یونیسکو کا حکومت پاکستان کو خط: ٹیکسلا کے آثار قدیمہ کس ’خطرے‘ کی زد میں ہیں؟

موہرا مرادو

،تصویر کا ذریعہFarhan Afsar

،تصویر کا کیپشنموہرا مرادو
    • مصنف, فرحان افسر
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 14 منٹ

پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سنگم پر واقع ٹیکسلا کے دو تاریخی مقامات سِرکپ اور موہرا مرادو ان دنوں ایک جھگڑے کی ذد میں ہیں اور وہ جھگڑا ہے آثارِقدیمہ کی دیکھ بھال سے متعلق۔

یوں تو پاکستان میں ہر چند سالوں بعد آثارِقدیمہ کی دیکھ بھال پر کچھ نہ کچھ نیا جھگڑا اٹھ کھڑا ہوتا ہے تاہم اس بار بات سات سمندر پار پہنچ چکی ہے۔

حالیہ جھگڑا 26 فروری 2026 کو شروع ہوا جب فرانس میں تعینات پاکستانی سفیر کو یونیسکو کی جانب سے ایک خط موصول ہوا۔

خط میں کہا گیا کہ یونیسکو کو ایک ’تھرڈ پارٹی‘ یعنی تیسرے فریق کی جانب سے یہ شکایت موصول ہوئی ہے کہ حال ہی میں کیے جانے والی تعمیر نو کے کاموں سے ٹیکسلا میں موجود سِرکپ اور موہرا مرادو کے تاریخی مقامات کی ’اوتھینٹیسیٹی‘ یعنی صداقت کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

خط میں پاکستانی سفیر سے ایک مہینے کے اندر جواب کی درخواست کی گئی۔

یہ تھرڈ پارٹی کی شکایت کا خط، جسے بی بی سی نے دیکھا ہے، لکھنے والے کا نام ظاہر کیے بغیر پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا۔

خط لکھنے والے شخص نے کہا کہ وہ تاریخ کے ایک ریٹائر پروفیسر ہیں اور پاکستان کے ورثے سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔ لیکن ایک حالیہ دورے میں انھوں نے دیکھا کہ سرکپ اور موہرا مرادو میں قدیم دیواروں کو یا تو گرایا جا رہا ہے یا ان کا قد بڑھایا جا رہا ہے۔

ان کے لیے ایک اور باعث تشویش بات یہ تھی کہ تصویروں میں زمین پر سیمنٹ کی بوریاں بھی پڑی نظر آ رہی ہیں، جس کا استعمال آثارِقدیمہ میں ممنوع ہے۔

ٹیکسلا

،تصویر کا ذریعہFarhan Afsar

،تصویر کا کیپشنسرکپ

دوسری جانب آرکیالوجی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس پورے معاملے میں نہ تو کسی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور نہ کوئی تشویش کی بات ہے۔

پنجاب آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ظہیر عباس ملک نے بی بی سی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ یہ پورا تنازع چند لوگوں کے ذاتی مفاد کا نتیجہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کنزرویشن کے کاموں میں کنجور اور ٹیکسلا سٹون کا استعمال ہو رہا ہے جیسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ ’اس کے علاوہ صرف چونا اور خاکہ (یعنی کرش کیا ہوا پتھر) استعمال ہوتا ہے۔‘

تاہم ان کا ماننا ہے کہ ’اکثر جگہ ٹھیکیدارکام میں احتیاط نہیں کرتے۔ فروری کے مہینے میں ایک ٹھیکیدار کو بارہا غلط مٹیریل استعمال کرتے ہوئے پایا گیا تو اسے خیرآباد کہہ دیا گیا۔‘

سرکپ اور موہرا مرادو کی اس لڑائی کی تہہ تک پہنچنے کے ساتھ ہم نے اس مضمون میں یہ جاننے کی کوشش بھی کی ہے کہ پاکستان میں ہر چند سال بعد آثارِقدیمہ کی دیکھ بھال پرنیا جھگڑا کیوں اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔؟

یونیسکو کے خط کا جواب

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یاد رہے کہ ٹیکسلا انگریز آرکیالوجسٹ جان کنگھم کے ہاتھوں 1863-1864 میں دریافت ہوا تھا۔ اس ایک شہر کے ساتھ کئی قدیم تمدن وابستہ رہے، یہاں تک کہ ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائن میں بھی اس کا ذکر ہے۔

ٹیکسلا کبھی حملہ آوروں اور کبھی قدرتی آفات کے ہاتھوں تباہ ہوتا رہا۔ لیکن ہر بار یہ شہر ہر نئے سرے سے آباد ہونے میں کامیاب ہوا۔

ٹیکسلا سے متعلق تاریخ اور روایات کے باب آگے چل کر تاہم پہلے جان لیتے ہیں کہ خط کے معاملے میں کیا پیش رفت ہوئی۔

یونیسکو کی جانب سے بھیجے جانے والے 26 فروری کے خط میں ایک مہینے کے اندر جواب کی درخواست کی گئی تھی۔

یونیسکو کا خط وفاقی ادارہ برائے آرکیالوجی اور میوزیمز کو موصول ہوا جنھوں نے اسے پنجاب آرکیالوجی حکام کے حوالے کیا۔

یہ جواب 16 صفحات اور تین حصوں پر بنایا گیا اور 24 مارچ کو ارسال کر دیا گیا۔ جوابی خط میں کہا گیا ہے کہ ٹیکسلا کی ورلڈ ہیریٹیج سائٹ پر کوئی تعمیر نو کا کام نہیں ہوا، بلکہ صرف پرانے آثار کو مستحکم کیا گیا ہے تاکہ ان مقامات کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے ایسی سائنسی بنیادوں پر ٹیکسلا میں پہلے کبھی کام نہیں ہوا جیسے اب ہو رہا ہے۔

اس خط میں یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا کہ تھرڈ پارٹی کی شکایات اکثر تکنیکی معاملات کو نہیں سمجھتیں اور مستند نہیں ہوتیں۔

لیکن خط کے تیسرے حصے میں محکمے نے پیشکش کی ہے کہ منصوبے سے متعلق تمام دستاویزات، تکنیکی رپورٹس اور کنزرویشن کے ریکارڈ ورلڈ ہیریٹیج سینٹر کو دیے جا سکتے ہیں تاکہ معاملے کی تشریح اور وضاحت ہو سکے۔

تاہم یہاں ایک اور مسئلہ کھڑا ہوگیا۔

ڈریپارٹمنٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیم اسلام آباد کے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ 18ویں ترمیم کے بعد آثارِقدیمہ کی دیکھ بھال صوبوں کے ذمہ ہے۔

عہدیدار کے مطابق یونیسکو یا ورلڈ ہریٹیج کنونشن صوبوں سے نہیں ریاست سے بات کرتی ہے۔ اس لیے تمام خط و کتابت میں وفاق کا محکمہ ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے۔

عہدیدار کے مطابق خط کا جواب وفاقی ادارے کے ذریعے فرانس میں پاکستانی سفیر کو جانا تھا جہاں سے پھر اس کو یونیسکو کے ورلڈ ہیریٹیج سینٹر کے حوالے کیا جانا تھا تاہم ان کے مطابق ’پنجاب حکومت نے قاعدے کی پاسداری نہیں کی، اور خط براہِ راست یونیسکو کو بھیج دیا۔‘

عہدیدار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ خط میں آرکیالوجسٹ کا جواب تو شامل ہے لیکن کنزرویشن کے ماہر کا نہیں جس پر محکمے کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

 سِرکپ کی تصویر

،تصویر کا ذریعہDurham University.

،تصویر کا کیپشن سِرکپ کی پرانے دور کی تصویر

واضح رہے کہ یونیسکو کی تاریخی مقامات کی حفاظت میں معاونت انٹرنیشنل کونسل آن مونومنٹس اینڈ سائٹس (اکوموس) کی جانب سے کی جاتی ہے۔

اس معاملے پر بات کرتے ہوئے اکوموس پاکستان کے صدر عثمان سمیع نے کہا کہ ’صوبائی سطح پر جواب دینا ورلڈ ہیریٹیج کنونشن کی آپریشنل گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ یونیسکو ایک بین الحکومتی تنظیم ہے جو قومی حکومتوں کے ساتھ کام کرتی ہے، نہ کہ علاقائی دفاتر کے ساتھ۔‘

ان کے مطابق ’اس قسم کا مسئلہ پہلے بھی پیدا ہو چکا ہے جب سندھ کلچر ڈیپارٹمنٹ نے براہِ راست ورلڈ ہیریٹیج سینٹر سے خط و کتابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ دستاویزات سندھ کے محکمے کو واپس کر دی گئی تھیں اور انھیں اگلے سال درست ذریعے سے دوبارہ بھیجنا پڑا۔‘

ورلڈ ہیریٹیج اِن ڈینجر لسٹ میں شامل کیے جانے کا خطرہ کیوں

اکوموس پاکستان کے صدر عثمان سمیع کے مطابق ٹیکسلا 1980 سے ورلڈ ہیریٹیج سائٹ کے طور پر مانی جاتی ہے، یعنی اس کی حفاظت کا فریضہ پاکستان کو پوری انسانیت کی خاطرنبھانا ہے۔

عثمان سمیع نے مزید بتایا کہ ’جولائی کے مہینے میں کوریا میں ہونے والے ورلڈ ہیریٹیج کنونشن میں یہ موضوع زیرِ بحث آ سکتا ہے۔ اگر کنونشن مطمئن نہ ہوا تو ٹیکسلا کو ورلڈ ہیریٹیج اِن ڈینجر لسٹ میں شامل کیے جانے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔‘

یاد رہے کہ ٹیکسلا ایک کمپلیکس کے طور پر دیکھا جاتا ہے یعنی اس کے 18 میں سے کسی ایک مقام پر بھی اعتراض اٹھا تو پورا ٹیکسلا ڈینجر لسٹ میں چلا جائے گا۔

حالیہ کام کا فیصلہ کیسے ہوا

موہرا مرادو میں ہیلنگ بدھا کے سامنے عارضی طور سفید فوم لگایا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہFarhan Afsar

،تصویر کا کیپشنموہرا مرادو میں ہیلنگ بدھا کے سامنے عارضی طور سفید فوم لگایا گیا ہے، یہاں پہلے سیمنٹ کا ستون تھا

پنجاب حکومت ٹیکسلا میں ایک جدید سیاحتی شہر قائم کرنا چاہتی ہے جس کے لیے چار ارب روپے کے قریب مختص کیے گئے ہیں۔

اس سلسلے میں سیاحوں کے لیے نئی سہولیات بنائی جا رہی ہیں اور ان کو تاریخی مقامات سے قانون کے مطابق 200 فٹ دور کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، آثارِقدیمہ کے تحفظ کے لیے بھی منصوبہ بنایا گیا۔

منصوبے پر کام کرنے والی آرکیٹیکٹ رباب فاطمہ بتاتی ہیں کہ موہرا مرادو کے آثارِقدیمہ پر کام کرنے کی تجویز تب سامنے آئی جب وہاں آنے والے بدھ مت کے پیروکاروں نے شکایت کی کہ ہِیلنگ بدھا کے سامنے کنکریٹ نصب ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے فریضے پورے کرنے سے قاصرہیں۔

یاد رہے کہ ہِیلنگ بدھا کے مجسمے کے بارے میں بدھ مت کا عقیدہ ہے کہ اس پر انگلی رکھنے سے بیماروں کو شفا ملتی ہے۔

ہیلنگ بدھا کے سامنے عارضی طور سفید فوم لگایا گیا ہے، جہاں پہلے سیمنٹ کا ستون تھا۔

رباب فاطمہ کا کہنا تھا کہ ان شکایتوں کے بعد موہرا مرادو اور سرکپ پر کنزرویشن کا کام کرنے کا منصوبہ بنا۔

ان کے مطابق یہ منصوبہ اپریل 2025 میں شروع اور آثارِقدیمہ پر کام سے پہلے تھری ڈی لیزر سکیننگ جیسے جدید طریقہ کار استعمال کر کے ایک مکمل حکمت عملی بنائی گئی جس میں جان مارشل کی مینول اور پچھلے 70 سال کے ریکارڈ کا بھی مطالعہ کیا گیا۔‘

Photo 5

،تصویر کا ذریعہFarhan Afsar

،تصویر کا کیپشنموہرا مرادو میں کام کے دوران لی گئی تصویر

لاہورمیں مقیم کنزرویشن ماہر شجیعه شجاع کے مطابق وہ پچھلے سال چند مہینے تک پنجاب آرکیالوجی کے محکمے سے منسلک رہیں جب ٹیکسلا سمیت دوسرے منصوبوں کی تیاری کی جا رہی تھی۔

لیکن ان کے مطابق حکام کنزرویشن کے ماہرین کی رائے کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ بلاخرانھوں نے کام شروع ہونے سے ایک ماہ پہلے اپنے کنسلٹنٹ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

شجیعه شجاع کا دعویٰ ہے کہ محکمہ آرکیالوجی پنجاب میں مناسب تعداد اور ضرورت کے مطابق آثارِقدیمہ کہ ماہرین موجود ہی نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگرکسی ورلڈ ہیریٹیج سٓائٹ پر کام کرنے کا منصوبہ بنتا ہے تو اصولی طور ہیریٹیج امپیکٹ کی اسسمینٹ تیار ہونی چاہیے جس میں واضح ہو کہ کس جگہ کام ہوگا اور کون سا مٹیریل استعمال ہو گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ورلڈ ہیریٹیج سائٹس پر یونیسکو کی توثیق کے بعد ہی کام ہو سکتا ہے۔

worker arranging stones

،تصویر کا ذریعہFarhan Afsar

’پہلی ذمہ داری آثارِ قدیمہ کا تحفظ ہے‘

35 سال سے محکمہ آرکیالوجی سے وابستہ عاصم ڈوگران دنوں ٹیکسلا میوزیم کے ڈپٹی ڈائریکٹرہیں۔ اس عہدے پر ان کی تعیناتی اگست 2025 میں ہوئی جس کے دو ماہ بعد ٹیکسلا میں ٹورزم اور کنزرویشن کا عمل ان کی نگرانی میں شروع ہوا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے عاصم ڈوگر نے حالیہ کام پر تنقید کے جواب میں کہا کہ محکمے سے منسلک کوئی عہدیدار سرکپ اور موہرا مرادو جیسے مقامات کو نقصان پہنچائے جانے کو برداشت نہیں کرے گا۔

انھوں نے بی بی سی کو سرکپ کے دورے کے دوران بتایا کہ ’اگر ہمیں غلط حکم ملے گا بھی تو ہم اس کو نہیں مان سکتے، ہماری پہلی ذمہ داری ان آثارِ قدیمہ کا تحفظ ہے۔‘

تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ ماضی میں دیکھ بھال کے منصوبوں میں اکثر جگہ غلطیاں ہوئیں جن کا اب ازالہ کیا جا رہا ہے۔

سِرکپ میں کنررو ہونے والی دیوار

،تصویر کا ذریعہFarhan Afsar

،تصویر کا کیپشنسِرکپ میں کنررو ہونے والی دیوار جس کی بیچ میں پرانے پتھروں کو دیکھا جا سکتا ہے

’لوگ نہ خود کنزرویشن کرتے نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں‘

کنزرویشن کی ماہر صبا سمیع نیسپاک کے ساتھ بطور مشیر فرائض انجام دے رہی ہیں۔ اُن کے مطابق پاکستان میں آثارِقدیمہ کے گرد ہونے والی بحث میں بہت سے مسائل ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اکثراوقات لوگ نہ خود آثار قدیمہ کا تحفظ کرتے ہیں نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کنزرویشن کی بحث صرف میٹیریل تک محدود ہو جاتی ہے جبکہ اس موضوع کے کئی مختلف درجے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’کنزرویشن کرتے ہوئے ایک مقام کی اخلاقی قدر کرنا ضروری ہے، مثلاً کسی مندر کو مسجد نہ بنا دیا جائے۔ پھر اگلا مرحلہ ہے کہ پرانی چیزوں اور مقامات کو نیا رخ نہ دے دیا جائے، مثلاً کسی رہنے کے کمرے میں ٹوائلٹ یا دوکان نہ بنا دی جائے۔ ایک اور درجہ یہ ہے کہ کسی بھی مقام کی ہیریٹیج ویلیو کیا ہے اور یعنی لوگ وہاں دیکھنے کیا آتے ہیں۔‘

ماہرین کے مطابق منصوبہ بندی ضابطے کے مطابق نہیں ہوئی

،تصویر کا ذریعہFarhan Afsar

،تصویر کا کیپشنکنزرویشن کے ماہرین کے مطابق حالیہ کاموں کی منصوبہ بندی ضابطے کے مطابق نہیں ہوئی

شجیعه شجاع نے سوال اٹھایا کہ سرکپ جیسے مقامات پر پتھر لگانے سے پہلے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ یہ پتھر انھی کانوں سے آئے ہیں جہاں سے اصلی پتھر آئے تھے اور اُن کو اسی طرز پر تراشنا بھی ضروری ہے۔ ’ان کے اوپر واضح نشانیاں ہونی چاہیے جن سے نئے اور پرانے کام میں فرق نظر آسکے۔‘

ہم نے یہ سوال عاصم ڈوگرکے سامنے رکھا جن کا کہنا تھا ’جہاں جہاں یہ نیا پتھر لگا ہے وہاں وہاں سکہ (دھات کی ایک سلاخ) لگا کر واضح کیا جائے گا کہ کونسی تعمیر نئی ہے اور کونسی پرانی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’نئے پتھر کا رنگ موسمی اثرات سے کچھ دیر بعد پرانے جیسا ہو جائے گا، لیکن سکے سے نئے اور پرانے کی تفریق ہو گی۔ اسی طرح موہرا مرادو میں نئے اور پرانے کام کو واضح کیا جائے گا۔‘

کیا ورلڈ ہیریٹیج سینٹر سے اجازت ضروری ہے؟

بی بی سی نے جن ماہرین سے بات کی ان کے مطابق سیمنٹ یا کسی اور چیز کا استعمال اصلی مسئلہ نہیں۔ اصلی سوال یہ ہے کہ کیا ورلڈ ہیریٹیج کی حیثیت رکھنے والی ایک جگہ پر کام درست طریقہ کار کے مطابق ہو رہا ہے یا نہیں۔

کنزرویشن کی ماہر صبا سمیع نے کہا کہ ان کو حالیہ کاموں پر یہ اعتراض ہے کہ منصوبہ بندی ضابطے کے مطابق نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق کام سے پہلے ماہرین سے مشاورت کرنی چاہیے تھی اور پھر اتفاق رائے سے کام ہونا چاہیے تھا۔

پنجاب آرکیالوجی کے ڈائریکٹر جنرل ظہیرعباس ملک کا کہنا ہے کہ ورلڈ ہیریٹیج کنونشن کی آپریشنل گائیڈ لائن کے مطابق حکام پرپیشگی اطلاع کی ذمہ داری صرف تب عائد ہوتی ہے جب تعمیر نو یا بڑے پیمانے پر بحالی کی جا رہی ہو۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ منصوبوں میں کوئی نئی تعمیر نہیں کی جا رہی، اس لیے یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹیج کمیٹی کو اطلاع دینے کی ضرورت نہیں تھی۔

تاہم عثمان سمیع کا کہنا ہے کہ گائیڈ لائنز کی تشریح مکمل سیاق و سباق کے بغیر کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق یہ اطلاع جتنی جلد ممکن ہو دی جانی چاہیے یعنی منصوبوں کی بنیادی دستاویزات تیار کرنے سے پہلے اور ایسے فیصلے کرنے سے پہلے جو بعد میں تبدیل کرنا مشکل ہوں تاکہ کمیٹی مناسب رہنمائی اور حل تلاش کرنے میں مدد کر سکے۔

انھوں نے مزید کہا کہ موہرا مرادو میں نئی کھدائی کے ساتھ ساتھ بحالی اور نئی تعمیرات کا کام بھی جاری ہے۔ ان اقدامات کو پہلے سے رپورٹ کرنا اور ان کے لیے کمیٹی سے پیشگی منظوری حاصل کرنا ضروری تھا۔

یہ سارا معاملہ کھڑا ہونے سے پہلے فروری کے آغاز میں یونیسکو اور اکوموس کے وفود نے ٹیکسلا کا دورہ کیا تھا جس میں اکوموس کے صدر عثمان سمیع ،یونیسکو کے ڈی جی خالد ال انانی بھی موجود تھے۔

عاصم ڈوگر کے مطابق انھوں نے ڈی جی کو سرکپ کا دورہ کروایا جسے تسلی بخش قرار دیا گیا۔ تاہم وفد میں موجود کچھ افراد نے کچھ پریشان کن چیزیں دیکھیں۔

عثمان سمیع نے کہا کہ موہرا مرادو میں کام دیکھنے کے بعد حکام سے رابطہ کیا گیا تاکہ معاملہ بین الاقوامی فورم تک پہنچنے سے پہلے حل کیا جا سکے۔

پاکستان میں یونیسکو کے دفتر اور اکوموس پاکستان نے بھی محکمہ آثارِ قدیمہ کو مدد کی پیشکش کی ہے تاکہ ایسے کاموں کے لیے، جو ورلڈ ہیریٹیج کمیٹی کے نزدیک غیر مناسب سمجھے جا سکتے ہیں، مناسب حل نکالے جا سکیں۔

لیکن ماہرین اور محکمہ آثارِقدیمہ کی میٹنگ منعقد ہونے کے لیے دو ہفتے بعد کا وقت طے پایا۔ ان دو ہفتوں کے دوارن تھرڈ پارٹی کا خط یونیسکو کو موصول ہو گیا، اور تنازع کھڑا ہوگیا۔

اگر مشاورت وقت پر ہوتی تو شاید یہ بات ورلڈ ہیریٹیج کمیٹی کے پاس پہنچ ہی نہ پاتی۔

ٹیکسلا انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر سدید عارف نے کہا کہ ’آخر میں بات چیت ہی سب سے بہتر راستہ ہے۔ محکمے میں ہمیشہ اتنی استعداد نہیں ہوتی۔اس لیے ماہرین سے پہلی ہی مشاورت کر لی جائے تاکہ کبھی کسی نااتفاقی کا ذریعہ ہی نہ پیدا ہو؟‘

’اب تمام پارٹیوں کے پاس جولائی تک کا وقت ہے تاکہ ورلڈ ہیریٹیج کنونشن سے پہلے ایسے اقدامات کر لیں جائیں کہ ٹیکسلا ورلڈ ہیریٹیج لسٹ ان ڈینجر یعنی خطرات کی ذد میں شامل نہ ہوجائے۔‘

سرکپ اور موہرا مرادو کی تاریخ

دور حاضر کے ٹیکسلا میں کم از کم 18 مختلف مقامات ہیں جہاں تاریخ میں کسی موڑ پر آبادی یا عبادت گاہیں موجود رہیں۔ جب یہ شہر زندہ تھا تو اس کا نام ٹیکسلا تھا لیکن آج مختلف مقامات میں فرق کرنے کے لیے ان کے الگ الگ نام رکھ دیے گئے ہیں۔

آج تک کے دریافت ہونے والے مقامات میں سے سب سے قدیم مقام بھڑ ماونڈ کہلاتا ہے۔ اس کے بعد ٹیکسلا کا شہر جس جگہ منتقل ہوا اسے آج سرکپ کہا جاتا ہے۔ جب بھڑماونڈ ٹیکسلا کا صدر مقام تھا، تب بھی سرکپ کو گردونواح کا علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن یہاں باقاعدہ شہر300 سال قبل مسیح کے آس پاس تعمیر ہوا۔

اس شہر میں شطرنج کی بساط کی طرح گلیاں بنائی گئیں جن کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ سرکپ میں اوپر نیچے تین مختلف شہر آباد رہے۔

سرکپ کے آثار ٹیکسلا میوزیم سے شمال مشرق میں تقریبا دو کلوومیٹر دور ہیں۔ سرکپ سے تقریبا دو کلومیٹر دور موہرا مرادو ہے، جہاں کسی زمانے میں بدھ بھکشوعبادات میں محو رہتے تھے اور ان کے رہنے کا انتظام بھی تھا۔

پانسے کا کھیل اور راجہ سرکپ

یہ تو ہے تاریخ لیکن لوک داستانوں کے مطابق راجہ سرکپ اپنے شہر میں پانسے کا کھیل کھیلا کرتا تھا اور جیت کر اپنے مدمقبال کا سر قلم کرتا تھا۔ اس کھیل میں وہ اپنے پالتو چوہوں کی مدد لیتا تھا، جو راجہ کی ہار قریب آتے دیکھ کر بساط بکھیر دیا کرتے تھے۔

یوں راجہ سرکپ کھیل صرف تب ختم ہونے دیتا جب وہ خود جیت سکے۔

جب اس ظلم کی خبر سیالکوٹ کے راجہ رسالو کے پاس پہنچی تو وہ مقابلہ کرنے آپہنچا۔ اسے راستے میں چوہے والی دھوکہ دہی کی خبر ہوچکی تھی، چنانچہ وہ اپنے ساتھ ایک بلی لے آیا۔ جب بھی چوہےگوٹیاں بکھیرنے کو آتے تو راجہ رسالو کی بلی انھیں بھگا دیتی۔

پہلی دو بازیوں میں راجہ رسالو نے اپنے بازو اور اپنا گھوڑا داؤ پر لگا کر ہار دیے۔ اگلی دو بازیوں میں وہ ان کو واپس جیتنے میں کامیاب ہوگیا۔ پانچویں بازی میں راجہ سرکپ اپنی سلطنت اور چھٹی میں اپنی دولت ہار بیٹھا۔

ساتویں اور آخری بازی میں اس نے اپنے سر کو داؤ پر لگایا اور ہار گیا۔ راجہ رسالو نے سرکپ کی جان بخشی کے بدلے اس کی بیٹی رانی کوکلاں کا ہاتھ رشتے میں مانگ لیا۔

یہاں پر بڑے پیمانے پرکھدائی کا کام سر جان مارشل کی سربراہی میں 1913 میں شروع ہوا۔ جان مارشل نے نہ صرف ٹیکسلا کوآثارِقدیمہ کے ایک وسیع نمونے کی شکل دی اوراس کی تاریخ لکھی، بلکہ ان آثار میں استعمال ہونے والے تعمیراتی سامان تک کی تفصیلات پیش کیں۔

انھوں نے راجہ رسالو کے قصے سے ہی اس شہر کا نام اخذ کیا۔ ان کی ایک اور دور رس کاوش ’دی کنزرویشن مینیول‘ نامی ایک کتاب ہے، جس سے آج کے حکام بھی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔