میڈیا اداروں کے بائیکاٹ پر وائٹ ہاؤس نے ’ٹرمپ ٹی وی‘ متعارف کرا دیا: ’وہ میرا بائیکاٹ نہیں کر پائیں گے‘

ٹرمپ ٹی وی

،تصویر کا ذریعہWHITE HOUSE

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 9 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو پر وائٹ ہاؤس داخلے پر پابندی کے بعد بڑے امریکی نیوز چینلز نے صدر کی مشترکہ کوریج کا بائیکاٹ کیا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کی کوریج کے لیے سٹریمنگ چینل ’ٹرمپ ٹی وی‘ کا آغاز کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے جمعے کو اس پابندی کا اعلان کرتے ہوئے ان اداروں پر اپنی انتظامیہ کے بارے میں ’افسانے یا جھوٹ‘ لکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔ تاہم کمپنیوں نے کہا کہ ان کے رپورٹرز کو سنیچر کے روز وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روک دیا گیا تھا۔

اس کے بعد ان تینوں امریکی اداروں نے کہا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے تاکہ ’اس اصول کا دفاع کیا جا سکے کہ حکومت یہ فیصلہ نہیں کرتی کہ میڈیا کیا رپورٹ کرے گا۔‘

ادھر وائٹ ہاؤس نے اپنا سٹریمنگ چینل ’ٹرمپ ٹی وی‘ شروع کر دیا ہے جو روزانہ 24 گھنٹے صدر کی ویڈیوز نشر کرے گا۔

ٹرمپ ٹی وی

،تصویر کا ذریعہWHITE HOUSE

دیگر کئی امریکی اداروں نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ پول کوریج، یعنی مشترکہ طور پر تقریبات کی کوریج میں حصہ نہیں لیں گے۔ جبکہ نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ سمیت بعض اداروں نے کہا کہ وہ پیر کے روز ٹرمپ کی تقریبات کی تصاویر بھی شیئر نہیں کریں گے۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ ٹرمپ کے ایئر فورس ون میں سوار ہونے یا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچنے کی کوئی نیٹ ورک ٹی وی فوٹیج موجود نہیں تھی۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں نئے میرین ون ہیلی پیڈ کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کی۔ یہ تقریب وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر نشر کی گئی تاہم ان کے ریمارکس سنائی نہیں دے رہے تھے۔

بعد ازاں صدر ٹیلی وژن پر اس وقت دکھائی دیے جب ان کی نیویارک کے میئر زہران ممدانی کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ انھوں نے صدر کو بتایا کہ پریس کانفرنس میں تمام میڈیا ارکان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

ٹرمپ ، میڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ دلچسپ ہے کیونکہ انھوں نے کہا تھا کہ وہ میرا بائیکاٹ کریں گے۔ لیکن وہ کبھی میرا بائیکاٹ نہیں کرتے اس لیے میں اس بارے میں زیادہ پریشان نہیں تھا۔ یہاں موجود تمام پریس کو دیکھیے۔‘

اس مشترکہ نظام میں میڈیا ادارے مواد ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں تاکہ امریکی عوام تک صدارتی تقریبات کی نشریات پہنچانے کے دوران اخراجات اور وسائل کو محدود رکھا جا سکے۔

فاکس نیوز کے واشنگٹن بیورو کے سربراہ برائن بوٹن اس وقت وائٹ ہاؤس کی کوریج کرنے والی میڈیا ٹی وی ٹیموں کی تنظیم میں باری باری دیے جانے والے کردار کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے ایک ای میل میں لکھا کہ ’آج سے، ٹی وی پول ٹرمپ کی ان تقریبات کی کوریج نہیں کرے گا جنھیں پول کوریج کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔‘

پیغام میں کہا گیا کہ یہ اقدام اس کے بعد کیا گیا جب وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے نیویارک کے دورے کے دوران سی این این کو اپنی پول ذمہ داریاں ادا کرنے سے ’روک دیا‘ اور یہ کہ ’اس کی جگہ کوئی متبادل پول مقرر نہیں کیا جائے گا۔‘

وائٹ ہاؤس سے پابندی کا سامنا کرنے والے تینوں میڈیا اداروں نے پیر کے روز واشنگٹن کی ضلعی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔

قانونی کارروائی کے اعلان پر مشتمل مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’کسی پیشگی اطلاع یا طریقۂ کار کے بغیر، وائٹ ہاؤس نے ہمارے صحافیوں کی اسناد منسوخ کر دیں کیونکہ اسے ہماری رپورٹنگ پر اعتراض تھا۔‘

’اگر اس کو چیلنج نہ کیا گیا تو یہ صحافتی آزادی اور حکومت کی مداخلت سے آزاد، خودمختار صحافت تک عوام کے حق کے لیے خطرہ بنے گا۔‘

سی این این کی نامہ نگار بیٹسی کلائن کے مطابق ان سے وائٹ ہاؤس داخلے کا بیج ضبط کر لیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسی این این کی نامہ نگار بیٹسی کلائن کے مطابق ان سے وائٹ ہاؤس داخلے کا کارڈ ضبط کر لیا گیا ہے

جب رپورٹرز کو وائٹ ہاؤس داخلے سے روکا گیا

پیر کو جاری کیے گئے ایک مشترکہ بیان میں سی این این، پولیٹیکو اور ایم ایس ناؤ کا کہنا تھا کہ ’اپنے آئینی حقوق کے تحفظ اور اس اصول کے دفاع کے لیے قانونی کارروائی کر رہے ہیں کہ حکومت یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ میڈیا کیا رپورٹ کرے یا کیا شائع کرے۔‘

امریکی آئین کی فرسٹ امینڈمنٹ (پہلی آئینی ترمیم) حکومت کو پریس کی آزادی محدود کرنے سے روکتی ہے۔ عدالتیں روایتی طور پر اس شق کی یہ تشریح کرتی آئی ہیں کہ حکومت اپنی کوریج کے مواد کی بنیاد پر میڈیا اداروں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کر سکتی۔

مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا: ’بغیر کسی پیشگی اطلاع یا قانونی طریقۂ کار کے وائٹ ہاؤس نے ہمارے صحافیوں کی اسناد منسوخ کر دیں کیونکہ اسے ہماری رپورٹنگ پر اعتراض تھا۔‘

بیان کے مطابق ’اگر اس اقدام کو چیلنج نہ کیا گیا تو یہ پریس کی آزادی اور عوام کے اس حق کے لیے خطرہ بن سکتا ہے کہ انہیں حکومتی مداخلت سے آزاد، خودمختار صحافت میسر ہو۔‘

ایم ایس ناؤ کی رپورٹر اکائیلا گارڈنر نے کہا کہ ’سکیورٹی افسر نے مجھ سے کہا کہ میں اپنا کارڈ اُن کے حوالے کر دوں۔ اس نے کہا کہ اسے غیر فعال کر دیا گیا ہے۔‘

’میں نے پوچھا کہ میں اندر کیوں نہیں جا سکتی؟ اس نے کہا کہ یہ فیصلہ اوپر کی سطح پر ہوا ہے۔‘

گارڈنر نے مزید کہا کہ اگرچہ ان کا اور ان کے ساتھی کا کارڈ غیر فعال کر دیا گیا تھا تاہم ایم ایس ناؤ کی ایک پروڈیوسر اپنا کارڈ سکین کر کے اندر جانے میں کامیاب رہیں۔ تاہم انھیں یہ نہیں بتایا گیا کہ پروڈیوسر کا کارڈ اب بھی کیوں کام کر رہا تھا۔

سی این این کی رپورٹر بیٹسی کلائن نے کہا کہ ایک سیکرٹ سروس اہلکار نے انھیں بتایا کہ ان کا کارڈ غیر فعال کر دیا گیا ہے۔

بعد ازاں سنیچر کی صبح پولیٹیکو نے کہا کہ اس کی رپورٹر شائین ہیسلٹ کو داخلے سے روک دیا گیا اور سیکریٹ سروس نے ان کا پاس منسوخ کر دیا۔

تینوں اداروں نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے ٹرمپ پر اظہارِ رائے کی آزادی اور پریس کی آزادی سے متعلق آئینی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

اپنے اعلان میں ٹرمپ نے ان تینوں اداروں کی کسی مخصوص رپورٹ یا خبر کا ذکر نہیں کیا جس کی وجہ سے یہ اقدام کیا گیا۔ تاہم بعد میں انھوں نے کہا کہ ’یہ دراصل گذشتہ چند برسوں کی مجموعی خبروں کا نتیجہ ہے۔‘

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ممکن ہے کچھ اور بھی ان کے ساتھ شامل ہوں۔‘ تاہم انھوں نے اضافی نیوز اداروں پر پابندی لگانے کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی۔

بعد میں جب ایک رپورٹر نے پوچھا کہ مزید اداروں سے کیا مراد ہے تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’جعلی خبروں کے حوالے سے مزید؟ خیر، آپ جانتے ہیں کہ نیو یارک ٹائمز کی خبریں جعلی ہوتی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی خبریں بھی جعلی ہوتی ہیں۔‘

ٹرمپ میڈیا اداروں سے ناراض کیوں ہیں؟

صدر کی میڈیا سے ناراضی ایسے وقت میں نظر آئی جب انھیں کچھ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔

سب سے پہلے سپریم کورٹ نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کو محدود کرنے کے ان کے منصوبے کو روک دیا ہے۔ اس پر ٹرمپ نے عدالت کے ججوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان میں وہ جج بھی شامل تھے جنھیں انھوں نے خود مقرر کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ وہ لوگ نہیں جن کا میں نے انٹرویو لیا تھا۔‘

اس کے بعد امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں اضافہ کر دیا۔ حالانکہ ٹرمپ کئی ماہ سے یہ مؤقف اختیار کرتے رہے تھے کہ اسے کم کیا جانا چاہیے۔ اس کے بعد ایک جج نے ان کی انتظامیہ کو حکم دیا کہ واشنگٹن ڈی سی میں واقع کینیڈی سینٹر آرٹس وینیو میں کوئی بھی تبدیلی کرنے سے 30 دن پہلے نوٹس دیا جائے۔ صدر نے خبردار کیا تھا کہ اسے ’مسمار کیا جا سکتا ہے۔‘

The White House press room full of reporters with their hands raised

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

میڈیا میں یہ سرخیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ٹرمپ کو مشکل سیاسی حالات کا سامنا ہے۔ تاہم پریس پر ان کا تازہ حملہ واضح قانونی سوالات بھی اٹھاتا ہے۔

امریکی آئین میں پہلی ترمیم کانگریس کو پریس کی آزادی ’محدود‘ کرنے سے منع کرتی ہے۔ عدالتیں عرصۂ دراز سے کہتی آئی ہیں کہ امریکی حکومت میڈیا کے ساتھ اس کی رپورٹنگ کے مواد کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کر سکتی۔

نشانہ بنائے گئے تینوں خبر رساں اداروں نے ٹرمپ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مقدمات دائر کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

اگرچہ اس اقدام کی وسعت غیر معمولی ہے تاہم یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ انتظامیہ نے مرکزی دھارے کے میڈیا اداروں کے نمائندوں کی وائٹ ہاؤس تک رسائی محدود کرنے یا انکار کرنے کی کوشش کی ہو۔

اپنی پہلی مدتِ صدارت میں انتظامیہ نے سی این این کے نمائندے جم اکوسٹا کے پریس کریڈینشلز منسوخ کر دیے تھے۔ اس کے نتیجے میں ایک قانونی جنگ شروع ہوئی جو بالآخر صحافی کے حق میں اختتام پذیر ہوئی تھی۔

ٹرمپ نے ایک ایسے رپورٹر کا پاس بھی عارضی طور پر معطل کر دیا تھا جس کی وائٹ ہاؤس کے ایک مشیر کے ساتھ تند و تیز بحث ہوئی تھی۔ تاہم بعد میں عدالتوں نے یہ اقدام بھی روک دیا تھا۔

گذشتہ برس وائٹ ہاؤس نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے رپورٹرز کو صدر کے پریس پول میں شرکت سے روک دیا تھا کیونکہ یہ خبر رساں ادارہ خلیجِ میکسیکو کا نام تبدیل کر کے خلیجِ امریکہ رکھنے کے ٹرمپ کے اقدام کی پیروی کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔

یہ تنازع بھی ایک طویل قانونی جنگ کا باعث بنا جو ابھی تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکی۔ اس کے بعد وائٹ ہاؤس نے پریس پول کے قواعد تبدیل کرتے ہوئے تمام نیوز ایجنسیوں کے لیے مخصوص نشست کی ضمانت ختم کر دی تھی۔

تاہم وائٹ ہاؤس کی یہ پابندیاں ایک ڈرامائی شدت اختیار کرنے کی نمائندگی کرتی ہیں۔

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہEPA

ان پابندیوں میں صرف پریس پول ہی نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس کے پورے احاطے تک رسائی شامل ہے۔ ان کا ہدف صرف ایک ناپسندیدہ نمائندہ نہیں بلکہ پورے خبر رساں ادارے ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ اپنے فیصلے کے محرکات کے بارے میں واضح رہے ہیں لیکن انھوں نے اس بارے میں بہت کم وضاحت کی ہے کہ انھوں نے یہ اقدام اب کیوں کیا ہے۔ قومی سیاست میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل داخل ہونے کے بعد سے وہ باقاعدگی سے اپنی میڈیا کوریج پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ تاہم جمعے کو انھوں نے کہا کہ ایسا کوئی مخصوص واقعہ نہیں تھا جس نے انھیں یہ اعلان کرنے پر مجبور کیا ہو۔

تاہم اس وقت صدر شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ جیسے ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے توانائی اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ۔ اس کی وجہ سے امریکی عوام میں ان کی مقبولیت متاثر ہوئی ہے۔

رائے عامہ کے جائزے یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ نومبر میں ہونے والے اہم وسط مدتی کانگریسی انتخابات میں ان کی جماعت کو ایوانِ نمائندگان اور شاید سینیٹ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

ان کی جانب سے اس ماہ کے آغاز میں ٹیکساس میں انتخابی تقریبات اور ریپبلکن پارٹی کے کنونشن میں اپنی کامیابیوں کو اجاگر کرنا بھی اب تک موثر ثابت نہیں ہوا۔

شاید ٹرمپ کی میڈیا پر تنقید کے پیچھے مزید وجوہات ہوں۔ لیکن یہ ایسے واقعات پر مایوسی کا اظہار ہو سکتا ہے جس کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔