متنازع وائیڈ اور امپائر کا فیصلہ تبدیل، انڈیا جاپان کے خلاف تاریخی شکست سے بچ گیا

جاپان، انڈیا

،تصویر کا ذریعہCREIMAS

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

جاپان کے شہر سانو میں انڈیا اور جاپان کے درمیان ٹی ٹوئنٹی میچ توقعات کے برعکس بالکل بھی کوئی یکطرفہ مقابلہ نہیں تھا۔ بلکہ ایک موقع ایسا بھی آیا جب جاپان عالمی چیمپیئن انڈیا کے خلاف آخری اوور میں جیت کے قریب پہنچ چکا تھا۔

دراصل جاپان کو عالمی کرکٹ میں اس بڑے اپ سیٹ کے لیے دوسری اننگز میں بیٹنگ کرتے ہوئے آخری چار گیندوں پر چھ رنز درکار تھے۔

مگر آخری اوور کی تیسری گیند پر امپائر نے وائیڈ کا اشارہ کیا جو کہ متنازع ہوا اور اسے واپس لے لیا گیا۔

انڈین کپتان اور کھلاڑیوں نے اس فیصلے پر ناراضی ظاہر کی تھی اور امپائر کو اپنے اعتراض سے مطلع کیا تھا۔ پھر دونوں امپائروں نے مشاورت کی اور وائیڈ کا فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

یہ فیصلہ اس لیے اہم ثابت ہوا کیونکہ انڈیا نے دو رنز سے میچ جیت لیا۔

جاپان، انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

میچ کا احوال اور وائیڈ کا متنازع فیصلہ

بارش کے بعد گراؤنڈ میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے میچ کے آغاز میں تاخیر ہوئی مگر اس کے باوجود دونوں ٹیموں کو اتنا وقت مل گیا کہ وہ پانچ، پانچ اوورز کا میچ کھیل سکیں۔

پِچ میں اتنا سپن تھا کہ میچ کے تمام 10 اوورز سپنرز نے کرائے۔ جبکہ پورے میچ میں صرف چار چوکے لگ سکے۔

انڈیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ اوپنر ابھیشیک شرما پہلی گیند پر آؤٹ ہو گئے تھے۔ انھیں بائیں ہاتھ کے سپنر چارلی ہارا ہنزے نے گولڈن ڈک پر آؤٹ کیا۔ ماضی میں ہنزے 2024 کے دوران ویبھو سوریہ ونشی کو بھی آؤٹ کر چکے ہیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کپتان شریاس ایئر نے 12 گیندوں پر 16 رنز بنائے۔ جبکہ سنجو سیمسن نے ایک چوکے کی مدد سے نو رنز بنائے۔

انڈیا نے اپنے مقررہ پانچ اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 32 رنز بنائے۔

جاپان کی بیٹنگ آئی تو اس کے کپتان کینڈل کاڈواکی-فلیمنگ نے 12 رنز بنائے جبکہ انڈین بولر واشنگٹن سندر نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

جاپان نے دو اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر آٹھ رنز بنائے۔ لیکن روی بشنوئی کے تیسرے اوور میں 10 رنز بنے۔

میچ کا سب سے اہم موڑ تب آیا جب اکشر پٹیل کے آخری اوور میں جاپان کو آٹھ رنز درکار تھے۔ پہلی دو گیندوں پر ایک وائیڈ سمیت دو رنز بنے۔ پھر تیسری گیند پر امپائر نے دوبارہ وائیڈ کا اشارہ کیا۔

تاہم اس پر انڈین کھلاڑیوں نے ناراضی ظاہر کی اور ان کا موقف تھا کہ چونکہ بیٹر نے ریورس سویپ کی کوشش کی تھی تو یہ وائیڈ گیند نہیں تھی۔ مگر سوال یہ تھا کہ آیا بیٹر نے اپنی پوزیشن بولر کے ہاتھ سے گیند نکلنے کے بعد تبدیل ہوئی تھی۔

انڈین کپتان شریاس ایئر لیگ امپائر کے پاس گئے اور ان سے بات چیت کی۔ اس کے بعد لیگ امپائر اپنے ساتھی امپائر کے پاس گئے۔ اس دوران انڈین اور جاپانی کھلاڑیوں کی نظریں امپائرز کی طرف تھیں۔

پھر جیسے ہی اکشر پٹیل بولنگ کے لیے دوبارہ پہنچے تو امپائر کا فیصلہ تبدیل ہو گیا۔ یعنی جاپان کو ملنے والا وائیڈ کا رن واپس لے لیا گیا جبکہ اسے اکشر پٹیل کے اوور کی تیسری گیند مان لیا گیا۔

اب جاپان کو آخری تین گیندوں پر چھ رنز درکار تھے۔ آخری تینوں گیندوں پر محض تین رنز بن سکے اور یہ میچ انڈیا نے دو رنز سے جیت لیا۔

جاپان نے اپنے مقررہ پانچ اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 30 رنز بنائے تھے۔

اکشر پٹیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کرکٹ قوانین کیا کہتے ہیں؟

بی بی سی سپورٹ کی نامہ نگار فیون وین نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ محدود اوورز کی کرکٹ میں لیگ سائیڈ پر کی جانے والی کسی بھی گیند کو عموماً وائیڈ قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن مردوں کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل مقابلوں کے لیے آئی سی سی کی پلیئنگ کنڈیشنز کے مطابق، بلے باز جیسے ہی ریورس سویپ کھیلنے کے لیے اپنے ہاتھوں یا پاؤں کی پوزیشن تبدیل کرتا ہے تو وہ اس رعایت سے محروم ہو جاتا ہے۔

ان کنڈیشنز میں کہا گیا ہے کہ وائیڈ صرف اس صورت میں دی جائے گی اگر گیند بلے باز کی معمول کی بیٹنگ پوزیشن کی صورت میں لیگ سائیڈ پر باہر سے گزرے۔

فیون وین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائیڈ کا فیصلہ واپس لینا درست تھا لیکن اس واقعے نے اس لیے توجہ حاصل کی ہے کہ میچ میں ڈسیژن ریویو سسٹم (ڈی آر ایس) موجود نہ ہونے کے باوجود یہ فیصلہ تبدیل کر دیا گیا۔

پلیئنگ کنڈیشنز میں ’سپرٹ آف کرکٹ‘ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق ’امپائر کے فیصلے کو قبول کرنا‘ ضروری سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہ چیز کھیل کے قوانین میں شامل نہیں ہے۔

کرکٹ میگزین وزڈن کے مطابق کرکٹ کے قانون 2.12 کے تحت امپائر کو کسی بھی فیصلے میں تبدیلی کی اجازت ہے۔

اس کے مطابق ’امپائر کسی بھی فیصلے میں تبدیلی کر سکتا ہے، بشرط یہ کہ یہ تبدیلی فوری طور پر کی جائے اور قانون 20.6 (ڈیڈ بال کے فیصلے کو واپس نہ لینے) سے متصادم نہ ہو۔ اس کے علاوہ، ایک بار دیا گیا امپائر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔‘

تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا کسی انڈین کھلاڑی نے آئی سی سی پلیئنگ کنڈیشنز کے آرٹیکل 2.8 کی خلاف ورزی کی یا نہیں۔ اس میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ ’امپائر کے فیصلے پر حد سے زیادہ اور واضح مایوسی کا اظہار‘ اور ’امپائر کے فیصلے پر اس سے بحث کرنا یا طویل گفتگو میں مشغول ہونا‘ شامل ہے۔

انڈیا، جاپان

،تصویر کا ذریعہX

،تصویر کا کیپشنبعض صارفین نے اس معاملے پر انڈین کھلاڑیوں پر تنقید کی ہے

’کبھی امپائر کو اپنا فیصلہ تبدیل کرتے نہیں دیکھا‘

اس معاملے پر سوشل میڈیا صارفین بھی اپنی رائے دے رہے ہیں۔

وزڈن کے مینیجنگ ایڈیٹر بین گارڈنر نے اس واقعے کو ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’کرکٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے اپ سیٹ میں جیت کے لیے چار گیندوں پر محض پانچ رنز درکار تھے۔ مگر انڈیا نے امپائروں پر دباؤ ڈالا کہ وہ وائیڈ کا فیصلہ واپس لیں۔‘

ویب سائٹ کرک انفو نے اس میچ کا موازنہ ڈان بریڈ مین کے اُس مشہور میچ سے کیا جو انھوں نے کولمبو میں کھیلا تھا مگر وہ پہلی گیند پر آؤٹ ہو گئے تھے۔

ایک صارف نے طنز کیا کہ عالمی چیمپیئن ہونے کے باوجود ’انڈین کھلاڑی جاپان کے خلاف میچ میں امپائر کے فیصلے پر احتجاج کر رہے تھے۔‘

ادھر وکرانت گپتا نے لکھا کہ ’جاپان کرکٹ کو خراجِ تحسین! عالمی چیمپیئن انڈیا کو انتہائی سخت مقابلہ دینا قابلِ ستائش کارکردگی ہے۔ انڈیا نے نہایت معمولی فرق سے فتح حاصل کی اور صرف دو رنز سے میچ جیتنے میں کامیاب رہا۔‘