90 سالہ ماں نے منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں قید بیٹے کی کمائی چھپانے میں کیسے مدد کی؟

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, کیلی نگ
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

جنوبی کوریا میں ایک 90 سالہ خاتون کو اپنے بیٹے کی منشیات کی سمگلنگ سے حاصل شدہ رقم اور اس پر ہونے والے منافع کو چھپانے یعنی منی لانڈرنگ میں مدد دینے پر ایک سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ان خاتون کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے مگر عدالت میں یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ اپریل سنہ 2020 سے فروری سنہ 2022 کے درمیان نو مختلف مواقع پر ان خاتون کو مجموعی طور پر 386 ملین وون (تقریباً دو لاکھ 60 ہزار ڈالر) موصول ہوئے۔

انھوں نے اپنے بیٹے کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اس رقم کو ایک مخصوص اکاؤنٹ میں منتقل کیا۔

رپورٹس کے مطابق ان کے بیٹے سنہ 2020 سے کمبوڈیا میں قید ہیں۔ جہاں انھیں میتھ ایمفیٹامین سمگل کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ چونکہ خاتون نے سنہ 2019 میں پانچ بار کمبوڈیا کا سفر کیا تھا اور انھیں اپنے بیٹے جن کا نام اب تک سامنے آنے والی رپورٹس میں ’سونگ‘ لیا جا رہا ہے، کی گرفتاری اور اُن پر لگائے جانے والے الزامات کا علم تھا اس لیے وہ اس بات سے آگاہ تھیں کہ وہ غیر قانونی رقم کو چھپانے میں اپنے بیٹے کی مدد کر رہی ہیں۔

انچیون ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج وائی اون سک نے کہا کہ ’خاتون کے اقدامات نے غیر قانونی آمدنی کا سراغ لگانا انتہائی مشکل کر دیا تھا اور اُنھوں نے ایسا کر کے منشیات کے پھیلاؤ میں حصہ ڈالا جس سے یہ جرم نہایت سنگین ہو جاتا ہے۔‘

تاہم عدالت نے سزا سناتے وقت خاتون کی عمر اور اس بات کا بھی لحاظ رکھا کہ ماضی میں وہ منشیات سے متعلق کسی بھی جُرم یا اس نوعیت کے کسی بھی معاملے میں ملوث نہیں رہیں۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مقامی رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریائی حکام سونگ کو کمبوڈیا سے وطن واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہاں ایک اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ سونگ جو 60 سال کے ہو چُکے ہیں مبینہ طور پر اپنی بیٹی کو بھی اس غیر قانونی کام کے لیے استعمال کرتے رہے۔

سیول کے اخبار ’کیونگ ہیانگ‘ کے مطابق سونگ کی بیٹی پر 600 ملین وون سے زائد کی غیر قانونی رقم وصول کرنے اور اس میں سے 274 ملین وون کو ایک اکاؤنٹ سے دوسرے میں منتقل کرنے کا الزام تھا۔

تاہم بعد میں عدالت نے انھیں منشیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اور منی لانڈنگ کے الزام سے اس لیے بری کر دیا کیونکہ اُن پر لگے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے شواہد ناکافی تھے اور ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ بات ثابت نہیں ہو سکی تھی کہ وہ اس سارے معاملے کے بارے میں جانتی تھیں یہ نہیں۔