ایکسوبوٹ: سعودی عرب کی پہلی الیکٹرک کار جو ایک مرتبہ چارج کرنے پر 670 کلومیٹر سفر کر سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters
تیل کی دولت اور توانائی کی پیداوار کے لیے معروف سعودی عرب نے اب ملک میں تیار کی گئی اپنی پہلی الیکٹرک گاڑی بھی متعارف کرا دی ہے۔
سعودی کمپنی سیئر کی جانب سے پیش کی گئی اس گاڑی کو ایکسوبوٹ کا نام دیا گیا ہے، اور یہ سیڈان اور سپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل (ایس یو وی) کی شکل میں دستیاب ہو گی۔
ان گاڑیوں میں ایسے دروازے نصب کیے گئے ہیں جو اوپر کی طرف کھلتے ہیں، انھیں گُل وِنگ دروازے کہا جاتا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سیئر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جم ڈی لوکا نے کہا ہے کہ کمپنی نے اپنے ماڈلز میں وہ روایتی ستون (پلرز) بھی ختم کر دیے ہیں جو گاڑیوں کے اگلے اور پچھلے حصوں کے درمیان موجود ہوتے ہیں۔ اس کے بجائے گاڑی کی مضبوطی برقرار رکھنے کے لیے جدید اور انتہائی مضبوط مواد استعمال کیا گیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق الیکٹرک گاڑیاں بنانے کا یہ اقدام سعودی عرب کے اُس منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر جدید صنعتی شعبوں کی طرف منتقل کرنا اور ملک میں ایک مضبوط مقامی آٹو انڈسٹری قائم کرنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی حکمتِ عملی عالمی آٹو موبائل صنعت میں بھی اپنی پوزیشن مضبوط بنانا ہے، اور یہ پیش رفت اس کے لیے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
تو ایکسوبوٹ کی تکنیکی خصوصیات کیا ہیں؟
سیئر کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ایکسوبوٹ سیڈان ایک مرتبہ چارج کرنے پر 670 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہے، جبکہ اس کی بیٹری کو 10 سے 80 فیصد تک صرف 30 منٹ میں چارج کیا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایکسوبوٹ سیڈان 2.6 سیکنڈز میں صفر سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ سکتی ہے اور اس کی مجموعی طاقت 850 ہارس پاور بتائی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سیڈان ماڈل کے ساتھ ساتھ کمپنی نے ایس یو وی ورژن کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔
ایکسوبوٹ ایس یو وی مکمل چارج ہونے پر 560 کلومیٹر تک کا سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کی بیٹری بھی 10 سے 80 فیصد تک محض 30 منٹ میں چارج ہو جاتی ہے۔ ایس یو وی کو صفر سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچنے میں 2.9 سیکنڈز لگتے ہیں اور اس کی طاقت بھی 850 ہارس پاور ہے۔
ایس پی اے کا کہنا ہے کہ ایکسوبوٹ سیڈان اور ایس یو وی کے ڈیزائن میں ’سعودی عرب کے قدرتی مناظر اور ثقافتی شناخت‘ کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ان گاڑیوں کی ڈیزائننگ اور انجینیئرنگ سعودی عرب میں کی گئی ہے اور انھیں بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔
تاہم سیئر کا منصوبہ صرف دو الیکٹرک گاڑیوں تک محدود نہیں۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2030 تک مزید پانچ ماڈلز بھی متعارف کرائے گی۔
سیئر حکام کے مطابق نئی گاڑیوں کی فروخت 2027 کے اوائل میں سعودی مارکیٹ میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ماڈلز نہ صرف جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں بلکہ ان کی تیاری کے دوران خطے کے موسمی اور جغرافیائی حالات کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔
روئٹرز کا کہنا ہے کہ سیئر 2028 میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی منڈیوں میں بھی داخل ہونے کا ارادہ رکھتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہceermotors.com
کمپنی نے تا حال ایکسوبوٹ کی قیمت کا اعلان نہیں کیا، تاہم سعودی عرب میں گاڑیوں کی قیمتوں، ماڈلز اور مارکیٹ معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ بیسیات ڈاٹ کام کے مطابق ایکسوبوٹ سیڈان کی متوقع ابتدائی قیمت ایک لاکھ 30 ہزار سعودی ریال جبکہ ایس یو وی کی متوقع ابتدائی قیمت ایک لاکھ 50 ہزار سعودی ریال ہو سکتی ہے۔
یہ رقم پاکستانی کرنسی میں بالترتیب تقریباً 96 لاکھ اور ایک کروڑ 10 لاکھ روپے کے برابر بنتی ہے، تاہم حتمی قیمت کا تعین کمپنی کے باضابطہ اعلان کے بعد ہی ہو سکے گا۔
سیئر کی ویب سائٹ پر درج ہے کہ یہ سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اور تائیوان کی ٹیکنالوجی کمپنی فاکس کون کا مشترکہ منصوبہ ہے اور پرزہ جات کی فراہمی کے لیے اسے گاڑیاں بنانے والی جرمن کمپنی بی ایم ڈبلیو کا کلیدی تعاون حاصل ہے۔
اگرچہ کمپنی کو سعودی حکومت اور ریاستی سرمایہ کاری فنڈ کی بھرپور مالی معاونت حاصل ہے، تاہم، روئٹرز کے مطابق اسے ان مسائل کا سامنا بھی کرنا ہو گا جن کی وجہ سے ماضی میں سعودی عرب کی آٹو انڈسٹری قائم کرنے کی کئی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔

،تصویر کا ذریعہceermotors.com
روئٹرز کی فراہم کردہ تفصیلات بتاتی ہیں کہ سعودی عرب نے ماضی میں بھی مقامی سطح پر گاڑیاں بنانے کے کئی منصوبے شروع کیے تھے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل سعودی عرب میں جیگوار لینڈ روور کا پلانٹ لگانے کی تجویز سامنے آئی تھی، لیکن یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
اسی طرح جاپانی کمپنی ٹویوٹا نے 2019 میں سعودی عرب میں گاڑیوں کی تیاری کا معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس کی ایک بڑی وجہ مقامی سپلائرز کی کمی اور مزدوری کے زیادہ اخراجات بتائے گئے تھے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق اس بار سیئر نے مختلف حکمت عملی اپنائی ہے۔ کمپنی نہ صرف عالمی شراکت داروں کی مدد حاصل کر رہی ہے بلکہ مقامی سپلائرز کے ایک وسیع نیٹ ورک کی تشکیل پر بھی کام کر رہی ہے۔
روئٹرز کے مطابق سیئر کا یہ منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی آٹو موبائل صنعت ایک بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ چینی کار ساز کمپنیاں تیزی سے مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھا رہی ہیں جبکہ روایتی یورپی، جاپانی اور امریکی کمپنیاں سخت مقابلے کا سامنا کر رہی ہیں۔ خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں چین نے نمایاں برتری حاصل کر لی ہے۔
مزید برآں، عالمی سطح کی کئی آٹو پارٹس کمپنیاں بھی سعودی عرب میں سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔ ان میں امریکی کمپنی لیئر، جنوبی کوریا کی شن ینگ، جرمنی کی بینٹیلر اور چین کی فانگ شِن شامل ہیں۔
سعودی حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات اور سہولیات نے ان کمپنیوں کو مقامی فیکٹریاں قائم کرنے کی ترغیب دی ہے۔




















