انڈیا میں سیاستدان ہاتھوں میں مچھلیاں اٹھا کر انتخابی مہم کیوں چلا رہے ہیں؟

- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
مشرقی انڈین کے شہر کولکتہ میں یہ تھوڑا عجیب منظر تھا کہ مقامی سیاستدان کوستاو باغچی ہاتھ میں مچھلی پکڑے، گھر گھر جا رہے تھے۔ اُن کے پیچھے ڈھول بجانے والے چل رہے تھے جبکہ اُن کے حامی اُن کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔
مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں ’باراک پور‘ نامی علاقے سے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار کوستاو باغچی اپنے ہاتھ میں پکڑی ان ’مچھلیوں‘ کے ذریعے ووٹرز کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اُن کو ووٹ دیں۔
اگرچہ اپنی انتخابی مہم کے دوران وہ جیتنے کے بعد اپنی پالیسی سے متعلق تو کوئی وضاحت نہیں دے رہے بلکہ وہ اپنے حلقہ انتخاب میں صرف یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ ’میں تم میں سے ہی ایک ہوں۔‘
اس انتخابی حلقے سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ایک اور انتخابی حلقے میں بی جے پی کے ہی ایک اور امیدوار راکیش سنگھ بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔ پارٹی کارکنوں کے گھیرے میں، وہ صبح سویرے عوام کی بھیڑ میں بار بار مچھلی کو لہراتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ اس انتخاب میں اُن کے مدمقابل شہر کے میئر فرداد حکیم ہوں گے۔
انڈین ریاست بنگال میں مچھلی صرف خوراک نہیں بلکہ کھانے کی میز پر ایک ایسی مرکزی ڈش ہے جو یادداشت، رسومات اور روزمرہ زندگی کا لازم و ملزوم حصہ اور شناخت اور وابستگی کی علامت بن چکی ہے۔
اور یہی مچھلی اب پورے مغربی بنگال میں سیاسی نعرے کی صورت اختیار کر چکی ہے، جہاں امیدوار ووٹرز میں پائی جانے والی ایک مخصوص بے چینی کو دبانے کے لیے اپنی اپنی انتخابی مہم میں مچھلیاں لہرا رہے ہیں۔
ایسے ملک میں جہاں کھانے کی عادات بھی سیاست سے جڑی ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی کی بی جے پی کو اکثر زیادہ جارحانہ اور کبھی کبھار سبزی خوری سے جوڑا جاتا ہے۔
بی جے پی کی زیرِ اقتدار کچھ ریاستوں میں گوشت کی فروخت پر وقتی پابندیاں اور گائے کے تحفظ سے جڑی کارروائیاں اس تاثر کو مضبوط کرتی رہی ہیں، اس سے قطع نظر کہ انڈیا کی اکثریتی آبادی اب بھی گوشت خور ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مغربی بنگال کے انتخاب میں، مچھلی اب پلیٹ سے نکل کر سیاسی اکھاڑے کا حصہ بن چکی ہے۔ اب ثقافتی وفاداری کے ثبوت اور مداخلت کے الزامات کے جواب کے طور پر اسے نئے معنی دیے جا رہے ہیں۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مغربی بنگال میں برسراقتدار ترنمول کانگریس کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی، جو مسلسل چوتھی مدت ریاستی انتخاب جیت کر حکومت بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، خبردار کر چکی ہیں کہ بی جے پی ’بنگال کے رہنے والوں کی طرزِ زندگی کے لیے خطرہ‘ ہے۔ ممتا بینر جی مچھلی اور چاول کو بنگال کے رہنے والوں کے لیے ناقابلِ سمجھوتا قرار دیتی ہیں۔
انھوں نے اپنی ایک انتخابی اجتماع میں حال ہی میں کہا کہ ’بی جے پی آپ کو مچھلی کھانے نہیں دے گی۔ نہ ہی وہ آپ کو گوشت یا انڈے کھانے دیں گے۔‘
71 سالہ سخت گیر رہنما ممتا بینر جی نے ایک حالیہ جلسے میں بی جے پی کو للکارتے ہوئے کہا کہ ’بنگال مچھلی اور چاول کی بنیاد پر جیتا ہے۔ آپ بنگالیوں سے کہہ رہے ہیں کہ آپ مچھلی نہیں کھا سکتے، گوشت نہیں کھا سکتے، انڈے نہیں کھا سکتے، پھر وہ کیا کھائیں گے؟‘
ان الزامات کو رد کرنے کے لیے بی جے پی نے بھی بھرپور جواب دیا ہے۔
بنگال میں انتخابی مہم میں مصروف بی جے پی رہنما سمرتی ایرانی نے اس دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’بنگال، مچھلی اور چاول اُن کی ثقافت کا حصہ ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوں گے۔‘
کولکتہ کی راشد بہاری نشست سے بی جے پی امیدوار سواپن داس گپتا نے کہا کہ بینرجی کا الزام توجہ ہٹانے کی کوشش ہے: ’وہ اس غلط بیانیے کے ساتھ عوامی توجہ اپنی بدعنوانی سے ہٹانا چاہتی ہیں کہ ہم مچھلی کے کھانے پر پابندی لگائیں گے جو کہ سراسر غلط ہے۔‘
مہم کے دوران خود وزیر اعظم مودی نے بھی مچھلی کو سیاسی نکتے کے طور پر استعمال کیا اور اسے حکمرانی کی ناکامی کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ مودی، جو خود بھی سبزی خور ہیں، نے بینرجی کی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ بنگال کو مچھلی میں خودکفیل بنانے میں ناکام رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’15 سال اقتدار میں رہنے کے باوجود ترنمول کانگریس آپ کو مچھلی جیسی بنیادی چیز بھی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مچھلی جیسی خوراک بھی ریاست کے باہر سے منگوانی پڑتی ہے۔‘
ممتا بینرجی نے فوراً جواب دیتے ہوئے کہا کہ بنگال کی مچھلی کی 80 فیصد ضرورت مقامی طور پر پوری ہوتی ہے۔ انھوں نے ایک انتخابی اجتماع میں کہا کہ ’آپ (بی جے پی) بہار، اتر پردیش اور راجستھان میں، جہاں آپ کی حکومتیں ہیں، مچھلی کے استعمال کی اجازت نہیں دیتے، اور دہلی میں مچھلی کی دکانوں پر منظم حملے کرواتے ہیں۔ کیا آپ کو شرم نہیں آتی؟
ثقافتی بے چینی اور معاشی تنقید کے درمیان اب مچھلی ایک بنیادی خوراک سے بڑھ کر کچھ اور ہی چیز بن چکی ہے۔
اب یہ ہر اس چیز کا استعارہ بن گئی ہے جسے حریف داؤ پر لگا ہوا قرار دیتے ہیں۔ انڈیا دنیا میں مچھلی کی پیداوار میں تیسرے دوسرے نمبر پر ہے، مگر فی کس مچھلی کے استعمال میں عالمی سطح پر 129ویں نمبر پر ہے۔ مغربی بنگال میں مچھلی محض خوراک نہیں، بلکہ روز مرہ کی زندگی کا حصہ ہے۔
آئی سی اے آر اور ورلڈفش کی سنہ 2024 کی مشترکہ تحقیق کے مطابق ایک ہفتے میں مغربی بنگال کے تقریباً 65.7 فیصد لوگ مچھلی کھاتے ہیں۔ مشرقی اور جنوبی ریاستوں میں 90 فیصد سے زیادہ لوگ مچھلی کھاتے ہیں، جبکہ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر انڈیا میں مچھلی کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب آبادی کا 70 فیصد سے زیادہ مچھلی استعمال کر رہا ہے۔
بنگال میں مچھلی ہمیشہ کھانے سے بڑھ کر کوئی چیز رہی ہے۔ بنگالی ادب کے معروف ناول ’پدما ندیِر ماجھی‘ (دی بوٹ مین آف دی پدما) میں مانک بندھوپادھیائے مچھلی کو ایک بے قرار دریا کے کنارے تقدیر اور بقا سے جوڑتے ہیں۔
’دی ہنگری ٹائیڈ‘ میں ناول نگار امیتاو گھوش اسے خلیجِ بنگال کے سندربن ڈیلٹا میں ماحولیات اور عدم تحفظ کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ ہلسا مچھلی کے بارے میں سمنٹھ سبرمنین اپنی کتاب ’فالوئنگ فش‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اگر بنگالی کھانوں کو ومبلڈن سمجھا جائے تو ہلسا ہمیشہ سینٹر کورٹ پر کھیلے گی۔‘ ان کے بقول اسے درست طریقے سے کھانا، منھ میں مہارت سے کانٹے الگ کرنا، تقریباً تعلق کی رسم ہے۔
بنگال میں مچھلی خوراک سے آگے بھی معنی رکھتی ہے۔ یہ جغرافیہ (گنگا دریا بمقابلہ پدما دریا کے نظام)، تاریخ (تقسیمِ ہند کے نتیجے میں مشرقی اور مغربی بنگال کی علیحدگی) اور طبقے کی نشاندہی کرتی ہے، کون قیمتی اقسام خرید سکتا ہے، کون انھیں پکاتا ہے، اور کس کے پاس ایسا کرنے کی ثقافتی مہارت ہے۔
حتیٰ کہ بنگال کی فٹبال رقابت میں بھی مچھلی موجود ہے: ایسٹ بنگال ایف سی کے حامی، جن میں سے بہت سے موجودہ بنگلہ دیش سے جڑیں رکھتے ہیں، روایتی طور پر ہلسا پسند کرنے والے سمجھے جاتے ہیں، جبکہ موہن باغان سپر جائنٹ کے حامیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جھینگے پسند کرتے ہیں۔
ماہرینِ عمرانیات کا خیال ہے کہ یہی گہری علامتی تہیں مچھلی کو سیاسی طور پر اتنا کارآمد بناتی ہیں۔ جماعتیں صرف اس کا حوالہ نہیں دے رہیں، وہ مخالفین کو للکارنے کے لیے اسے مہم کے اہتمام میں بھی شامل کر رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
مؤرخ جینینتا سین گپتا کے مطابق مچھلی ’بنگالی کھانوں سے جدا نہیں، جسے جغرافیہ اور بطور سستے پروٹین کے طویل کردار نے ڈھالا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’چونکہ بی جے پی کو بعض اوقات سبزی خوری سے جوڑا گیا، اس لیے بنگال کی حکمران جماعت نے خوراک کو ثقافتی فخر کے وسیع تر بیانیے میں سمو دیا ہے۔ مچھلی کی علامتی اہمیت کو جانتے ہوئے بی جے پی اس مسئلے کو نظرانداز نہیں کر سکتی تھی۔ اسی لیے ہم دونوں اطراف کو بنگال کی پسندیدہ غذاؤں میں سے ایک پر دوسرے کی مہم کا توڑ کرتے دیکھتے ہیں۔‘
گذشتہ ہفتے بی جے پی کے ریاستی صدر سامک بھٹاچاریہ نے کولکتہ میں صحافیوں کو چار مئی کے نتائج کے دن کی دعوت دی، جب، ان کے بقول، پارٹی تلی ہوئی مچھلی کے ساتھ ان کا استقبال کرے گی۔
ایک اور انٹرویو میں وہ مزید آگے بڑھے۔ نتائج کے بعد، بھٹاچاریہ نے کہا، بی جے پی بینرجی کے گھر ’مختلف اقسام کی چھوٹی مچھلیاں‘ بھیجے گی اور ان کی پارٹی کے کارکنان کو مچھ بھات (بنگالی میں مچھلی اور چاول) پر مدعو کرے گی۔
اس مزاح کی بنیاد ایک خاموش مفروضہ تھا کہ بی جے پی میزبان بننے کی پوزیشن میں ہو گی اور اس کے حریف دعوت قبول کریں گے۔
شناخت، روزگار اور خاصی طنز و مزاح سے تشکیل پانے والے اس انتخاب میں ممکن ہے کہ مچھلی نتیجہ طے نہ کرے۔ لیکن اس نے مقابلے کا فریم ضرور قائم کر دیا ہے، اور یہ دکھا دیا ہے کہ انتخابی مہم میں ثقافت اور سیاست کس قدر فطری انداز میں ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں۔
اضافی رپورٹنگ: سِنگدھندو بھٹاچاریہ، کولکتہ


























