’عرب اور فارسی اقدار‘ روکنے کی کوشش یا ’سیکولر‘ تشخص کا تحفظ: آذربائیجان میں حجاب پر پابندی کا معاملہ کیا ہے؟

2023 میں مسلمان خواتین باکو کی ایک مسجد میں عاشورا کی مذہی تقریب میں شریک ہیں۔
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

آذربائیجان میں حکومت کی جانب سے طلبہ اور سکول عملے کے حجاب پہننے پر بالواسطہ پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے بعد ملک میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔

یہ احتجاج بعض سکولوں کی جانب سے طلبہ اور اساتذہ کو کلاسوں میں داخل ہونے سے روکنے کے بعد شروع ہوئے۔

احتجاج کے پھیلنے کے ساتھ ہی آذربائیجان میں سوشل میڈیا صارفین نے اطلاع دی ہے کہ انسٹاگرام اور ٹِک ٹاک تک رسائی میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے اور ان کے مطابق یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز صرف وی پی این کے ذریعے ہی قابلِ رسائی ہیں۔

اس سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملتی ہے کہ سکولوں میں حجاب سے متعلق پابندیوں کے خلاف احتجاج کے دوران ان پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کی جا رہی ہے۔

سرکاری حکام نے ان پلیٹ فارمز کی بندش کی تصدیق نہیں کی، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ رسائی کے مسائل کا تعلق سکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج سے ہے۔

بی بی سی کے ایک صحافی نے اپنے بعض جاننے والوں کے ساتھ اس معاملے کی جانچ کی تو وہ بھی ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ آٹھ مرتبہ کوشش کرنے پر صرف ایک موقع پر ٹِک ٹاک تک رسائی ممکن ہوئی۔

بعض صارفین نے یوٹیوب کی رفتار سست ہونے، جی میل اکاؤنٹس میں لاگ اِن کے مسائل اور مجموعی طور پر انٹرنیٹ میں رکاوٹوں کی بھی شکایت کی ہے۔

سرکاری حکام نے تاحال اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی اور نہ ہی ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بندش کی تصدیق کی ہے۔

انسٹاگرام پر ’جمہوریہ آذربائیجان‘ ہیش ٹیگ تلاش کرنے پر حجاب کا موضوع سب سے اوپر نظر آتا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس مسئلے پر شدید تقسیم دکھائی دیتی ہے۔

جمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علییف اور ان کی اہلیہ مہربان علییوا، 7 اپریل 2015 کو سعودی عرب کے شہر مکہ میں عمرہ کی ادائیگی کے دوران۔
،تصویر کا کیپشنجمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علییف اور ان کی اہلیہ مہربان علییوا، 7 اپریل 2015 کو سعودی عرب کے شہر مکہ میں عمرہ کی ادائیگی کے دوران۔
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بعض صارفین نے مذہبی آزادی اور حجاب پہننے کے حق کی حمایت کی ہے جبکہ بعض دیگر کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ بیرونی اثرورسوخ سے جڑا ہوا ہے اور آذربائیجان کے سیکولر تشخص کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

زیادہ تر صارفین نے اس پابندی پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ بعض سکولوں میں حجاب پہننے والی طالبات کو سکول میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے مطالبے کے لیے بھی احتجاج کیا گیا ہے۔ ان مظاہروں میں بغیر حجاب والی لڑکیاں اور لڑکے بھی شریک تھے۔

ایک ویڈیو میں ایک لڑکی کلاسوں کی کھڑکیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کیمرے سے مخاطب ہو کر کہتی ہے کہ ’آپ کے دوست سڑکوں پر ہیں اور آپ اب بھی خاموش ہیں۔‘

ایک اور ویڈیو میں طلبہ ’حجاب تعلیم حاصل کرنے میں رکاوٹ نہیں‘ کا نعرہ لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ آذربائیجان ایک سیکولر ملک ہے، تاہم اس کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی مسلمان ہے۔

صدر علییف کی اہلیہ بھی جب سرکاری اور مذہبی تقاریب کے تقاضے ہوں تو حجاب اوڑھتی ہیں۔

21 ستمبر کو آذربائیجان کی کابینہ کی جانب سے منظور قرارداد میں براہِ راست حجاب کا ذکر نہیں۔ اس میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ طلبہ اور اساتذہ کا لباس تعلیم کے سیکولر اصول سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

نہ کابینہ اور نہ ہی آذربائیجان کی وزارتِ تعلیم نے اس فیصلے کی وجوہات بیان کی ہیں اور ان میں سے کسی ادارے نے بھی بی بی سی کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

آذربائیجان کی وزارتِ ڈیجیٹل ڈویلپمنٹ کے پریس آفس نے بھی ہماری رابطے کی کوششوں کا جواب نہیں دیا۔

سرکاری حکام نے اعلان کیا کہ 37 افراد کو اس قرارداد کے نفاذ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ ’افراد کے ایک گروہ‘ نے دارالحکومت میں سکولوں میں یکساں یونیفارم سے متعلق ضوابط کے نفاذ کے سلسلے میں ’تعلیمی شعبے کے کارکنوں کے لیے کشیدہ صورتِ حال پیدا کی‘، سرکاری تعلیمی مراکز کو نقصان پہنچایا، عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالا اور ٹریفک اور سکولوں کی سرگرمیوں کو متاثر کیا۔

باکو کے ایک سکول میں بی بی سی کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ہائی سکول کے لڑکوں کو بھی داڑھی منڈوانے کے لیے کہا گیا ہے، حالانکہ قرارداد میں ایسی کوئی شرط شامل نہیں۔

ماضی میں سکولوں میں حجاب پر پابندی کی مثال

اس سے قبل 2011 میں بھی جمہوریہ آذربائیجان کے سکولوں میں حجاب پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

اس وقت یہ پابندی وزارتِ تعلیم کی ہدایت کے ذریعے نافذ کی گئی تھی اور اس کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاج ہوئے تھے۔

سب سے بڑے مظاہرے نارداران میں ہوئے تھے، جو ایک ایسا قصبہ ہے جو اپنی مضبوط اسلامی روایات کے لیے جانا جاتا ہے اور باکو میں وزارتِ تعلیم کی عمارت کے سامنے بھی احتجاج ہوا تھا۔

اس وقت پولیس نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کی تھی اور گرفتار ہونے والوں میں سے بعض کو قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ آذربائیجان کے حکام کئی برسوں سے سیاسی اسلام کے خلاف مسلسل کارروائی کر رہے ہیں، یعنی ایسے افراد کے خلاف جو سیاسی جماعتوں اور شہری تنظیموں کے ذریعے ملکی سیاست پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ فار پیس اینڈ ڈیموکریسی کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں سیاسی قیدیوں کا ایک بڑا حصہ مذہبی گروہوں کے ارکان پر مشتمل ہے۔

اسلام کے حوالے سے یہی رویہ حالیہ عرصے میں ترکی اور جمہوریہ آذربائیجان کے درمیان تناؤ کا ایک سبب بھی بنا ہے۔ ترکی میں مذہب کا کردار نسبتاً نمایاں ہے جبکہ جمہوریہ آذربائیجان کو ’ایک سیکولر آمرانہ حکومت‘ قرار دیا جاتا ہے۔

جمہوریہ آذربائیجان کے 90 فیصد سے زیادہ باشندے مسلمان ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجمہوریہ آذربائیجان کے 90 فیصد سے زیادہ باشندے مسلمان ہیں۔

حکومت کے ناقد اور صحافی افغان مختارلی لکھتے ہیں کہ ’حجاب کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتا، لیکن [صدر الہام] علییف کو اپنی طاقت مضبوط کرنے کے لیے ایک انتہا پسند اسلام کی تصویر درکار ہے۔ ایران اورترکی کے بارے میں جو باتیں کہی جا رہی ہیں، وہ محض کہانیاں ہیں۔‘

افغان مختارلی کا خیال ہے کہ حکام مذہب کا استعمال مذہبی افراد پر دباؤ برقرار رکھنے کے جواز کے طور پر کر رہے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بندش حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج کو پھیلنے سے روکنے کی حکومتی کوشش ہے۔

دوسری جانب حکومت کے حامی اس قرارداد کی منظوری کے بعد سے یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ یہ پابندی جمہوریہ آذربائیجان کی قومی خودمختاری کو مضبوط کرنے کے عمل کا حصہ ہے، جو خود کو دیگر ممالک کے بیرونی اثر و رسوخ سے آزاد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ افراد براہِ راست آذربائیجان کے زیادہ مذہبی ہمسایہ ممالک، ایران اور ترکی، کا نام نہیں لیتے، تاہم بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ جب الہام علییف نے حال ہی میں بیرونی نظریاتی مداخلت کا مقابلہ کرنے اور آذربائیجان کو کسی سرپرست یا محافظ کی ضرورت نہ ہونے کی بات کی تو ان کا اشارہ دراصل ترکی کی جانب تھا۔

سرکاری ٹی وی چینل ایز ٹی وی نے خبردار کیا ہے کہ بیرونی نظریاتی اثرورسوخ، خصوصاً نوجوانوں کو ہدف بنانے والا آن لائن مواد، آذربائیجان کے لیے ایک سکیورٹی مسئلہ ہے۔

چینل کے مطابق بعض بیرونی عناصر مذہب کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے آذربائیجان کے سیکولر ریاستی ماڈل کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایز ٹی وی کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کا مقصد قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا، ملک کو بیرونی اثرورسوخ کے تحت لانا اور اس کی آزاد پالیسی کا رخ موڑنا ہے۔

ایز ٹی وی نے بعض ممالک کا نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ وہ آذربائیجان کے اندر ایسے گروہوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، جو حکومت کو اسلام اور حجاب مخالف ثابت کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔

چینل نے کہا کہ حکام ’عرب اور فارسی اقدار‘ درآمد کرنے اور مذہبی تعلیم کے ذریعے آذربائیجانی بچوں پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کریں گے۔

ادھر شہری تنظیم ’تعلیمی کونسل‘ نے کہا ہے کہ ’حجاب کے مسئلے کا سیاسی استعمال‘ ملک کے ’استحکام، برداشت کے ماحول اور قومی و روحانی اقدار‘ کے لیے نقصان دہ ہے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار فرہاد ممدوف نے بھی اسی نوعیت کا مؤقف اختیار کیا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’مذہبی اقدار کا غلط استعمال قابلِ قبول نہیں، کیونکہ ہمارے بچے بیرونی مذہبی اثر و رسوخ کا ذریعہ بن سکتے ہیں جو کہ نہیں ہونا چاہیے۔ ایسا اثر و رسوخ موجود ہے اور یہ منظم انداز میں ہو رہا ہے۔‘

ایران کا براہِ راست نام لیے بغیر انھوں نے کئی بار پڑوسی ملک کو اس مذہبی اثر و رسوخ کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

حکومت کے حامی ماہرین، ارکانِ پارلیمان اور تعلیمی شخصیات کا کہنا ہے کہ یکساں سکول یونیفارم طلبہ کے درمیان نمایاں معاشی تفاوت کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے اور تعلیم کے سیکولر کردار کو برقرار رکھتی ہے۔ ان کے مطابق بچوں کو اپنی خودمختار فکری تشکیل سے پہلے مذہبی لباس اپنانے کی ترغیب نہیں دی جانی چاہیے، البتہ مذہبی عقائد کا احترام ضروری ہے۔