کسی شخص کو بار بار اور فوراً پیشاب کی حاجت محسوس ہونا، اسی لیے پیشاب کے بعد قطرے ٹپکنا اس کے لیے مزید اذیت ناک ہو سکتا ہے۔

اگر پیشاب کی نالی تنگ ہو جائے تو پیشاب کا آخری حصہ ٹھیک طرح سے نہیں بہہ پاتا۔ اسی طرح ’پروسٹیٹائٹس‘ کی صورت میں پیلوک کے پٹھوں میں سوجن اور درد پیشاب کے قطرے ٹپکنے کے مسئلے کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ورما کے مطابق ’چونکہ پیشاب کی نالی کے مکمل طور پر خالی نہ ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، اس لیے مثانے کی حساسیت، پٹھوں کا سکڑاؤ اور پروسٹیٹائٹس کی وجہ سے ہونے والی سوزش، یہ سب عوامل مل کر پیشاب کے قطرے ٹپکنے کا سبب بن سکتے ہیں۔‘

پی وی ڈی کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

ڈاکٹر طبی معائنہ کا آغاز سب سے پہلے اس حالت کے بارے میں تفصیلی سوالات پوچھ کر کرتے ہیں۔

وہ یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ پیشاب پر قابو نہ رہنے کی کیفیت کب ہوتی ہے، کتنا پیشاب خارج ہو رہا ہے، کیا پیشاب کے دوران کوئی جلن یا درد محسوس ہوتا ہے اور یہ مسئلہ روزمرہ زندگی کو کس حد تک متاثر کر رہا ہے؟

اس کے بعد جسمانی معائنہ کیا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر پروسٹیٹ غدود کا بھی معائنہ کیا جا سکتا ہے۔ بعض أوقات انتہائی سادہ ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں، جیسے کہ یورینلائسز (پیشاب کا ٹیسٹ)، یورو فلو میٹری (پیشاب کے بہاؤ کی رفتار ناپنے کے لیے) اور پیشاب کرنے کے بعد باقی رہ جانے والے پیشاب کی مقدار کی پیمائش۔

اگر کوئی سنگین علامات سامنے آئیں تو ڈاکٹر مزید تفصیلی ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں، مثلاً سیسٹوسکوپی یا مختلف قسم کے امیجنگ سکین۔

Doctor

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اپنی علامات پر کیسے نظر رکھی جائے؟

جن افراد کو پیشاب کرنے کے بعد قطرے ٹپکنے کا مسئلہ ہوتا ہے، وہ گھر پر ایک سادہ سی ڈائری رکھ سکتے ہیں۔ اس میں وہ یہ نوٹ کر سکتے ہیں کہ پیشاب کے بعد قطرے ٹپکنے کا مسئلہ انھیں کب کب پیش آ رہا ہے، یہ کتنی مقدار میں ہوتا ہے، وہ دن میں کتنی بار پانی پیتے ہیں اور پیشاب کرنے کے بعد تھوڑا انتظار کرنے سے اس کیفیت میں فرق آتا ہے یا نہیں۔

ڈاکٹر شیام ورما وضاحت کرتے ہیں کہ ’یہ ڈائری مفید ثابت سکتی ہے کیونکہ اس سے مسئلے کی نوعیت اور اس کے تسلسل کو واضح طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے لیکن اگر علامات برقرار رہیں تو محض خود دیکھ بھال کافی نہیں ہوتی بلکہ مناسب طبی جانچ کروانا ضروری ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اگر صرف چند قطرے نکلتے ہوں تو دوا کی ضرورت صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب کوئی دوسری بڑی وجہ بھی موجود ہو۔ اگر کسی فرد کو صرف پی وی ڈی ہو تو عموماً دوائیں تجویز نہیں کی جاتیں۔ پیلوک فلور کی تربیت اور یوریتھرا ملکنِگ جیسی ورزشیں پی وی ڈی کے لیے نہایت مؤثر، شواہد پر مبنی اور آزمودہ طریقے ہیں۔‘

ڈاکٹر ورما نے ورزشوں کے بارے میں چند اہم نکات بھی واضح کیے۔ انھوں نے کہا کہ ’غلط پٹھوں کو مضبوط کرنا، پیٹ، کولہوں یا رانوں کے پٹھوں کا حد سے زیادہ استعمال کرنا، سانس روک لینا، ورزشیں باقاعدگی سے نہ کرنا اور چند دنوں میں فوری نتائج کی توقع رکھنا، یہ سب بڑی غلطیوں میں شامل ہیں۔‘

’بہت سے مرد صرف ’پٹھوں کو مضبوط کرنے‘ کی ورزشیں کرتے ہیں لیکن انھیں پیلوک فلور کو درست طریقے سے مستحکم کرنے کا طریقہ نہیں سکھایا جاتا۔ ورزش کی شدت سے زیادہ اہم اس کی درست تکنیک ہے۔‘