بس پر پتھر سے حملہ: جب انضمام الحق ’بال بال بچے‘ اور پاکستان نے انڈیا میں ون ڈے سیریز کے باقی تمام میچ جیتے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, وقار مصطفیٰ
- عہدہ, صحافی و محقق
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
سنہ 1999 میں کارگل تنازع کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کا انڈیا کا یہ پہلا دورہ 28 فروری 2005 سے شروع ہوا تھا۔
موہالی، کولکتہ اور بنگلورو میں کھیلی گئی تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز 1–1 سے برابر رہی تھی جبکہ چھ میچوں کی ون ڈے سیریز میں پاکستان ابتدائی دو میچ ہار چکا تھا۔
ون ڈے سیریز کا تیسرا میچ نو اپریل کو مشرقی انڈیا کے دو دریاؤں کے درمیان آباد صنعتی شہر جمشید پور میں ہونا تھا۔ لیکن وہاں ایئر پورٹ نہ ہونے کی وجہ سے انڈیا اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں اور میڈیا کے نمائندوں کو ریاست جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی سے بسوں میں تین گھنٹے کا سفر کرکے جمشید پور پہنچنا تھا۔
پاکستانی ٹیم کو لیے ایک بس جونہی سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے رانچی ایئرپورٹ سے باہر نکلی، تو دونوں ٹیموں کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے سڑک کنارے جمع ہزاروں لوگوں میں سے کسی نے ایک پتھر پھینکا جو کھڑکی توڑ کر بس کے اندر جا گرا۔
اس واقعے کے بعد ٹیم منیجر سلیم الطاف نے انڈین روزنامہ ’مڈ ڈے‘ کو بتایا تھا کہ اس کھڑکی کے ساتھ بیٹھے کپتان اور بلے باز انضمام الحق پتھر کے اِس حملے میں بال بال بچے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی کھلاڑی جو پہلے ہی ناخوش تھے
پتھراؤ کے اس واقعے پر پاکستانی کھلاڑی خاصےناراض ہوئے، کیونکہ وہ پہلے ہی ون ڈے سیریز کے سفری انتظامات سے ناخوش تھے۔
اُسی روزصبح جب وہ رانچی روانگی کے لیے وشاکھاپٹنم کے چھوٹے سے ایئرپورٹ کے لاؤنج میں پہنچے تھے تو وہ پہلے ہی بھرا ہوا تھا اور اُن کے بیٹھنے کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔
کھلاڑی تقریباً آدھ گھنٹا کھڑے رہے کیونکہ انھیں وشاکھاپٹنم سے رانچی لے جانے والی خصوصی پرواز کے آنے میں دیر تھی۔ کئی کھلاڑیوں کے چہروں پر مایوسی صاف دیکھی جا سکتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم انڈین بورڈ نے اپنے شیڈول کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ روٹیشن پالیسی کے تحت چھوٹے شہروں میں بھی میچز کروانا ضروری تھا۔
پاکستانی ٹیم پر پتھراؤ کا یہ واقعہ اس لیے بھی حیران کُن تھا کہ دونوں ٹیموں کے لیے ایئرپورٹ کے اندر اور باہر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے، خاص طور پر اس لیے کہ جھارکھنڈ کو نکسل باڑیوں کی پرتشدد سرگرمیوں سے متاثرہ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
پاکستانی ٹیم کے منیجر سلیم الطاف نے اخبار کو بتایا کہ ’اس واقعے نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا کیونکہ تب تک کھلاڑی انڈیا میں ملنے والی محبت اور مہمان نوازی سے بہت مطمئن تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا، پاکستان کرکٹ تعلقات
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سنہ 1947 کے بعد سے پاکستان نے پانچ برس تک کوئی بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیلی۔ سنہ 1952 میں پاکستان نے انڈیا کا دورہ کیا، جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا گیا۔ یہ دورہ کامیاب رہا تھا۔
کلکتہ (موجودہ کولکتہ) میں ایک انتہا پسند ہندو گروہ کی جانب سے ٹیسٹ میچ کے بائیکاٹ کی کوششیں ناکام ہوئی تھیں اور بڑی تعداد میں شائقین میچ دیکھنے کے لیے آئے تھے۔
انڈیا نے پانچ ٹیسٹ میچوں کی یہ ابتدائی سیریز 2-1 سے جیت لی تھی۔
ابتدائی برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان کئی سیریز بے رنگ رہیں اور ڈرا پر ختم ہوئیں، جن میں سنہ 1960-61 کی انڈیا میں کھیلی گئی سیریز بھی شامل ہے۔ سنہ 1965 اور 1971 کی جنگوں کے بعد تعلقات مزید خراب ہوئے اور دونوں ٹیموں نے 17 برس تک ایک دوسرے کے خلاف نہیں کھیلا۔
بالآخر سنہ 1978 میں سفارتی نرمی کے بعد انڈیا نے پاکستان کا دورہ کیا اور کرکٹ روابط بحال ہوئے۔
اگلے دو عشروں تک دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف کھیلتی رہیں، مگر پھر انڈیا نے کشمیر میں شورش کو ہوا دینے کا الزام لگا کر کھیلنے سے انکار کر دیا، جس کی پاکستان نے تردید کی۔ کارگل تنازع کے بعد ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہوئی اور 2003-2004 میں انڈین ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کا سنہ 2005 میں ہونے والا دورہ پچھلے چھ سال میں پہلی بار ہو رہا تھا۔ پچھلی دفعہ پاکستانی ٹیم سنہ 1999 میں انڈین وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی کے پاکستان دورے کے بعد انڈیا گئی تھی۔
پتھراؤ کے باوجود دورہ جاری رہا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پتھر حملے کے نتیجے میں پاکستان ٹیم نے دورہ تو جاری رکھا البتہ اپنا پریکٹس سیشن منسوخ کر دیا۔
ٹیم منیجر سلیم الطاف کا کہنا تھا کہ ’ہمیں تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل کی تیاری کے لیے نیٹ سیشن کرنا تھا، لیکن اس واقعے کے بعد انضمام نے مشورہ دیا کہ نیٹس منسوخ کر دیے جائیں اور کھلاڑیوں کو پورا دن آرام دیا جائے۔‘
خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی اُس وقت شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی ٹیم کی بس پر پتھر پھینکنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔
الطاف نے کہا کہ ’میں یہی سمجھنا چاہوں گا کہ یہ ایک انفرادی واقعہ تھا، ہم نے اضافی سکیورٹی کا مطالبہ نہیں کیا۔ ہم اسے بھلا کر کھیل پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔‘
اور پھر ایسا ہی ہوا۔
حملے کے بعد تمام میچ پاکستان نے جیتے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چھ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سیریز میں تیسرا میچ جمشید پور کے کینن سٹیڈیم میں کھیلا گیا۔
اس سٹیڈیم کے بارے میں ’کرِک اِنفو‘ کے ایس راجیش لکھتے ہیں کہ دالما پہاڑیوں کے پس منظر اور ٹاٹا سٹیل کے کارخانوں کی چمنیوں کے درمیان واقع، کینن سٹیڈیم کو اپنا پہلا بین الاقوامی میچ 1983-84 میں ملا، جب کلائیو لائیڈ کی ویسٹ انڈیز ٹیم ورلڈ کپ فائنل میں شکست کے بعد ’مشن ریونج‘ (بدلے کے مشن ) پر تھی۔
’یہاں گورڈن گرینج اور ویوین رچرڈز نے اپنی 221 رنز کی شاندار شراکت کے دوران میں بارہا گیند کو چھوٹی گراؤنڈ سے باہر سڑک تک پہنچایا۔‘
راجیش کے مطابق ’یہ گراؤنڈ اپنی مضبوط وکٹ اور سرسبز آؤٹ فیلڈ کے لیے بھی جانا جاتا ہے، تاہم مہمان ٹیموں کے لیے یہاں کے تماشائیوں کا رویہ ہمیشہ خوشگوار نہیں رہا — ایک سے زیادہ مواقع پر ان کے ہنگامہ خیز رویے کے باعث میچ عارضی طور پر روکنا پڑا۔‘
نو اپریل کو تیسرے ایک روزہ میچ میں پاکستان نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 319 رنز کا بڑا مجموعہ کھڑا کیا، جس میں سلمان بٹ کی 101 رنز کی شاندار اننگز نمایاں رہی۔
جواب میں انڈیا کی ٹیم 213 رنز پر 41.4 اوورز میں ڈھیر ہو گئی۔ عرفان پٹھان نے 64 رنز بنا کر کچھ مزاحمت دکھائی، مگر پاکستانی باؤلر رانا نوید الحسن نے تباہ کن باؤلنگ کرتے ہوئے 8.4 اوورز میں صرف 27 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان نے یہ میچ 106 رنز سے جیت لیا اور رانا نوید الحسن کو ان کی شاندار کارکردگی پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔
پاکستان نے 12 اپریل کو احمد آباد میں کھیلے گئے چوتھے ون ڈے میں تین وکٹوں سے اور 15 اپریل کو کانپور میں پانچویں ون ڈے میں پانچ وکٹوں سے کامیابی اپنے نام کی۔
سیریز کا چھٹا اور آخری ون ڈے میچ 17 اپریل کو دلی میں کھیلا گیا، جہاں پاکستان نے یک طرفہ مقابلے کے بعد انڈیا کو 159 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دی۔
دلی میں ہوئے میچ میں تب انڈین وزیراعظم من موہن سنگھ کی دعوت پر تب پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف بھی موجود تھے۔
کچھ روز پہلے انڈیا کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے لوک سبھا، یعنی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات ’آگے بڑھ رہے ہیں‘ اور انھوں نے پاکستان کے صدر پرویز مشرف کو جاری کرکٹ سیریز کے دوران انڈیا کے دورے کی دعوت دی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’برصغیر کے لوگوں کو کوئی چیز اتنا قریب نہیں لاتی جتنا کرکٹ اور بالی وڈ سے ہماری مشترکہ محبت۔‘
مشرف اپنی کتاب ’اِن دی لائن آف فائر‘ میں لکھتے ہیں کہ پاکستان کے سٹار بلے باز شاہد آفریدی نے انڈین باؤلرز کی تقریباً ہر گیند کو زبردست انداز میں کھیلا۔
’اُن کے کئی شاٹس سیدھے ہمارے وی آئی پی انکلوژر کی طرف آئے۔ ایک عام کرکٹ شائق کی طرح میرا دل چاہتا تھا کہ اپنی نشست سے اچھل کر تالیاں بجاؤں اور شور مچاؤں، مگر میزبانوں کے احترام میں مجھے اپنے جذبات پر قابو رکھنا پڑا۔‘
’میچ ختم ہونے سے پہلے ہی ہم اپنی بات چیت کے لیے روانہ ہو گئے۔ باضابطہ ون آن ون ملاقات کے دوران میں نے وزیر اعظم کو تجویز دی کہ ہم میچ کے آخری گھنٹے کے لیے واپس چلیں اور انعامات کی تقسیم میں بھی شریک ہوں۔ سکیورٹی خدشات کے باوجود میں نے انھیں آمادہ کر لیا۔‘
’لیکن جیسے جیسے ملاقات جاری رہی، میرا عملہ بتاتا رہا کہ کیسے انڈیا کی پوری ٹیم کھیل ختم ہونے سے کافی پہلے آؤٹ ہو گئی۔ میں نے وزیراعظم سنگھ کو اپنی اندرونی خوشی کو چھپاتے ہوئے بتایا کہ انڈین ٹیم کی بیٹنگ ناکام ہو چکی ہے اور اب سٹیڈیم واپس جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘
’البتہ، ہماری ون آن ون گفتگو نہایت نتیجہ خیز رہی۔‘
اس کے بعد چار برس تک ہر سال دورے ہوتے رہے، یہاں تک کہ سنہ 2008 کے ممبئی حملوں نے دوطرفہ کرکٹ کو دوبارہ روک دیا۔
اس دوران میں واحد استثنا سنہ 2012-2013 میں پاکستان کا انڈیا کا دورہ تھا، جہاں اس نے پانچ میچوں کی سیریز 3-2 سے جیتی۔
انڈین مؤرخ مکل کیسوان نے لکھا کہ ’کرکٹ کی دنیا میں اس طرح کے پیچیدہ اور اتار چڑھاؤ والے تعلق کی مثال ملنا مشکل ہے۔‘
’کرکٹ ان دی ٹوینٹی فرسٹ سینچری‘ میں لکھا ہے کہ دلیل دی جاتی ہے کہ باقاعدگی سے ایک دوسرے کے خلاف کھیلنا کشیدگی کو کم کرے گا بلکہ آنے والے برسوں میں واقعی اس میں کمی آئی بھی— وہ کشیدگی جو عموماً دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے نایاب کرکٹ مقابلوں کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔
’اگر دونوں ممالک باقاعدگی سے کرکٹ کھیلیں، جیسا کہ 2004 سے 2007 کے درمیان باہمی دوروں میں دکھائی دیا، تو شاید کرکٹ جنگ کی علامت کی بجائے امن کا ذریعہ بن جائے۔‘



























