’میں کوئی خاتونِ آہن نہیں‘: مراکش کی پہلی خاتون وزیراعظم فاطمہ الزہرہ المنصوری کون ہیں؟

Fatima Zahra El Mansouri wearing a blue blazer over a white shirt. She is surrounded by celebrating crowds of men after the announcement of the provisional results of the legislative elections in the early hours of 24 September 2026.
،تصویر کا کیپشنفاطمہ الزہرہ المنصوری پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل ہیں
    • مصنف, بسمہ العطی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

مراکش میں اعتدال پسند جماعت پام نے پارلیمانی انتخابات میں اکثریتی نشستیں جیت لی ہیں جس کے بعد فاطمہ الزہرہ المنصوری کو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم نامزد کر دیا گیا ہے۔

اس نامزدگی کے بعد وہ عرب دنیا میں حکومت کی سربراہی کرنے والی صرف دوسری خاتون بن گئی ہیں۔ ان سے قبل تیونس کی نجلا بودن اس منصب تک پہنچنے والی پہلی خاتون تھیں۔

ان کا نام شاہ محمد ششم نے وزیرِ اعظم کے طور پر نامزد کیا اور انھیں جماعت کے سرکردہ سیاست دان اور ملک کی فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ فوزی لقجع پر ترجیح دی گئی۔

50 سالہ فاطمہ الزہرہ کئی برسوں تک مراکش کے شہر مراکش کی میئر رہ چکی ہیں اور اس سے قبل مخلوط حکومت میں بطور وزیر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

مراکش ایک آئینی بادشاہت ہے، تاہم زیادہ تر اختیارات اب بھی بادشاہ کے ہی پاس ہیں۔

وزیرِاعظم کے طور پر اپنے نام کے اعلان سے قبل ایک پریس کانفرنس میں فاطمہ الزہرہ المنصوری سے پوچھا گیا کہ آیا ریاست کو ان کے لیے ان مسلم مذہبی تقریبات میں کوئی تبدیلی کرنا پڑے گی جن میں بادشاہ شرکت کرتے ہیں، جن میں جمعے اور عید کی نمازیں بھی شامل ہیں اور جہاں مرد اور خواتین الگ الگ حصوں میں نماز ادا کرتے ہیں۔

انھوں نے اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا بلکہ بادشاہ کو ملک میں ’خواتین کے سب سے بڑے حامی‘ کے طور پر سراہا۔

انھوں نے کہا ’عالی جاہ دانائی کے حامل ہیں۔۔۔ اگر مجھے حکومت کی سربراہی کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے تو یہ میرے لیے ایک بڑا اعزاز ہوگا۔‘

فاطمہ الزہرہ المنصوری مراکش کی سب سے نمایاں خاتون سیاستدان ہیں۔

پیشے کے اعتبار سے وکیل فاطمہ الزہرہ المنصوری نے دارالحکومت رباط میں واقع محمد پنجم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، جس کے بعد انھوں نے فرانس اور امریکہ میں اپنی تعلیم جاری رکھی اور کاروباری اور کارپوریٹ قانون میں سپیشلائزیشن کی۔

El Mansouri holding hands with a Pam colleague during one of the part's rallies. She is wearing a white suit and standing on a blue platform featuring Pam's logo in several languages.
،تصویر کا کیپشنوزیرِ اعظم کے طور پر المنصوری (دائیں) کو اب حکومت سازی کے لیے دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنا ہو گا
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انھوں نے سنہ 2008 میں پام کے قیام کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور سنہ 2009 میں مراکش شہر کی پہلی خاتون میئر بنیں۔ سنہ 2021 کے انتخابات کے بعد وہ دوبارہ اس منصب پر منتخب ہوئیں۔

گذشتہ پانچ برسوں کے دوران وہ سابق وزیرِ اعظم عزیز اخنوش کی حکومت میں قومی علاقائی منصوبہ بندی، شہری منصوبہ بندی، رہائش اور شہری پالیسی کی وزیر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔

فروری 2024 میں وہ پام کی اتحادی لیڈرشپ تنظیم کی کوآرڈینیٹر بنیں۔

فاطمہ الزہرہ نے خود کو ’خاتونِ آہن‘ قرار دیے جانے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے 2021 میں پام کے جریدے کو بتایا تھا کہ: ’میں نہ فولاد کی بنی ہوئی خاتون ہوں اور نہ آہنی۔۔۔ میں ایک آزاد کارکن ہوں۔‘

اپنے سیاسی کیریئر کے دوران فاطمہ الزہرہ المنصوری نے خواتین کے حقوق یا صنفی عدم مساوات کے موضوعات پر شاذ و نادر ہی عوامی طور پر اظہارِ خیال کیا ہے، حالانکہ مراکش میں ایسے مسائل پر مسلسل بحث جاری رہی ہے، جن میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ آیا کثرتِ ازدواج پر پابندی عائد کی جانی چاہیے اور آیا مردوں اور خواتین کو وراثت میں مساوی حقوق ملنے چاہییں۔

مراکش کے آئین کے تحت بادشاہ حکومت کے سربراہ کا تقرر اس جماعت میں سے کرتے ہیں جو ایوانِ نمائندگان کے انتخابات میں پہلی پوزیشن حاصل کرے۔

فروری 2024 سے پام کی قیادت ایک واحد سیکریٹری جنرل کے بجائے اجتماعی قیادت کے نظام کے تحت کی جا رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد المنصوری نے کہا تھا کہ ان اور لقجع میں سے انتخاب کرنا بالآخر بادشاہ کا اختیار ہے۔

ماضی میں وزیرِ اعظم کا تقرر بڑی حد تک ایک رسمی عمل ہوتا تھا کیونکہ مراکش کی زیادہ تر سیاسی جماعتوں کی قیادت ایک ہی سیکریٹری جنرل کے ہاتھ میں ہوتی تھی، جس سے یہ واضح ہوتا تھا کہ حکومت کی سربراہی کے لیے کس شخص کو نامزد کیا جائے گا۔

97 نشستیں جیتنے کے بعد بھی پام کے پاس پارلیمان میں اکثریت حاصل نہیں ہے، لہٰذا 395 رکنی پارلیمان میں واضح اکثریت کے لیے درکار 198 نشستوں تک پہنچنے کے لیے اسے اتحادی حکومت تشکیل دینا ہوگی۔

Fatima Zahra El Mansouri
،تصویر کا کیپشن97 نشستیں جیتنے کے بعد بھی پام کے پاس پارلیمان میں اکثریت حاصل نہیں ہے

یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کس جماعت کے ساتھ اتحاد کریں گی کیونکہ ان کے نیشنل ریلی آف انڈیپنڈنٹس (آر این آئی) کے ساتھ تعلقات خراب ہو چکے ہیں، جو سبکدوش ہونے والی حکومت کی قیادت کر رہی تھی اور جس میں پام ایک چھوٹی اتحادی جماعت کے طور پر شامل تھی۔

اسلام پسند جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (پی جے ڈی) نے بھی حالیہ انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور گذشتہ انتخابات میں حاصل کی گئی صرف 13 نشستوں کے مقابلے میں اس بار 54 نشستیں حاصل کیں۔ اس کامیابی میں جماعت کے رہنما اور سابق وزیرِ اعظم عبدالالہ بنکیران کی واپسی نے اہم کردار ادا کیا۔

ووٹنگ کے بعد بنکیران نے کہا تھا کہ ان کی جماعت حزبِ اختلاف میں ہی رہے گی اور پام کے ساتھ شراکت داری قبول نہیں کرے گی۔