بی بی سی کی خفیہ تحقیقات: قانونی مشیر جو تارکین وطن کو جعلی شواہد کی بنیاد پر ہم جنس پرست ظاہر کر کے برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے میں مدد دے رہے ہیں

- مصنف, بلی کنبر اور فلپ کیمپ
- عہدہ, سیاسی انوسٹیگیشنز نامہ نگار اور سیاسی رپورٹر
- مطالعے کا وقت: 17 منٹ
بی بی سی نے برطانیہ میں ایک ایسی خفیہ انڈسٹری کا پتہ لگایا ہے جس میں قانونی کمپنیاں اور مشیر مختلف تارکین وطن سے ہزاروں پاؤنڈ فیس لے کر انھیں خود کو ہم جنس پرست ظاہر کر کے ملک میں رہنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
ایک بڑے پیمانے پر کی جانے والی خفیہ تفتیش کے پہلے حصے میں ہم نے دکھایا ہے کہ تارکین وطن، جن کے ویزا کی میعاد ختم ہونے والی ہوتی ہے، کو جعلی کہانیاں فراہم کی جاتی ہیں اور انھیں بتایا جاتا ہے کہ کیسے جعلی شواہد بشمول تصاویر، طبی رپورٹس اور دیگر درکار دستاویزات اکھٹے کیے جا سکتے ہیں۔
پھر یہ تارکین وطن ہم جنس پرست ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے برطانیہ میں پناہ کی اپیل اس بنیاد پر دائر کرتے ہیں کہ اگر وہ پاکستان یا بنگلہ دیش واپس لوٹے تو اُن کی زندگی کو خطرہ ہو گا۔ ہماری تحقیقات کے جواب میں برطانوی ہوم آفس (وزارت داخلہ) نے کہا ہے کہ ’نظام سے غلط طریقے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والوں کو قانون کا سامنا کرنا ہو گا اور انھیں ملک بدر بھی کیا جا سکتا ہے۔‘
واضح رہے کہ برطانیہ میں پناہ کا نظام ایسے لوگوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے جو زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے اپنے آبائی ممالک واپس نہیں جا سکتے، مثال کے طور پر پاکستان اور بنگلہ دیش جہاں ہم جنس پرستی غیر قانونی ہے۔
تاہم بی بی سی نیوز کی تفتیش نے ثابت کیا ہے کہ اس نظام کو منظم انداز میں قانونی مشیر استعمال کرتے ہوئے برطانیہ میں رہائش اختیار کرنے کے خواہشمند تارکین وطن سے بھاری فیسیں بٹور رہے ہیں۔
ان میں سے اکثر وہ لوگ ہیں جن کے سٹوڈنٹ، ورک یا ٹورسٹ ویزا کی میعاد ختم ہو چکی ہوتی ہے نہ کہ غیر قانونی طریقوں اور ذرائع سے برطانیہ داخل ہونے والے افراد۔ ایسے افراد اب برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے کی درخواست دینے والوں کا مجموعی طور پر 35 فیصد ہیں۔ سنہ 2025 میں برطانیہ میں پناہ کے حصول کی ایک لاکھ درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔
ابتدائی شواہد حاصل کرنے کے بعد، جن میں خفیہ اطلاعات بھی شامل تھیں، بی بی سی نے اپنے صحافیوں کو بھیس بدل کر اس تفتیش کے لیے بھیجا تاکہ یہ پتہ چلایا جا سکے کہ امیگریشن کی سہولیات فراہم کرنے والے قانونی مشیر جھوٹے دعوے کرنے والوں کی مدد کرنے کو کس حد تک تیار ہیں۔
ہمارے رپورٹرز نے پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے طلبا کا روپ دھارا اور ظاہر کیا کہ جیسا اُن کا ویزا ختم ہونے والا ہے۔
- اس تفتیش میں معلوم ہوا کہ ایک قانونی فرم نے پناہ کا جھوٹا دعوی تیار کرنے کے لیے سات ہزار پاؤنڈ تک فیس مانگی اور یہاں تک کہا کہ اُن کی جانب سے بنایا گیا کیس برطانوی ہوم آفس کی جانب سے مسترد ہونے کا امکان بہت کم ہے۔
- جعلی طریقوں سے پناہ حاصل کرنے کے خواہشمند ڈاکٹروں کے پاس جا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہیں تاکہ انھیں اپنے دعوے کے حق میں طبی ثبوت بھی مل جائے۔ ایک ایسے فرد نے ایچ آئی وی پازیٹیو ہونے کا جھوٹا دعویٰ بھی کیا۔
- امیگریشن میں مدد فراہم کرنے والی ایک مشیر نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے 17 سال سے یہ کام کر رہی ہیں اور وہ اپنے کلائنٹس کے ہم جنس پرست ہونے کے دعوے میں مدد کے لیے جعلی ساتھی (پارٹنر) کا انتظام بھی کر سکتی ہیں۔
- ایک انڈر کور رپورٹر کو بتایا گیا کہ ایک بار انھیں برطانیہ میں پناہ مل گئی تو وہ پاکستان سے اپنی اہلیہ کو بھی لا سکتے ہیں اور ان کے لیے بھی ہم جنس پرست ہونے کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔
- ایک اور قانونی فرم سے تعلق رکھنے والے وکیل نے ایک (انڈر کور) رپورٹر کو بتایا کہ انھوں نے پناہ حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو ہم جنس پرست یا لادین ظاہر کرنے میں مدد فراہم کی۔ انھوں نے رپورٹر کو 1500 پاؤنڈ کے عوض جھوٹا دعوی دائر کرنے اور 2000 سے 3000 پاؤنڈ میں جھوٹے شواہد تیار کرنے مدد کی پیشکش کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’یہاں کوئی ہم جنس پرست نہیں‘
مشرقی لندن میں بیکٹن کے علاقے کے ایک خاموش کونے میں منگل کی شام کو کمیونٹی سینٹر میں تقریباً 175 افراد ایک تقریب کے لیے جمع تھے۔
’ورچسٹر ایل جی بی ٹی‘ نامی تنظیم کی جانب سے منعقد کی گئی اس تقریب میں شرکت کے لیے ساؤتھ ویلز، برمنگھم اور آکسفرڈ تک سے لوگ یہاں پہنچے تھے۔ یہ تنظیم پناہ کے متلاشی ہم جنس پرست مردوں اور خواتین کی مدد کرتی ہے۔ اس تنظیم کی ویب سائٹ کے مطابق ’صرف حقیقی ہم جنس پرستوں کی ہی مدد کی جاتی ہے۔‘

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس تقریب کے اختتام پر باہر نکلنے والے چند مردوں نے انڈر کور بی بی سی رپورٹر سے بات کرتے ہوئے باآسانی تسلیم کیا کہ سب کچھ ایسا نہیں جیسا دکھائی دے رہا ہے۔ فحر نامی ایک شخص نے کہا ’یہاں موجود زیادہ تر لوگ ہم جنس پرست نہیں ہیں۔‘
ذیشان نامی ایک اور شخص نے بتایا کہ ’یہاں کوئی بھی ہم جنس پرست نہیں۔ ایک فیصد کیا، 0.01 فیصد بھی نہیں۔‘
انڈرکور بی بی سی رپورٹر کا اس تقریب تک پہنچنے کا سفر فروری 2026 میں اُس وقت شروع ہوا تھا جب برمنگھم اور لندن میں کام کرنے والی ’لا اینڈ جسٹس سلیسٹرز‘ نامی امیگریشن فرم کے پیرا لیگل مزدل حسن شکیل سے اُن کا رابطہ ہوا۔
شکیل ’ورچسٹر ایل جی بی ٹی‘ نامی تنظیم کے بانی اور چیئرمین بھی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک اسی گروپ کی ویب سائٹ پر وہ اپنی قانونی خدمات کی تشہیر بھی کرتے تھے۔
ایک مختصر فون کال کے دوران شکیل نے بی بی سی انڈرکور رپورٹر کو بتایا کہ پناہ کی (جھوٹی) درخواست کرنے کے لیے انھیں سزا کا خوف ہونا چاہیے اور ان کے پاس ایسا کوئی (پناہ کا) دعویٰ کرنے کی بنیاد موجود نہیں۔
لیکن چند ہی گھنٹوں کے بعد، اچانک، بی بی سی کے انڈر کور رپورٹر کو ایک فون آیا اور دوسری طرف سے ’تنیشا‘ نامی خاتون نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے اُردو زبان میں بات چیت کرتے ہوئے مدد کی پیشکش کی اور ہم جنس پرستی کی بنیاد پر برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے کے حوالے سے بات چیت کی۔
جب رپورٹر نے کہا کہ وہ ہم جنس پرست نہیں ہیں، تو اُن سے کہا گیا کہ ’میری بات سُنو، اصل میں بھی کوئی نہیں ہوتا۔ یہاں رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور سب یہی استعمال کر رہے ہیں۔‘
تنیشا نے یہ نہیں بتایا کہ انڈر کور رپورٹر کا فون نمبر انھیں کیسے ملا، لیکن اُن کے واٹس ایپ پروفائل کی مدد سے ہم نے اُن کی شناخت تنیشا خان کے طور پر کی، جو ورچسٹر ایل جی بی ٹی میں بطور مشیر کام کرتی ہیں۔
’مکمل پیکج‘
اُسی شام بی بی سی کے انڈر کور رپورٹر تنیشا خان سے پہلی ملاقات کے لیے لندن میں فارسٹ گیٹ نامی علاقے میں موجود تھے۔ یہ ملاقات کسی قانونی کمپنی کے دفتر میں نہیں بلکہ اُن کے اپنے گھر میں ہوئی جہاں انھیں اوپر کی منزل پر ایک بیڈروم میں لے جایا گیا۔
تنیشا نے بیڈ پر بیٹھے ہوئے کہا کہ ’اس وقت ویزا حاصل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ کُھلا ہوا ہے۔ یہ پناہ کا ویزا ہے جو انسانی حقوق کی بنیاد پر ملتا ہے اور ہم جنس پرستی کا کیس کہلاتا ہے۔ کسی اور ویزا کی امید نہیں ہے۔‘
تنیشا نے اس بات پر زور دیا کہ اُن کی مجوزہ پیشکش پر محنت کرنی پڑے گی اور رپورٹر کو ایک من گھڑت کہانی یاد کرنی ہو گی جو ہوم آفس سے انٹرویو کے دوران سُنانی ہو گی۔
تنیشا نے کہا کہ ’آپ کو خود جا کر امتحان دینا ہو گا۔ میں سب کچھ تیار کروں گی، لیکن وہاں (ہوم آفس) آپ کو خود ہی جانا پڑے گا۔‘
اس کمرے میں اگلے 45 منٹ کے دوران جھوٹے پناہ کے دعوؤں کے پیچھے چھپی منظم دھوکے بازی کی تفصیلات کی ایک جھلک ملی، جس سے یہ بھی علم ہوا کہ حکام کے لیے اسے پکڑنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔
پناہ کے خواہش مند افراد کو ہوم آفس یعنی وزارت داخلہ کے ساتھ ایک ابتدائی انٹرویو میں پیش ہونا پڑتا ہے جس کے بعد ایک اور کئی گھنٹوں پر محیط تفصیلی انٹرویو کے دوران اُن کے دعووں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔

ہوم آفس کی جانب سے کسی درخواست کو مسترد کیا جائے تو اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے اور عدالت میں فیصلے کو تبدیل بھی کروایا سکتا ہے۔ تنیشا نے رپورٹر سے کہا کہ ’یہ جاننے کے لیے کہ یہ انسان واقعی ہم جنس پرست ہے، کوئی چیک اپ نہیں ہوتا۔‘
’بنیادی چیز یہ ہے کہ آپ کیا کہتے ہیں۔ آپ نے صرف اُن (ہوم آفس) کو بتانا ہے کہ میں ہم جنس پرست ہوں اور یہ میری حقیقت ہے۔‘
تنیشا نے ان کو تسلی دی کہ ’بہت سی تنظیمیں ہیں جہاں آپ جیسے لوگ، جو ہم جنس پرست نہیں ہیں، ویزا کی درخواست دیتے ہیں۔ آپ اکیلے نہیں ہیں۔‘
پھر انھوں نے سمجھایا کہ یہ سب کیسے ہوتا ہے۔
’ہم جو طریقہ کار استعمال کریں گے وہ یہ ہو گا۔ میں آپ کے لیے ایک مکمل پیکج تیار کر کے آپ کو انٹرویو کی تیاری کرواؤں گی، جس میں کلبز میں آپ کی تصاویر ہوں گی، کچھ اور شواہد ہوں گے، تنظیم کا خط ہو گا، کچھ اور دستاویزات ہوں گی، تاکہ جب آپ جائیں تو پوری طرح تیار ہوں۔‘
تنیشا، جنھوں نے بتایا کہ وہ 17 سال سے برطانیہ میں پناہ کے جھوٹے دعویداروں کی مدد کر رہی ہیں، نے وضاحت کی کہ ایل جی بی ٹی تقریبات میں شمولیت کے لیے خریدے گئے ٹکٹ اور وہاں کھینچی گئی تصاویر بھی بطور ثبوت درخواست کے ساتھ پیش کیے جائیں گے۔
’میں آپ کو کسی کی جانب سے ایک خط فراہم کروں گی، آپ کی کچھ تصاویر کھینچی جائیں گی، اور ایک شخص لکھ کر دے گا کہ اس نے آپ کے ساتھ فزیکل سیکس کیا ہے۔‘
تنیشا کی اِن خدمات کی قیمت ڈھائی ہزار پاؤنڈ تھی۔ بی بی سی انڈر کور رپورٹر کو خبردار کیا گیا کہ اگر اُن کی ابتدائی درخواست مسترد ہوئی اور معاملہ عدالت میں گیا تو فیس بڑھ جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ ’درخواست کامیاب رہی تو آپ یہاں رہ سکتے ہیں، کام کر سکتے ہیں اور سرکاری فوائد کے لیے بھی اہل ہوں گے۔‘
رپورٹر نے سوال کیا کہ لیکن اگر درخواست کامیاب ہوئی تو پاکستان میں اُن کی بیوی کا کیا ہو گا، کیوں کہ وہ ہوم آفس کو بتا چکے ہوں گے کہ وہ ہم جنس پرست ہیں؟
تنیشا نے جواب دیا کہ ’اگر اُن (اہلیہ) کو بلانا ہے تو پھر ہم اُن کی بھی پناہ کی درخواست دائر کر سکتے ہیں، ایک بار وہ یہاں پہنچ گئیں تو ہم انھیں بھی ہم جنس پرست کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔‘
ثبوتوں کی فراہمی
تنیشا قانونی طور پر برطانیہ میں امیگریشن پر مشورہ دینے کی اہل نہیں ہیں۔ جس پیرا لیگل نے بی بی سی رپورٹر سے فون پر رابطہ کیا تھا، اس سے تعلق کے بارے میں تنیشا کا کہنا تھا کہ وہ اُن کے ساتھ کام کرتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’وکلا کا کام راستہ دکھانا ہوتا ہے لیکن اصلی کام وہ نہیں کر سکتے۔‘ وہ بظاہر ثبوت گھڑنے کی جانب اشارہ کر رہی تھیں۔
’ہم فیلڈ ورک سنبھالتے ہیں۔‘
بعد میں ہونے والی دو ملاقاتوں میں، جو ’لا اینڈ جسٹس‘ کمپنی کے الفورڈ میں واقع دفاتر میں ہوئیں، تنیشا اور شکیل کا تعلق مزید واضح ہوا۔ تنیشا نے بتایا کہ ’میں ایک وکیل کے ساتھ کام کرتی ہوں تو اُن کا دفتر استعمال کرتی ہوں۔‘
ایک ملاقات میں جب بی بی سی رپورٹر نے شکیل سے تعارف کروانے کی درخواست کی، تاکہ تنیشا سے ملوانے کے لیے اُن کا شکریہ ادا کر سکیں تو انھیں ساتھ والے ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں شکیل سے مصافحہ ہوا۔
تنیشا نے ورچسٹر ایل جی بی ٹی نامی تنظیم کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ہماری تنظیم ہے۔‘ تنظیم کی ویب سائٹ کے مطابق اسے ہوم آفس ’باقاعدہ طور پر برطانیہ میں ایل جی بی ٹی کے تحت پناہ کے متلاشی افراد کی مدد کرنے میں ہمارے کردار کو تسلیم کرتا ہے۔‘
تنیشا نے رپورٹر کو تنظیم کے اگلے اجلاس میں شامل ہونے کی تاکید کی جو اپریل میں منعقد ہونا تھا اور کہا کہ وہاں پر ’چند اور لوگ اُن جیسے ہی ہوں گے جو ہم جنس پرستی کے جھوٹے دعوے کر رہے ہیں اور کچھ اصلی بھی ہوں گے۔‘
تنیشا نے کہا کہ ’یہ ضروری ہے کیوںکہ تمھیں ہوم آفس کو اس بات کا ثبوت دینا ہے کہ اگر تم ہم جنس پرست ہو تو واقعی ایک ایسی تنظیم سے وابستہ ہو۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ورچسٹر ایل جی بی ٹی کی جانب سے جاری کردہ خط اُن کی درخواست میں بطور ثبوت شامل ہو گا۔
’ہم اپنی طرف سے ایک خط جاری کریں گے کہ تم ہمارے رکن ہو، اصلی ہو، اور ہمارے ساتھ وابستہ ہو، کوئی تمھیں ذاتی طور پر جانتا ہے۔ اس طرح کا ثبوت بہت مضبوط ہوتا ہے۔‘
ہم نے اپنی فوٹیج اینا گونزالیز کو دکھائی، جو 30 سالہ تجربہ رکھنے والی امیگریشن ماہر ہیں۔ انھوں نے کہا تنیشا واضح طور پر قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہیں، ’اس شخص کو دعویٰ گھڑنے میں مدد دینا فراڈ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے لوگ حقیقت میں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
’خصوصی طور پر ایل جی بی ٹی جیسے معاملے میں کیوںکہ جب آپ تشدد کا شکار ہوئے ہوں، آپ کے ساتھ واقعی کچھ ہوا ہو، تو اس کے شواہد واضح قسم کے ہوتے ہیں۔ لیکن ایل جی بی ٹی کے معاملے میں ایسا نہیں ہوتا۔ یہ ایک تعلق کی بنیاد پر ہوتا ہے اور اس بات پر کہ کوئی اس دن کتنی شدت سے اپنے دعوے کو پیش کرتا ہے، اس بات سے ماورا کہ کوئی سچ بول رہا ہے کہ جھوٹ۔‘
جب تنیشا نے بی بی سی نیوز کے انڈرکور رپورٹر کے دیے جانے والے ان کے بیانات پر رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ روانی سے اُردو نہیں بولتیں اور یہ ’غلط فہمی بول چال میں مشکلات کی وجہ سے ہوئی۔‘
انھوں نے اس بات سے انکار کیا کہ انھوں نے رپورٹر کو ایک جھوٹا دعویٰ کرنے کا مشورہ دیا اور انھیں جھوٹے شواہد بنانے میں مدد کی پیشکش کی۔
شکیل نے کہا کہ انھوں نے رپورٹر کی تفصیلات تنیشا کو دی تھیں لیکن انھیں معلوم نہیں تھا کہ وہ پناہ کے لیے جھوٹا دعویٰ کرنے کی پیشکش کریں گی۔ شکیل نے کہا کہ ورچسٹر ایل جی بی ٹی پناہ کے دعوؤں میں غلط اور جھوٹے شواہد تیار نہیں کرتی اور ’کوئی تنظیم یہ طے نہیں کر سکتی کہ کوئی شخص ہم جنس پرست ہے یا نہیں۔‘
شکیل نے کہا کہ ورچسٹر تنظیم تنیشا کی حرکات پر تفتیش کر رہی ہے اور اُن کا تنظیم میں فیصلہ سازی میں کوئی عمل دخل نہیں تھا۔
لا اینڈ جسٹس سولیسٹرز نے کہا کہ تنیشا کا فرم سے کوئی پیشہ ورانہ تعلق نہیں ہے اور وہ لندن آفس میں اُن کی رسائی کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ فرم کے مطابق ہمارے رپورٹر کو کبھی اس فرم نے بطور کلائنٹ نہیں لیا۔
تنیشا سے ملاقاتوں کے دوران ہی ہمارے رپورٹر کا رابطہ ’کناٹ لا‘ نامی فرم کے ایک مشیر سے بھی ہوا جس کا دفتر لندن میں ہے۔ یہاں اُن کی ملاقات عقیل عباسی سے ہوئی، جو اس فرم میں سینیئر لیگل ایڈوائزر ہیں۔
عقیل عباسی نے ہمارے رپورٹر کو بتایا کہ وہ ملک میں رہنے میں اُن کی مدد کر سکتے ہیں اور بظاہر وہ جھوٹے دعوے کی تیاری میں مدد فراہم کرنے کو تیار نظر آئے۔
انھوں نے بھی کہا کہ ہوم آفس سے یہ درخواست مسترد ہونے کا امکان بہت کم ہے۔ انھوں نے سات ہزار پاؤنڈ فیس مانگی اور کہا کہ ادائیگی کے بعد اُن کے دفتر کی جانب سے رابطہ کیا جائے گا اور ’بتایا جائے گا کہ آگے کیا کرنا ہے اور کس قسم کے شواہد درکار ہوں گے۔ جس میں، کہاں جانا ہے اور کیا مخصوص قدم اٹھانے ہیں، بھی شامل ہو گا۔‘
عقیل نے کہا کہ ’شواہد ضروری ہیں اور یہ سوسائٹیز اور کلب کی جانب سے فراہم ہونے چاہییں۔‘
انڈر کور رپورٹر نے ایک موقع پر پوچھا کہ کیا انھیں ہم جنس پرستوں کے کلب میں جانا پڑے گا؟ تو انھیں جواب ملا کہ ’جی ہاں، جانا ہو گا۔‘ رپورٹر نے کہا کہ ’لیکن میں ایسا نہیں ہوں۔‘
عقیل اس جواب سے محظوظ ہوئے اور کہا کہ ’میں وہاں سے کچھ تصاویر لوں گا۔‘ عقیل عباسی نے یہ بھی کہا کہ رپورٹر کو کسی ایک شخص کی ضرورت پڑے گی جو خود کو اُن کا پارٹنر ظاہر کرنے پر رضامند ہو۔
جب رپورٹر نے بتایا کہ پاکستان میں اُن کی ایک بیوی ہے تو عقیل نے مشورہ دیا کہ وہ ایک کہانی گھڑیں کہ برطانیہ میں پاکستان کے مقابلے میں زیادہ آزادی ہے اور اب ایک مرد اُن کا پارٹنر ہے۔
عقیل نے کہا کہ ’ہم آپ کے لیے تحریری بیان تیار کریں گے اور جب آپ ایک بار اسے پڑھیں گے تو سمجھ جائیں گے۔‘
’ایک بڑا مسئلہ‘
’ورچسٹر ایل جی بی ٹی‘ ماہانہ تقریبات منعقد کرتی ہے جس میں پورے برطانیہ سے لوگ شریک ہوتے ہیں، جن میں سے کئی بظاہر پناہ کے متلاشی جھوٹے دعویدار ہوتے ہیں۔
تاہم اس طرح کے لوگوں کے لیے استعمال ہونے والا یہ واحد ایسا گروہ یا تنظیم نہیں ہے۔ عجل خان مسلم ایل جی بی ٹی نیٹ ورک کے بانی ہیں اور کہتے ہیں کہ ’یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔‘
’لوگ مجھے پیسوں کی پیشکش کرتے ہیں کہ میں اپنی تنظیم کا خط انھیں فراہم کروں لیکن میں ایسا نہیں کرتا۔ میرا کام رضاکارانہ ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ کسی نے ان سے کہا کہ ’میں ہم جنس پرست نہیں لیکن اس ملک میں رہنا چاہتا ہوں۔‘
یہ کہنا مشکل ہے کہ پناہ کے متلاشی کتنے افراد کی درخواستیں غلط بیانی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ تاہم ہوم آفس کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنسی بنیادوں پر دائر ہونے والی درخواستوں میں پاکستانی شہریوں کی تعداد باقی ملکوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
سنہ 2023 میں 3430 ایل جی بی ٹی دعوؤں پر ابتدائی فیصلہ ہوا تھا جبکہ 1400 نئے دعوے جنسی بنیادوں پر دائر ہوئے تھے۔ ان میں سے 42 فیصد پاکستانی شہری تھے۔
اس سال مجموعی طور پر پناہ کی درخواستوں میں سے صرف چھ فیصد پاکستانی شہریوں کی جانب سے دائر ہوئی تھیں۔ جنسی بنیادوں پر دائر درخواستوں کے حالیہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
ہوم آفس نے پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں اضافہ دیکھا ہے جو تعلیم یا کام کے ویزا پر برطانیہ آتے ہیں۔
سنہ 2023 میں ابتدائی مرحلے میں دو تہائی ایسی درخواستوں کو منظور کر لیا گیا تھا۔
علی، جن کا فرضی نام استعمال کیا جا رہا ہے، سنہ 2011 میں ایک طالبعلم کی حیثیت سے پاکستان سے برطانیہ آئے تھے۔ تین سال بعد جب ویزا کی میعاد ختم ہونے سے پہلے وہ ایک وکیل کے پاس مشورہ کرنے گئے تو اُن کو کہا گیا کہ وہ ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ کی درخواست دے کر برطانیہ میں رُک سکتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ وکیل نے مشورہ دیا کہ ’میں اپنے ڈاکٹر کے پاس جا کر یہ دکھاؤں کہ مجھے ڈپریشن ہے، خصوصاً ویزا کی صورتحال کی وجہ سے۔‘
ان سے کہا گیا کہ وہ دوائی حاصل کر لیں تاکہ ہوم آفس میں ڈپریشن کے ثبوت کے طور پر دکھایا جا سکے۔
ہوم آفس میں ان کا ابتدائی انٹرویو اچھا نہیں رہا اور پھر معاملہ عدالت میں جانے کی وجہ سے انھیں دس ہزار پاؤنڈ تک فیسوں کی مد میں ادائیگی کرنا پڑی۔ اس دوران وہ 10 بار ہم جنس پرستوں کے کلب گئے، اور وکیل کے مشورے پر تصاویر بطور ثبوت فراہم کیے۔
بی بی سی نیوز نے ایسے شواہد دیکھے ہیں کہ انھوں نے ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے لیے کام کرنے والی رضاکار تنظیم کے اجلاسوں میں شرکت کرنے کے بعد یہ جھوٹ بول کر اُن سے ایک خط حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی کہ ان کو بھی یہ مرض لاحق ہے۔
سنہ 2019 میں وہ پاکستان واپس آ گئے تھے جس کی ایک وجہ بڑھتی ہوئی فیسوں کی ادائیگی تھی۔ سنہ 2022 میں ان کی اہلیہ طالبعلم کے طور پر برطانیہ آئیں تو انھیں پناہ حاصل کرنے کی اپنی ناکام کوشش کی وجہ سے روک دیا گیا۔
انھوں نے ہمیں بتایا کہ اُن کے تین دوست ہم جنس پرستی کے دعوے کر کے پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
’انھوں نے پاکستان میں شادی بھی کی اور پھر اپنی بیویوں کو برطانیہ لے آئے، اب اُن کے بچے بھی ہیں۔‘

امیگریشن کے سخت قوانین
جُو وائٹ، لیبر پارٹی کی رُکن پارلیمنٹ اور ہوم افیئرز سیلیکٹ کمیٹی کی رُکن ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’بی بی سی کی تفتیش میں جن کمپنیوں اور مشیروں کو دکھایا گیا ہے، حکومت کو اُن کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔‘
بی بی سی ریڈیو فور ٹوڈے کے پروگرام میں انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پولیس اس معاملے کی تفتیش کرے گی۔ ’یہ ضروری ہے کہ حکومت اُن کے خلاف کارروائی کرے اور یہ شواہد پولیس کے پاس جانے چاہییں تاکہ وہ اپنا کام شروع کریں۔‘
انھوں نے ہوم آفس سے کہا کہ ’پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد کو سٹوڈنٹ ویزا نہ دیا جائے جیسا کہ افغانستان، کیمرون، میانمار اور سوڈان کے شہریوں کے لیے کیا گیا۔‘
کنزرویٹیو شیڈو جسٹس سیکریٹری نِک ٹموتھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’بی بی سی تحقیق نے ایک کھلے راز کی تصدیق کی ہے۔ انسانی حقوق کے قوانین نے امیگریشن کنٹرول ختم کر دیا ہے۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’کئی وکیل اور تنظیمیں ہزاروں جرائم میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ انھیں جیل میں ہونا چاہیے۔‘
ہوم آفس کا کہنا ہے کہ ’پناہ کی ایسی درخواست جس میں دھوکہ شامل ہو جرم ہے اور عدالت میں ثابت ہونے پر قید ہو سکتی ہے، جس کے بعد ملک سے بے دخل کیا جا سکتا ہے۔‘
ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جنس کی بنیاد پر حقیقی ظلم سے فرار ہونے والے لوگوں کے لیے فراہم کردہ تحفظ کا غلط استعمال کرنے کی کوشش افسوسناک ہے۔‘
ترجمان کے مطابق ’یہ تحفظ ایک طے شدہ طریقہ کار کے تحت دیا جاتا ہے اور اس کے غلط استعمال کی تفتیش کی جاتی ہے۔‘
مارچ میں ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے برطانوی امیگریشن قوانین میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا تھا جن کے تحت برطانیہ میں پناہ کے خواہشمند غیر ملکی افراد کو صرف عارضی تحفظ فراہم کیا جائے گا اور ہر 30 ماہ بعد ان کے کیس کا تجزیہ کیا جائے گا۔
ہمارے رپورٹر سے تنیشا کی ایک ملاقات میں وہ پُراعتماد تھیں کہ ان تبدیلیوں سے جھوٹے شواہد کی مدد سے پناہ حاصل کرنے میں مشکلات نہیں بڑھیں گی۔
تاہم انھوں نے اسے ہمارے رپورٹر کو قائل کرنے کے لیے استعمال کیا کہ وہ اپنی درخواست دائر کرنے میں تاخیر نہ کریں۔ تنیشا نے خبردار کیا کہ ’اب انھوں نے یہ کیا ہے، کون جانتا ہے کہ کل یا اس کے ایک دن بعد وہ کیا کر دیں؟‘
ملاقات کے اختتام پر تنیشا نے ایک درخواست کی۔ ’اگر آپ کو کسی کے بارے میں پتہ چلے کہ انھیں مدد کی ضرورت ہے تو میرے پاس لے آئیں گے، ہے ناں؟‘


























