متحدہ عرب امارات نے نیتن یاہو کے ’خفیہ دورے‘ کی تردید کیوں کی اور اسرائیل کے اعلان میں سعودی عرب کے لیے کیا پیغام چھپا ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
- مصنف, نسرین حاطوم
- عہدہ, بی بی سی عربی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
حال ہی میں جب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ ایران جنگ کے دوران نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کا خفیہ دورہ کیا تو شاید اس سے زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ دو ہی گھنٹے بعد متحدہ عرب امارت کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایسا کوئی دورہ نہیں ہوا۔
اسرائیل کے سرکاری بیان کا حوالہ دیے بغیر متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ ’غیر مصدقہ معلومات شائع نہ کریں۔‘ وزارت خارجہ کے بیان میں متحدہ عرب امارات نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات ابراہیم معاہدے کے فریم ورک کے اندر بنائے گئے ہیں اور یہ رازداری یا خفیہ معاہدوں پر مبنی نہیں۔
اماراتی پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر عبدالخالق عبداللہ نے بھی اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ایسا کوئی دورہ ہوا ہے۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’متحدہ عرب امارات کا یہ خفیہ دورہ جس کی بات نیتن یاہو کر رہے ہیں وہ ان کے اپنے تخیل کی ایک تصویر ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’نیتن یاہو اس کو صرف اور صرف انتخابی مقاصد کے لیے فروغ دے رہے ہیں۔ ایک ایسا سفر جس کی متحدہ عرب امارات نے ایک سرکاری بیان میں واضح طور پر تردید کی ہے۔‘
اس کے برعکس، زیو اگمون، جو پہلے اسرائیلی وزیراعظم کے ترجمان تھے، نے اس سفر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سفر میں نیتن یاہو کے ساتھ تھے ۔
انہوں نے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ ’ایک ایسے شخص کے طور پر جو امارات سے واقف ہے، وہاں ایک طویل عرصے سے مقیم ہے، اور اس تاریخی سفر پر وزیر اعظم کے ساتھ گیا، جو کہ اب تک مکمل طور پر خفیہ تھا، میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ ابوظہبی میں وزیر اعظم کا شاہی استقبال کیا گیا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’شیخ بن زاید نے وزیراعظم کے لیے بہت احترام کا مظاہرہ کیا اور ذاتی طور پر ان کے ساتھ گاڑی میں ہوائی جہاز سے محل تک گئے۔‘ زیو اگمون نے اپنی پوسٹ جاری رکھتے ہوئے لکھا: ’آئندہ نسلیں یاد رکھیں گی کہ وزیراعظم نے اس غیر معمولی سفر میں کیا حاصل کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے اعلان اور متحدہ عرب امارات کی تردید کے درمیان وقفہ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیانات نے بھی توجہ مبذول کروائی جنھیں ابوظہبی پر بلاواسطہ تنقید سمجھا جا سکتا ہے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یاد رہے کہ اسرائیلی میڈیا نے جنگ کے دوران اسرائیل کی داخلی سلامتی کے ادارے شباک اور موساد کے سربراہان کے یو اے ای کے دوروں کی بھی اطلاع دی۔
لیکن ایسے میں سوال یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کی تردید کیوں کی؟ ساتھ ہی یہ سوال بھی اہم ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے یہ بیان جاری کیوں کیا؟
یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار مهند توتنجی کے مطابق اسرائیل کے اندر اس سفر کو سیاسی اور سلامتی کی صورتحال کی ایک مختلف تصویر پیش کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اپنی رپورٹ میں، مهند توتنجی نے اس سفر کے سرکاری اعلان کی وجوہات اور وقت پر بات کی، خاص طور پر ایسی صورت حال میں جب اسرائیل میں، اس طرح کے دوروں کی تفصیلات عام طور پر سب سے پہلے سیاسی اور سیکیورٹی رپورٹرز کے ذریعے میڈیا پر آ جاتی ہیں، اور وزیراعظم کا دفتر براہ راست اور سرکاری طور پر اس کا اعلان نہیں کرتا۔
بی بی سی کے یروشلم کے نامہ نگار نے جیک نیریا سے بات کی، جو اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کے ایک سابق افسر اور سابق اسرائیلی وزیر اعظم یتزاک رابن کے سیاسی مشیر ہیں، جو اب یروشلم میں مرکز برائے خارجہ اور سلامتی کے امور کے محقق ہیں۔
مسٹر نیریا نے بی بی سی کو بتایا: ’نیتن یاہو کے سفر کی خبروں کا اجرا بنیادی طور پر اندرونی اسرائیلی سیاست اور موجودہ انتخابی ماحول میں کیا گیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
انھوں نے دورے کے باضابطہ اعلان کا مقصد اسرائیلی وزیر اعظم کی متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے میں پیش رفت کو ظاہر کرنے کی کوشش قرار دیا۔
جیک نیریا نے مزید کہا کہ ’یہ اعلان ان اطلاعات کے بعد کیا گیا ہے کہ آئرن ڈوم سسٹم ایران کے ساتھ محاذ آرائی کے دوران متحدہ عرب امارات کے دفاع میں شامل تھے۔‘ ان کا خیال ہے کہ ’نیتن یاہو کا دفتر وزیراعظم کے سیکورٹی اور سیاسی کردار کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے جب کہ میڈیا میں حماس، حزب اللہ اور ایران کے بارے میں ان کی پالیسیوں کی ناکامی کا تذکرہ ہو رہا ہے۔‘
متحدہ عرب امارات کی تردید کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’ابوظہبی شاید اسرائیل کے ساتھ اپنے سیکورٹی تعلقات کو عوامی سطح پر اجاگر نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ اس سے ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
چند روز قبل تل ابیب یونیورسٹی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے Axios ویب سائٹ کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کی تصدیق کی جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے آئرن ڈوم سسٹم یو اے ای بھیجا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے بھی یہ خبر دی تھی کہ متحدہ عرب امارات کی فضائیہ نے اپریل کے اوائل میں ایران کی ایک آئل ریفائنری پر حملہ کیا تھا۔ اس رپورٹ کی متحدہ عرب امارات نے ابھی تک تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
امارات نے نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید کیوں کی؟
کنگز کالج لندن میں سیکیورٹی سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریاس کریگ کا خیال ہے کہ ’متحدہ عرب امارات کی تردید قابل فہم ہے، کیونکہ اس انکشاف سے نیتن یاہو کو ابوظہبی سے زیادہ فائدہ ہوگا۔‘
مسٹر کریگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’متحدہ عرب امارات کا مسئلہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا نہیں ہے، کیونکہ ابراہیم معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات ہیں۔‘
’بلکہ، مسئلہ یہ تھا کہ نیتن یاہو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جنگ کے دوران خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا سفر کیا، ملک کے صدر سے ملاقات کی اور سیکورٹی تعلقات میں تاریخی کامیابی حاصل کی۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ان کے مطابق، ’اس طرح کا بیانیہ متحدہ عرب امارات کو ایک آزاد علاقائی اداکار کے طور پر نہیں، بلکہ ایران کے ساتھ جنگ میں اسرائیل کے چھپے ہوئے پارٹنر کے طور پر پیش کرتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ابوظہبی نہیں چاہتا کہ نیتن یاہو متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کی تعریف اسرائیل کے بیانیے اور حالات کی بنیاد پر کریں، خاص طور پر اگر اس دورے کا اعلان کرنے کا مقصد اپنے سیاسی بیانیے کو بچانا ہے۔‘
مسٹر کریگ کا خیال ہے کہ ’متحدہ عرب امارات کی تردید ملک کی سیاسی ساکھ کے لیے ایک قسم کی حفاظتی ڈھال کا بھی کام کرتی ہے۔‘
ان کے مطابق، ’امارات اسرائیل کے ساتھ تعاون سے عملی طور پر فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، بشمول ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس، میزائل ڈیفنس اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا، لیکن جنگ کے وقت نیتن یاہو کے اتحادی کے طور پر خود کو پیش کیے بغیر۔‘
اینڈریاس کریگ نے کہا کہ ’نیتن یاہو کی سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے حساس علاقائی رابطوں کو استعمال کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’نیتن یاہو یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ الگ تھلگ نہیں ہیں، عرب رہنما ان کے ساتھ بات چیت کرتے رہتے ہیں، اور یہ کہ وہ بحرانوں کے درمیان بھی سیکورٹی سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
مسٹر کریگ کا خیال ہے کہ ’اس سفر کا اعلان کر کے، نیتن یاہو نے ظاہر کیا کہ اگر ان کے ذاتی مفادات کی ضرورت ہے تو وہ دوسروں کی قربانی دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔‘
واضح رہے کہ اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات اس سال اکتوبر میں ہونے والے ہیں، لیکن اسرائیلی اپوزیشن کنیسٹ کو تحلیل کرنے اور قبل از وقت انتخابات کرانے کے لیے ایک قانون پاس کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ تنازع الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو فوجی خدمات سے مستثنیٰ قرار دینے والے ایک قانون کو پاس کرنے میں ناکامی پر پیدا ہوا ہے۔
اینڈریاس کریگ نے یہ بھی کہا کہ ’جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کے ساتھ خصوصی تعلقات پر اصرار کرتے ہوئے، نیتن یاہو عرب ممالک کے درمیان دراڑ پیدا کرنے، ابوظہبی پر دباؤ ڈالنے اور سعودی عرب کو یہ پیغام بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کچھ عرب حکومتیں پس پردہ اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہیں۔‘
ان کے مطابق، ’یہ طرز عمل عرب دنیا کے لیے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی حکمت عملی کا حصہ ہے، ایک ایسی حکمت عملی جس کا مقصد عرب حکومتوں اور ان کی رائے عامہ کے ساتھ ساتھ خلیجی ریاستوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا ہے، تاکہ اس تاثر کو تقویت دی جا سکے کہ کچھ عرب حکومتیں عوامی اعلانات کے برخلاف خفیہ طور پر اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہیں۔‘
مسٹر کریگ نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاملے میں سب سے اہم نکتہ متحدہ عرب امارات کی دوٹوک تردید ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابوظہبی نہ صرف شرمندہ ہے بلکہ پریشان بھی ہے، اور اماراتی حکام کو لگتا ہے کہ نیتن یاہو نے اس مبینہ سفر کا سیاسی فائدہ اٹھا کر سرخ لکیر عبور کی ہے۔‘
یو اے ای کی جانب سے نیتن یاہو کے سفر کی تردید کا یہ تجزیہ سوشل نیٹ ورک ایکس پر متحدہ عرب امارات کے وزیراعظم کے سیاسی مشیر انور گرگاش کے فکر انگیز موقف سے مطابقت رکھتا ہے۔
گرگاش نے لکھا ہے کہ ’ایران اور خلیج فارس کے عرب ممالک کے تعلقات ایک ایسے خطے میں تنازعات اور تصادم پر مبنی نہیں ہو سکتے جہاں اقوام کے درمیان گہرے جغرافیائی اور تاریخی تعلقات ہوں۔‘
انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متحدہ عرب امارات طاقت اور عزم کے ساتھ اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گا لیکن وہ سیاسی حل کو ترجیح دیتا ہے۔


























