سہیل آفریدی کے انتخابی حلقے ’باڑہ‘ میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد ایف سی تعینات: ’یہاں کرفیو جیسی صورتحال ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, اسلام گل آفریدی اور عزیز اللہ خان
- عہدہ, پشاور
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں گذشتہ روز (13 اکتوبر) ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے بعد آج (بدھ) بھی بازار بند رہے جبکہ اس علاقے میں پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات ہے۔
پشاور پولیس کے مطابق گذشتہ روز تحریک انصاف کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 21 افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ 62 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ باڑہ، خیبر پختونخوا کے حال ہی میں غیرفعال کیے گئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا حلقہ انتخاب بھی ہے۔
مقامی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز کے واقعات کے بعد انھیں یہ احکامات ملے ہیں کہ ناصرف باڑہ بازار بند بلکہ علاقے کے داخلی راستوں پر لوگوں کی آمد و رفت کو بھی محدود کیا جائے جس کے بعد اب پشاور سے باڑہ آنے والی سڑک پر واقع ’سیکرٹری پُل‘ پر کنٹینر اس انداز میں لگائے گئے ہیں کہ یہاں سے صرف چھوٹی گاڑیاں محدود انداز میں گزر سکتی ہیں۔
پشاور اور باڑہ کے درمیان یہ سڑک حیات آباد انڈسٹری سٹیٹ میں قائم کارخانوں کے لیے خام مال اور تیار مال لانے اور لے جانے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔
باڑہ میں واقع ٹائپ ڈی ڈوگرہ ہسپتال کے مطابق گذشتہ روز پُرتشدد مظاہروں کے دوران یہاں کم از کم پانچ زخمی افراد کو لایا گیا، جنھیں گولیوں کے زخم آئے تھے۔
اِن پرتشدد مظاہروں کے بعد سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے باڑہ کا دورہ کیا، جس کے دوران انھوں نے لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اگر کسی نے حالات خراب کرنے کی کوشش کی تو ایسے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ گذشتہ روز کے واقعات میں 11 افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ 10 پولیس اہلکاروں کو بھی معمولی زخم آئے۔
انھوں نے احتجاجی مظاہروں کے دوران 62 افراد کو حراست میں لیے جانے کی بھی تصدیق کی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یاد رہے کہ منگل کو ہونے والے مظاہروں نے دوران باڑہ میں نادرا کے ایک دفتر میں بھی توڑ پھوڑ کے بعد اسے نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی۔
بدھ کو جب میڈیا کو دفتر میں رسائی دی گئی تو عملے نے واقعے کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات دینے سے گریز کیا۔ تاہم اُن کے بقول دفتر میں کمپیوٹرز کی توڑ پھوڑ اور بجلی کا نظام کو نقصان پہنچایا گیا ہے جس کے باعث سروسز غیر معینہ مدت کے لیے معطل رہیں گی۔
دفتر میں داخلے پر نادرا موبائل وین اور موٹر سائیکل کے جلے ہوئے ڈھانچے پڑے دکھائی دیے جبکہ جگہ جگہ دوستایزات کی کاپیاں زمین پر بکھری ہوئی نظر آئیں۔
دوسری جانب ریسکو 1122 کے دفتر کو بھی کس حد تک نقصان پہنچا۔ باڑہ میں ریسکیو 1122 کے انچارج وکیل شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’کل چار بجے کے قریب مظاہرین کمپاؤنڈ کے اُس دورازے کو توڑ کر عمارت میں داخل ہوئے، جس کو معمول کے مطابق استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بڑی تعداد میں مظاہرین نے پہلے ریسکیو آفس اور پھر نادرا کے دفتر پر پتھراؤ کیا، جس کے بعد نادرا کے دفتر کو آگ لگائی گئی۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’منگل کو احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے تین عام شہری اور ایک زخمی پولیس اہلکار کو 1122 سروس نے ریسیکو کر کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا جبکہ 25 کے قریب معمولی زخمیوں کو طبی مدد فراہم کی گئی۔‘
اُن کے بقول مظاہرین کے طرف سے پتھراؤ کے سبب امدادی کارروائیوں میں مشکلات سامنے آئیں۔
ایک مقامی شخص نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ باڑہ میں کرفیو جیسی صورتحال ہے اور سڑکوں پر ٹریفک بھی بہت کم ہے۔
باڑہ میں اب پولیس کے ساتھ ایف سی کے دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ پُرتشدد سرگرمیوں کا ان کے کارکنان سے کوئی تعلق نہیں۔ پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کی جماعت کا احتجاج ہمیشہ پُرامن ہوتا ہے اور منگل کو پیش آئے پُرتشدد واقعات میں ’پلانٹڈ‘ لوگ ملوث ہیں۔
علاقے میں بندش کے سبب تاجروں اور مقامی لوگوں کو مشکلات

،تصویر کا ذریعہGetty Images
باڑہ میں مرکزی تجارتی مرکز کے بندش کے حوالے سے باڑہ تاجر یونین کے صدر سید ایاز وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پولیس یا ضلعی حکام کے جانب سے اُن کو پہلے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی اور غیر اعلانیہ بندش نہ صرف تاجر برادری بلکہ مقامی لوگوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ صوبے میں احتجاج کے سبب پہلے سے بازار میں اشیائے خورونوش کی کمی ہے اور اس اقدام سے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔ اُنھوں نے مطالبہ کیا کہ بازار کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس ناکے لگائے جائیں اور تاجروں کو تحفظ فراہم کرے۔
باڑہ میں ریسکیو 1122، نادرہ، ٹی ایم او، تحصیل سطح کی عدالتیں، ڈاکخانہ اور محکمہ بلدیات کے دفاتر قائم ہیں۔
باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر ہاشم آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آج پی ٹی آئی، ضلعی حکام اور پولیس کے درمیان مذاکرات کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
اُنھوں نے بتایا کہ ’رات کو پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ رابطے ہو چکے ہیں تاہم آج مشاورتی اجلاس کے بعد متعلقہ فریقین کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔‘
’احتجاج جاری رہے گا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پی ٹی آئی کے مقامی رہنما صہیب اللہ، جنھوں نے باڑہ میں پیر کے روز پہلے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی تھی، نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پی ٹی آئی کے جانب سے فی الحال احتجاج کو مؤخر کیا گیا ہے اور تمام کارکنوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ہمارے احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
باڑہ میں گذشتہ روز ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں جن میں سے ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ مظاہرین نے چند پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی پولیس اہلکار کو مظاہرین کے جانب سے یرغمال نہیں بنایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے جانب سے پیر کے روز باڑہ میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے، تاہم پہلے دن جماعت کا کوئی اہم رہنما اس احتجاج میں موجود نہیں تھا۔
تاہم منگل کی سہ پہر رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی باڑہ بائی پاس روڈ پر اُس مقام تک موٹر سائیکل پر سوار ہو کر پہنچے، جہاں پہلے سے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
اُنھوں نے خطاب میں کارکنوں کو گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف پر امن احتجاج جاری رکھنے کی ہدایت کی اور مرکزی حکومت کے اس اقدام کو مسترد کیا۔
اپر باڑہ کے رہائشی 25 سالہ قیمت خان منگل کو ہونے والے پرتشدد واقعات میں گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے، باڑہ ہسپتال کی جانب سے جاری کردہ زخمیوں کی فہرست میں بھی اُن کا نام موجود ہے اور ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ انھیں گولی لگنے کا زخم ہے۔
اُن کے ایک کزن عثمان، جو خود بھی احتجاجی مظاہرے میں موجود تھے، نے دعویٰ کیا کہ وہ بائی پاس روڈ پر پرامن احتجاج کے لیے دیگر ساتھیوں کے ساتھ موجود تھے، تاہم جیسے ہی شرکا باڑہ بازار کے طرف روانہ ہوئے تو پولیس کے جانب سے آنسو گیس کے شیلنگ کی گئی اور پھر ہوائی فائرنگ۔
اُنھوں نے بتایا کہ ’اس دوران میرے کزن قیمت خان کو گلے میں گولی لگی۔ پہلے انھیں قریب واقع تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈوگرہ منتقل کیا گیا، جہاں سے انھیں مزید علاج کے لیے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ آج قیمت خان کا آپریشن ہوا ہے اور ان کی حالت پہلے سے کافی بہتر ہے۔
پی ٹی آئی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسنفزئی نے بی بی سی کو بتایا ان کے علاقے شانگلہ میں بھی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری ہے اور ’اس طرح کی کارروائیوں سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو گا اور ملک میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوکی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جو مذاکرات جاری تھے، انھیں وہیں سے دوبارہ شروع کیا جائے اور ’دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑا جائے۔‘




















