شوکت نواز میر ’غیرقانونی حراست‘ میں ہیں یا ’گرفتاری کے ڈر سے مفرور‘: پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ہائیکورٹ کو کیا بتایا گیا؟

شوکت نواز میر
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کہا ہے کہ گذشتہ کئی ماہ سے جاری احتجاج کے تسلسل میں ’چار اکتوبر کو انتہائی اہم اعلان‘ کیا جائے گا، تاہم اِسی کے بیچ اس کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر کی مبینہ گمشدگی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔

شوکت نواز میر کے اہلخانہ کی جانب سے کشمیر ہائیکورٹ میں دائر کی گئی ایک پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ میر پولیس کی مبینہ غیرقانونی حراست میں ہیں اور یہ کہ اُن کی بازیابی یقینی بنائی جائے، تاہم کشمیر کی حکومت اور محکمہ پولیس نے عدالت میں اہلخانہ کے اس مؤقف کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شوکت میر پولیس یا ریاست جموں کشمیر کے کسی محکمہ کی تحویل میں نہیں ہیں بلکہ روپوش ہیں۔

لگ بھگ تین ماہ قبل، 30 جون 2026 کو عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا تھا کہ شوکت نواز میر کو دھیرکوٹ کے علاقے سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل رہی، جس کی بی بی سی اُردو تصدیق نہیں کر سکتا ہے۔

30 جون کو بیشتر مقامی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی حکام کے حوالے سے شوکت رضا میر کی گرفتاری کی خبر کو رپورٹ کیا تھا۔ بی بی سی اُردو سمیت متعدد ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر مظفرآباد منیر قریشی نے شوکت میر کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔

تاہم اس ابتدائی رپورٹنگ کے بعد سے کشمیر کی پولیس اور انتظامیہ نے یہ مؤقف اختیار کر رکھا ہے کہ متعدد مقدمات میں مطلوب شوکت نواز میر پولیس یا ریاستی تحویل میں نہیں ہیں، اُن سے متعلق اطلاع دینے پر انعام بھی مقرر کیا گیا اور یہ کہ وہ گرفتاری کے خوف سے کہیں چھپے ہوئے ہیں۔

عدالتی کارروائی کے دوران شوکت میر کے بارے میں کیا دعوے کیے گئے ہیں؟

kashmir highcourt

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ہائیکورٹ میں شوکت نواز میر کی مبینہ غیرقانونی حراست اور بازیابی سے متعلق پٹیشن 15 جولائی 2026 کو دائر کی گئی تھی۔

شوکت نواز میر کی بہن یاسمین میر نے ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اُن کے بھائی کو گرفتار کیا گیا ہے اور وہ غیرقانونی حراست میں ہیں، اسی لیے ان کی بازیابی کے اقدامات کیے جائیں۔

یاسمین میر نے اپنی پٹیشن میں وہ درخواست بھی منسلک کی ہے جو انھوں نے چھ جولائی کو پولیس سٹیشن تھانہ سٹی میں جمع کروائی تھی اور جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شوکت میر پانچ جون کے بعد سے گھر واپس نہیں آئے ہیں اور نہ ہی اُن کا اہلخانہ کے ساتھ رابطہ ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پولیس کو دی گئی اس درخواست میں یاسمین میر نے کہا کہ مختلف ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر اُن کے بھائی کی گرفتاری کی خبریں سامنے آئیں اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہے، جس کے باعث اہلخانہ شدید ذہنی کوفت میں مبتلا ہیں۔

اس درخواست میں پولیس سے استدعا کی گئی کہ وہ اُن کے بھائی کے بارے میں مصدقہ اطلاع فراہم کرے اور اگر اُن کے خلاف کوئی قانونی کارروائی درکار ہے تو انھیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

پولیس کو دی گئی اس درخواست کے جواب میں عدالت کو محکمہ پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ اس حوالے سے ایک اشتہار جاری کیا گیا جس میں شوکت میر کی ظاہری شناخت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر کسی کو ان کے بارے میں علم ہو تو پولیس کو آگاہ کیا جائے۔

اس کیس کی ابتدائی سماعت کے موقع پر یاسمین میر کی جانب سے کوئی وکیل پیش نہیں ہوا جس پر عدالت نے انھیں ہدایت کی کہ وہ آئندہ پیشیوں پر وکیل کے ہمراہ آئیں جس کے بعد شاہد علی اعوان کو درخواست گزار کی جانب سے وکیل مقرر کیا گیا۔

اس کیس پر اب تک پانچ سماعتیں ہو چکی ہیں اور پانچویں سماعت آج (30 ستمبر) کو کشمیر ہائیکورٹ میں ہوئی ہے۔

بدھ کو ہونے والی سماعت میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی کیونکہ ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی کہ وہ 30 ستمبر (بدھ) کو میرپور میں مصروف ہیں، اس لیے انھیں دلائل کے لیے مہلت دی جائے۔

عدالت نے اُن کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت پانچ ستمبر اکتوبر تک ملتوی کر دی اور ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل ہر صورت عدالت میں پیش ہوں اور درخواستوں پر اپنے دلائل مکمل کریں۔

یاسمین میر کے وکیل شاہد علی اعوان نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ 23 ستمبر کو اس کیس میں ہونے والی سماعت کے دوران انھوں نے عدالت کے سامنے تین درخواستیں پیش کی تھیں۔

اُن کے مطابق ’پہلی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شوکت نواز میر کو تھانہ دھیرکوٹ کے ایس ایچ او کی موجودگی میں گرفتار کیا گیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں بھی ایس ایچ او دیگر پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں شوکت میر کو لے کر جا رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس بنیاد پر عدالت سے استدعا کی گئی کہ ایس ایچ او تھانہ دھیرکوٹ کو طلب کیا جائے تاکہ وہ عدالت کے سامنے وضاحت کریں کہ ویڈیو میں نظر آنے والی کارروائی کیا تھی اور آیا شوکت نواز میر کو پولیس نے گرفتار کیا تھا یا نہیں۔

شاہد علی اعوان کے مطابق دوسری درخواست میں عدالت سے ایک یو ایس بی میں موجود مواد کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت مانگی گئی ہے۔

اُن کے مطابق ’یو ایس بی میں شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری کی ویڈیو اور اُس وقت کے وزیرِ قانون میاں عبدالوحید کا وہ مبینہ بیان موجود ہے جس میں اُن کی جانب سے شوکت نواز میر کی دھیرکوٹ سے گرفتاری کی کارروائی کو درست قرار دیا گیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر عدالت پیش کردہ ویڈیو شواہد کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دیتی ہے تو اُن سے اس ویڈیوز کی فرانزک جانچ کروانے کی استدعا بھی کی جائے گی۔

Shaukat Nawaz Mir

جب بی بی سی اُردو نے سابق وزیر قانون میاں عبدالوحید سے رابطہ کیا تو انھوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے معذرت کر لی۔ جبکہ محکمہ پولیس نے عدالت میں جمع کروائے گئے اپنے جواب میں ایس ایچ او دھیر کوٹ کی جانب سے شوکت میر کو حراست میں لینے کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔

شاہد علی اعوان کے مطابق ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی تیسری درخواست میں یاسمین میر کے بھائی گل نواز میر کو بھی مقدمے میں درخواست گزار بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔

تاہم درخواست گزار کی ان تینوں درخواستوں پر ہائیکورٹ میں اعتراضات جمع کروائے گئے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل ندیم خان ایڈوکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ شوکت نواز میر کے کیس میں موجودہ پٹیشنر (یاسمین میر) کے بھائی کو بھی فریق بنانے کی استدعا کی گئی ہے تاہم491 کے تحت دائر کردہ مقدمے میں پٹیشنر کی جانب سے مزید کسی شخص کو فریق نہیں بنایا جا سکتا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ پٹیشنر کی جانب سے عدالت میں ایک یو ایس بی پیش کرنے کی اجازت بھی طلب کی گئی تھی، جس پر اعتراض اٹھایا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ موجودہ دور مصنوعی ذہانت کا دور ہے، اس لیے یہ خدشہ موجود ہے کہ یو ایس بی میں موجود مبینہ ویڈیو اے آئی کی مدد سے تیار کردہ یا ترمیم شدہ ہو سکتی ہے اور اسی بنیاد پر یو ایس بی کو بطور ثبوت پیش کرنے کی درخواست پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔

عدالت میں گذشتہ چار سماعتوں کے دوران کشمیر پولیس نے اپنی تبصرہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ شوکت نواز میر کے خلاف ضلع راولاکوٹ میں تین، ضلع باغ میں 22 اور ریاستی دارالحکومت مظفرآباد میں 17 مقدمات درج ہیں جن میں کئی مقدمات انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج ہیں۔

پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ شوکت نواز میر اِن مقدمات میں تفتیش کے لیے مطلوب ہیں تاہم وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حدود میں موجود پولیس کی تحویل میں نہیں ہیں اور نہ ہی کسی تھانے میں قید ہیں۔

پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کا یہ موقف بالکل غلط، بے بنیاد اور خلاف حقائق ہے کہ شوکت میر کو دھیر کوٹ پولیس نے حراست میں لیا۔ ایس ایچ او دھیر کوٹ کی جانب سے نہ تو کوئی ایسی کاروائی عمل میں لائی گئی ہے اور نہ کوئی ایسی گرفتاری کی گئی۔

پولیس نے اپنے جواب میں عدالت کو مزید بتایا کہ حکومت نے شوکت نواز میر کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کر رکھی ہے اور یہ سابقہ کریمنل ریکارڈ ہونےکی وجہ سے شوکت میر خود کسی نامعلوم مقام پر چھپے ہوئے ہیں۔

کشمیر حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل نے بھی عدالت میں یہی مؤقف اختیار کیا کہ شوکت نواز میر اس وقت ریاستی تحویل میں نہیں ہیں اور حکومت کے مطابق بھی وہ زیر التوا مقدمات کی وجہ سے مفرور اور روپوش ہیں۔