لائیو, کشمیر میں انڈین فورسز کے کیمپ میں فائرنگ: آپسی جھگڑے میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ سمیت چار اہلکار ہلاک

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں منگل کی شام کو سینٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس کے ایک ہیڈ کانسٹیبل نے معمولی تکرار کے بعد اپنے ہی ساتھیوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک اسسٹنٹ کمانڈنٹ سمیت چار اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق، یہ واقعہ کٹھوعہ کے علاقہ بسوہلی کے گاؤں مشکا میں واقع ’سیوا تھری‘ ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ ‘کے سکیورٹی کیمپ میں پیش آیا۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. امریکہ کا پاسداران انقلاب کے تین کمانڈروں کی معلومات پر 15 ملین ڈالر انعام کا اعلان

    Iran

    امریکہ نے پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے تین سینیئر کمانڈروں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 15 ملین ڈالر انعام کی پیشکش کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے قومی سلامتی ڈویژن نے منگل کو اپنے ’ریوارڈز فار جسٹس‘ پروگرام کے تحت اعلان کیا کہ جو شخص ان کمانڈروں کی شناخت، مقام یا سرگرمیوں کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرے گا، اسے مجموعی طور پر 15 ملین ڈالر تک کا انعام دیا جا سکتا ہے۔

    اعلان میں سب سے پہلے بریگیڈیئر جنرل عبداللہ محرابی کا نام شامل ہے، جو پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے جہاد ریسرچ اینڈ سیلف سفیشنسی آرگنائزیشن کے سربراہ ہیں۔ دوسرا نام احمد جعفرآبادی کا ہے، جنھیں ایرو اپیس فورس کے سینیئر کمانڈر اور آپریشنل امور کے نگران کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا اس سے مراد ایرو سپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جعفرآبادی ہیں یا کوئی اور شخصیت۔ تیسرے کمانڈر علی اصغر نوروزی ہیں، جو پاسدارانِ انقلاب میں تیاری اور سپورٹ کے نائب کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    Iran

    اسی روز امریکہ نے ایرانی وزارتِ دفاع سے وابستہ قرار دیے جانے والے 10 افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں بھی عائد کیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کی جانب سے جاری فہرست میں ایران، چین، پاکستان اور میکسیکو سے تعلق رکھنے والے افراد اور ادارے شامل ہیں۔

    یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی عمل تعطل کا شکار ہے۔ واشنگٹن حالیہ مہینوں میں تہران کے خلاف دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے، جس میں نئی اقتصادی پابندیاں اور بعض ایرانی فضائی کمپنیوں کی بین الاقوامی سرگرمیوں پر پابندیاں بھی شامل ہیں۔

  2. نورستان میں پاکستان سے آنے والے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ختم ہو گیا: افغان طالبان

    Afghan Taliban
    ،تصویر کا کیپشنافغان طالبان (فائل فوٹو)

    طالبان حکومت کے وزارتِ دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے کہا ہے کہ نورستان ولایت کے ضلع کامدیش میں ’پاکستانی فوجی حکومت کی مدد‘ سے ڈیورنڈ لائن عبور کرکے آنے والے شرپسند اور داعش سے وابستہ فتنہ گروں کے خلاف افغان سکیورٹی اور دفاعی فورسز کا آپریشن آج مکمل ہو گیا۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ترجمان نے یہ الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی ان عناصر کے خلاف کی گئی جو مبینہ طور پر پاکستان کی سرپرستی میں سرحد پار کرکے نورستان میں داخل ہوئے تھے۔ افغان سکیورٹی اور دفاعی اداروں نے آپریشن کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی اپنے اہداف کے حصول کے بعد مکمل کر لی گئی ہے۔

    پاکستان پر نورستان میں دراندازی کرانے کا الزام، افغان وزارتِ خارجہ کا احتجاج

    افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کرکے نورستان کی سمت ڈیورنڈ لائن عبور کرنے والے مسلح عناصر کے معاملے پر ایک سخت احتجاجی مراسلہ حوالے کیا ہے۔

    افغان وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق 24 ستمبر نورستان کے ضلع کامدیش کی سمت شرپسند عناصر اور داعش سے وابستہ جنگجوؤں نے مبینہ طور پر پاکستانی فوجی حکام کی براہِ راست مدد اور رہنمائی سے ڈیورنڈ لائن عبور کرکے افغانستان میں داخل ہونے اور تخریبی سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش کی۔ تاہم افغان سکیورٹی فورسز نے ان کی پیش قدمی روک دی اور انھیں اپنے منصوبوں پر عمل درآمد نہیں کرنے دیا۔

    @EnayatKhowarazm

    یہ بیان افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان حمداللہ فطرت کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا۔

    بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان کا فوجی نظام اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں مسلح عناصر کی بھرتی، تنظیم، تربیت اور مسلح کرنے کے مراکز قائم کرنے کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے اور بعد ازاں انھیں براہِ راست رہنمائی کے ساتھ ڈیورنڈ لائن پار کرواتا ہے۔ افغان حکام نے ان اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    افغان وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ایسے اقدامات افغانستان کی خودمختاری اور سرحدی حدود کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اسلامی، بین الاقوامی، انسانی اور ہمسائیگی کے اصولوں سے متصادم ہیں۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر ایسی کارروائیاں جاری رہیں تو ان کے منفی نتائج کی تمام تر ذمہ داری پاکستان کے فوجی نظام پر عائد ہوگی۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

  3. امریکہ اور اسرائیل ایران میں اندرونی تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں: مسعود پزشکیان

    Iran

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل فوجی ذرائع سے ایران کو جھکانے میں ناکامی کے بعد اب ملک کے اندرونی اختلافات کو ہوا دینے اور تقسیم پیدا کرنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، بڑے شہروں اور صوبائی دارالحکومتوں کے میئرز سے ملاقات کے دوران صدر پزشکیان نے کہا کہ ’ایرانی عوام کو جنگ کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے میں ناکامی کے بعد دشمنوں نے اپنی پوری توجہ اندرونی اختلافات پیدا کرنے اور انھیں بڑھانے پر مرکوز کر دی ہے۔‘

    انھوں نے قومی اتحاد اور یکجہتی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو کمزور کرنے کے بجائے تمام شہریوں کی شرکت اور تعاون کو فروغ دیا جانا چاہیے۔

    مسعود پزشکیان کے بقول، ’کسی گروہ کو یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے اور اسی بنیاد پر ملک کو کمزور کرے۔ تمام شہریوں کی عوامی شرکت سازشوں کا مقابلہ کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔‘

  4. برنی سینڈرز کا اسرائیل کو امریکی فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ

    USA

    امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ امریکہ میں عوام اور قانون سازوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے، اور ان کے بقول سینیٹ میں حالیہ ووٹنگ اس رجحان کا واضح ثبوت ہے۔

    امریکی سینیٹ نے ایک قرارداد کو مسترد کر دیا جس کے تحت ٹرمپ انتظامیہ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حملوں اور امریکی شہریوں کے خلاف تشدد سے متعلق رپورٹ پیش کرنا ہوتی۔ تاہم، قرارداد کے خلاف 51 اور حق میں 47 ووٹ پڑے، جسے سینڈرز نے اسرائیل سے متعلق پالیسی پر رائے میں نمایاں تبدیلی قرار دیا۔

    سینڈرز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’جنوری 2024 میں میں نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ووٹنگ کرائی تھی، جس کی حمایت صرف 11 سینیٹرز نے کی تھی۔ آج ویسٹ بینک میں اسرائیل کے اقدامات کی تحقیقات سے متعلق ملتی جلتی قرارداد کے حق میں 47 سینیٹرز نے ووٹ دیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکی عوام کی آواز سنیں، اسرائیل کو مزید فوجی امداد نہیں دی جانی چاہیے۔‘

  5. کشمیر میں سی آئی ایس ایف کیمپ میں فائرنگ، اسسٹنٹ کمانڈنٹ سمیت چار اہلکار ہلاک, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو ، سرینگر

    India
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کے ایک اہلکار کی فائرنگ سے اسسٹنٹ کمانڈنٹ سمیت چار اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حکام کے مطابق یہ واقعہ منگل کی شام ہماچل پردیش کی سرحد سے متصل علاقے بسوہلی کے گاؤں مشکا میں قائم سیوا تھری ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹ کے سکیورٹی کیمپ میں پیش آیا۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی کی تبدیلی کے دوران اہلکاروں کے درمیان کسی معاملے پر تلخ کلامی ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر گئی۔ الزام ہے کہ ہیڈ کانسٹیبل اودھیش کمار سنگھ نے طیش میں آ کر اپنی سرکاری اے کے 47 رائفل سے ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔

    فائرنگ کے نتیجے میں چار اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ انھیں فوری طور پر ہماچل پردیش میں این ایچ پی سی ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

    ہلاک ہونے والوں میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ اور کمپنی کمانڈر انکت کمار پانڈے، سب انسپکٹر لکشمن سنگھ، اور کانسٹیبل محمد رفیق اور سندیپ کمار شامل ہیں۔

    پولیس کے مطابق واقعے کے فوراً بعد کیمپ میں موجود دیگر اہلکاروں نے ملزم کو قابو کر لیا اور بعد ازاں اسے جموں و کشمیر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے اعلیٰ سطح کورٹ آف انکوائری کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

  6. چار اکتوبر کو لانگ مارچ ہر صورت ہو گا، پہلے مرحلے میں صوابی جائیں گے: سہیل آفریدی

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ چار اکتوبر کو لانگ مارچ ہر صورت ہو گا۔

    چیف منسٹر ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران سہیل آفریدی سے سوال کیا گیا کہ ’چار اکتوبر کو کہاں سے نکلیں گے اور اسلام آباد بھی جائیں گے یا نہیں جائیں گے؟‘

    اس کے جواب میں انھوں نے کہا: ’پہلے مرحلے میں ہم صوابی جائیں گے، اور صوابی کے بعد آگے ضرور جائیں گے۔‘

    یہ جواب دینے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا مسکرانے لگے۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر لانگ مارچ کے دوران وفاقی حکومت نے کوئی غیر آئینی قدم اٹھایا تو اسے ’بہت بھاری قیمت‘ چکانا پڑے گی۔

    وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت کے وزرا پریس کانفرنسوں کے ذریعے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار لانگ مارچ میں شریک افراد کی تعداد حکومتی اندازوں سے کہیں زیادہ ہو گی۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا تھا، تاہم 25 ستمبر کو وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ لانگ مارچ کو چار اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

  7. صومالیہ کے قریب پانچ ماہ قبل اغوا ہونے والے بحری جہاز کی بازیابی کا دعویٰ، پاکستانی شہریوں کے جانی نقصان سے متعلق اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی، وزارتِ خارجہ

    پاکستان

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق افریقی ملک جبوتی میں پاکستانی مشن کو ایک ایسے بحری جہاز کو قزاقوں سے چھڑانے کی غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جسے چند ماہ قبل ’پنٹ لینڈ‘ کے علاقے میں بحری قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق اس جہاز پر 10 پاکستانی شہری بھی یرغمال بنائے گئے تھے۔ تاہم پاکستانی شہریوں کے جانی نقصان سے متعلق اطلاعات کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق مشن حقائق کا تعین کرنے اور صورتحال کی تصدیق کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ سرکاری تصدیق دستیاب ہوتے ہی مزید معلومات فراہم کر دی جائیں گی۔

    اس سے قبل صومالیہ کے شمال مشرق میں نیم خود مختار علاقے پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ’دھارین بار‘ کے ساحل کے قریب سمندری آپریشن میں بحری قزاقوں کے قبضے میں جانے والے آئل ٹینکر ’ایم ٹی آنر 25‘ کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

    میری ٹائم پولیس نے دعوی کیا ہے کہ کارروائی کے دوران 21 مشتبہ بحری قزاقوں کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

    میری ٹائم پولیس کے مطابق یہ جہاز اب پنٹ لینڈ حکومت کی تحویل میں ہے۔

    خیال رہے کہ ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی بحری جہاز کو رواں برس اپریل میں صومالی قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔ اس جہاز پر سوار 17 رکنی عملے میں 10 کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ عملے میں انڈونیشین، سری لنکن، انڈین اور میانمار کے شہری بھِی شامل ہیں۔

    پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے انصار برنی ٹرسٹ کے مطابق بحری قزاقوں نے مغویوں کی رہائی کے لیے 30 لاکھ امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔

  8. یمن کے معاملے پر کئی ماہ کے اختلافات کے بعد سعودی اور اماراتی رہنماؤں کی ریاض میں ملاقات

    Courtesy of Saudi Royal Court/Reuters

    یمن کے معاملے پر مہینوں کے اختلافات کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کی ریاض میں ملاقات ہوئی۔

    ایک سال سے بھی کم عرصہ قبل، سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یمن میں باغیوں کی حمایت کر کے سعودی قومی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کر رہا ہے۔

    منگل کی یہ ملاقات سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید النہیان کے درمیان ہوئی۔

    سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، اس موقع پر ملک کے وزیرِ دفاع خالد بن سلمان بھی موجود تھے۔

    سعودی عرب حوثیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مدد حاصل کرنے کی غرض سے کئی ہفتوں سے اپنے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کر رہا ہے۔

    ایران کے اتحادی حوثی سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں اور بحیرہ احمر میں اس کے جہازوں پر حملے کر رہے ہیں۔

    سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حالیہ ہفتوں کے دوران حوثیوں کے ٹھکانوں پر کئی بار بمباری کی ہے۔

  9. جموں و کشمیر پر ترک صدر کا حوالہ مسترد کر دیتے ہیں: انڈیا

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ترک صدر رجب طیب اروغان نے جموں و کشمیر پر جو حوالہ دیا، ’انڈیا اسے مسترد کرتا ہے۔‘

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اپنے خطاب میں ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں ’مسئلہ کشمیر‘ سمیت تمام تنازعات کو ’اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔‘

    اس خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے آج انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کشمیر کا ’معاملہ انڈیا کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری سے متعلق ہے‘ اور کسی بھی بیرونی فریق کو اس پر بات کا اختیار نہیں۔

  10. تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کو اسلام آباد کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیں گے: وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ

    وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی لانگ مارچ کرنے کی سکت نہیں رکھتے، لیکن اگر پی ٹی آئی نے یہ کوشش کی تو انھیں اسلام آباد کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیں گے۔

    اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’الیونتھ آور‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات ہو رہے ہیں، لہذا ان کے لیے ان حالات میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو متحرک کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کئی ممالک کے سفارتخانے ہیں، یہاں غیر ملکی وفود آتے ہیں، کیا پاکستان کا یہ تاثر جانا چاہیے کہ یہاں جلاؤ گھیراؤ ہوتا رہتا ہے۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کی حکومت لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ تاہم وہاں فی الحال گورنر راج یا ایمرجنسی پر بات کرنا قبل از وقت ہو گا۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں اور لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہ حکومت گھر جائے۔

  11. ایران نے اپنی شرائط امریکہ کو بتا دی ہیں، لیکن ٹرمپ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں: محسن رضائی

    ایران

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ تہران نے اپنی شرائط امریکہ کو بتا دی ہیں، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ ’فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔‘

    آذربائیجان کے نائب وزیر اعظم، جو تہران کے دورے پر آئے تھے، سے ملاقات میں محسن رضائی نے کہا کہ امریکی صدر ’ایک ایسی دلدل میں پھنس گئے ہیں جہاں وہ نہ مذاکرات کر سکتے ہیں اور نہ جنگ لڑ سکتے ہیں۔‘

    محسن رضائی نے کہا کہ ’ایران کی شرائط امریکہ کو بتا دی گئی ہیں، لیکن ٹرمپ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں، اور امریکہ نے فوجی جنگ میں بے بسی کے باعث فضائی ناکہ بندی کا سہارا لیا ہے۔‘

    اس سے چند گھنٹے قبل، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک سے تہران واپسی کے موقع پر کہا تھا کہ اس دورے میں ان کا مشن امریکہ کو ایران کی شرائط سے آگاہ کرنا تھا، جن میں آبنائے ہرمز کو کھولنا بھی شامل ہے۔

    عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ’اس حوالے سے ایران کے پاس ایک منصوبہ موجود ہے، اس کی شرائط مکمل طور پر منصفانہ اور منطقی ہیں، اور اگر امریکی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کسی معاہدے یا پرامن حل کے خواہاں ہیں، تو ہم یہ حل پیش کر چکے ہیں۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے منصوبے سے اتفاق نہیں کرتے، تاہم اسی دوران اطلاعات ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرنے والے فریق ان سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  12. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔