لائیو, حوثیوں کا سعودی ٹائفون جنگی طیارہ نشانہ بنانے کا دعویٰ، ریاض ایئرپورٹ اور سعودی فوجی اہداف پر مزید حملوں کا اعلان

حوثی گروپ انصار اللہ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے جمعرات کی نصف شب کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ گروپ نے صوبہ صعدہ کی فضائی حدود میں سعودی فضائیہ کے ایک ٹائفون جنگی طیارے کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اسے ’براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے اور امکان ہے کہ یہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔‘

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ایران اور امریکہ کو چند ہفتوں میں آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل پر اتفاق کرنا ہوگا: اقوام متحدہ

    آبنائے ہرمز

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل کے لیے کسی معاہدے تک نہیں پہنچتے تو ایشیا اور افریقہ کے بعض حصوں میں غذائی تحفظ کی صورتحال سنگین بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

    حالیہ جنگ شروع ہونے کے بعد اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز سے کھاد کی نقل و حمل کو آسان بنانے کے لیے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا تھا۔

    اگرچہ اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا طریقۂ کار تاحال نافذ نہیں ہو سکا، تاہم اقوام متحدہ کے نائب سیکریٹری جنرل خورخے موریرا دا سلوا نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اتفاق رائے ہونے کے بعد یہ نظام 7 سے 10 روز میں فعال کیا جا سکتا ہے۔

    انھوں نے بینکاک میں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر، روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آئندہ چند ہفتوں میں معاہدے تک پہنچنا انتہائی ضروری ہے، ورنہ ہم کاشت کے موسم سے محروم ہو جائیں گے۔‘

    روئٹرز کے سوالات کے جواب میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ہزاروں تجارتی جہازوں کی مدد کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو متاثر کرنے اور عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی ایرانی کوششوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات جاری رکھے گا۔‘

    وائٹ ہاؤس اور بینکاک میں ایرانی سفارت خانے نے روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

    واضح رہے کہ کل عالمی یومِ خوراک منایا جائے گا۔

  2. قانونی اسناد پر سوالات کے بعد وائٹ ہاؤس کا نئی پریس سیکریٹری کیٹی زکرایا کا دفاع

    وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکریٹری کیٹی زکرایا

    وائٹ ہاؤس اپنی نئی پریس سیکریٹری کیٹی زکرایا کا دفاع کر رہا ہے، کیونکہ انھیں اپنی قانونی اسناد کے حوالے سے سوالات کا سامنا ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے ان کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے زکرایا کو ایک اٹارنی قرار دیا تھا، جبکہ زکرایا خود بھی اپنے لیے وکیل کا لفظ استعمال کرتی رہی ہیں۔

    تاہم منگل کو جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ انھوں نے امریکہ میں وکیل بننے کے لیے درکار بار امتحان کس ریاست میں پاس کیا تھا، تو صدر کے ہمراہ کھڑے ہو کر انھوں نے جواب دیا: ’جب میں چین منتقل ہوئی تھی۔‘

    ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ زکرایا جس کسی ریاست میں بھی رہی ہیں، وہاں کی کسی بار ایسوسی ایشن میں ان کی رجسٹریشن موجود ہو۔ وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے کہا کہ زکرایا ’امریکی عوام کو معلومات فراہم کرنے کے لیے غیرمعمولی طور پر اہل اور انتہائی ذہین ہیں۔‘

    اپنی اسناد سے متعلق سوالات کے جواب میں زکرایا نے اس ہفتے ایک بیان میں کہا ’میں نے بین الاقوامی لین دین کے قانون کی پریکٹس کی ہے، اور اس کے لیے تمام مناسب اسناد رکھتی ہوں۔‘

    بدھ کے روز نگرانی کرنے والے ایک گروپ ’کیمپین فار اکاؤنٹیبلٹی‘ نے کیلیفورنیا سٹیٹ بار ایسوسی ایشن میں ایک شکایت دائر کی۔

    گروپ نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کہ آیا زکرایا نے ’بار بار خود کو عوام کے سامنے قانون کی پریکٹس کرنے کی اہل شخصیت کے طور پر پیش کیا، حالانکہ ان کے پاس اس کا لائسنس نہیں تھا، جو کیلیفورنیا کے قانون کے تحت جرم تصور کیا جاتا ہے۔‘

    42 سالہ سیاسی حکمت عملی ساز نے 2011 میں کیلیفورنیا کی پیپرڈائن یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی، جس کی یونیورسٹی نے تصدیق کی ہے۔

    امریکہ میں قانون کی ڈگری حاصل کرنا، قانون کی پریکٹس کرنے کا لائسنس نہیں ہوتا۔

    وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکریٹری نے بدھ کو نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ جب انھوں نے پہلی بار کیبل نیوز چینلز پر آنا شروع کیا تو انھوں نے پیپرڈائن یونیورسٹی سے پوچھا تھا کہ انھیں اپنی شناخت کس طرح کرانی چاہیے۔

    ان کے مطابق یونیورسٹی کے صدر نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ خود کو ’وکیل‘ کہہ سکتی ہیں، لیکن ’اٹارنی‘ نہیں۔

    وال سٹریٹ جرنل کے مطابق زکریا نے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کیلیفورنیا میں بار امتحان دیا تھا، لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔ کیلیفورنیا کا بار امتحان امریکہ کے مشکل ترین امتحانات میں شمار کیا جاتا ہے۔

    اس معاملے سے براہِ راست واقف ایک شخص نے اخبار کو بتایا کہ زکریا نے یہ امتحان اسی دوران دیا تھا جب وہ اپنی شادی کی تیاری کر رہی تھیں اور اپنے ہونے والے شوہر کے ساتھ چین منتقل ہونے کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔

    وہ بیجنگ اپنے شوہر کی ایک امریکی پرائیویٹ ایکویٹی فرم میں ملازمت کے باعث منتقل ہوئی تھیں۔ زکرایا کا کہنا ہے کہ انھوں نے وہاں ’بین الاقوامی لین دین کے قانون‘ کے شعبے میں کام کیا۔

    ان کے لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق، انھوں نے 2011 سے 2013 تک بیجنگ میں ژونگ لون لاء فرم میں بطور ایسوسی ایٹ کام کیا۔

    چین میں صرف چینی شہری ہی قانون کی پریکٹس کا لائسنس حاصل کر سکتے ہیں۔ غیر ملکی ملازمین لا فرموں میں دیگر عہدوں پر کام کر سکتے ہیں۔

    گذشتہ سال فروری میں زکریا نے قدامت پسند ریڈیو پروگرام ’دی کلے ٹریوس اینڈ بک سیکسٹن شو‘ میں کہا تھا کہ چین میں قیام کے دوران وہ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) اور ورلڈ بینک کے لیے بطور بیرونی قانونی مشیر کام کرتی رہی ہیں۔

    بی بی سی نے اس بارے میں تبصرے کے لیے ورلڈ بینک اور آئی ایف سی سے رابطہ کیا ہے۔

    یہ سمجھا جاتا ہے کہ ورلڈ بینک گروپ بعض اوقات بیرونی لاء فرموں کی خدمات حاصل کرتا ہے، اور یہ فرمیں خود فیصلہ کرتی ہیں کہ اپنے وکلا کو مختلف کاموں پر کس طرح تعینات کرنا ہے۔

    اپنے لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق زکرایا، ٹرمپ کے قریبی ساتھی رِک گرینیل کی قائم کردہ قدامت پسند غیر منافع بخش تنظیم ’فکس کیلیفورنیا‘ میں بھی جنرل کونسل کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔

  3. امریکی فوج کا خلیج عمان میں ایرانی حمایت یافتہ کشتی تباہ کرنے کا دعویٰ

    خلیج عمان میں ایک ایرانی حمایت یافتہ روایتی کشتی

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے 6 اکتوبر کو خلیج عمان میں ایک ایرانی حمایت یافتہ روایتی کشتی (دھو) کو تباہ کیا جو امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کی نگرانی اور انھیں نشانہ بنانے کی سرگرمیوں میں ملوث تھی۔

    ایکس پر جاری ایک ویڈیو کے ساتھ بیان میں سینٹ کام کا کہنا تھا کہ مذکورہ کشتی ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ تھی اور امریکی بحری جہازوں کے خلاف انٹیلی جنس اور ہدفی معلومات فراہم کر رہی تھی۔

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ گذشتہ سات ماہ کے دوران ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خطے کے سمندری راستوں سے گزرنے والے ہزاروں تجارتی جہازوں کے عملے اور امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کو بلاامتیاز نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ کشتی کو تباہ کرنے سے قبل اس میں سوار تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا، جبکہ عملے کے ارکان کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

    امریکی فوج نے اس کارروائی کو خطے میں بحری سلامتی کے تحفظ اور امریکی مفادات کے دفاع کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔

  4. سعودی عرب میں حوثی حملوں کے باعث اہم بین الاقوامی تقریبات منسوخ یا مؤخر

    حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے بڑے ہوائی اڈوں پر جاری حملوں کے باعث اہم بین الاقوامی تقریبات ایک کے بعد ایک یا تو منسوخ کی جا رہی ہیں، مؤخر ہو رہی ہیں یا پھر انھیں آن لائن منتقل کیا جا رہا ہے۔

    ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ سنیچر تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    • سعودی پرو لیگ میں الاہلی اور النصر (کرسٹیانو رونالڈو کی ٹیم) کے درمیان جمعرات کو ہونے والا میچ ملتوی کر دیا گیا ہے۔
    • آئندہ ہفتے ہونے والا سکس کنگز ٹینس ٹورنامنٹ، جس میں نوواک جوکووچ اور کارلوس الکاراز شریک ہونے والے تھے، دسمبر تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔
    • سعودی عرب کی سالانہ سرمایہ کاری کانفرنس، جسے ’صحرائی ڈیووس‘ کہا جاتا ہے، تقریباً دو ہفتے بعد ہائبرڈ انداز میں منعقد ہوگی۔ توقع ہے کہ کئی نمایاں مہمان آن لائن شرکت کریں گے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شرکا کی آمد کے لیے متبادل زمینی اور بحری راستوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
    • ورلڈ پیٹرولیم کانگریس بھی، جو جمعرات کو اختتام پذیر ہو رہی ہے، تیل کی صنعت کے اعلیٰ ترین رہنماؤں کی شرکت کے بغیر منعقد کی گئی۔

    سعودی عرب میں سخت سکیورٹی برقرار ہے، جبکہ یمن کے حوثیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک بار پھر ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔

  5. حوثیوں کا سعودی ٹائفون جنگی طیارہ نشانہ بنانے کا دعویٰ، ریاض ایئرپورٹ اور سعودی فوجی اہداف پر مزید حملوں کا اعلان

    جہاز

    حوثی گروپ انصار اللہ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے جمعرات کی نصف شب کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ گروپ نے صوبہ صعدہ کی فضائی حدود میں سعودی فضائیہ کے ایک ٹائفون جنگی طیارے کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اسے ’براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے اور امکان ہے کہ یہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔‘

    دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے صنعا پر سعودی حملوں کی اطلاعات بھی دی ہیں۔

    یحییٰ سریع نے یہ بھی کہا کہ حوثیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایک بار پھر بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ حملہ ’درست اور براہِ راست‘ تھا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ گروپ نے رأس العارہ اور المضاربہ کے علاقوں میں سعودی افواج کے اجتماعات پر بھی تین بیلسٹک میزائل داغے، جن کے نتیجے میں ان کے بقول جانی نقصان ہوا اور متعدد فوجی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

    ادھر سعودی سول ڈیفنس کے سرکاری ترجمان نے بدھ کے روز بتایا کہ ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل کے ملبے کے گرنے سے ایک مقامی شہری زخمی ہو گیا۔ ان کے مطابق میزائل کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا تھا۔

    سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے داغے گئے میزائل کو تباہ کرنے کی کارروائی کے دوران ایک مکان اور ایک گاڑی کو بھی معمولی نقصان پہنچا۔

    حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے صنعا، تعز، لحج، مأرب، عمران اور جزیرہ میون میں 42 فضائی اور میزائل حملے کیے، جن میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ گروپ کے مطابق حالیہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک سعودی عرب کی جانب سے 2,323 حملے کیے جا چکے ہیں۔

    حوثیوں نے خبردار کیا کہ جزیرہ میون پر فضائی اور میزائل حملے بحری جہاز رانی کے راستوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور اس کے ممکنہ نتائج کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد ہوگی۔

    دوسری جانب بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’آپریشن فجر یمن‘ کے آغاز سے اب تک حوثیوں کے خلاف 2,309 کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 1,250 حوثی جنگجوؤں کو میدانِ جنگ سے ہٹا دیا گیا جبکہ 460 سے زائد فوجی گاڑیاں اور عسکری سازوسامان تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔

    اس سے قبل سعودی حکام نے بتایا تھا کہ ریاض کے اوپر تباہ کیے گئے دو میزائلوں کے ملبے سے دو خواتین، ایک مرد اور ایک بچہ زخمی ہوئے جبکہ دارالحکومت میں 15 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔

    سعودی وزارتِ توانائی کے ایک عہدیدار کے مطابق مشرقی شہر ظہران میں سعودی آرامکو کی ایک انتظامی عمارت پر حملے کے نتیجے میں محدود نوعیت کی آگ بھڑک اٹھی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    تاہم روئٹرز نے معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ آرامکو کے ہیڈکوارٹر کو منگل کے حملے میں نمایاں نقصان پہنچا اور آگ عمارت کی کئی منزلوں تک پھیل گئی۔ ذرائع کے مطابق کمپنی کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں جبکہ کچھ عملہ گھروں سے کام کر رہا ہے اور بعض ذمہ داریاں دنیا بھر میں کمپنی کے دیگر دفاتر کو منتقل کر دی گئی ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی کمپنی کے ملازمین کے حوالے سے کہا کہ ہیڈکوارٹر کے ایک ٹاور کو نقصان پہنچا، تاہم ادارہ نقصان کی نوعیت اور حجم کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

  6. امریکہ نے وعدہ توڑا ہے، اسے سزا ملنی چاہیے: باقر قالیباف

    IRNA
    ،تصویر کا کیپشنایران کی پارلیمان کے سپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف

    ایران کی پارلیمان کے سپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ کو ’وعدہ خلافی‘ پر ’سزا‘ ملنی چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ امریکہ کے سامنے پیش کی گئی تجویز کے حوالے سے ایران پہلے بھی کہہ چکا ہے اور اب دوبارہ کہتا ہے کہ امریکی صدر نے کچھ وعدے کیے تھے، لیکن اب ان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وعدہ توڑ دیا ہے۔

    قالیباف کے بقول، امریکہ کو سزا ملنی چاہیے، اسے اپنا رویہ بدلنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ اسے ایرانی عوام کے جائز مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔

    انھوں نے اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں کہا کہ اس طرح ایران پائیدار دفاعی بازدارندگی حاصل کر سکے گا۔ ان کے مطابق ایران کو اپنی طاقت خطے اور دنیا کے تمام فریقوں کے سامنے ثابت کرنا ہوگی تاکہ کوئی بھی اس پر حملہ کرنے کی جرات نہ کرے۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ نے محمد باقر قالیباف کے ان بیانات کو ’عوام کے ساتھ دوسرا ویڈیو انٹرویو‘ قرار دیتے ہوئے شائع کیا۔

    قالیباف نے کہا کہ ایران کا مقصد اپنی طاقت میں اضافہ کرتے ہوئے بازدارندگی پیدا کرنا ہے۔

  7. بریکنگ, حوثیوں کا ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دوبارہ حملے کا دعویٰ

    یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے بیلسٹک میزائل کی مدد سے ایک مرتبہ پھر ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا ہے۔

    یہ بیان سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے ایک میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔

    حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر لکھا کہ ’یمنی مسلح افواج شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئیں اور ’نشانہ درست تھا۔‘

  8. ایرانی وزیر خارجہ کی لبنانی صدر سے گفتگو، اسرائیلی حملے روکنے پر زور

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان کے صدر جوزف عون سے علاقائی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے لبنان پر اسرائیلی حملے روکنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان بدھ کو ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی، جس میں لبنان اور خطے کی مجموعی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    گفتگو کے دوران عباس عراقچی نے لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں اور جارحیت پر ایران کی خصوصی تشویش کا اظہار کیا اور جنوبی لبنان میں جارحیت اور قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

    انھوں نے لبنانی صدر کو حالیہ دنوں اور ہفتوں کے دوران ایران کی سفارتی کوششوں اور اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

    دوسری جانب صدر جوزف عون نے علاقائی بحرانوں کے حل کے لیے سفارتی طریقوں کو ترجیح دینے اور ان کی ضرورت پر زور دیا۔

    دونوں رہنماؤں نے ایران اور لبنان کے دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے اور دونوں ممالک کے حکام کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

  9. ریاض اور الخرج میں خطرے کی وارننگ واپس لے لی گئی، سعودی عرب کا حوثی بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے بدھ کو ریاض شہر اور الخرج گورنریٹ کے لیے پہلے جاری کی گئی خطرے کی وارننگ واپس لے لی ہے۔

    محکمہ شہری دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ریاض شہر میں خطرہ ٹل گیا ہے۔‘ اس نے الخرج گورنریٹ کے لیے بھی اسی نوعیت کا اعلان کیا۔

    دوسری جانب یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بدھ کو سوشل میڈیا پر کہا کہ ریاض کو نشانہ بنانے کے لیے داغا گیا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔

  10. آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے پرچم بردار جہازوں پر حملے، ایک سمندر میں ڈوب گیا: انتظامیہ

    IRGC

    سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سنگاپور کے پرچم بردار دو مال بردار بحری جہازوں کو 13 اور 14 اکتوبر کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا۔

    ادارے کے مطابق، جہاز ’جی ایف ایس پرائیڈ‘ سے پروجیکٹائل ٹکرانے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور جہاز ڈوب گیا۔

    سنگاپور کا کہنا ہے کہ جہاز پر سوار عملے کے تمام 21 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

    اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے بھی کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ’خلاف ورزی کرنے والا کنٹینر بردار جہاز‘ بحری ’بارودی سرنگ‘ سے ٹکرا گیا جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اُٹی اور بعد ازاں وہ ڈوب گیا۔

    پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق یہ جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں ڈوبا۔ تاہم، بیان میں جہاز کے مالک ملک کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔

    سنگاپور کے مطابق، دوسرا جہاز ’جے ایف ایس جیزیل‘ بھی نشانہ بننے سے متاثر ہوا اور اس کے بیرونی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، تاہم وہ اپنے انجن کی مدد سے بحفاظت ایک محفوظ لنگرگاہ تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔

    اس جہاز پر سوار عملے کے تمام 22 ارکان محفوظ ہیں اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

    سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی نے بتایا کہ دونوں جہازوں پر سنگاپور کا کوئی شہری سوار نہیں تھا۔

    سنگاپور نے ان کارروائیوں کو ’بلااشتعال‘، ’ناقابلِ جواز‘ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

  11. قومی اسمبلی اور سینیٹ سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری، اپوزیشن کا احتجاج

    ،ویڈیو کیپشناس موقع پر اپوزیشن ارکان نے سخت احتجاج کیا اور ’گورنر راج نامنظور‘ کے نعرے لگائے۔

    پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے کثرتِ رائے سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔ اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے سخت احتجاج کیا اور ’گورنر راج نامنظور‘ کے نعرے لگائے۔

    قومی اسمبلی نے تقریباً چار گھنٹے کی بحث کے بعد ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد منظور کی، جبکہ سینیٹ نے بھی بعد ازاں اس کی توثیق کر دی۔

    قرارداد کے مطابق قومی اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل 232 کی شق کے تحت 11 اکتوبر 2026 کو صدرِ مملکت کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کے اعلان کی منظوری دی ہے۔

    پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد اب اس فیصلے کے آئینی اور عملی اثرات کیا ہوں گے؟ اس موقع پر حکومتی ارکان کا کیا کہنا تھا اور اپوزیشن نے کیا مؤقف اختیار کیا؟ جاننے کے لیے دیکھیے عمر دراز ننگیانہ اور نیّر عباس کی یہ ویڈیو۔

  12. آسٹریلوی بحریہ کے ایک جہاز کے کیبن سے خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ ڈیوائس برآمد

    Royal Australian Navy ship HMAS

    آسٹریلین ڈیفنس فورس نے تصدیق کی ہے کہ آسٹریلوی بحریہ کے ایک جہاز کے کیبن سے خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ ڈیوائس برآمد ہوئی ہے۔

    یہ آلہ اتوار کے روز آسٹریلیا کی ریاست کوئنزلینڈ کے شہر کیئرنز میں موجود رائل آسٹریلین نیوی کے جہاز ایچ ایم اے ایس لیووِن کے ایک کیبن میں پایا گیا۔

    آسٹریلین ڈیفنس فورس کی جانب سے یہ تصدیق آزاد سینیٹر جیکی لیمبی نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ بحریہ کے اہلکاروں نے ان سے رابطہ کر کے بتایا ہے ’خواتین ملاحوں کے شاورز میں حال ہی میں خفیہ کیمرے دریافت ہوئے ہیں۔‘

    آسٹریلوی محکمۂ دفاع نے یہ نہیں بتایا کہ آیا آلہ کسی ایسی جگہ سے ملا جو صرف خواتین کے لیے مخصوص تھی یا نہیں، تاہم اس کا کہنا ہے کہ معاملہ جوائنٹ ملٹری پولیس یونٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    بدھ کے روز سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے جیکی لیمبی کا کہنا تھا کہ ’مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ یہ واقعہ حال ہی میں پیش آیا اور تحقیقات جاری رہنے کے دوران جہاز کو روانہ ہونے سے روک دیا گیا۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک دعویٰ یہ ہے کہ کیمروں کے دریافت ہونے سے پہلے ان کی ریکارڈنگ ممکنہ طور پر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی جا چکی تھی۔‘

    ’ہماری کتنی خواتین ملاحوں کی نجی ترین لمحات میں ممکنہ طور پر خفیہ طور پر ریکارڈنگ کی گئی؟ اب تک کتنی ویڈیوز ان کی اطلاع یا رضامندی کے بغیر محفوظ، تقسیم یا آن لائن اپ لوڈ کی جا چکی ہیں؟ آج بحریہ سے میرے یہی سوالات ہیں۔‘

    بعد ازاں بدھ کے روز محکمۂ دفاع نے تصدیق کی کہ اسے ایچ ایم اے ایس لیووِن کے ایک کیبن میں ویڈیو ریکارڈنگ کا آلہ ملنے کی اطلاع ملی تھی، تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ آلہ جہاز کے کس حصے میں نصب تھا۔

    محکمے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ادارہ اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

  13. حوثیوں کی جانب سے داغے گئے میزائل کے ٹکڑے گرنے سے ریاض میں ایک شخص زخمی: سعودی سول ڈیفنس

    سعودی سول ڈیفینس

    سعودی عرب کے شہری دفاع کے ادارے کے مطابق دارالحکومت ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد اس کے ملبے کے ٹکڑے گرنے سے شخص زخمی جبکہ ایک رہائشی مکان اور ایک گاڑی کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

    سول ڈیفنس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بدھ کو ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل کے ٹکڑے گرنے کا واقعہ پیش آیا جس میں ایک عرب شہری زخمی ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ میزائل حوثی گروہ کی جانب سے داغا گیا تھا جسے فضائی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کر دیا۔

    اس سے قبل یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ ’حوثی گروہ کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کر دیا ہے۔‘

  14. آبنائے ہرمز میں دو تجارتی بحری جہازوں کو نامعلوم پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا ہے: برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے آبنائے ہرمز کا کہنا ہے کہ دو الگ الگ واقعات میں دو تجارتی بحری جہازوں کو نامعلوم نوعیت کے پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    تنظیم کے مطابق پہلا واقعہ منگل کے روز اس وقت پیش آیا جب آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک 50 ہزار ٹن وزنی کنٹینر جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔

    یو کے ایم ٹی او کی رپورٹ کے مطابق جہاز کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم کسی شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی اور جہاز اپنا سفر محفوظ طریقے سے جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ دوسرے واقعے میں ایک 19 ہزار ٹن وزنی کنٹینر جہاز کو آبنائے ہرمز سے نکلتے وقت ایک نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں بھی جہاز کو ’معمولی نقصان‘ پہنچا، تاہم عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا اور جہاز نے اپنا سفر جاری رکھا۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک کنٹینر بردار جہاز آبنائے ہرمز میں ایک بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر ڈوب گیا ہے۔

    تاہم برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات میں کسی جہاز کے ڈوبنے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

  15. قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دے دی

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد پارلیمان کے ایوانِ بالا سینیٹ نے بھی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔

    پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق سینیٹ میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کی قرارداد پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدی نے پیش کی جسے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔

    بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس جمعہ کی صبح 10:30 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

    اس سے قبل قومی اسمبلی نے تقریباً چار گھنٹے کی بحث کے بعد خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قراردار منظور کی تھی۔

  16. پاسداران انقلاب کا ’انتہائی جدید ہتھیار‘ حاصل کرنے کا دعویٰ: ’ایران کسی بھی جارحیت کا پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار ہے‘

    Iran IRGC

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران نے حالیہ جنگ کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہوئے ’انتہائی جدید ہتھیار‘ حاصل کر لیے ہیں۔

    پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین موہبی کا کہنا ہے کہ 40 روزہ جنگ کے دوران ایران نے زیادہ تر اپنے پرانی نسل کے ہتھیار استعمال کیے لیکن اس کے بعد سے اس نے کہیں زیادہ جدید ہتھیار حاصل کر لیے ہیں۔

    تاہم انھوں نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں یہ ’انتہائی جدید ہتھیاروں‘ کیا ہیں اور نہ یہ کہ وہ کیسے حاصل کیے گئے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر عہدیدار کا مزید کہنا ہے کہ ’ایران کسی بھی نئی جارحیت کا پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار ہے، اور اس بار امریکہ کے لیے اس کے نتائج کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوں گے۔‘

  17. مشتبہ منی لانڈرنگ روکنے میں ناکامی، بینک آف امریکہ پر 1.2 ارب ڈالر جرمانہ عائد

    Bank of America

    امریکی وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ مشتبہ منی لانڈرنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کا سراغ لگانے میں ناکامی پر بینک آف امریکہ پر 1.2 ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کے مطابق بینک نے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی مشتبہ مالی سرگرمیوں کی اطلاع حکومت کو نہیں دی، جن میں سے ایک ارب ڈالر کی سرگرمیاں کا تعلق قومی سلامتی اور غیر قانونی مالیاتی لین دین کا خطرہ لاحق تھا۔

    امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ان کوتاہیوں میں ایسے لین دین کی نشاندہی نہ کرنا بھی شامل تھا جن کا ممکنہ تعلق چینی منی لانڈرنگ نیٹ ورکس یا ایسی تجارتی بنیادوں پر منی لانڈرنگ سے ہو سکتا تھا جس کا نمایاں تعلق امریکہ کی جنوب مغربی سرحدی پٹی سے تھا۔

    بینک آف امریکہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ہماری ٹیم ان مسائل کے حل کے لیے درکار اقدامات نافذ کرنے کے عمل میں کافی آگے بڑھ چکی ہے اور ریگولیٹرز کی جانب سے اٹھائے گئے نکات سے نمٹنے کے لیے پُرعزم ہے۔

  18. قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دے دی

    National Assembly

    پاکستان کی قومی اسمبلی نے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے متعلق قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی ہے۔

    اس موقع پر حزبِ اختلاف کی جانب سے سے گورنر راج نا منظور کے نعرے لگائے گئے۔

    قومی اسمبلی سے منظور شدہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 232 کی شق کے تحت 11 اکتوبر 2026 کو صدر مملکت کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کے اعلان کو قومی اسمبلی منظور کرتی ہے۔

    قرارداد کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس 16 اکتوبر بروز جمعہ دن 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

  19. ایک کنٹینر بردار جہاز آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرا کر ڈوب گیا: پاسدارانِ انقلاب

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایک کنٹینر بردار جہاز آبنائے ہرمز میں ایک بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر ڈوب گیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق یہ جہاز ’آبنائے ہرمز کے غیر مجاز اور خطرناک راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا‘ کہ اسی دوران ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا۔

    بیان میں کہا گیا کہ جہاز پر ڈھائی ہزار سے زائد کنٹینرز لدے ہوئے تھے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق تصادم کے بعد جہاز میں ’شدید آگ بھڑک اٹھی‘ اور جہاز آج صبح آبنائے ہرمز کے جنوبی پانیوں میں ڈوب گیا۔

    آبنائے ہرمز میں سکیورٹی سے متعلق واقعات کی نگرانی کرنے والے دیگر اداروں کی جانب سے تاحال اس واقعے یا جہاز کے عملے کے ارکان کی ممکنہ ہلاکتوں کے بارے میں کوئی معلومات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

  20. حکومت کے پاس خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کے علاوہ کوئی چوائس نہیں رہی تھی: خواجہ آصف

    Khawaja Asif
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے وزیرِ دفاع اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ حالات بتاتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کے علاوہ حکومت کے پاس کوئی چوائس نہیں رہی تھی۔

    بدھ کے روز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خدا کے لیے اپنے مقدمے کی پیروی کرتے ہوئے ذرا ماضی میں دیکھا لیا کریں کہ آپ کے اپنے کرتوت کیا تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مسئلہ صرف دہشتگردی کا ہے۔ وزیرِ دفاع نے الزام لگایا کہ 14 ماہ کے اند 3900 ہلاکتیں ہوئی ہیں کیونکہ وزیرِ اعلیٰ کو اپنی سیاست کے متعلق زیادہ فکر لاحق تھی۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آج طالبان نے ایمرجنسی کی مذمت کی ہے اور خیبر پختونخوا میں فوج کی تعیناتی کی بھی مذمت کی ہے۔

    انھوں نے پی ٹی آئی سے سوال کیا کہ بتایا جائے کہ ان کا حلیف اور حریف کون ہے؟

    ’حریف پاکستان کی ریاست اور حلیف طالبان ہیں جن کے ہاتھ ہمارے بچوں کے کون سے رنگے ہوئے ہیں۔‘

    ’یہ ایک ایسی جنگ ہے جو اس ملک کو، قوم کو متحد ہو کر لڑنی پڑے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ حالات بتاتے ہیں کہ ایمرجنسی لگانے کے علاوہ حکومت کے پاس کوئی چوائس نہیں رہی تھی۔

    ’یہ آخری آپشن تھا جو ہمیں لینا پڑا۔‘