’فاطمہ کا معجزہ‘: حضرت مریم سے منسوب تین رازوں کی کہانی جن میں سے ایک کئی سال تک ویٹیکن میں چھپا کر رکھا گیا

پرتگال کے تین بچوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ایک کھلے میدان میں حضرت مریم کو دیکھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپرتگال کے تین بچوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ایک کھلے میدان میں حضرت مریم کو دیکھا
    • مصنف, فیونا میکڈونلڈ
    • عہدہ, بی بی سی کلچر
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

مئی 1917 میں پرتگال کے تین بچوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ایک کھلے میدان میں حضرت مریم کو دیکھا۔ ان بچوں کی ان باتوں نے بعد میں سرد جنگ کے دوران کمیونزم کے خلاف جذبات کو مضبوط کیا۔ 1992 میں ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو ان ’معجزات‘ کے بارے میں بتایا۔

13 مئی 1917 کو 10 سالہ لوشیا دوس سانتوس اپنے چھوٹے کزنز فرانسسکو اور جیسنتا مارٹو کے ساتھ پرتگال کے شہر فاطمہ میں بھیڑیں چرا رہی تھیں، جب ان کے مطابق انھوں نے ایک بلوط کے درخت میں ایک چمکتی ہوئی شخصیت دیکھی۔

بچوں کا کہنا تھا کہ وہ شخصیت حضرت مریم تھیں، جنھوں نے انھیں کہا کہ وہ اگلے پانچ مہینوں تک ہر ماہ کی 13 تاریخ کو اسی وقت وہاں آیا کریں گی۔

بچوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں تین خاص پیغامات یا راز دیے گئے۔

ان میں سے دو کو عام کر دیا گیا، لیکن تیسرا، جسے ’فاطمہ کا تیسرا راز‘ کہا جاتا ہے، تحریری شکل میں رکھا گیا اور کئی سال تک ویٹیکن میں خفیہ رکھا گیا۔

اس راز کے بارے میں قیاس آرائیوں نے فاطمہ کو ایک چھوٹے سے گاؤں سے نکال کر سرد جنگ کے دوران ایک اہم علامت بنا دیا۔

پوپ جان دوم 1981 میں قاتلانہ حملے کے بعد فاطمہ کے پرجوش حامی بن گئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپوپ جان دوم 1981 میں قاتلانہ حملے کے بعد فاطمہ کے معجزے کے پرجوش حامی بن گئے

کہا جاتا ہے کہ 13 اکتوبر کو جب اس ظہور کا آخری موقع آیا تو ہزاروں زائرین وہاں موجود تھے۔

جو کچھ انھوں نے دیکھا، اسے بعد میں ’سورج کا معجزہ‘ کہا گیا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایک عینی شاہد، فرانسسکو فریرا روزا نے 1992 میں بی بی سی کو بتایا ’میں نے آسمان میں مختلف رنگوں کے ستارے اور سیارے دیکھے، یہ ایک معجزہ تھا۔ پھر ایسا لگا جیسے آسمان سے پھول برس رہے ہوں، بالکل برفباری کی طرح۔ اس کے بعد سورج آگ کے ایک پہیے کی طرح تیزی سے گھومنے لگا۔ یہ تقریباً آدھے منٹ تک جاری رہا اور آخر میں اس کی رفتار بہت تیز ہو گئی تھی۔‘

اس دن موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ کئی شدید بیماریاں ٹھیک ہو گئیں اور بعض اندھے لوگوں کی بینائی واپس آ گئی۔

1980 کی کتاب ’فاطمہ: دی گریٹ سائن‘ (Fatima: The Great Sign) کے مطابق، پرتگال کے ایک اخبار نے اس واقعے پر خبر شائع کی جس کی سرخی تھی ’خوفناک واقعہ! فاطمہ میں دوپہر کے وقت سورج کیسے آسمان میں ناچا۔‘

اس رپورٹ کے مطابق وہاں کم از کم 50,000 لوگ موجود تھے۔

یہ ایک معجزہ تھا، اجتماعی وہم تھا یا کوئی قدرتی موسمی واقعہ اس پر آج بھی بحث جاری ہے لیکن اس واقعے نے وہاں موجود بہت سے لوگوں پر گہرا اثر ڈالا۔

فرانسسکو روزا نے 1992 میں بی بی سی کو بتایا ’مجھے پہلے بھی ایمان تھا، لیکن اس کے بعد میرا یقین اور مضبوط ہو گیا۔ میں نہیں ڈرا، لیکن بہت سے لوگ سورج کو اس طرح گھومتا دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے۔ جب ایسا کچھ ہوتا ہے تو انسان کو یقین آ ہی جاتا ہے۔‘

پہلی دو پیشگوئیاں

ان تین بچوں میں سے جنھوں نے یہ مناظر دیکھے تھے، دو بچے چند سال بعد ہسپانوی فلو کی وبا میں وفات پا گئے، اور صرف لوشیا ہی وہ واحد شخص رہ گئی جس کے پاس یہ پیغامات اور پیشگوئیاں تھیں۔

پہلی ’پیشگوئی‘ میں جہنم کا ایک منظر بتایا گیا تھا، جسے بعد میں دوسری جنگِ عظیم کی نشانی سمجھا گیا۔

دوسری پیشگوئی، جو روسی انقلاب سے تھوڑا پہلے بچوں کو بتائی گئی، یہ تھی کہ اگر لوگ حضرت مریم سے دعا مانگیں تو روس آخرکار کمیونزم سے نجات پا لے گا۔

شروع میں ویٹیکن اس واقعے کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت سے محتاط تھا، لیکن 1930 میں اس نے باقاعدہ طور پر ان پیشگوئیوں کو تسلیم کر لیا۔

پرتگال میں انتونیو سالازار کی سخت گیر حکومت کے دوران، فاطمہ کا یہ چھوٹا سا گاؤں 20ویں صدی میں حضرت مریمؑ سے منسوب ایک بہت مشہور مذہبی مقام بن گیا، جہاں آج بھی ہزاروں لوگ آتے ہیں۔

کچھ زائرین ایک خاص راستے پر گھٹنوں کے بل چل کر عبادت گاہ تک پہنچتے ہیں، جہاں کہا جاتا ہے کہ حضرت مریم کے کئی ظہور ہوئے تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ، فاطمہ صرف ایک مذہبی جگہ نہیں رہا بلکہ اس کا ایک سیاسی پہلو بھی سامنے آیا۔

چونکہ پیشگوئی میں روس میں کمیونزم کے پھیلاؤ اور پھر اس کے خاتمے کی بات شامل تھی، اس لیے سرد جنگ کے دوران یہ جگہ کمیونزم کے مخالف لوگوں کے لیے ایک علامت بن گئی۔

1992 میں، جب سوویت یونین کے خاتمے کو ایک سال گزر چکا تھا، ایک مذہبی سکالر نے بی بی سی سے کہا کہ اصل مسئلہ ان پیغامات کا وہ پہلو ہے جو کمیونزم کے خلاف تھا، اور اس نے چرچ کے اندر بھی اختلاف پیدا کر دیا تھا۔

فاطمہ کے ساتھ کمیونزم مخالف تعلق اس وقت اور مضبوط ہو گیا جب پولینڈ سے تعلق رکھنے والے پوپ جان پال دوم 1981 میں اس کے بڑے حامی بن گئے۔

یہ اس واقعے کے بعد ہوا جو 13 مئی کو پیش آیا، جو پہلے ظہور کی سالگرہ بھی تھی۔ اس دن ویٹیکن کے سینٹ پیٹرز سکوائر میں اپنی گاڑی (پوپ موبائل) میں بیٹھے ہوئے ان پر قریب سے دو گولیاں چلائی گئیں۔

حملہ کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا، لیکن یہ شک ظاہر کیا گیا کہ اس کے پیچھے اور لوگ بھی ہو سکتے ہیں۔

پوپ نے 2005 میں اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ ’اس منصوبے کے پیچھے کوئی اور بھی تھا۔‘

بعض لوگوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا اس میں سوویت یونین کا ہاتھ ہو سکتا تھا؟

سوویت قیادت پوپ کو ایک خطرہ سمجھتی تھی۔ 1979 میں کمیونسٹ پارٹی کے ایک ہدایت نامے میں کہا گیا تھا کہ پوپ ان کے ’دشمن‘ ہیں، کیونکہ وہ پولینڈ کی ’سولیڈیریٹی‘ تحریک کی حمایت کرتے تھے۔

2005 میں مشرقی جرمنی کی سابق خفیہ ایجنسی کے دستاویزات سے اشارہ ملا کہ سوویت فوجی انٹیلیجنس نے ان کے قتل کی کوشش کی منصوبہ بندی کی تھی، حالانکہ روس نے اس بات کی تردید کی۔

13 مئی 2025 کو، تقریباً 270,000 زائرین مزار پر جمع ہوئے (کریڈٹ: گیٹی امیجز)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن13 مئی 2025 کو، تقریباً 270,000 زائرین مزار پر جمع ہوئے

مہر بند لفافے کا راز

جس دن پوپ پر حملہ ہوا، اس تاریخ کی وجہ سے انھوں نے اپنی جان بچنے کا سہرا حضرت مریم کو دیا، جس سے ان پیشگوئیوں پر یقین رکھنے والوں میں کمیونزم مخالف جذبات اور بڑھ گئے۔

وہ دو بار اس مزار پر گئے، اور ان کے جسم سے نکالی گئی ایک گولی کو وہاں حضرت مریم کے مجسمے کے سونے کے تاج میں جواہرات کے ساتھ لگا دیا گیا۔

پوپ کی حمایت اور کمیونزم مخالف تشریح کے ساتھ ساتھ، فاطمہ ایک اور وجہ سے بھی مشہور ہو گیا، وہ تھا ’تیسرا راز‘۔

لوشیا نے اسے 1944 میں لکھا اور کہا کہ اسے 1960 سے پہلے ظاہر نہ کیا جائے۔ لیکن بعد میں آنے والے پوپوں نے بھی اسے عوام کے سامنے لانے سے انکار کر دیا۔

یہ راز ویٹیکن میں ایک بند لفافے میں رکھا گیا تھا اور صرف پوپ اور ان کے قریبی مشیر ہی اس کے بارے میں جانتے تھے۔ اس وجہ سے فاطمہ کے بارے میں بہت سی افواہیں اور سازشی نظریات پھیل گئے۔

کچھ لوگوں نے اس راز کے انکشاف کے لیے بھوک ہڑتالیں کیں اور ایک شخص نے تو جہاز بھی اغوا کر لیا۔

آخرکار جب ویٹیکن نے 2000 میں اس پیشگوئی کو ظاہر کیا، تو تقریباً 5 لاکھ لوگ فاطمہ کے مزار پر جمع ہو گئے لیکن کچھ لوگوں کے لیے یہ مایوس کن تھا۔

اس وقت نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ یہ انکشاف ایسا تھا جیسے ’ایف بی آئی یہ اعلان کرے کہ ایلوِس واقعی مر چکا ہے‘ اور کچھ لوگوں نے اسے ’خاص طور پر بنایا گیا انکشاف‘ قرار دیا۔

کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ راز تیسری عالمی جنگ یا کسی بڑی تباہی کی پیشگوئی کرتا ہے، لیکن ویٹیکن نے بتایا کہ اس میں دراصل 1981 میں پوپ پر ہونے والے حملے کا ایک منظر بیان کیا گیا تھا، جس میں ایک شخص ’سفید لباس میں ملبوس‘ گرتا ہوا دکھایا گیا، جیسے وہ مر گیا ہو۔

’تیسرے راز‘ کے ظاہر ہونے کے بعد بھی فاطمہ اور سرد جنگ کے واقعات کے درمیان تعلق پر بحث جاری رہی۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ جب پوپ جان پال دوم نے 1984 میں حضرت مریم کی ہدایت کے مطابق مشرقی یورپ کو ان کے نام کیا، تو اس کے بعد میخائل گورباچوف سوویت یونین کے رہنما بنے اور اصلاحات شروع ہوئیں۔

لیکن کچھ ناقدین ان پیشگوئیوں کی بڑھا چڑھا کر کی گئی تشریح اور ان کے سیاسی استعمال پر سوال اٹھاتے ہیں۔

بعد میں پوپ بننے والے جوزف راتزنگر نے کہا کہ اس راز میں کوئی بڑی پراسرار بات نہیں تھی اور نہ ہی اس میں مستقبل پوری طرح ظاہر کیا گیا تھا، یعنی اس کا مقصد دنیا کے خاتمے جیسی باتیں بتانا نہیں تھا۔

ایک محقق کے مطابق شروع میں حضرت مریم نے صرف لوگوں سے دنیا کی بھلائی کے لیے دعا کرنے کو کہا تھا، لیکن بعد میں اس بات کو خاص طور پر روس کے بارے میں جوڑ دیا گیا۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ چرچ نے خاص طور پر دوسری جنگِ عظیم کے بعد کمیونزم کے خلاف اس واقعے کو استعمال کیا۔ اگرچہ سوویت یونین کے خاتمے میں کئی عوامل شامل تھے، لیکن چرچ کی مخالفت بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

اس کے باوجود، ان واقعات کا لوگوں پر گہرا اثر رہا۔

جب لوشیا کی 2005 میں وفات ہوئی تو پرتگال میں سوگ منایا گیا۔ آج بھی ہر سال ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ فاطمہ آتے ہیں، اور 13 مئی 2025 کو تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار افراد وہاں جمع ہوئے تاکہ اس دن کو یاد کریں جس دن بچوں نے پہلا منظر دیکھنے کا دعویٰ کیا تھا۔