خیرپور میں نوزائیدہ بچوں میں منکی پاکس کا پھیلاؤ: ’ہم نے سب کچھ کیا مگر اسے بچا نہ سکے‘

منکی پاکس
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

سندھ کے ضلع خیرپور سے تعلق رکھنے والی ایک ماہ کی عائشہ کی تدفین لگ بھگ ایک ماہ قبل عین عید الفطر کے روز کی گئی تھی۔

عائشہ کے والد نادر علی نے بی بی سی کو بتایا کہ پیدائش کے چند روز بعد اُن کی بیٹی کی طبعیت اچانک بگڑ گئی اور اُس کے جسم پر دانے نکل آئے۔ نادر بتاتے ہیں کہ ابتدا میں وہ اپنی بیٹی کو لے کر خیرپور کے سرکاری ’سٹی ہسپتال‘ لائے جہاں ابتدائی علاج معالجے کے بعد اس کی طبعیت میں کچھ بہتری ہوئی تو وہ واپس گھر منتقل ہو گئے تاہم گھر جاتے ہی بچی کی طبعیت دوبارہ بگڑ گئی۔

نادر علی کا کہنا ہے کہ ’دوبارہ طبیعت خراب ہونے پر ہمیں کہا گیا کہ بچی کو سکھر میں بچوں کے ہسپتال لے جاؤ۔ ہم اُس کو گھوٹکی کے ہسپتال لے گئے اور پھر سکھر لائے لیکن انھوں نے کہا کہ علاج خیرپور میں ہی ہو گا۔‘

نادر علی کے مطابق اس دوران بچی کا چکن پاکس کا ٹیسٹ بھی ہوا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’ہم ہسپتال لے جانے کے لیے خیرپور واپس آ گئے، مگر پھر بچی کی موت ہو گئی۔‘

نادر کے مطابق موت کے بعد بچی کا ٹیسٹ پازیٹو آیا اور اِس وقت وہ اپنی اہلیہ اور دو بچوں سمیت سٹی ہسپتال خیرپور کے آئسولیشن وارڈ میں زیر علاج ہیں۔

ہسپتال کے ایک سینیئر ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس خاندان کے منکی پاکس کے ٹیسٹ پازیٹو آئے ہیں اور عین ممکن ہے کہ انھیں وفات پا جانے والی بچی سے ہی وائرس منتقل ہوا ہو گا۔

نادر علی نے بتایا کہ وہ گذشتہ کئی روز سے یہاں ہسپتال میں موجود ہیں اور انھیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کے جسم پر دانے ہیں، تو اُن کا کہنا تھا کہ وہ ’چھوٹی ماتا‘ (چکن پاکس) ہے، مگر یہ کہ وہ ٹھیک ہیں۔

نادر علی دودھ کی فروخت کا کام کرتے ہیں یعنی گوالے ہیں۔

منکی پاکس
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

عائشہ ہی کی کہانی سے ملتی جلتی کہانی خیرپور ہی سے تعلق رکھنے والی میمونہ کی ہے۔ وہ ابھی ایک ماہ کی عمر کو بھی نہیں پہنچ پائی تھیں جب منکی پاکس میں مبتلا ہونے کے بعد ان کی وفات ہوئی۔

میمونہ کے والد حفیظ الرحمان سروری نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کی بیٹی کی پیدائش 23 مارچ کو سی سیکشن کے ذریعے نجی ہسپتال میں ہوئی تھی اور چند روز کے بعد اس کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ ابتدا میں سر پر دو دانے نکلے۔

سروری کے مطابق وہ اپنی بیٹی کو خیرپور کے سرکاری ہسپتال ’سٹی ہسپتال‘ لے گئے جہاں سے انھیں گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف سائنسز جانے کو کہا گیا۔

سروری کے مطابق بچی کے ٹیسٹ ہوئے اور ڈاکٹروں نے انھیں بتایا کہ بچی کو منکی پاکس ہے۔ والد کے مطابق تشخیص کے دو روز بعد بچی کی وفات ہو گئی۔

حفیظ الرحمان کے مطابق انھوں نے سوشل میڈیا پر اس وائرس کے بارے میں پڑھا تھا، لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ اُن کے گھر میں آ جائے گا۔

منکی پاکس کے بڑھتے کیسز کے باعث شمالی سندھ کے ضلع خیرپور میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ ہے اور یہاں متعلقہ صحت کے حکام کے مطابق متاثرین میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق 14 اپریل 2026 تک صوبے بھر میں منکی پاکس کے مجموعی طور پر 122 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جن میں سے 25 کیسز کی لیبارٹری سے تصدیق ہو چکی ہے جبکہ اس وائرس کے نتیجے میں نو اموات سامنے آئی ہیں۔

محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر کیسز ضلع خیرپور سے رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں اب تک 18 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے، اس کے علاوہ سکھر سے تین اور کراچی سے چار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر فوری اقدامات کیے گئے ہیں جن میں تمام ضلعی اور بڑے ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز کا قیام، نمونہ جات کی بروقت ترسیل کا مربوط نظام اور سندھ بھر میں ڈیزیز سرویلنس اینڈ رسپانس یونٹس کی فعالیت شامل ہے۔

اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے سکھر کے کمشنر عابد سلیم نے کہا کہ ابتدا میں انھیں خدشہ تھا کہ ’یہ بیماری بہت تیزی سے پھیلے گی لیکن بروقت اقدامات کے باعث شکر ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔‘

منکی پاکس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چکن پاکس یا منکی پاکس؟ تشخیص میں مشکلات

دیہی علاقوں میں بعض اوقات ڈاکٹر منکی پاکس اور چکن پاکس میں فرق نہیں کر پاتے۔

آغا خان یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر فیصل محمود کہتے ہیں کہ منکی پاکس کی علامات کافی حد چکن پاکس سے ملتی جلتی ہیں اور اسی لیے مقامی افراد اسے اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ منکی پاکس کا ٹیسٹ پی سی آر ہوتا ہے، جو ایک خاص نوعیت کا ٹیسٹ ہے اور یہ سہولت سندھ کے چھوٹے شہروں میں دستیاب نہیں ہے۔

ڈاکٹر ذوالقرنین بزدار ماہر امراض اطفال ہیں اور خیرپور کے سرکاری ہسپتال میں کام کرتے ہیں۔ اُن کی 22 فروری کو پیدا ہونے والی بیٹی کی وفات سات مارچ کو ہوئی تھی۔ ڈاکٹر بزدار کے مطابق پیدائش کے چند روز بعد بچی کے جسم پر دانے نکل آئے تھے، جس پر علاج معالجہ کروایا گیا مگر وہ بچ نہ پائی۔

ڈاکٹر بزدار کے مطابق فروری کے مہینے میں چونکہ منکی پاکس کے زیادہ کیسز سامنے نہیں آئے تھے اس لیے لیب ٹیسٹنگ کی سہولت موجود نہیں تھی اور وہ اپنی بچی کا ٹیسٹ نہیں کروا پائے تاہم بطور ڈاکٹر انھیں شبہ ہے کہ ان کی بچی کی علامات منکی پاکس سے متاثرہ علامات جیسی ہی تھیں۔

ڈاکٹر بزدار کہتے ہیں کہ یہ وائرس ہسپتال سے بھی آ سکتا ہے اور ماحول سے بھی۔

ضلع خیرپور کی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ منکی پاکس کے پھیلاؤ کے شبے میں بچوں کے ایک ہسپتال کو بھی سیل کیا گیا۔

سکھر کے کمشنر عابد سلیم کا دعویٰ ہے کہ نجی ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کے لیے استعمال ہونے والے انکیوبیٹرز کے ذریعے انفیکشن پھیلا، جس کے بعد اس ہسپتال کو سیل کر دیا گیا۔

وائرس کیسے پھیلا؟

عابد سلیم کے مطابق سندھ ہیلتھ کمیشن کی ٹیموں نے نجی ہسپتال کی انسپیکشن کی اور وہاں سے جمع ہونے والے شواہد کی بنیاد پر اس کو سیل کیا گیا کیونکہ ہیلتھ کمیشن کی ٹیموں کے مطابق ہسپتال میں سے دیگر بچوں میں یہ وائرس پھیلا تھا۔ سکھر کمشنر کے مطابق جب سے یہ ہسپتال سیل ہوا تو اس کے بعد صورتحال میں بہتری آئی۔

آغا خان یونیورسٹی کے شعبہ انفیکشن ڈیزیز سے منسلک ڈاکٹر فیصل محمود، جو خیرپور سے منکی پاکس میں مبتلا ایک بچے کا علاج کر چکے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ وائرس رابطے سے پھیلتا ہے۔ ’اگر متاثرہ شخص کے زخم یا دانوں کو چھوا جائے یا متاثرہ شخص کسی چیز کو چھوئے اور پھر دوسرا شخص اُسی چیز کو چھو لے تو بیماری منتقل ہو سکتی ہے۔‘

گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، جہاں منکی وائرس سے متاثرہ افراد زیر علاج ہیں، سے منسلک ڈاکٹر افتخار شاہ کہتے ہیں کہ یہ ایک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں آتا ہے، تاہم اگر صفائی کے اصولوں پر عمل نہ ہو تو یہ ہسپتال کے اندر بھی پھیل سکتا ہے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی رپورٹ بھی اس ضمن میں تشویش بڑھاتی ہے۔ خیرپور میں منکی پاکس کے پھیلاؤ کے بعد سکھر ڈویژن میں 66 مراکز کے معائنے میں صرف 21 مراکز ہی انفیکشن کنٹرول کے معیار پر پورا اترے جبکہ 11 کو سیل کر دیا گیا۔

پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا باضابطہ طور پر تصدیق شدہ کیس 21 اپریل 2023 کواسلام آباد میں رپورٹ ہوا تھا۔ یہ وائرس ایک 25 سالہ پاکستانی مرد میں پایا گیا جو سعودی عرب سے واپس پاکستان آیا تھا۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ستمبر 2025 میں 42 ممالک نے 3,135 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ کیے گئے، جن میں سے 80 فیصد سے زیادہ افریقی ممالک میں تھے۔

ماہرین کے مطابق منکی پاکس کے پھیلاؤ کی اصل وجہ جاننا آسان نہیں ہوتا۔ حکام کے مطابق اس کے لیے لائن لسٹنگ اور کانٹیکٹ ٹریسنگ کی جاتی ہے، جس کے بعد پہلے مریض تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اگرچہ حکام کے مطابق ضلع خیرپور میں اب صورتحال قابو میں ہے لیکن اس واقعے نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

منکی پاکس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کمشنر عابد سلیم کے مطابق دو بڑی وجوہات سامنے آئیں ہیں جن میں ایک عوام میں صفائی اور آگاہی کا فقدان اور دوسرا ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر عمل نہ ہونا ہے۔

ان کے مطابق عام طور پر لوگ اپنے بیمار بچے کو دوسروں سے الگ نہیں رکھتے جبکہ ہسپتالوں میں بھی ہر مریض کے علاج معالجے کے بعد مکمل جراثیم کشی نہیں کی جاتی۔

کمشنر کے مطابق اب صوبائی حکومت دونوں محاذوں پر کام کر رہی ہے یعنی عوامی آگاہی اور ہسپتالوں میں سخت ایس او پیز کا نفاذ۔