آپ کے فون کی نیلی روشنی آپ کی نیند خراب نہیں کر رہی تو پھر اصل ’مجرم‘ کون؟

ہاتھ میں کپ پکڑے ایک شخص موبائل فون دیکھ رہا ہے۔ اس کے چہرے پر نیلی روشنی پڑ رہی ہے

،تصویر کا ذریعہHana Mendel

،تصویر کا کیپشنمیں نے نیلی روشنی روکنے والے چشمے کئی ہفتوں تک پہنے لیکن خاص فرق نہ پڑا
    • مصنف, تھامس جرمین
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

ایک دہائی سے ہمیں بتایا جاتا رہا ہے کہ ہمارے موبائل فون کی سکرینز ہماری نیند برباد کر رہی ہیں جبکہ آپ کی نیند چرانے والا اصل مجرم کوئی اور ہے۔

پچھلے چند ہفتے سے میں ایک تجربہ کر رہا ہوں۔ سونے سے تین گھنٹے پہلے میں نارنجی رنگ کے شیشوں والے خاص چشمے پہن لیتا ہوں۔ پلاسٹک سے بنے یہ چشمے پہن کر مجھے نیلا رنگ دکھائی نہیں دیتا لیکن میں اس پر ہی بس نہیں کرتا، میں تمام کھڑکیاں پردوں سے ڈھانپ دیتا ہوں اور اپنے تمام لیمپ ایک ایک کر کے بند کر دیتا ہوں۔ ان کی جگہ میں اپارٹمنٹ میں موجود موم بتیاں جلا دیتا ہوں۔

میری نیند بے ترتیب ہے لیکن یہ صرف ایک تجربے کے لیے ہے۔ اس سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ نیلی روشنی سے چھٹکارا پا لینے کے بعد ہوتا کیا ہے۔

گذشتہ 10 سال سے دنیا اس بارے میں گھبراہٹ کا شکار ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ فونز، ٹی وی، کمپیوٹرز، ٹیبلٹس اور ایل ای ڈی بلب کی وجہ سے ہمیں نیلی روشنی کی نا مناسب مقدار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ فرض کیا جاتا ہے کہ اس سے دن کی قدرتی روشنی کا تال میل متاثر ہوتا ہے اور ہمارے سونے جاگنے کے اوقات میں خلل پڑتا ہے۔

سائنس اس مفروضے کی حمایت کرتی ہے لیکن حالیہ تحقیق اور تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ معاملات کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ درحقیقت، امکان یہ ہے کہ آپ اس موضوع پر کچھ سنگین غلط فہمیوں کا شکار ہو چکے ہوں۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ فون سے آنے والی روشنی کا آپ کی نیند خراب کرنے کا امکان کم ہے۔

تحقیق کے نتائج ملے جلے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کے فون کی وہ خصوصیت جو سوتے وقت فون کی نیلی روشنی کو کم کرتی ہے، شاید آپ کی نیند بہتر بنانے میں کم ہی مدد کرتی ہے لیکن آج کل کی جدید روشنیاں آپ کی نیند پر بہت زیادہ اثر ڈالتی ہیں۔

تبدیلی لانے کے لیے کیا کرنا ہو گا؟

میں سچ جاننا چاہتا تھا۔ تو میں نے ماہرین کو فون کیا اور سائنسی حقائق کی پڑتال شروع کر دی۔

یہ جاننے کے لیے کہ کیا مجھے فرق معلوم ہو گا، میں نے اپنی شاموں کو نیلے رنگ سے بالکل ہی پاک کر دیا۔ اس تجربے کے بعد میں یہ مشورہ دینے جا رہا ہوں، جو آپ کے کام آئے گا۔ آپ کو رنگین شیشوں والے فضول چشمے پہننے کی ضرورت نہیں۔ یہ اچھی نیند کا راز ہو سکتا ہے۔

نیلی روشنی اور تھکاوٹ

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سنہ 2014 کی ایک تحقیق کے بعد عوامی سطح پر نیلی روشنی کے بارے میں تشویش کا آغاز ہوا۔ اس تحقیق میں شامل 12 میں سے نصف شرکا نے سونے سے پہلے آئی پیڈ پر پڑھا۔ باقی لوگ روایتی انداز میں چھپی ہوئی کتابیں پڑھتے رہے۔ آئی پیڈ استعمال کرنے والوں کو سونے میں زیادہ وقت لگا اور اگلے دن وہ سست محسوس کرتے رہے۔ محققین نے کہا کہ اس کی وجہ آئی پیڈ کی ایل ای ڈی سکرین سے نکلنے والی چمک تھی۔

ہمارے جسم میں ایک قدرتی نظام ہے جو دن کی روشنی استعمال کر کے ہمیں بتاتا ہے کہ ہم نے کب تھکاوٹ محسوس کرنی ہے۔ مخصوص حالات میں نیلے رنگ کی روشنی اس نظام کو متاثر کرتی ہے۔

بعد کی تحقیق بھی انھی نتائج کی تائید کرتی معلوم ہوئی۔

سادہ سی بات ہے نا؟ لیکن ایسا نہیں۔

امریکہ کی سٹینفورڈ یونیورسٹی میں نفسیات اور رویے کی سائنس کے پروفیسر جیمی زیٹزر کہتے ہیں کہ ’ہہ ایک انتہائی گمراہ کن کام تھا۔‘

جیمی زیٹزر جسم کے تھکاوٹ محسوس کرنے والے نظام پر روشنی کے اثرات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ غلطی تحقیق میں نہیں تھی بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ لوگ غلط نتائج تک پہنچے۔

یہ بات درست ہے کہ ہماری سکرینز زیادہ نیلی ہیں۔ جدید سکرینز اور بلبوں میں ایل ای ڈیز کا استعمال کیا جاتا ہے جو خالص سفید روشنی پیدا نہیں کر سکتے۔ اس کے بجائے، ان میں نیلے ایل ای ڈیز کا استعمال کیا جاتا ہے اور انھیں پیلے رنگ کے ایک کیمیکل سے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ نیلی اور پیلی روشنی کا امتزاج ہمارے دماغ کو یہ دھوکا دیتا ہے کہ وہ سفید رنگ دیکھ رہا ہے۔

پیلے رنگ کے شیشوں والا چشمہ لگائے ایک شخص نیلی روشنی کے سامنے بیٹھا ہے

،تصویر کا ذریعہHana Mendel

،تصویر کا کیپشنسائنس دانوں کے مطابق بہت سارے کیسز میں آپ کے موبائل فون سے نکلنے والی روشنی اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ آپ کی نیند میں خلل ڈالے

اور نیلی روشنی واقعی آپ کی نیند پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ زیٹزر کے مطابق اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ کی آنکھوں میں میلانوپسن نامی ایک پروٹین ہوتا ہے۔ روشنی سے حساس یہ پروٹین آپ کے نیند کے نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ان کے مطابق ’میلانوپسن نیلی روشنی کے لیے سب سے زیادہ حساس ہے۔‘

زیٹزر کہتے ہیں کہ روشنی کے دیگر رنگوں کا بھی میلانوپسن پر اثر ہوتا ہے لیکن نیلے رنگ کا اثر تھوڑا زیادہ ہوتا ہے تاہم ان کے مطابق ’وہ روشنی جو ہماری سکرینز سے نکلتی ہے، اس کی مقدار تو غیر اہم ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر کسی کو لیباریٹری لایا جائے اور سارا دن مدھم روشنی میں رکھ کر تیز روشنی ڈالی جائے تو وہ بے قابو ہو جائیں گے لیکن عام انسانوں کو تو اس تجربے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

کئی سال تک لوگ اسی غلط فہمی کا شکار رہے، اپنے فون میں موجود نیلی روشنی کو روکنے والے فلٹر آن کرتے رہے لیکن تازہ سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ نیلی روشنی مرکزی مجرم نہیں۔ مثال کے طور پر، 11 مختلف مطالعات کے حالیہ جائزے سے معلوم ہوا کہ سکرینز کی روشنی نیند میں زیادہ سے زیادہ تقریباً نو منٹ کی تاخیر کرتی ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ روشنی نیند کو بالکل اڑا ہی دے۔

فونز، لیپ ٹاپس اور ٹیبلٹس کی سکرینز سے نکلنے والی نیلی روشنی کی مقدار اس نیلی روشنی کے مقابلے میں تو بہت ہی کم ہے جو ہمیں سورج سے ملتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق گھر کے باہر قدرتی روشنی میں ایک منٹ سے بھی کم وقت گزارنا، ڈیجیٹل ڈیوائسز کی نیلی روشنی میں 24 گھنٹے گزارنے کے برابر ہے۔

دیگر مطالعات سے بھی یہ ثابت ہوا کہ ڈیوائسز سے نکلنے والی نیلی روشنی کی مقدار اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ ہماری نیند کنٹرول کرنے والے ہارمونز کو متاثر کر سکے۔

تو پھر میں ہر وقت اتنا تھکا ہوا کیوں رہتا ہوں؟ زیٹزر اور دیگر نے مجھے بتایا کہ روشنی، چاہے نیلی ہو یا کسی اور رنگ کی، کئی اور طریقوں سے بھی میری نیند خراب کر سکتی ہے۔ اس کے لیے مجھے اپنے طرز زندگی میں تبدیلیاں لانا ہوں گی۔

میں نے ایسا چشمہ لیا جو نیلے رنگ کو بالکل روک دیتا تھا

اپنے تجربے کے پہلے دن، جب سورج غروب ہو رہا تھا، تو میں رات کے کھانے کے لیے باہر نکلا ہوا تھا۔ تقریباً ساڑھے آٹھ بجے میں نے کہا کہ اب گھر جانا چاہیے۔ اب روشنی سے چھپنے کا وقت تھا۔ نیند کے ماہرین کی نصیحت کی بنیاد پر، سوتے وقت چادر اوڑھنے سے بہت پہلے، نیند کے لیے میری تیاریاں شروع ہو گئی تھیں۔

میری روٹین ایک عجیب و غریب چشمے سے شروع ہوتی ہے۔ اگر آپ عام چشمے پہنتے ہیں تو یقیناً آپ کو ایک شیشے پر ایک ایسا مواد لگانے کی پیشکش کی گئی ہو گی جو نیلی روشنی کو گزرنے نہیں دیتا۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زیادہ اثر نہیں کرتے۔

جو اچھے چشمے ہوتے ہیں ان میں گہرے نارنجی، سرخ یا زردی مائل رنگ کے لینز ہوتے ہیں جو آپ کی آنکھوں کو اس طرح سے ڈھک لیتے ہیں کہ باہر کی روشنی ان تک نہ پہنچ سکے۔

ناروے یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں نیند پر تحقیق کرنے والے ہاورڈ کالیسٹاد کہتے ہیں کہ ’آپ کو زیادہ نیلا رنگ نظر نہیں آنا چاہیے۔‘

میرے پاس نیلی روشنی روکنے والے جو چشمے میں، وہ اصل میں ان لوگوں کے لیے بنائے گئے ہیں جو لیزر شعاعوں کے ساتھ کام کرتے ہیں اور جنھیں آنکھوں کی حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔

وہ چشمے لگا کر میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا، گلی کے نیچے ایک دکان ہے جس پر نیلے رنگ کا نشان نصب ہے۔ چشمہ لگا کر دیکھنے سے وہ نشان مجھے نظر ہی نہیں آیا۔

میرا کام بن گیا تھا۔

میں صوفے پر بیٹھ گیا اور صحافت کے لیے اپنی قربانیوں کے بارے میں سوچنے لگا۔ میں نے انسٹاگرام پر سکرول کیا۔ مجھے سب کچھ نارنجی دکھائی دیا۔ جو کچھ میں کر رہا ہوں اس کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ روشنی میری نیند پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لیے میں نے اپنے فون، ٹی وی یا کمپیوٹر کی عادات میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

لیکن چشمے تو صرف شروعات ہیں۔

کالیسٹاد کہتے ہیں کہ ’میرا خیال ہے آپ اپنی رہائشگاہ کو ایک غار میں بدل دیں۔ بس روشنی کو اندر آنے سے روکیں اور موم بتی استعمال کریں۔‘

جدید ایل ای ڈی لائٹس بہت زیادہ نیلی روشنی پیدا کرتی ہیں۔ پرانے زمانے کے بلب بہت کم جبکہ موم بتیاں تو نیلے رنگ کی روشنی بالکل ہی پیدا نہیں کرتیں۔

جہاں میں نیو یارک میں رہتا ہوں وہاں کبھی بھی مکمل اندھیرا نہیں ہوتا۔ تو میں نے اپنی کھڑکیوں کو پردوں سے ڈھانپ دیا، صرف میرا فون اور جھلملاتی ہوئی چند موم بتیاں میرے اور اندھیرے کے درمیان کھڑی تھیں۔ مجھے ابھی نیند نہیں آئی تھی۔ میرا یہ تجربہ چند ہفتے طویل ہونے والا تھا۔

صبح کی نیلی روشنی چوکس کرتی ہے

ماہرین کے مطابق اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ دن بھر آپ کو کتنی روشنی مل رہی ہے۔ بہترین نیند کے لیے آپ کو صبح زیادہ روشنی چاہیے اور رات کو بہت کم۔ نیلی روشنی بھی اپنی جگہ اہم ہے لیکن اصل فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ آپ نے روشنی کی کُل کتنی مقدار لی۔

معلوم ہوا کہ یہ معاملہ آپ کی آنکھ کھلتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اپنے اس تجربے کے دوران میں لیمپ کے سامنے بیٹھتا تھا، جسے دیکھ کر لگتا تھا کہ اسے 1980 کی دہائی کی کسی سائنس فکشن فلم میں استعمال کیا گیا ہو گا۔ جب میں کافی پیتا ہوں تو اس کی تیز روشنی سیدھا میرے چہرے پر پڑتی ہے۔

یہ لیمپ موسم کی وجہ سے پیدا ہونے والی افسردگی کے علاج کے لیے بنایا گیا۔ اس کی روشنی کا کلینیکل درجہ حرارت خاص طور پر نیلا ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح کے وقت نیلی روشنی آپ کو زیادہ چوکس کر دیتی ہے لیکن یہ لیمپ میرے آنکھوں کو رات کے وقت نیلی روشنی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بھی تیار کر رہا ہے۔

ایک بچی نے اندھیرے کمرے میں موبائل فون تھام رکھا ہے اور موبائل فون کی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

زیٹزر کہتے ہیں کہ ’دن کے وقت جتنی زیادہ روشنی ملے گی، شام کی روشنی کا اثر اتنا ہی کم ہو گا۔‘

اس لیے اگر آپ لیمپ استعمال کرنے کے بجائے گھر سے باہر روشنی میں نکلیں تو یہ مسئلہ زیادہ جلدی ٹھیک ہو جائے گا۔ زیٹزر کے مطابق جس دن آسمان پر بادل چھائے ہوں، اس دن بھی آپ کو 10 ہزار لکس (روشنی کی شدت کا پیمانہ) روشنی ملتی ہے۔ سورج چمک رہا ہو تو آپ کو ایک لاکھ لکس تک روشنی مل سکتی ہے، لیکن اگر آپ کمرے میں ہی بیٹھے رہے تو یہ مقدار محض 100 لکس ملے گی۔

کالیسٹاد کے مطابق ’اگر ممکن ہو تو باہر جائیں، لیمپ صرف ضرورت کے وقت ہی استعمال کریں۔‘

صبح کے وقت 30 منٹ کی واک بھی بہت فرق ڈالتی ہے (بس سن سکرین لگانا نہ بھولیں) اور اگر آپ شام کے وقت بھی دوبارہ باہر جا سکتے ہیں تو زیٹزر کے مطابق یہ بھی حیران کن حد تک مفید ہے۔

اگر آپ گھر میں رہ کر کام کرتے ہیں تو یہ مشورہ آزمائیں، جو آپ کو غیر متوقع لگے گا۔ دن کے وقت گھر کی روشنیاں تیز کر دیں اور شام کو انھیں مدہم کرنا شروع کریں۔

اگر سکرین سے چپکے رہنے کی وجہ سے آپ سارا دن قدرتی روشنی سے دور گھر میں گزارتے ہیں تو یہ بری خبر ہے۔ لیکن اصل مسئلہ سکرینز کی نیلی روشنی نہیں بلکہ زیٹزر کے مطابق، اصل مسئلہ یہ ہے کہ سونے سے پہلے فونز اور لیپ ٹاپس پر آپ کیا دیکھتے ہیں۔

زیٹزر کے مطابق ’ان ڈیوائسز کی روشنی نہیں بلکہ ان پر دستیاب مواد لوگوں کو جگائے رکھتا ہے۔‘ یہ اس بات پر بھی منحصر ہو سکتا ہے کہ آپ روشنی کے حوالے سے کتنے حساس ہیں، میں آپ سے زیادہ یا کم حساس ہو سکتا ہوں۔

میرے تجربے کا کیا نتیجہ نکلا؟

میں اپنی نیند کی نگرانی کے لیے سلیپ ٹریکر استعمال کرتا ہوں۔ اس تجربے کے دوران میری نیند کے معیار میں زیادہ فرق نہیں آیا لیکن کچھ فرق میں نے ضرور محسوس کیے۔ دوسرے ہفتے کے آخر میں، میں نے خود کو وقت پر بستر پر جانے کے لیے تھوڑا زیادہ آمادہ پایا اور مجھے نیند بھی آسانی سے آ گئی۔

تجربے کے اختتام تک بھی میری نیند کے وقت پر تو کوئی فرق نہیں پڑا تھا لیکن میرے سونے اور جاگنے کے اوقات ضرور مستقل ہو گئے۔ کیا یہ اس لیے تھا کہ میں نے نیلی روشنی بلاک کی تھی؟ کہنا مشکل ہے لیکن یہ ایک بڑی فتح محسوس ہوئی۔

جو میں آپ کو بتا سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے اپنی شاموں کا انتظار زیادہ شدت سے شروع کر دیا تھا، جب میں صرف موم بتیوں کی روشنی میں بیٹھتا۔

زیٹزر کے مطابق، جب سونے سے پہلے کا ایک معمول بنا لیا جائے تو یہ ایک نفسیاتی اشارہ بن جاتا ہے جو آپ کے جسم کو یاد دلاتا ہے کہ اب اس کے بعد کیا کرنا ہے۔

اسی طرح اگر رات کے وقت آپ کے موبائل فون میں موجود فلٹر روشنی کو مدہم کر دیتا ہے، یا آپ نیلا رنگ روکنے والا چشمہ پہن لیتے ہیں، تو آپ کا دماغ سمجھنے لگتا ہے کہ اب سونے کا وقت آ گیا ہے۔

اگر آپ میرے گھر رات گزانے کے لیے آئیں گے تو شاید مجھے نیلا رنگ روکنے والا چشمہ پہنے نہ دیکھیں۔ اس کا استعمال تو میں نے چھوڑ دیا لیکن شاید موم بتیاں جلانے والا معمول برقرار رکھوں۔