پی ٹی آئی کے اقبال آفریدی اور اٹلی میں سیاسی پناہ کا تنازع: پاکستانی بلیو پاسپورٹ کیا ہے اور کسے جاری کیا جاتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہDGIP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
پاکستان کی وزارت داخلہ نے بلیو پاسپورٹ کے غلط استعمال اور اس میں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں قائم یہ کمیٹی بلیو پاسپورٹ کے ذاتی استعمال اور اس کے ذریعے بیرون ملک جا کر سرکاری فرائض سرانجام نہ دینے والے افراد کے کوائف اکھٹے کر کے وزارت داخلہ کو رپورٹ پیش کرے گی۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس معاملے میں اگر کسی رکن پارلیمان کو تحقیقاتی کمیٹی نے طلب کیا تو ان کی طلبی سے متعلق قومی اسمبلی کے سپیکر یا سینٹ کے چیئرمین سے پیشگی منظوری لی جائے گی۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق یہ کافی سنجیدہ نوعیت کا معاملہ ہے کیونکہ اس اقدام سے دنیا کے مختلف ملکوں میں پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے بھی بلیو پاسپورٹ کے غلط استعمال پر ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل وزارت داخلہ سے متعلق سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ کچھ ارکان پارلیمان کی فیملی کی جانب سے بلیو پاسپورٹ کا غلط استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے کچھ ملکوں نے وہاں پر تعینات پاکستانی سفارت خانے کے عملے کو بلا کر اس کی شکایت کی۔
قائمہ کمیٹی کے اس اجلاس میں یہ تو نہیں بتایا گیا کہ ارکان پارلیمنٹ کی فیملی کی جانب سے بلیو پاسپورٹ کا غلط استعمال کس طرح کیا گیا تاہم اس اجلاس میں سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیٹے کی طرف سے اٹلی جا کر وہاں پر بلیو پاسپورٹ سرنڈر کرنے اور سیاسی پناہ لینے کا معاملہ زیر بحث آیا۔
داخلہ امور کے وزیر مملکت طلال چوہدری نے بتایا کہ حکومت اس معاملے کی چھان بین کر رہی ہے کیونکہ کسی بھی رکن پارلیمان کی فیملی کی جانب سے اس طرح کا واقعہ ملک کی بدنامی کا باعث ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہFacebook/Iqbal Afridi
اقبال آفریدی کا موقف
پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے اس واقعہ سے متعلق سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کو مبینہ طور پر ریاستی اداروں کی طرف سے بلاوجہ تنگ کیا جا رہا تھا جس کے باعث وہ بیرون ملک پناہ لینے پر مجبور ہوا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اقبال آفریدی کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا ان کی سوشل میڈیا کی ٹیم کا سربراہ تھا۔
اقبال آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی ادارے اسی طرح نوجوانوں کو تنگ کریں گے تو ان کے بیٹے کے پاس بیرون ملک جا کر سیاسی پناہ لینے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا۔
سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی اس واقعہ کے بعد اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا کہ بلیو پاسپورٹ ارکان پارلیمنٹ کے بچوں کو نہیں ملنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اگر یہ طریقہ کار جاری رہا تو پھر ملک میں ایک نیا پاسپورٹ کلب بن جائے گا جس سے عام پاسپورٹ کی حیثیت ختم ہو جائے گی۔
بلیو پاسپورٹ کن کو جاری کیا جاتا ہے؟
بلیو پاسپورٹ پاکستان کے ارکان پارلیمنٹ اور گریڈ 17 سے اوپر والے سرکاری ملازمین کو جاری کیا جاتا ہے۔
ارکان پارلیمنٹ اور ان کی فیملی کے ارکان کو پانچ سال کی مدت کے لیے بلیو پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے تاہم رکن پارلیمان کے بچوں کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی اجازت نہیں۔
قومی اسمبلی کے سپیکر یا چیئرمین سینٹ کی جانب سے پاسپورٹ آفس کو کسی بھی رکن پارلیمان کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کا حکمنامہ جاری کیا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اگر قومی اسمبلی اپنی مدت پوری نہ کر سکے تو پھر جن ارکان قومی اسمبلی کو بلیو پاسپورٹ جاری کیے جاتے ہیں انھیں بلیو پاسپورٹ واپس کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔
اہلکار کے مطابق اگر ایسا نہ ہو تو متعلقہ حکام کی جانب سے ان کے نام سٹاپ لسٹ میں ڈال دیے جاتے ہیں۔
وزارتِ داخلہ کے اہلکار نے بتایا کہ بلیو پاسپورٹ کی تجدید کے لیے بھی سپیکر یا سینٹ کے چیئرمین کی اجازت لازمی ہے۔
واضح رہے کہ دس سال قبل پاکستان کی پارلیمنٹ کو بتایا گیا تھا کہ جن افراد کے پاس سرکاری یعنی بلیو پاسپورٹ ہیں ان کے لیے 33 ممالک کا ویزہ فری ہے۔ پاسپورٹ آفس کے ایک اہلکار کے مطابق ان ملکوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے اور اب یہ تعداد 50 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق دور حکومت میں گریڈ 17 سے اوپر کے سرکاری ملازمین کے لیے بلیو پاسپورٹ پانچ سال کی مدت کے لیے جاری کیا جاتا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ اس کے بعد متعدد ایسے واقعات رونما ہوئے جس میں سرکاری ملازمین اپنی پوری فیملی کے ساتھ بیرون ممالک سیٹل ہو گئے اور پھر کچھ عرصے کے بعد انھوں نے سرکاری ملازمت سے استعفی دے دیا۔
اہلکار کے مطابق سرکاری ملازمین کے بیرون ممالک رہائش اختیار کرنے کے واقعات میں بے تحاشہ اضافے کے بعد حکومت نے اس پالیسی کا از سر نو جائزہ لیا اور اب سرکاری ملازمین کو جو بلیو پاسپورٹ جاری کیے جاتے ہیں ان کی معیاد چھے ماہ سے زیادہ نہیں ہوتی۔
پاسپورٹ آفس کے اہلکار کے مطابق گریڈ اکیس اور گریڈ بائیس کے افسران اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینٹ میں سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے منحرف سینیٹر عبدالقادر نے اجلاس میں پاسپورٹ ایکٹ ترمیمی بل 2026 پیش کیا جو پارلیمنٹ کے سابق ارکان اور ان کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ دینے سے متعلق ہے۔
اس ترمیمی بل میں کہا گیا کہ اس وقت گریڈ 22 کے ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹریز، ان کے شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کو بلیو پاسپورٹ کی سہولت حاصل ہے تاہم سابق پارلیمنٹیرینز کو ایسی سہولت دستیاب نہیں۔
سینٹ میں پیش ہونے والے بل میں یہ بھی کہا گیا کہ ریاست کی اعلی سطح پر خدمات انجام دینے والے افراد کے لیے مراعات میں بھی یکسانیت پیدا کرنا ضروری ہے جس کے لیے سابق ارکان پارلیمنٹ کو بھی سرکاری پاسپورٹ کی سہولت دی جائے۔
جب اس بل کو ایوان میں پیش کیا گیا تو وزیر مملکت سینیٹر طلال چوہدری کے سوا کسی بھی رکن نے اس بل کی مخالفت نہیں کی۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ جب بلیو پاسپورٹ کا غلط استعمال ہوتا ہے تو اس سے پاسپورٹ ریٹنگ میں فرق پڑتا ہے۔
کسی بھی سینیٹر کی جانب سے اس بل پر اعتراض نہیں اٹھایا گیا تو چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے طلال چوہدری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوگا کہ اس بل کو متعقلہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا جائے کیونکہ اگر اس پر اس وقت پر ووٹنگ کروائی گئی تو وہ ہار جائیں گے۔ اس کے بعد یہ بل قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔


























