فلائی دبئی کی اسرائیل جانے والی پرواز کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ اور عینی شاہدین کے بیانات: ’طیارے میں خون پھیلا ہوا تھا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی ایک مسافر پرواز کو اُس وقت ہنگامی طور پر اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا جب دورانِ پرواز دو پائلٹوں کے درمیان مبینہ طور پر ہاتھا پائی ہو گئی۔
متحدہ عرب امارات کی ایئرلائن ’فلائی دبئی‘ کا طیارہ بدھ کی علی الصبح دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوا تھا۔
پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے مطابق سفر کا آغاز ہونے کے تقریباً دو گھنٹے بعد طیارے کی جانب سے ہنگامی صورتحال کا سگنل جاری کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق چند منٹ بعد طیارے نے ایسا کوڈ بھی نشر کیا جو عموماً طیارہ اغوا ہونے کی اطلاع دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم بعد میں اسے دوبارہ عمومی ہنگامی سگنل میں تبدیل کر دیا گیا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے واضح کیا کہ واقعے کو طیارہ اغوا کیے جانے کا واقعہ تصور نہیں کیا جا رہا۔ مقامی میڈیا نے اسرائیلی دفاعی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ہنگامی سگنل غالباً پائلٹ اور شریک پائلٹ کے درمیان پیش آنے والی تکرار اور جھگڑے کے بعد جاری کیا گیا تھا۔
یروشلم میں نمائندہ بی بی سی جان ڈونیسن کے مطابق طیارے میں سوار ایک اسرائیلی مسافر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پائلٹس کے جھگڑے کے بعد طیارے کے عملے کی جانب سے مسافروں سے بھی مدد کی درخواست کی گئی، جس کے بعد بعض مسافروں نے مداخلت کرتے ہوئے ایک پائلٹ کو قابو کرنے میں مدد دی اور اسے باندھ دیا گیا۔
مسافر کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کے لیے عملے اور مسافروں نے مشترکہ طور پر کارروائی کی، جس کے بعد پرواز کو سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر ہنگامی طور پر اتار لیا گیا۔ تاہم حکام کی جانب سے مسافر کے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
خبررساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق یاسمین ابو قسیس نے انھیں بتایا کہ اُن کی بیٹی مریم اس پرواز میں سوار تھیں اور اُنھوں نے دورانِ پرواز چیخ و پکار کی آوازیں سُنیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یاسمین ابو قسیس کے مطابق اُن کی بیٹی مریم نے انھیں بتایا کہ ایک شخص نے چاقو کے زور پر پائلٹوں میں سے ایک کو زمین پر گرایا ہوا تھا، جبکہ طیارے کے اندر ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔
تقریباً 150 مسافروں کو لے جانے والا یہ طیارہ، جن میں اکثریت اسرائیلی شہریوں کی تھی، معمول کے مطابق تل ابیب کے بن گوریان ایئرپورٹ پر اُترنے والا تھا، تاہم ہنگامی صورتحال کے باعث اسے سعودی عرب کے شمال مشرقی شہر تبوک کے ایئرپورٹ پر اتار دیا گیا۔
اس واقعے کے ابتدائی ردعمل میں اسرائیلی فضائیہ نے اپنے جنگی طیارے روانہ کیے جبکہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے فوری مشاورت بھی کی۔
بعدازاں اسرائیلی وزیر اعظم کے آفس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ’پیش آنے والے اس واقعے پر تشویش کے پیشِ نظر وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے مشاورتی اجلاس منعقد کیا اور وہ مسلسل اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں۔‘
’حکام کے مطابق صورتحال قابو میں ہے اور اسرائیلی مسافروں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘
بی بی سی عربی کے یروشلم میں موجود نامہ نگار کے مطابق یہ صورتحال اُس وقت پیش آئی جب ایک پائلٹ نے طیارے کا رُخ تبدیل کیا۔ طیارہ پہلے اُردن کی فضائی حدود میں داخل ہوا اور بعد ازاں اس کا راستہ سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا۔
فلائی دبئی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز ایف زیڈ 1073 دورانِ پرواز پیش آئے ایک واقعے سے متاثر ہوئی تاہم طیارہ بحفاظت سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر اتار لیا گیا ہے اور تمام مسافر محفوظ ہیں۔
کمپنی نے مزید کہا کہ واقعے سے متعلق مزید مصدقہ معلومات دستیاب ہوتے ہی مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ کے مطابق اسرائیلی چیف آف سٹاف نے واقعے کی ابتدائی تفصیل ملنے کے بعد ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد کیا، جس میں فضائیہ کے کمانڈر، آپریشنز کے سربراہ، انٹیلیجنس کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ فوجی کمانڈرز نے شرکت کی۔
ترجمان نے بتایا کہ اجلاس کے دوران واقعے سے متعلق تازہ ترین معلومات، ممکنہ سکیورٹی خدشات اور فوجی ردعمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی حکام طیارے سے موصول ہونے والے ہنگامی سگنلز کے بعد صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے۔
فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق طیارے نے پرواز بھرنے کے تقریباً دو گھنٹے بعد سعودی عرب کی فضائی حدود میں اچانک تیزی سے بلندی کم کرنا شروع کر دی اور پاکستانی وقت کے مطابق 10:21 بجے کے فوراً بعد طیارہ دو منٹ سے بھی کم وقت میں 17 ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے آ گیا۔
اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پرواز مختصر وقت کے لیے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہوئی، تاہم چند منٹ بعد دوبارہ سعودی عرب کی فضائی حدود میں واپس آ گئی، جہاں اس نے لینڈنگ کے لیے اپنی بلندی مزید کم کرنا شروع کر دی۔
واقعے کے ردعمل میں اسرائیلی فضائیہ نے جنگی طیارے روانہ کیے تھے جبکہ اسرائیلی حکام واقعے کی مکمل تفصیلات اور ہنگامی سگنلز کی وجوہات کا تاحال جائزہ لے رہے ہیں۔




















