سرو ابرکوه: ایران میں موجود 4500 سال پرانا درخت اور صدر مسعود پزشکیان کا تاریخ سے متعلق اشارہ

 ایران کے صوبہ یزد کے شہر ابرکوه میں موجود ایک صنوبر کا درخت ہے

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنایران کے صوبہ یزد کے شہر ابرکوه میں موجود ایک صنوبر کا درخت ہے
    • مصنف, تابندہ کوکب
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

کسی بھی ملک کی سالمیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ یقیناً اس کی جغرافیائی حدود پر کیے جانے والے حملے ہوتے ہیں، خاص طور پر اگر جنگی صورتحال میں حریف اسے ’مکمل تباہ‘ کرنے کی دھمکی دے رہا ہو۔

ایسی صورتحال میں جنگیں جسمانی طور پر لڑے جانے کے ساتھ ساتھ نفسیاتی طور پر بھی لڑی جاتی ہیں۔

اس وقت امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری لڑائی میں جنگ بندی ہے، لیکن خطے میں ہونے والی ہلچل اور پاکستان کی جانب سے ایرانی حکام سے ملاقاتوں کے دوران امریکہ کے ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکانات پر چہ مگوئیاں جاری ہیں۔

اسی غیر یقینی کی صورتحال میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے بظاہر امریکہ کو یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ ایران کا وجود ختم کرنا خام خیالی ہے۔

ایران کے صدر نے ایکس پر ایک درخت کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’ایشیا کا سب سے پرانا زندہ جاندار، قدیم ’سرو ابرکوہ‘ کا درخت جو کم از کم 4500 سال پرانا ہے۔ یہ اس زمین پر لگا ہے جو اس وقت بھی ایران کے نام سے جانی جاتی تھی۔‘

پوسٹ

،تصویر کا ذریعہX

یہ کون سا درخت ہے؟

سرو ابرکوه، جس کی عمر کم از کم 4000 سال مانی جاتی ہے، ایران کے صوبے یزید میں موجود ہے۔ یہ صنوبر کا درخت ملک کی ایک قومی یادگار ہے۔

اس کی اونچائی تقریباً 25 میٹر ہے اور اس کے چوڑے تنے کا گھیر تقریباً 11.5 میٹر ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پورے ایشیا میں موجود سب سے قدیم زندہ شے ہے۔ یہ دنیا بھر کے سب سے قدیم زندہ درختوں میں بھی دوسرے نمبر پر آتا ہے۔

ایران میں لوگ اسے طاقت، برداشت اور تاریخ کی علامت سمجھتے ہیں اور سرو ابرکوه کو ایران کی قدیم تاریخ کا زندہ ثبوت مانا جاتا ہے۔

ایران میں ایسے پرانے درختوں کی تعداد اور اقسام بہت زیادہ ہیں، اور وہاں 2000 سے زیادہ قدیم درختوں کی نشاندہی ہو چکی ہے۔

ایران میں چنار، اخروٹ، جونیپر، سرو اور جنگلی پستہ جیسے درخت زیادہ تعداد میں ملتے ہیں۔ ان میں سب سے قدیم درخت یہی سرو ابرکوه کا ہے، جبکہ کچھ جونیپر درخت تقریباً 2700 سے 2800 سال پرانے ہیں۔ گذشتہ برسوں میں ان درختوں کی حفاظت کے لیے خاص اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

ایک روایت ہے کہ اس درخت کو زرتشت نے لگایا تھا، وہ قدیم فارس کے مفکر اور مذہبی پیشوا تھے۔

 ایران کے صوبہ یزد کے شہر ابرکوه میں موجود ایک صنوبر کا درخت ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیہ درخت ایک مشہور سیاحتی مقام ہے، مقامی لوگ اس درخت کو ایک مقدس اور منت مانگنے والا درخت بھی مانتے ہیں، اس لیے یہ ملک کے ثقافتی ورثے میں خاص اہمیت رکھتا ہے

یہ کیسے معلوم ہو کہ درخت کتنا پرانا ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جب ہم کہتے ہیں کہ کوئی درخت 4500 سال پرانا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ درخت تقریباً 4500 سال پہلے ایک چھوٹے پودے کے طور پر اُگا تھا اور آج تک زندہ ہے۔

اتنے قدیم درخت نے ہزاروں سالوں میں بے شمار موسم دیکھے ہیں جیسے گرمی، سردی اور بارش۔

سائنسی طور پر ماہرین درخت کے تنے کے اندر بننے والے حلقوں کو گن کر اس کی عمر کا اندازہ لگاتے ہیں، کیونکہ ہر حلقہ ایک سال کی نشانی کرتا ہے۔ اس طرح اگر کسی درخت میں 4500 حلقے ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ درخت 4500 سال سے زندہ ہے۔

تقریباً 4500 سال پہلے کی دنیا آج سے بہت مختلف تھی۔ اس وقت نہ جدید شہر تھے، نہ بجلی، نہ گاڑیاں اور نہ ہی انٹرنیٹ۔ لوگ زیادہ تر چھوٹے دیہاتوں میں رہتے تھے اور اپنی ضروریات خود پوری کرتے تھے۔ کھیتی باڑی، مویشی پالنا اور شکار ان کی زندگی کا حصہ تھا۔

اس زمانے میں قدیم تہذیبیں جیسے مصر، میسوپوٹیمیا اور ابتدائی ایرانی قومیں ترقی کر رہی تھیں اور لوگ مٹی کے برتن، سادہ اوزار اور ابتدائی عمارتیں بناتے تھے۔

زبان، لکھائی اور معاشرتی نظام بھی سادہ تھے۔ آسان الفاظ میں، یہ ایک ایسی دنیا تھی جہاں زندگی سادہ تھی مگر انسان آہستہ آہستہ ترقی کی طرف بڑھ رہا تھا۔

جغرافیائی طور پر بھی 4500 سال پہلے کی دنیا آج کے مقابلے میں زیادہ تر قدرتی تھی۔ اُس وقت دریا، پہاڑ، جنگلات اور صحرا تقریباً اپنی اصل حالت میں موجود تھے اور انسانوں کی مداخلت بہت کم تھی۔

بڑے دریا جیسے نیل، دجلہ اور فرات کے آس پاس زرخیز زمینیں تھیں جہاں قدیم تہذیبیں آباد ہوئیں۔ بہت سے علاقے گھنے جنگلات یا کھلے میدانوں پر مشتمل تھے اور شہروں کی تعداد بہت کم تھی۔

اگر دیکھا جائے تو مذکورہ درخت حضرت عیسیٰ کے زمانے سے بھی تقریباً 2500 سال پرانا ہے۔ لیکن حضرت عیسیٰ کے زمانے تک دنیا کافی بدل چکی تھی، بڑے شہر بن چکے تھے، سڑکیں، باقاعدہ حکومتیں، تجارت اور لکھائی کا نظام زیادہ ترقی یافتہ ہو گیا تھا۔

آسان الفاظ میں 4500 سال پہلے انسان نے ترقی کرنا شروع کیا تھا، جبکہ حضرت عیسیٰ کے دور تک وہ کافی آگے بڑھ چکا تھا۔

 فارسی سلطنت کے شاہی محل کے احاطے میں کی گئی باریک پتھر کی نقاشی جس میں فارسی محافظوں کو دکھایا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن فارسی سلطنت کے شاہی محل کے احاطے میں کی گئی باریک پتھر کی نقاشی جس میں فارسی محافظوں کو دکھایا گیا ہے

ایران کی تاریخ

ایران ہزاروں سال سے مختلف تہذیبوں کا گھر رہا ہے۔ بہت پہلے ساتویں صدی قبل مسیح میں یہ علاقہ پہلی بار ایک ملک کے طور پر اکٹھا ہوا۔

ساتویں صدی قبل مسیح میں میڈز نے اس علاقے کو ایک ملک کی شکل میں متحد کیا، میڈز ایک قدیم ہند-ایرانی قوم تھے، جو ایران کے مغربی اور شمالی پہاڑی علاقوں میں رہتے تھے، جسے اس وقت ’میڈیا‘ کہا جاتا تھا۔

اس کے بعد 550 قبل مسیح میں سائرسِ اعظم نے پہلی بڑی فارسی سلطنت قائم کی۔ بہت عرصے تک دنیا اس ملک کو ’پرشیا‘ کہتی رہی۔

چھٹی صدی قبل مسیح کے وسط میں سائرس نے صرف کچھ ہی عرصے میں پورے مشرقِ وسطیٰ پر قبضہ کر لیا بلکہ اس علاقے میں طویل عرصے سے قائم بادشاہتیں ختم کیں، مشہور شہر فتح کیے اور ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جو اپنے وقت کی سب سے بڑی سلطنت بن گئی۔

یہ سلطنت فارس دنیا کی تقریباً آدھی آبادی (44 فیصد) پر حکومت کرتی تھی۔ اِس کی حدود مغرب میں مصر اور بلقان سے لے کر شمال مشرق میں وسطیٰ ایشیا اور جنوب مشرق میں وادیٔ سندھ (آج کا پاکستان) تک پھیلی ہوئی تھیں۔

سائرسِ اعظم قدیم دنیا کی سب سے نمایاں شخصیات میں سے ایک تھے اور یہ کہانی 230 سال بعد اُس وقت ختم ہوئی جب مقدونیہ کے سکندرِ اعظم آئے اور فارسی سلطنت کو ختم کر دیا۔

سائرسِ اعظم کے بعد فارسی سلطنت کو وسعت دینے اور اسے مستحکم کرنے والے بادشاہ داریوش اول تھے۔

 ایران کے صوبہ یزد کے شہر ابرکوه میں موجود ایک صنوبر کا درخت ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

داریوش نے سلطنت کو منظم کیا۔ انھوں نے ڈاک کا نظام قائم کیا، وزن اور پیمائش کو معیاری بنایا اور سکے رائج کیے۔ اتنی بڑی سلطنت کو سنبھالنے کے لیے انھوں نے اسے صوبوں یا ستراپیوں میں تقسیم کیا اور ٹیکس کا نظام نافذ کیا۔ انھوں نے اعلیٰ عہدوں پر صرف فارسی اشرافیہ کے معتمد افراد کو تعینات کیا۔ انھوں نے پوری سلطنت میں انجینیئرنگ اور تعمیراتی منصوبے شروع کروائے، جن میں ایک نہر بھی شامل تھی جو مصر میں دریائے نیل کو بحیرۂ احمر سے جوڑتی تھی۔

اتنی وسیع سلطنت کو آپس میں جوڑنے کے لیے سڑکیں درکار تھیں اور ایسی سڑکیں بنائی گئیں جو بہترین تھیں، جن پر لمبے سفر کے لیے آرام گاہیں بھی قائم تھیں۔ ماہرین کے مطابق فارسی سلطنت کا مضبوط انفراسٹرکچر ہی وہ خوبی تھی جس نے اسے دوسروں پر برتری دلائی۔

یہی انتظامی ذہانت تھی جس کی وجہ سے انھیں ’داریوشِ اعظم‘ کہا گیا۔ اُن کی ایک اور بڑی کامیابی تھی شہرِ پرسیپولس کا قیام، جو بعد میں فارسی سلطنت کی علامت بن گیا۔ پرسیپولیس تقریباً دو صدیوں تک قائم رہا اور اس کا شماد دنیا کے امیر ترین شہروں میں ہوتا تھا۔

سکندرِ اعظم نے سلطنت فارس پر 330 قبلِ مسیح میں حملہ کیا۔

حالیہ تاریخ کی بات کریں تو سنہ 1935 میں رضا شاہ نے اعلان کیا کہ اب اس ملک کو ’ایران‘ کہا جائے، جو خود ایرانی لوگ اپنے ملک کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پھر 1979 میں ایک انقلاب آیا جس کے بعد بادشاہت ختم ہو گئی اور ایران ایک اسلامی جمہوریہ بن گیا۔

 ایران کے صوبہ یزد کے شہر ابرکوه میں موجود ایک صنوبر کا درخت ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایرانی صدر کی پوسٹ پر ردِ عمل

چونکہ خود ایران میں انٹر نیٹ پر بندش ہے اس لیے ملک کے اندر سے تو اس پوسٹ پر ردعمل سامنے آنا مشکل تھا تاہم دیگر دنیا سے سوشل میڈیا پر صارفین ایرانی صدر کا اشارہ سمجھ کر اپنی دیتے ہوئے نظر آئے۔ ان میں ایرانی حکومت کے حامیوں اور مخالفین سمیت ہر طرح کے لوگ تھے۔

ایسے ہی ایک صارف نیل سٹون نے ایرانی صدر کو مخاطب کر کے لکھا ’آپ کا نظام صرف 47 سال پرانا ہے۔ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔‘

ایک اور صارف نے اس درخت کا امریکی درخت سے تقابل ضروری سمجھا، جو قدیم ترین درختوں کی فہرست میں اوّل نمبر پر ہے۔

ہوٹی نامی اکاؤنٹ سے لکھا گیا کہ ’آئیں اور ہمارے 4800 سال پرانے درخت کو دیکھیں جو آپ کے درخت سے بھی زیادہ قدیم ہے، اتنا کہ امریکہ کے وجود سے بھی پہلے کا ہے۔ یہ ثقافت کی جھلک بھی دیتا ہے۔‘

ایلیکس گوکھالے نامی صارف نے کہا ’فکر نہ کریں، یہ پاسدارانِ انقلاب کے جانے کے بعد بھی وہیں رہے گا۔‘

جے لاسو نامی ایک صارف نے بظاہر ہمدارانہ مشورہ دیا کہ ’آپ یہ درخت اور اپنی جانیں دونوں بچا سکتے ہیں۔ وہ کریں جو آپ کے لوگوں کے لیے صحیح ہے۔‘

سوشل میڈیا پر جہاں لوگ ایرانی صدر پر طز کر رہے تھے وہیں کچھ لوگ ان کا پیغام سمجھ کر ان کی حمایت بھی کر رہے تھے۔

فافو گلوبل کے نام سے ایک اکاؤنٹ نے لکھا ’اور ایران اگلے 4500 سال بعد بھی ایک سلطنت رہے گا۔ خدا آپ کی قوم کے جنگجوؤں کو برکت دے۔‘

ٹوائیلائٹ نامی ہینڈل سے لکھا گیا ’یہ 4,500 سال پرانا عجوبہ اب بھی قائم ہے حالانکہ ٹرمپ نے سوچا کہ وہ اس پوری قدیم تہذیب کو بمباری سے تباہ کر سکتے ہیں۔‘

مومیرازے نامی اکاؤنٹ سے تبصرہ کیا گیا کہ ’4,500 سال پرانی تہذیب کو ایک ہی رات میں مٹایا نہیں جا سکتا۔ ایران نے سلطنتوں، حملوں، جنگوں اور صدیوں کی ہلچل کو برداشت کیا ہے، تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم تہذیبیں عارضی تنازعات سے کہیں آگے تک قائم رہتی ہیں۔‘

ایک نوستیاگ نامی صارف نے استہزایہ انداز میں لکھا ’ذرا تصور کریں کہ آپ ایک ایسی قوم کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی جڑیں آپ کی پوری تہذیب سے بھی زیادہ پرانی ہیں۔‘

اب ان کا مخاطب امریکہ تھا یا خود ایرانی خکومت یہ واضح نہیں۔

وہیں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں یہ ڈر ہے کہ ایرانی صدر کی جانب سے اس درخت کا ذکر کرنے کے بعد اسے امریکی یا اسرائیلی حملے کا نشانہ نہ بنا دیا جائے۔