کیا اسرائیل نے ترکی اور آذربائیجان کے درمیان فاصلے پیدا کر دیے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محرم زینالوف
- عہدہ, بی بی سی روسی سروس
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
’دو ملک، ایک قوم۔‘
1990 کی دہائی سے یہ نعرہ آذربائیجان اور ترکی کے قریبی تعلقات کی علامت رہا ہے اور باکو میں بہت سے لوگ ترکی کو ایک سیاسی اور عسکری اتحادی سمجھتے تھے۔
آذربائیجان کے صدر الہام علیئف متعدد بار ناگورنو قرہباخ تنازعے میں ترکی کی حمایت پر اس کا شکریہ ادا کر چکے ہیں اور باکو کی سڑکوں پر ترکی کے پرچم بھی لہرائے جاتے رہے ہیں۔
تاہم غزہ پر اسرائیل کی جنگ نے ظاہر کیا ہے کہ باکو اور انقرہ کے مفادات کس حد تک مختلف ہو سکتے ہیں۔ ترکی کھل کر اسرائیل کی مخالفت کر رہا ہے، جو آذربائیجان کا ایک اور اتحادی ہے۔
اب علیئف کا کہنا ہے کہ کسی نے ان کی مدد نہیں کی تھی اور آذربائیجان نے اپنے تمام ہتھیار اپنی رقم سے خریدے تھے۔
علیئف نے یہ بات دو اکتوبر 2026 کو حکمران جماعت ’ینی آذربایجان‘ (نیو آذربائیجان پارٹی) کے ارکان سے ملاقات کے دوران کہی۔
آذربائیجان کی بیرونی امداد یا حمایت سے بے نیازی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے براہِ راست ترکی کا نام نہیں لیا، تاہم ان کے ان بیانات کے بعد آذربائیجان اور ترکی میں بہت سے لوگوں نے یہ سوال اٹھایا کہ آیا ان کا اشارہ ترکی کی جانب تھا۔
آذربائیجان کی پارلیمان کے رکن راسیم موسابیکوف نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا: ’جنگ کے دوران واقعی کسی نے ہماری مدد نہیں کی، تاہم آذربائیجان اور ترکی کے درمیان اتحادی نوعیت کے تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کوئی اختلاف موجود نہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس دوران آذربائیجان کے ذرائع ابلاغ نے گذشتہ چند روز کے دوران، ترکی کا براہِ راست ذکر کیے بغیر، یہ لکھا کہ آذربائیجان ایک خود مختار ملک ہے اور اسے کسی بھی بیرونی اثر و رسوخ کے تحت نہیں آنا چاہیے۔ ان ذرائع ابلاغ نے صدر کے خطاب کے بعض حصے نقل کیے اور ان کا تجزیہ بھی پیش کیا۔
آذربائیجان کے سیاسی تجزیہ کار فرہاد محمدوف نے لکھا: ’الہام علیئف نے توجہ نظریاتی سلامتی کے معاملے کی جانب مبذول کرائی ہے اور عملاً اسے جسمانی سلامتی کے برابر قرار دیا ہے۔‘
سنہ 2020 میں ناگورنو قرہباخ کی جنگ میں آذربائیجان کی کامیابی کے بعد باکو کی سڑکیں ترکی کے جھنڈوں سے بھر گئی تھیں۔ جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کے ایک روز بعد علیئف نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کو فون کیا اور سیاسی حمایت پر ترکی کا شکریہ ادا کیا۔
بعد ازاں انھوں نے کئی مواقع پر اس کا اعادہ کیا، تاہم انہوں نے کبھی بھی ’فوجی حمایت‘ کا ذکر نہیں کیا۔
جنگ کے بعد علیئف اور اردوغان نے فوجی اتحاد سے متعلق ایک اعلامیے پر دستخط کیے۔ تاہم اس سے پہلے بھی آذربائیجان اور ترکی کئی برسوں سے مشترکہ فوجی مشقیں کرتے آ رہے تھے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ آذربائیجان کی فوج کو بھی ترکی کے ماڈل کے مطابق جدید بنایا جا رہا ہے۔
44 روزہ جنگ میں آذربائیجان نے ترک ساختہ بیراکتر ڈرون استعمال کیے، جنھیں بعد میں خاصی شہرت ملی اور ان ڈرونز نے آرمینیا کے مقابلے میں آذربائیجان کو فضائی برتری دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ یہ کبھی نہیں کہا گیا کہ ترکی نے یہ ڈرون آذربائیجان کو تحفے میں دیے تھے، تاہم علیئف نے بھی اس بات پر زور نہیں دیا تھا کہ یہ ڈرون خریدے گئے تھے۔
جنگ کے بعد ان علاقوں میں، جو دوبارہ آذربائیجان کے کنٹرول میں آئے، بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو کا عمل شروع ہوا جس میں ترک کمپنیوں نے بھی حصہ لیا۔ آذربائیجان کے صحافیوں نے معلوم کیا کہ ان کمپنیوں میں سے ایک کا تعلق اردوغان کے ایک قریبی رشتہ دار سے تھا۔

،تصویر کا ذریعہUN
حسن سلیم اوزرتم، جو انقرہ میں مقیم سیاسی تجزیہ کار ہیں، کہتے ہیں: ’علیئف کے اس بیان کو، جس میں انھوں نے کہا کہ کسی نے آذربائیجان کی مدد نہیں کی، ترکی کے لیے ایک پیغام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق آذربائیجان کی قومی شناخت کا ایک اہم حصہ قرہباغ کی واپسی اور اس بیانیے پر قائم ہے کہ یہ کامیابی خود آذربائیجان کے عوام اور ریاست نے حاصل کی۔
فری لانس صحافی اور سیاسی تجزیہ کار کریل کریووشیف، جنھیں روسی حکام نے ’غیر ملکی ایجنٹس‘ کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے، کہتے ہیں: ’ترکی نے بنیادی طور پر تکنیکی اور پیشہ ورانہ نوعیت کی مدد فراہم کی۔ میری مراد انٹیلی جنس اور نگرانی سے متعلق معلومات، برسوں پر محیط فوجی تربیت، آذربائیجانی فوج کی استعداد میں اضافہ، دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا اور باقاعدگی سے مشترکہ فوجی مشقیں منعقد کرنا ہے۔ ترکی کی مدد زیادہ تر انہی شعبوں تک محدود تھی۔‘
اس جنگ میں آذربائیجان نے اسرائیلی ساختہ ہاروپ ڈرون بھی استعمال کیے تھے۔ 10 نومبر 2020 کو روس کی ثالثی میں آرمینیا کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے بعد باکو کی سڑکوں پر اسرائیلی پرچم بھی دکھائی دیے تھے۔
کیا اسرائیل نے اتحادیوں کے درمیان دراڑ ڈال دی ہے؟
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آذربائیجان اور ترکی کے درمیان اختلافات اُس وقت نمایاں ہوئے جب اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس سے خطاب کیا اور ان بارودی پیجرز کا ذکر کیا جو اسرائیل نے لبنان کی حزب اللہ کے خلاف استعمال کیے تھے۔
اسی دوران کئی ممالک کے نمائندے احتجاجاً اجلاس گاہ سے باہر چلے گئے تھے جبکہ اقوام متحدہ کی عمارت کے باہر بھی نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے۔
اجلاس کے ہال میں خالی نشستوں کے درمیان بیٹھے رہنے والے آذربائیجان کے نمائندے کی تصاویر تیزی سے سوشل میڈیا پر پھیل گئیں۔ ترکی کے نمائندے کے برعکس آذربائیجان کے نمائندے کا ہال میں موجود رہنا ترک ذرائع ابلاغ کو پسند نہیں آیا۔ ان کا خیال تھا کہ باکو نے ایک اتحادی ملک کے شایانِ شان رویہ اختیار نہیں کیا۔
آذربائیجان کے ترکی اور اسرائیل دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ وہ دونوں ممالک کو تیل فروخت کرتا ہے اور دونوں سے اسلحہ بھی خریدتا ہے۔
آذربائیجان اور ایران کے تعلقات زیادہ خوش گوار نہیں ہیں۔ ایرانی فوجی حکام آذربائیجان پر اسرائیل کو فوجی معلومات فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، تاہم باکو ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
اسی طرح رواں سال مارچ میں، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی، تو بظاہر تہران نے آذربائیجان کے علاقے نخچیوان میں ڈرون حملہ بھی کیا تھا۔
تاہم غزہ کی جنگ نے عملاً آذربائیجان کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک جانب ترکی فلسطینیوں کی حمایت کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب آذربائیجان غیر جانب دار رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔
’نیسٹ سینٹر‘ سے وابستہ مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر روسلان سلیمانوف کہتے ہیں: ’واضح ہے کہ ترکی میں بہت سے لوگ، خصوصاً اسلام پسند حلقے، اسرائیل کے ساتھ باکو کے قریبی تعلقات سے ناخوش ہیں۔ لیکن پہلی بات یہ ہے کہ یہ ایسا معاملہ نہیں جس کی وجہ سے انقرہ آذربائیجان کے ساتھ محاذ آرائی چاہے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’دوسری بات یہ کہ خود ترکی کا مؤقف بھی کسی حد تک دو رُخا ہے۔ انقرہ ایک طرف اسرائیلی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتا ہے لیکن دوسری طرف اس ملک کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے، جن میں آذربائیجان اور عراق سے آنے والے تیل کی ترسیل بھی شامل ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
طاقت کے مختلف سرچشمے
ترک صدر اردوغان نے ستمبر کے آخر میں اقوام متحدہ ہی کی عمارت میں ایک خطاب کے دوران تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کی مذمت کی تھی۔
انھوں نے براہِ راست آذربائیجان کا نام نہیں لیا، تاہم اس سے ایک روز قبل آذربائیجان کی کابینہ ایسی ہی ایک پابندی کی منظوری دے چکی تھی۔
اوزرتم کا کہنا ہے: ’ممکن ہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترک صدر کی تقریر اور سکولوں میں سکارف پر پابندی سے متعلق ترک صدر کے مؤقف کو آذربائیجان اپنے داخلی معاملات میں مداخلت کی کوشش کے طور پر دیکھتا ہو۔‘
روسلان سلیمانوف کہتے ہیں: ’ترکی کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جہاں رجب طیب اردوغان کی قیادت میں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پارٹی) کے اقتدار میں آنے کے بعد اسلام اور اسلامی علامات کو سیاست میں بتدریج زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’تاہم آذربائیجان میں 70 برس تک جاری رہنے والی ملحدانہ تبلیغ کے بعد اسلام، خاص طور پر سیاست میں، عملاً پس منظر میں چلا گیا ہے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ آذربائیجان کا معاشرہ، کم از کم سیاسی حوالے سے، ترکی کے معاشرے کے مقابلے میں کسی حد تک زیادہ سیکولر ہے۔‘
حال ہی میں ترکی میں آذربائیجان میں حجاب سے متعلق پابندیوں کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے۔ مظاہرین کے بینرز پر درج نعروں سے ظاہر ہوتا تھا کہ بعض شرکا یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ ایسی پابندی کے بعد کیا آذربائیجان اور ترکی کو اب بھی دوست ممالک قرار دیا جا سکتا ہے۔
خود ترکی میں بھی 1997 میں حکام اسی نوعیت کی پابندیاں نافذ کر چکے تھے۔ اردوغان مذہبی حلقوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کے پس منظر میں اقتدار تک پہنچے اور آج بھی اپنے خطابات میں بار ہا اسلام کا حوالہ دیتے ہیں۔
تاہم آذربائیجان میں صورتِ حال مختلف ہے۔ اردوغان کے برعکس، الہام علیئف اقتدار میں آنے سے پہلے نہ تو عوامی سطح پر ایک معروف سیاست دان تھے، نہ سیاسی اپوزیشن کا حصہ رہے اور نہ ہی وہ مذہبی نظریات رکھنے کے حوالے سے مشہور تھے۔
وہ بڑی حد تک اپنے والد حیدر علیئف کی سیاسی میراث کے وارث سمجھے جاتے ہیں، جو سوویت یونین میں، جہاں ریاستی سطح پر مذہب مخالف پالیسی رائج تھی، کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ ترین حلقوں میں شامل رہے تھے۔
آذربائیجان کی اسلامی جماعت 1990 کی دہائی میں ممنوع قرار دے دی گئی تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ الہام علیئف نے بھی اپنے پورے دورِ حکومت میں سیاسی اسلام کی سرگرمیوں کی مسلسل مخالفت کی ہے۔
اس ملک میں سیاسی قیدیوں کا ایک بڑا حصہ، ماضی میں بھی اور موجودہ دور میں بھی، مختلف مذہبی برادریوں اور تنظیموں سے وابستہ افراد پر مشتمل رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان اختلافات کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں؟
تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ترکی اور آذربائیجان کے درمیان تعلقات اتنے گہرے اور وسیع ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی سنجیدہ اختلاف کے پیدا ہونے کا امکان کم نظر آتا ہے۔
سلیمانوف کہتے ہیں: ’میرا خیال ہے کہ جس اختلاف کی بات کی جا رہی ہے وہ زیادہ تر میڈیا کا شور شرابہ ہے۔ یہ بحث اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ یا صدور کی اگلی ملاقات نہیں ہو جاتی، اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں ایسی ملاقاتیں باقاعدگی سے ہوتی رہتی ہیں۔‘
اوزرتم کا کہنا ہے: ’دونوں ممالک کے تعلقات کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے میرے خیال میں یہ صورتحال عارضی نوعیت کی ہے۔ تاہم یہ واقعات دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اہم امتحان ہیں اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش نہیں آئیں گے۔‘
کریووشیف کہتے ہیں: ’ترکی کے ساتھ تعلقات اتنے مضبوط ہیں کہ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی چھوٹا سا تنازع یا ہنگامہ ان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘
انھوں نے یاد دلایا کہ اسرائیل اور ترکی نے شام کی صورتحال پر اپنے مذاکرات، جہاں دونوں ممالک کے مفادات وابستہ ہیں، آذربائیجان کی میزبانی میں کیے تھے اور اس وقت کسی فریق نے آذربائیجان کے غیر جانب دار مؤقف پر اعتراض نہیں کیا تھا۔
تاہم ان کا خیال ہے کہ اگر آئندہ برسوں میں دونوں ممالک میں سے کسی ایک نے بھی سیاسی اسلام کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر تبدیل نہ کیا تو نظریاتی اختلافات واقعی کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔
ان کے بقول: ’سب سے خطرناک صورتحال وہ ہوتی ہے جب دو قریبی ممالک مختلف نظریات پر کاربند ہوں۔ ترکی سیاسی اسلام کی سمت بڑھ رہا ہے جبکہ آذربائیجان ایک سیکولر آمرانہ نظام رکھتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ فرق حقیقی اختلافات میں تبدیل ہو سکتا ہے۔‘




















