مددگار یا ایک اور متاثرہ خاتون؟ ایپسٹین کی گرل فرینڈ جنھیں پلی بارگین کے باوجود سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ٹم وہیول، جیکب پوہلے
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 13 منٹ
جب جیفری ایپسٹین کو کم عمر لڑکی سے جنسی تعلق قائم کرنے کی ترغیب دینے کے جرم میں 13 ماہ کی سزا ہوئی اور انھیں پہلی دفعہ جیل جانا پڑا تو اس دوران جیل ریکارڈ کے مطابق ایک خاتون کم از کم 67 بار اُن سے ملنے آئیں۔
وہ خاتون نادیا مارسِنکو تھیں۔
مارسِنکو سات برس تک ایپسٹین کی مرکزی گرل فرینڈ رہیں۔ وہ گیلین میکسویل کے بعد ایپسٹین کی سب سے اہم ساتھی تھیں۔ بعد ازاں وہ اُن کے نجی طیارے کی معاون پائلٹ بھی رہیں۔
وہ عوام میں نسبتاً کم جانی جاتی ہیں مگر ممکن ہے جلد ہی توجہ کا مرکز بن جائیں۔
مارسِنکو اُن چار خواتین میں شامل ہیں جنھیں 2008 کی پلی بارگین میں ایپسٹین کے ’ممکنہ شریکِ جرم‘ کے طور پر نامزد کیا گیا تھا اور اس ہی پلی بارگین کے تحت اُنھیں قانونی کارروائی سے استثنا دیا گیا تھا۔
اب ان خواتین میں سے دو یعنی ایپسٹین کی معاونین سارہ کیلن اور لیسلی گروف امریکی قانون سازوں کے سامنے پیش ہوں گی۔
تاہم کانگریس کی ایک خاتون رکن چاہتی ہیں کہ چاروں خواتین بشمول مارسِنکو اور ایپسٹین کی ایک اور اسسٹنٹ ایڈریانا راس سے بھی تفتیش کی جائے۔
مارسِنکو پر کبھی کسی جرم کا الزام نہیں لگا اور نہ ہی اُن پر فردِ جرم عائد کی گئی۔ اُن کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ بھی ایپسٹین کی متاثرین میں سے ایک ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
لیکن جن لڑکیوں کی گواہی سے 2008 میں ایپسٹین کو سزا ہوئی تھی انھوں نے فلوریڈا کے پام بیچ میں پولیس کو بتایا کہ مارسِنکو اس زیادتی میں شریک تھیں۔
بی بی سی نے اُن افراد سے گفتگو میں مہینے صرف کیے جو مارسِنکو سے مل چکے ہیں اور ایپسٹین کے ساتھ اُن کی ای میلز کا جائزہ لیا، تاکہ اُن کے کردار کی تفصیلی تصویر سامنے لائی جا سکے۔
ان ای میلز سے انکشاف ہوتا ہے کہ ایپسٹین اور مارسِنکو ایک خاندان شروع کرنا چاہتے تھے۔
بی بی سی کو ایسے شواہد بھی ملے ہیں جن سے اشارہ ملتا ہے کہ کئی برسوں تک ایپسٹین نے مارسِنکو سے دیگر خواتین کو اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے لانے کو کہا اور انھوں نے ایسا کیا۔
تاہم ان ای میلز سے ایپسٹین کا زور زبردستی کا رویہ بھی ظاہر ہوتا ہے۔
مارسِنکو نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ جسمانی طور پر تشدد کرتا تھا، اُن کا گلا گھونٹتا اور سیڑھیوں سے دھکا دیتا تھا۔
یہ بیان امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جنوری میں جاری کی گئی ایک دستاویز میں موجود ہے جس کے بعض حصے حذف کیے گئے ہیں۔
اگرچہ اس میں مارسِنکو کا نام ظاہر نہیں مگر بیان کردہ تفصیلات اُن کے بارے میں دیگر ذرائع سے ملے والی معلومات سے مطابقت رکھتی ہیں۔
بی بی سی نے مارسِنکو کا موقف جاننے کے لیے اُن سے رابطہ کیا مگر انھوں نے جواب نہیں دیا۔
2019 میں ایپسٹین کی جیل میں موت کے بعد سے وہ منظرِ عام سے غائب ہیں۔
مارسِنکو کے خلاف تحقیقات کے مطالبات نے یہ اہم سوال اٹھایا ہے کہ کیا جنسی استحصال کی متاثرہ فرد کو شریکِ جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔

مارسِنکو سلوواکیہ کے ایک نسبتاً خوشحال اور باعزت خاندان میں نادیا مارسِنکووا کے نام سے پیدا ہوئیں۔
انھوں نے وفاقی تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ پہلی بار ایپسٹین سے 2003 میں نیو یارک میں ژاں-لوک برونیل کی سالگرہ کی تقریب میں ملیں۔ اس وقت اُن کی عمر 18 برس تھی۔
برونیل ایپسٹین کے قریبی دوست تھے اور ماڈلنگ ایجنسی ’کیرن ماڈلز‘ کی نیو یارک برانچ چلاتے تھے۔
مارسِنکو کے مطابق وہ پیرس میں اس ایجنسی کے لیے کام کر رہی تھیں اور برونیل انھیں اس تقریب سے چند ہفتے پہلے امریکہ لائے جس کے لیے ویزا کا انتظام بھی انھوں نے ہی کیا تھا۔
بظاہر اس کا ثبوت ایپسٹین فائلز میں موجود ای میلز سےملتا ہے۔ ان ای میلز کے مطابق بعد کے برسوں میں مارسِنکو اور ایپسٹین اس تاریخ یعنی 17 ستمبر کو اپنی ’اینیورسری‘ کے طور پر مناتے رہے۔
ایک سابق ہم جماعت جنھیں ہم ’جوزف‘ کے نام سے مخاطب کر رہے ہیں، بتاتے ہیں کہ مارسِنکو بین الاقوامی ماڈل بننے کے لحاظ سے غیر معمولی انتخاب تھیں۔ وہ خوبصورت ہونے کے باوجود بہت شرمیلی تھی جسے ہم ’چھوٹی سی خاموش چوہیا‘ سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔
مارسِنکو نے ایک بار ایک سلوواک اخبار کو بتایا تھا کہ انھوں نے نوعمری میں ماڈلنگ شروع کی اور جلد ہی وہ اسائنمنٹ کے لیے جاپان اور تائیوان گئیں۔
مارسِنکو نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ برونیل کی پارٹی میں پہلی ملاقات کے چند روز بعد ایپسٹین نے انھیں اپنے پام بیچ والے گھر آنے کی دعوت دی، اور وہاں سے وہ اپنے نجی کیریبین جزیرے لٹل سینٹ جیمز لے گئے۔
اگرچہ وہ قانونی طور پر بالغ تھیں، مگر طاقت، دولت اور عمر کے لحاظ سے دونوں میں فرق بہت زیادہ تھا۔ ایپسٹین اُس وقت مارسِنکو سے 32 سال بڑے یعنی 50 برس کے تھے۔
مارسِنکو نے بتایا کہ کیونکہ برونیل نے ان کا ویزا لگوایا تھا اور ایپسٹین برونیل کی ایجنسی میں لاکھوں ڈالرز لگاتے تھے اس لیے انھیں خدشہ تھا کہ ایپسٹین برونیل کو ایک فون کال کر کے اُنھیں ملک بدر کروا سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ اُن کے ساتھ مسلسل سفر کرتی رہیں۔ ہماری تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ ای میلز کے متن اور لکھنے کے طریقے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جلد ہی ایک جوڑے میں بدل گئے۔ تحقیق کے مطابق گیلین میکسویل اس وقت بھی ایپسٹین کی قریبی دوست تھیں اور وہ ان کے لیے دوسری خواتین کو تلاش کر رہے تھے، تاہم ان دونوں کا جنسی تعلق ختم ہو رہا تھا۔
ای میلز میں جذبات کا اظہار موجود ہے اور ایپسٹین نے 2009 میں کسی اور شخص کو لکھا کہ ’میں نادیہ کے عشق میں مبتلا ہوں۔‘ تاہم اس کے باوجود ای میلز سے ایپسٹین کا کنٹرول کرنے والا رویہ بھی واضح ہوتا ہے۔
اس ہی سال لکھے گئے ای میل سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی مارسِنکو سے کیا توقعات تھیں:’میں چاہتا ہوں تم انڈے پکانا سیکھو۔۔۔ گھر چلانا سیکھو۔۔۔ پیر سے جمعہ تک کوئی بحث نہیں۔۔۔ میں چاہتا ہوں ہر مہینے سو بہترین کتابوں میں سے ایک پڑھو۔۔۔ گھر میں صرف خوبصورت چیزیں ہوں، تم میری اجازت کے بغیر کچھ نہیں رکھ سکتیں، جے (J)۔‘
ایپسٹین کی موت کے بعد مارسِنکو نے تفتش کاروں کو بتایا کہ ایپسٹین اُن کی زندگی کے ہر پہلو کو کنٹرول کرتے تھے یہاں تک کہ ان کے وزن اور لباس کو بھی۔ انھوں نے بتایا کہ ایپسٹین ان پر جسمانی تشدد کرتے اور ایپسٹین نے انھیں متعد پلاسٹک سرجری کروانے پر مجبور کیا۔
ہمیں ان کے درمیان ہونے والے ای میلز کے تبادلے میں ان واقعات کا کوئی براہ راست ذکر نہیں ملا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ فائلوں میں کہیں موجود نہیں۔ ہمیں ملنے والی ایک ای میل میں مارسِنکو نے اُن پر ’بدسلوکی کرنے والا شریکِ حیات‘ ہونے کا الزام لگایا۔
اور ایپسٹین کی اس توقع کا بار بار حوالہ ملتا ہے کہ مارسِنکو ان کے لیے دوسری خواتین یا لڑکیاں تلاش کریں۔
2006 میں مارسِنکو نے لکھا کہ ’آپ کو کیا لگتا ہے کہ سیکس میں تفریح کیا ہو سکتی ہے؟ میں جو کر سکوں گی وہ کروں گی، اگر یہ صرف آپ کے کسی اور کے ساتھ سیکس کرنے سے متعلق ہوا تب بھی، مجھے نہیں معلوم کہ اس سے ہمارے تعلقات کیسے بہتر ہوتے ہیں۔ ہم جب بھی نیویارک میں ہوں گے تو میں لڑکیاں تلاش کرنے کی کوشش کروں گی۔‘
اگرچہ کچھ پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نادیہ جانتی تھیں کہ ایپسٹین کو کم عمر لڑکیاں پسند تھیں، مگر ہمیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ مارسِنکو نے کبھی انھیں کم عمر لڑکیوں سے ملوایا ہو۔
اسی سال 2006 میں ایپسٹین نے برونیل کو ای میل کر کے درخواست کی کہ مارسنکو کو برونیل کی نئی ماڈلنگ ایجنسی ایم سی 2 کے پے رول میں شامل کیا جائے اور انھیں سالانہ 50 ہزار ڈالر (37,014 پاؤنڈ) ادا کیے جائیں۔ یہ واضح نہیں کہ یہ تنخواہ کس لیے تھی کیونکہ مارسِنکو اب ماڈل کے طور پر کام نہیں کر رہی تھیں۔ تاہم اُن سے جو بھی کام لینے کی توقع کی جا رہی تھی، وہ واضح طور پر ایپسٹین پر انحصار کرنے سے خوش نہیں تھیں۔
اسی سال ایپسٹین کو بھیجی گئی ایک ای میل میں اُنھوں نے لکھا: ’جب سے میں آپ سے ملی ہوں، میری زندگی آپ کے گرد گھومتی ہے، میرے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں اور اس سے مجھے بہت بے چینی ہوتی ہے۔‘
لیکن 2009 میں جب وہ ایپسٹین سے جیل میں بھی ملاقات کر رہی تھیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُنھوں نے ہوا بازی کے شعبے کی طرف جا کر ان پر مالی انحصار کم کرنا شروع کر دیا تھی۔ اُن دونوں کے درمیان ہونے والے ای میلز کے تبادلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے اُن کی بطور پائلٹ تربیت کے لیے دسیوں ہزار ڈالر ادا کیے، جسے اُنھوں نے بظاہر یہ کام بڑے شوق سے کیا اور سوشل میڈیا پر خود کو ’گلوبل گرل‘ کے طور پر پیش کرتی تھیں۔
ہوابازی کی صحافی کرسٹین نیگرونی کا کہنا ہے کہ اُن کی مارسنکو سے 2013 میں ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے مطابق ’یہ اُن کے لیے آمدنی کا ذریعہ تھا کیونکہ اُنھیں بہت سے طیارے اڑانے اور متعدد ویڈیوز بنانے کے لیے بلایا جاتا تھا۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’نادیہ نہایت خوش مزاج تھیں۔ اُن کی صحبت بہت اچھی تھی اور اُنھوں نے مختلف فلائٹ سکولز میں جا کر ایک کے بعد ایک سرٹیفکیٹس حاصل کرنے کے لیے بہت محنت کی۔۔۔ یہ آسان کامیابیاں نہیں ہوتیں۔‘

اگرچہ بظاہر وہ خودمختار ہوتی جا رہی تھیں لیکن ای میلز سے ثابت ہوتا ہے کہ جولائی 2009 میں جیل سے رہائی کے بعد بھی مارسنکو کا ایپسٹین کے ساتھ تعلق برقرار رہا بلکہ یہ تعلق مزید گہرا ہوتا دکھائی دیا۔
ای میلز سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اسی سال اکتوبر تک وہ دونوں بچہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
فائلوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بطور سکاؤٹ اپنا کردار ادا کر رہی تھیں۔ اسی سال کی ایک ای میل میں وہ ایک مخصوص خاتون کے بارے میں ایپسٹین کی رائے مانگتی ہیں، جس کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ وہ مشرقی یورپ سے آنے کے لیے تیار ہے۔
تاہم مارسِنکو نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ 2010 میں جب ایپسٹین اُن کی جانب زیادہ پرتشدد ہو گئے تو ان کے درمیان بالآخر علیحدگی ہو گئی۔
ان کے مطابق اُس کے اگلے سال اُنھیں اپنی ہوا بازی کی ملازمت کی بنیاد پر نیا ورک ویزا ملا۔
تاہم واضح ہے کہ وہ اور ایپسٹین اس کے بعد بھی دوست رہے۔
2012 سے وہ ایپسٹین کے جزیرے جانے والے نجی طیارے کی بعض پروازوں میں شریک پائلٹ تھیں۔
2013 میں ایپسٹین نے اُن کے لیے سیگ وے کے موجد اور کاروباری شخصیت ڈین کیمین کی کمپنی میں فلائنگ انسٹرکٹر کی ملازمت کا انتظام کیا۔ 2015 میں مارسِنکو اور ایپسٹین کے درمیان ہونے والے پیغامات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں جو اُنھوں نے تفتیش کاروں کو بتائی تھی کہ اُس سال ایپسٹین انھیں دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی اُن کی آمدنی کا دوگنا دینے پر راضی ہو گئے تھے۔
ہم نے ڈین کیمین کی کمپنی ڈیکا (ڈی ای کے اے) سے نادیہ مارسنکو کے ساتھ اُس کے تعلق کے بارے میں مؤقف جاننے کی کوشش کی لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ کیمین کے ایک ترجمان پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ کیمین کو ایپسٹین کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق پر گہرا افسوس ہے اور وہ نہ تو کسی جرم میں شامل تھے اور نہ ہی اُن کے بارے میں انھیں کوئی علم تھا۔
اگرچہ مارسنکو کئی برسوں تک بظاہر ایپسٹین کے ساتھ وفادار رہیں، 2018 میں اُنھوں نے بالآخر موقف بدل لیا۔ فائلوں میں موجود ایک دستاویز کے مطابق اُس سال اُنھوں نے ایف بی آئی کی تحقیقات میں تعاون شروع کر دیا۔
اگلے سال ایپسٹین کو دوبارہ جیل بھیج دیا گیا، جہاں وہ جنسی سمگلنگ کے الزامات کا سامنا کر رہے تھے۔ اس کے بدلے میں چار سال بعد ایف بی آئی نے سنہ 2022 میں مارسِنکو کے ویزا کی معیاد ختم ہونے کے بعد امریکہ میں رہنے کے لیے مارسنکو کی درخواست کی حمایت کی۔ ادارے نے کہا کہ اُنھیں ’جیفری ایپسٹین اور دیگر افراد نے زبردستی جنسی تعلق کے مقصد کے لیے بھرتی کیا، پناہ دی اور اپنے قبضے میں رکھا۔‘
اس کے بعد سے مارسِنکو عوامی نظروں سے اوجھل ہیں۔ سوشل میڈیا پر موجود پوسٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم از کم گذشتہ سال تک وہ نیویارک کے ایک زین بدھ مت مرکز کی فعال رکن تھیں۔ اس سے پہلے اُن کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ بالآخر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہیں اور دیگر متاثرین کی مدد کرنا چاہتی ہیں، لیکن فی الحال وہ ’اپنی بحالی کے عمل پر کام کر رہی ہیں۔‘
تاہم اب 2008 کے پلی بارگین معاہدے کے تحت مارسنکو اور دیگر تین خواتین کو دی گئی استثنی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ امریکی کانگریس کی رکن انا پالینا لونا، جو ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی کی رپبلکن رکن ہیں، نے فروری میں بظاہر ایپسٹین سے متعلق بغیر ترمیم شدہ دستاویزات دیکھنے کے بعد کہا کہ ’یہ تمام خواتین بطور بالغ کم عمر افراد کی سمگلنگ میں ملوث تھیں۔ وہ جیفری ایپسٹین کے نیٹ ورک کے ساتھ کام کر رہی تھیں اور اس میں شریک تھیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ کیلن اور گروف کو گواہی کے لیے بلایا گیا لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کمیٹی نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ راس یا مارسِنکو کو بلایا جائے یا نہیں۔
انسانی سمگلنگ کے متاثرین کے ساتھ طویل عرصے تک کام کرنے والی مشیگن یونیورسٹی کی پروفیسر بریجٹ کار کہتی ہیں کہ یہ تعین کرنا کہ کسی متاثرہ شخص کو کس حد تک معاون ساتھی قرار دیا جا سکتا ہے، پیچیدہ معاملہ ہے۔
وہ یہ جانچنے کی کوشش کرتی ہیں کہ آیا کوئی متاثرہ شخص کسی مجرم کے کنٹرول سے نکلنے کے بعد بھی جرائم کا ارتکاب کرتا رہا ہے، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ یہ کنٹرول اُس وقت بھی برقرار رہ سکتا ہے جب مجرم جسمانی طور پر اُس کی زندگی میں موجود نہ ہو۔
وہ کہتی ہیں کہ’جو حد میں متعین کرتی ہوں وہ یہ ہے کہ آیا متاثرہ شخص کبھی مجرم کی طاقت اور کنٹرول سے باہر بھی رہا یا نہیں۔‘
سوال یہ ہے کہ ’کیا اس بات کو مان سکتے ہیں کہ (متاثرہ شخص) یہ سمجھتا رہے کہ (وہ مجرم) اب بھی اُس پر اختیار رکھتا ہے۔‘
کسی باہر کے شخص کے لیے اس بات کا اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نادیہ مارسنکو کے پاس جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے طویل تعلق کے دوران اگر کوئی اختیارات تھے بھی تو وہ کیا تھے۔ فائلوں میں موجود دستاویزات اُن کی زندگی کی صرف جھلکیاں فراہم کرتی ہیں تاہم 2012 کی ایک ای میل شاید دیگر کے مقابلے میں زیادہ کچھ واضح کرتی ہے۔
اُنھوں نے لکھا کہ ’میں آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی لیکن یہ دیکھ کر مجھے تکلیف ہوتی ہے کہ آپ دوسری لڑکیوں کو بہکانے، اُنھیں قابو میں کرنے اور بالآخر اُنھیں نقصان پہنچانے کے لیے وہی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ میں اُنھیں پسند بھی نہیں کرتی لیکن مجھے اس بات کا احساسِ جرم ہوتا ہے کہ مجھے معلوم ہے اُن کے ساتھ کیا ہوگا۔‘
’میں جانتی ہوں کہ آپ کیا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور میں خالص وفاداری اور ضد کی وجہ سے ہمیشہ آپ کا تحفظ کرتی رہوں گی لیکن میرا ضمیر بالکل مطمئن نہیں۔‘
























