’ہم انڈیا پر اعتماد کیوں کریں؟‘: ناروے میں وزیراعظم نریندر مودی سے ہونے والے ایک سوال کا چرچا

،تصویر کا ذریعہX/ANI
اوسلو میں ناروے کے وزیراعظم کے ساتھ مشترکہ کانفرنس کے بعد سٹیج سے اترتے ہوئے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے جس میں ایک صحافی کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’وزیر اعظم مودی، آپ دنیا میں سب سے آزاد پریس سے سوالات کیوں نہیں لے رہے؟‘
یہ اس تنازع کا نقطہ آغاز تھا جس کے بعد ناروے میں انڈیا کی وزارتِ خارجہ کی پریس کانفرنس کے دوران اسی صحافی اور وزارت کے ترجمان کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔
یہ دونوں واقعات انڈیا میں زیرِ بحث ہیں جبکہ انڈیا پارلیمنٹ (لوک سبھا) میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور ترنمول کانگریس کی رہنما مہوا موئترا سمیت کئی افراد نے اس پر ردِعمل دیا ہے۔
پیر کی شب انڈین وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور وزیرِ اعظم مودی کی جانب سے صحافیوں کے سوال نہ سننے پر شکوہ کیا۔ ان کا یہ بھی سوال تھا کہ ’ہم انڈیا پر اعتماد کیوں کریں؟‘
اس پر جواب دیتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری سبی جارج نے انڈیا کو ’عظیم ملک‘ اور ’قدیم تہذیب‘ قرار دیا اور کہا کہ کووڈ وبا کے دوران انڈیا نے ’کئی ممالک کو ویکسین فراہم کی‘ اور انھی کوششوں کے باعث ’پوری دنیا ان پر اعتماد کرتی ہے۔‘
اس دوران صحافی کی طرف سے قطع کلامی پر سبی جارج نے کہا کہ ’پلیز مجھے انٹرپٹ نہ کریں۔۔۔ یہ میری پریس کانفرنس ہے۔۔۔ جواب کب کیسے اور کہاں دینا ہے، یہ میرا حق ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہX/@Narendramodi
’یوگا کا ذکر کرنے کی بجائے پوچھے گئے سوال کا جواب دیں‘
اوسلو میں انڈیا کی وزارتِ خارجہ کی ایک پریس کانفرنس کے دوران ناروے کی صحافی ہیلی لینگ نے سوال کیا کہ ’انڈیا اور ناروے ایک مضبوط شراکت داری قائم کر رہے ہیں۔ لیکن ہم آپ پر اعتماد کیوں کریں؟ کیا آپ اپنے ملک میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کا وعدہ کرتے ہیں؟ آپ کے وزیرِ اعظم کب مشکل سوالات کے جواب دینا شروع کریں گے؟‘
جب وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ’ہم نے آپ کا سوال سن لیا ہے اور اس کا جواب دیں گے‘ تو صحافی نے کہا کہ وہ اس کا فوری جواب چاہتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعد ازاں اسی پریس کانفرنس میں انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری ویسٹ سبی جارج نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا ایک بہت قدیم تہذیب ہے۔ تقریباً پانچ ہزار سال پرانی تہذیب۔ ہم نے صفر ایجاد کیا۔ ہم نے یوگا ایجاد کیا۔‘
جب سبی جارج یہ بات کہہ رہے تھے تو صحافی نے انھیں دوبارہ روکا اور کہا کہ وہ پوچھی گئی بات کا جواب دیں۔

،تصویر کا ذریعہANI
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس پر سبی جارج نے کہا کہ ’یہ میری پریس کانفرنس ہے۔ آپ نے سوال پوچھ لیا ہے۔ اب آپ کو میرے جواب کو سننے کا صبر بھی ہونا چاہیے۔‘
صحافی نے پھر کہا کہ یوگا وغیرہ کی بات کرنے کے بجائے سوال کا جواب دیا جائے۔
اس پر سبی جارج نے کہا کہ ’میں اعتماد کی بات کر رہا ہوں۔ جب پوری دنیا کووڈ وبا سے لڑ رہی تھی تو ہم نے 150 سے زیادہ ممالک کو ویکسین اور ادویات فراہم کیں۔ ہم نے اس بحران سے نکلنے میں دنیا کی مدد کی۔ دنیا نے ہم پر اعتماد کا اظہار کیا۔ یہی اعتماد ہے۔‘
صحافی مسلسل مداخلت کرتے ہوئے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق اپنے سوال کا براہِ راست جواب مانگتی رہیں۔
اس جواب میں سبی جارج نے انڈیا میں ہونے والے جی 20 سربراہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین جنگ کے مشکل حالات میں انڈیا کی میزبانی نے تمام ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ انڈیا نے سب کو متحد کیا اور پہلی مرتبہ افریقی یونین کو جی 20 کا مستقل رکن بنانے میں کامیاب ہوا۔
انھوں نے کہا کہ ’انڈیا نے افریقی ممالک کے خدشات کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ یہی اعتماد ہے۔‘
سبی جارج نے یہ بھی کہا کہ ’لوگوں کو انڈیا کی وسعت کا اندازہ نہیں۔ وہ کسی لاعلم این جی او کی ایک، دو نیوز رپورٹس پڑھ کر ایسے سوال پوچھتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا میں عدالتیں موجود ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی پر وہ وہاں رجوع کر سکتے ہیں۔
جب سبی جارج جواب دے رہے تھے تو صحافی پریس کانفرنس سے اُٹھ کر چلی گئیں۔
بعد ازاں ایکس پر پیغام میں صحافی ہیلی لینگ نے کہا کہ ’میں نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ وہ انسانی حقوق کے بارے میں واضح بات کریں۔ مگر میں ناکام رہی۔ (انڈین) نمائندوں نے کووڈ کے دوران انڈیا کی کوششوں اور یوگا سمیت دیگر امور کا ذکر کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہAnindito Mukherjee/Bloomberg via Getty Images
راہل گاندھی اور مہوا موئترا کی مودی پر تنقید
اس سے قبل ناروے کے وزیرِ اعظم یوناس سٹورے سے ملاقات کے بعد صحافی لینگ کو وزیرِ اعظم نریندر مودی سے سوال کرتے دیکھا گیا جبکہ وزیرِ اعظم وہاں سے جاتے ہوئے نظر آئے۔
ویڈیو میں لینگ کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ 'وزیرِاعظم مودی، آپ دنیا کے سب سے آزاد پریس سے سوال کیوں نہیں لیتے؟'
بعد میں ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ہیلی لینگ نے لکھا کہ ’انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔ مجھے اس کی توقع نہیں تھی۔ ناروے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ انڈیا 157ویں نمبر پر ہے۔‘
اس کے بعد ناروے میں انڈیا کے سفارت خانے نے ایکس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ سفارت خانہ ایک پریس کانفرنس منعقد کر رہا ہے جس میں وہ آ کر اپنے سوالات پوچھ سکتی ہیں۔ اس پریس کانفرنس کا احوال ہم آپ کو اوپر بتا چکے ہیں۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے اس ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِاعظم مودی پر ’ڈر کر وہاں سے چلے جانے‘ کا الزام لگایا۔
انھوں نے کہا کہ ’جب چھپانے کے لیے کچھ نہ ہو تو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب دنیا ایک ایسے وزیرِاعظم کو دیکھتی ہے جو چند سوالات سے گھبرا کر وہاں سے چلا جائے تو اس کا انڈیا کی شبیہ پر کیا اثر پڑتا ہے؟‘
ترنمول کانگریس کی رہنما مہوا موئترا نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ’محترمہ ہیلی لینگ، انڈیا کی اپوزیشن اور لاکھوں انڈین شہریوں کی جانب سے شکریہ۔ آپ نے وہ کیا جو ہمارا اپنا میڈیا مسلسل کرنے میں ناکام رہا ہے، یعنی اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے سوال کرنا اور جوابدہی کا مطالبہ کرنا۔ پریس بریفنگ ہو یا پریس کانفرنس، فرق صرف نام کا ہے۔ نہ جواب ہیں اور نہ سچ۔‘
وزیرِ اعظم مودی پانچ ممالک کے سرکاری دورے پر ہیں۔ وہ متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز اور سویڈن کے دورے کے بعد ناروے پہنچے ہیں۔























