پاکستان کی متحدہ عرب امارات کو ڈپازٹس واپس کرنے کی تصدیق: ’یہ ایک معمول کا لین دین ہے‘

Pakistan UAE

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے مالیاتی ڈپازٹس کی واپسی کی تصدیق کر دی ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ یہ ڈپازٹس دوطرفہ تجارتی معاہدوں کے تحت رکھے گئے تھے۔

ترجمان کے مطابق معاہدے کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان اب میچور ہونے والے ڈپازٹس یو اے ای کو واپس کر رہا ہے، جو ایک معمول کا مالیاتی لین دین ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات قائم ہیں جو تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور عوامی روابط پر مبنی ہیں۔ یہ تعلق وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے۔

وزارت خارجہ کے اعلامیے سے قبل پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات سے لیے گئے ڈپازٹس اور قرضے واپس کرنے کے بارے میں روایتی اور سوشل میڈیا پر خبریں منظر عام پر آئی ہیں۔

اس بارے میں پاکستان کی وزارت خزانہ نے اس وضاحت سے قبل ایکس پر ایک بیان میں کہا تھا کہ کچھ میڈیا حصوں میں پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کے بارے میں جو قیاس آرائیاں اور تبصرے ہو رہے ہیں، ان کے جواب میں یہ بتایا جاتا ہے کہ وزارتِ خزانہ مسلسل ان ادائیگیوں کی نگرانی اور انتظام کر رہی ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رہیں۔ حکومتِ پاکستان اپنے تمام بیرونی واجبات پورے کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

وزارت خارجہ کی جانب سے باقاعدہ طور پر تصدیق کے بعد اب واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان یو اے ای کو ڈپازٹس واپس کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے پاکستان کو دیے گئے ڈپازٹس کتنے ہیں اور ان کی اچانک واپسی کا فیصلہ کیا خطے میں بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل حالات ہیں یا پھر اس کا فیصلہ پہلے سے کیا گیا تھا اس کے بارے میں بی بی سی نے ماہرین سے بات کر کے اس کو جانچنے کی کوشش کی۔

پاکستان کے پاس متحدہ عرب امارات کے کتنے ڈپازٹس ہیں؟

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر اس وقت 21 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں جن میں سے 16 ارب ڈالر سٹیٹ بینک آف پاکستان اور پانچ ارب ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس ہیں۔ مرکزی بینک کے پاس موجود 16 ارب ڈالر میں سے بارہ ارب ڈالر کے ڈپازٹس چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ہیں تاکہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھا جا سکے۔ ان ڈپازٹس میں سے دو ارب ڈالر متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں رکھوائے تھے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کا قرضہ بھی دیا ہے جس میں 45 کروڑ کا قرضہ گذشتہ صدی میں نوے کی دہائی میں پاکستان کو دیا گیا تھا، اسی طرح مجموعی پاکستان کے پاس متحدہ عرب امارات کا تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر کا قرضہ ہے۔

Pakistan UAE

،تصویر کا ذریعہGetty Images

متحدہ عرب امارات کا ڈپازٹس کب رول اوور ہوا؟

متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو سنہ 2018 میں دو ارب ڈالر کے ڈپازٹس دیے گئے تھے جو گذشتہ آٹھ سالوں سے پاکستان کے پاس موجود ہیں اور وہ کئی بار رول اوور ہوئے تاہم گذشتہ سال دسمبر میں اسے سالانہ بنیادوں پر رول اوور کرنے کی بجائے متحدہ عرب امارات نے اسے قلیل مدت پر کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

موجودہ سال فروری میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے دو ارب ڈالر کو دو مہینوں کےلیے رول اوور کیا گیا جس کی مدت اپریل میں پوری ہو رہی ہے اور اب پاکستان کی جانب سے اسے واپس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پس پردہ کیا وجوہات ہیں؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو دو ارب ڈالر کے ڈپازٹس واپس کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے جس نے خلیجی ریاستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جن میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے۔

پاکستان کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔

ایک ایسے وقت میں متحدہ عرب امارات کو دو ارب ڈالر کی واپسی کے بارے میں جیو پولیٹیکل امور کے ماہر زاہد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کا جیو پولیٹیکل حالات سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس کی واپسی کا ایک تناظر ہے۔

انھوں نے کہا پاکسان نے ان ڈپازٹس پر بلند شرح سود کو کم کرنے کے لیے بھی کہا تھا اور اس کے ساتھ رول اوور کرنے کے لیے کہا تھا تاہم متحدہ عرب امارات نے اسے قلیل مدت کے لیے رول اوور کرنے شروع کر دیا۔ انھوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ سب اچانک سے ہوا اور یو اے ای نے اس کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

زاہد حسین نے کہا اس ڈپازٹس پر شرح سود بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسے واپس کر دیا جائے۔

معاشی امور کے سینیئر صحافی مہتاب حیدر کا تاہم اس سلسلے میں کہنا ہے کہ اب تک صورتحال واضح تو نہیں ہے تاہم متحدہ عرب امارات کے ڈپازٹس کی واپسی کا کہیں نہ کہیں تعلق خطے کی جیو پولیٹکل صورتحال سے بنتا ہے۔ انھوں نے کہا ایسی چیزیں واضح تو نہیں ہوتیں تاہم وہ کہیں نہ کہیں موجودہ ہوتی ہیں۔

یو اے ای

،تصویر کا ذریعہGetty Images

متحدہ عرب امارات کو ڈپازٹس کی واپسی سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر پر کوئی فرق پڑے گا؟

پاکستان کے پاس زرمبادلہ ذخائر کی صلاحیت بہت زیادہ نہیں ہے۔

مرکزی بینک کے پاس سولہ ارب ڈالر میں سے بارہ ڈالر چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ڈپازٹس ہیں۔ حکومت کی جانب سے متحدہ عرب ڈالر کو دو ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی واپسی کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر پر اس کے اثر کے بارے میں مہتاب حیدر کا کہنا ہے کہ یقینی طور پر دو ارب ڈالر نکلنے سے کچھ اثر تو پڑے گا تاہم چند ہفتوں میں پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط مل جائے گی جو زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرے گی۔

انھوں نے کہا اس کے علاوہ حکومت کچھ ذرائع سے بھی زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کے لیے سوچ رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے سعودی عرب کو بھی اس سلسلے میں انگیج کیا ہے۔