لائیو, آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، مشرقِ وسطیٰ تنازع سفارتی ذرائع کے ذریعے حل کیا جائے: چین اور فرانس کا فریقین کو مشورہ
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’چین اس بات کی اُمید کرتا ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے گی، تنازعات کو دوبارہ بھڑکانے کے بجائے سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے گا۔‘ دوسرے جانب فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کا کہنا ہے کہ سفارتی ذرائع کے ذریعے جلد از جلد ایک مضبوط اور دیرپا حل تک پہنچنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔
خلاصہ
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ 'چین اس بات کی اُمید کرتا ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے گی، تنازعات کو دوبارہ بھڑکانے کے بجائے سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے گا۔'
فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کا کہنا ہے کہ 'سفارتی ذرائع کے ذریعے جلد از جلد ایک مضبوط اور دیرپا حل تک پہنچنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔'
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ جلد ہی ان تمام جہازوں کی 'ناکہ بندی' شروع کرے گا جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود معاہدہ نہیں ہو سکا ہے
ایرانی حکام کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز سے اب تک 3300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
لائیو کوریج
امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو روکنے اور قبضے میں لیے جانے کا خطرہ: رائٹرز
امریکہ نے
خبردار کیا ہے کہ جو جہاز امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کریں گے، انھیں ’روکنے،
موڑنے اور قبضے میں لیے جانے جیسے معاملات کا‘ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ اطلاع
خبر رساں ادارے رائٹرز نے امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) کے ایک بیان کے حوالے سے دی
ہے۔
بیان کے
مطابق امریکی فوج خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں بحری
ناکہ بندی کرنے جا رہی ہے۔ یہ اقدام تمام جہازوں پر لاگو ہوگا خواہ وہ کسی بھی ملک
کے پرچم تلے سفر کر رہے ہوں۔
سینٹکام نے
متنبہ کیا ہے کہ ’بغیر اجازت ناکہ بندی والے علاقے میں داخل یا وہاں سے والے
جہازوں کو روکنے، موڑے جانے اور قبضے میں لیے جانے‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بیان میں
مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ ناکہ بندی کا آغاز 14:00 جی ایم ٹی (15:00 بی ایس ٹی)
پر ہوگا۔
رپورٹ کے
مطابق بیان میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ ’یہ ناکہ بندی غیر جانبدار جہازوں کی
آبنائے ہرمز کے راستے غیر ایرانی مقامات تک آمد و رفت میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔‘
امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات حل کروانے کی کوششیں جاری ہیں: شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہPTV
وزیراعظم
پاکستان شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ’47 سال میں یہ پہلا موقع تھا کہ امریکہ اور
ایران باضابطہ طور پر ہماری درخواست پر پاکستان تشریف لائے اور دونوں وفود نے آمنے
سامنے بیٹھ کر بات چیت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی، معاشی
اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے بعد اُن کا کہنا تھا کہ
’میں دونوں مُمالک کے سربراہان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکر گُزار ہوں۔‘
’ہم شکر
گُزار ہیں کہ دونوں اطراف سے اس ملاقات سے قبل دو ہفتے کی جنگ بندی پر بھی اتفاق
کیا گیا اور پھر 11 اپریل کو دونوں مُمالک کے وفود اسلام آباد آئے۔‘
کابینہ
اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان خطے میں
پائیدار امن کے لیے کردار جاری رکھےگا، امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات حل کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔‘
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان کی ہی کوششیں ہیں کہ دونوں جانب سے جنگ
بندی اب بھی قائم ہے اور اس وقت بھی جو معاملات رکاوٹ کا شکار ہیں اُن کو حل
کروانے کے لیے بھی کوشش جاری ہے۔ اسی لیے میں سمجھتا ہوں کے اسلام آباد مذاکرات
ایک تاریخی واقعہ ہے۔‘
انھوں نے
کہا کہ ’پاکستان کو وہ عزت ملی جو تاریخ میں کسی کسی کو ملتی ہے، پاکستان کو
جنگ کے بادلوں کو امن میں بدلنے کا موقع ملا، ایران اور امریکہ کے درمیان 21 گھنٹے
مذاکرات ہوئے، جب پوری دنیا کی معیشت ہچکولے کھارہی تھی تو ایسے میں پاکستان کو
ثالثی کا موقع ملا، آج جاپان کی وزیراعظم نے کہا کہ آپ شاندار کردار ادا کر
رہے ہیں۔‘
وزیراعظم نے
نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا
اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی ٹیم کو بھی مبارکباد پیش کی اور خراج
تحسین پیش کیا۔
ان کا کہنا
تھا کہ ’ایران اور امریکہ کے وفود نے الگ الگ لیکن مشترکہ باتیں کیں، پاکستان
کا شکریہ ادا کیا۔‘
ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے ذریعے امریکہ ایک نیا خطرہ مول لے رہا ہے, بی بی سی کے سکیورٹی امور کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہReuters
ایران کی
بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا مطلب ہے کہ امریکہ پہلے سے زیادہ خطرناک قانونی، عسکری
اور اقتصادی صورتحال میں داخل ہونے جا رہا ہے۔ یہ اقدام ممکن ہے لیکن اس میں بے
شمار خطرات موجود ہیں۔
امریکی
بحریہ کے جنگی جہاز بندر عباس یا جاسک کی بندرگاہوں کے قریب کھڑے نہیں ہوں گے،
کیونکہ یہ ڈرون، میزائل یا تیز رفتار ’کامی کازی‘ کشتیوں کے نشانے پر ہوں گے اور
خطرناک حملے کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔
اس کے بجائے
امریکی فوج کا مشرقِ وسطیٰ میں ذمہ دار ادارہ ’سینٹکام‘ سیٹلائٹ اور دیگر انٹیلی
جنس ذرائع استعمال کرے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کون سے جہاز ایرانی
بندرگاہوں سے نکلے ہیں اور وہ کس کے ملکیت ہیں اور اُن کا رخ کس جانب ہے۔
چاہے ان
جہازوں کے اے آئی ایس یعنی آٹومیٹک آئیڈینٹیفیکیشن سسٹم ٹرانسپونڈر بند بھی ہوں،
امریکی جنگی جہاز نسبتاً محفوظ فاصلے پر رہتے ہوئے انھیں خلیج عمان میں داخل ہوتے
ہی شناخت کر کے روک سکیں گے۔
ایران نے اس
دھمکی کو سمندری قزاقوں کی کارروائی سے تشبیح دی ہے، یعنی وہی الزام جو اس پر
آبنائے ہرمز کو محدود کرنے پر لگایا گیا تھا۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے دھمکی دی ہے
کہ وہ پڑوسی خلیجی عرب بندرگاہوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔
اس کے ساتھ
ایران کے اتحادیوں، چین اور روس، کا سوال بھی اٹھتا ہے۔ کیا امریکہ اس بات کے لیے
تیار ہوگا کہ کسی چینی ملکیت والے جہاز یا کارگو کو روک کر قبضے میں لے؟ اور اگر
چین، جس کا فوجی اڈہ جیبوتی میں قریب ہی موجود ہے، فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اپنے
جہازوں کو مسلح بحری سکواڈ کے ساتھ تحفظ فراہم کرے تو پھر صورتحال کیا رخ اختیار
کرے گی؟
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی چین کی توانائی اور تجارت کے لیے بڑا خطرہ کیوں ہے؟, بی بی سی چائینیز کی نامہ نگار لورا بیکر کا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کی دھمکی کے بعد چینی حکومت
نے تمام فریقوں سے تحمل اور ضبط کی اپیل کی ہے۔
چین نے اس
بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس نے تہران کو پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات میں
شرکت پر آمادہ کرنے میں کوئی کردار ادا کیا، تاہم یہ واضح ہے کہ بیجنگ اس جنگ کے
خاتمے کا خواہاں ہے اور یہ خواہش ایرانی تیل کی ضرورت کی وجہ سے نہیں ہے، کیونکہ
ایران چین کو صرف تقریباً 13 فیصد خام تیل فراہم کرتا ہے۔ چین ضرورت پڑنے پر دیگر
ذرائع سے یہ سپلائی حاصل کر سکتا ہے اور اپنی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔
چین کی نظر
میں اس وقت اصل اہمیت آبنائے ہرمز کی ہے جو سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات
سمیت دیگر خلیجی ممالک سے توانائی کی فراہمی کا کلیدی اور اہم آبی راستہ ہے۔
مشرقِ وسطیٰ
حالیہ برسوں میں چین کے لیے زیادہ اہم ہو گیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب بیجنگ کو
واشنگٹن کے ساتھ تجارتی جنگ کا سامنا تھا۔ سنہ 2025 میں چین کی مشرقِ وسطیٰ کو
برآمدات دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے بڑھیں۔
یہی اصل میں
چینی مفادات ہیں۔ اس کی معیشت دنیا بھر کے ممالک کو اشیاء کی فروخت پر انحصار کرتی
ہے اور عالمی عدم استحکام بیجنگ کے لیے سنگین تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
صدر شی جن
پنگ بھی نہیں چاہیں گے کہ امریکہ اس سٹریٹجک آبی گزرگاہ کی نگرانی میں کوئی کردار
ادا کرے۔
یہ صورتحال
بیجنگ پر مزید اقدامات پر غور کرنے کا دباؤ ڈال سکتی ہے، لیکن چین کی دیرینہ
پالیسی عدم مداخلت رہی ہے اور اب تک وہ ایران کی طویل مدتی سلامتی کے لیے کسی قسم
کی ضمانت دینے میں دلچسپی لیتا ہوا نظر نہیں آتا۔
چلاس میں پوست کی فصل تلف کرنے والی پولیس ٹیم پر حملہ، تین اہلکار ہلاک، چار زخمی: حکام, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے گلگت
بلتستان کے علاقے چلاس میں نامعلوم افراد کی پولیس اہلکاروں پر فائرنگ سے تین پولیس
اہلکار ہلاک جبکہ ایک ڈی ایس پی سمیت چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
گلگت بلتستان
حکومت کے ترجمان شبیر میر کے مطابق پولیس اہلکار اس علاقے میں پوست کی فصل تلف کرکے
واپس آ رہے تھے جس وقت ان پر یہ حملہ ہوا۔ واضح رہے کہ اس علاقے میں پوست کی فصل کو
تلف کرنے کا سلسلہ گزشتہ چند روز سے جاری ہے۔
یہ واقعہ سوموار
کے روز کی دوپہر ایک بج کر 50 منٹ پر چلاس کے علاقے ’تھور سری‘ میں پیش آیا۔ گلگت بلتستان
حکومت کے مطابق پولیس اہلکار اس علاقے میں پوست کی فصل تلف کرکے واپس آ رہے تھے کہ
جب پانچ سے چھ افراد نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ پولیس کی جانب سے مزید یہ
بھی بتایا گیا ہے کہ حملہ آوروں جدید ہتھیاروں سے لیس تھے۔
اس واقعے کے
بعد دیامر سے پولیس حکام موقع پر پہنچے جو حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے قائم ٹیموں
کی قیادت کر رہے ہیں اور علاقے میں سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پولیس ٹیم پر حملے کے واقعے کی مذمت کی ہے اور اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
چلاس کے علاقے میں پولیس پر حملے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات پیش آچُکے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس علاقے میں مسلح گرہ موجود ہیں جو اپنے آپ کو مسلح تنظیموں سے جوڑتے ہیں۔ اس علاقے میں سرکاری گاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔
دیامر پولیس کی جانب سے گزشتہ روز ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی جس میں پولیس اہلکاروں کو پوست کی فصل تلف کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’تھور ویلی‘ میں پوست کی کاشت کے خلاف گرینڈ آپریشن کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے لیے بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
تھور ویلی کے مقامی رہائشی جعفر فیصل نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’جس جگہ یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا وہ ہمارے گھر سے چند کلومیٹر دور ہے اور وہ اس وقت اپنے گھر میں موجود تھے کہ ایک فون کال پر ہمیں یہ بتایا گیا کہ ویلی میں کوئی مسئلہ ہوا ہے جب ہم جائے وقوعہ پر پہنچے تو وہاں پولیس اہلکاروں کی لاشیں پڑی تھیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم سے پہلے بھی کچھ مقامی لوگ وہاں پہنچ کر زخمیوں کو ہسپتال پہنچا چکے تھے۔ ہم نے ایک لاش کو اٹھایا اور پیدل روانہ ہو گئے۔ اس علاقے میں حالات کی وجہ سے کوئی گاڑی دستیاب نہیں تھی۔‘
جعفر فیصل نے بتایا کہ ’کچھ پولیس اہلکار اس وقت وہاں مسجد میں موجود تھے انھیں بھی ہم اپنے ساتھ لے کر ہسپتال آئے۔‘
تھور کا ہسپتال جائے وقوعہ سے کوئی 20 یا 30 منٹ پیدل مسافت پر واقع ہے۔ تھور ہسپتال سے پھر زخمیوں کو چلاس ہسپتال گاڑیوں میں منتقل کیا گیا۔
اسرائیل امریکہ کے ایرانی بندرگاہوں کے فیصلے کی حمایت کرے گا: نیتن یاہو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنیامن نیتن
یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف بحری محاصرے
یا ناکہ بندی کے فیصلے کی حمایت کرے گا۔
نتین یاہو کا
مزید کہنا تھا کہ امریکہ کے نائب صدر اول جی ڈی ونس نے پاکستان چھوڑنے کے بعد انھیں
ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا، جو بے نتیجے رہے۔
واضح رہے کہ
امریکی مرکزی کمان نے اعلان کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر خلیج فارس اور بحیرہ
عمان میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد شروع کر دی جائے
گی۔
دوسری جانب ایران
نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب کسی بھی فوجی جہاز کی موجودگی کو جنگ
بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
روس امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی صورت میں افزودہ یورینیم وصول کرنے کے لیے تیار ہے: کریملن
،تصویر کا ذریعہReuters
کریملن نے پیر کے روز اعلان کیا
ہے کہ روس امریکہ کے ساتھ کسی ممکنہ امن معاہدے کے تحت ایران کے افزودہ یورینیم کو
وصول کرنے کے لیے تیار ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے
ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ صدر ولادیمیر پوتن نے یہ تجویز امریکہ اور خطے کے
دیگر ممالک کے ساتھ رابطوں کے دوران پیش کی تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ پیشکش اب
بھی موجود اور قابلِ عمل ہے تاہم اس پر کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔
لبنان میں تازہ حملوں کے جواب میں حزب اللہ کا اسرائیلی فوجوں پر ڈرون حملہ
،تصویر کا ذریعہReuters
حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں
نے اسرائیل کے شہر شلومی میں اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون حملے کیے
ہیں۔ اس واقعے کے بعد اسرائیل نے علاقے میں فضائی حملوں کا الرٹ جاری کیا ہے۔
امریکی دھمکیوں کے تناظر میں جن
میں ایران کی بندرگاہوں پر ممکنہ ناکہ بندی شامل ہے مشرقِ وسطیٰ میں لڑائی جاری
ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تازہ
بیان میں کہا ہے کہ اس کی فورسز نے جنوبی لبنان میں کارروائیاں مزید وسیع کر دی
ہیں۔ فوج کے مطابق بنت جبیل میں ایک حملے کے دوران حزب اللہ کے 100 جنگجو ہلاک
ہوئے جبکہ علاقے سے سیکڑوں ہتھیار بھی برآمد کیے گئے۔
مشرقِ وسطیٰ کے تمام بنیادی مسائل کے مستقل حل تلاش کیے جائیں: صدر ایمانویل میکخواں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کا
کہنا ہے کہ ’سفارتی ذرائع کے ذریعے جلد از جلد ایک مضبوط اور دیرپا حل تک پہنچنے
کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔‘
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ
ایسا تصفیہ خطے کو ایک مستحکم فریم ورک فراہم کرے گا، جس کے تحت تمام فریق امن اور
سلامتی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
صدر میکخواں کا ایکس پر جاری بیان
میں مزید کہنا تھا کہ ’اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ تمام بنیادی مسائل کے مستقل حل
تلاش کیے جائیں، جن میں ایران کی جوہری اور بیلسٹک سرگرمیوں، خطے میں اس کے عدم
استحکام پیدا کرنے والے اقدامات، آبنائے ہرمز میں آزاد اور بلا تعطل جہاز رانی کی
فوری بحالی اور لبنان کی مکمل خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کے ساتھ امن
کی راہ پر واپسی شامل ہیں۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فرانس اس
سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، جیسا کہ وہ تنازع کے آغاز
سے ہی کرتا آیا ہے۔‘
آبنائے ہرمز کے حوالے سے صدر کا
کہنا تھا کہ ’آئندہ چند روز میں برطانیہ کے ساتھ مل کر ایک کانفرنس منعقد کی جائے
گی، جس میں وہ ممالک شریک ہوں گے جو ایک پُرامن، کثیر القومی مشن میں تعاون کے لیے
تیار ہیں۔ اس مشن کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی بحالی ہے۔ یہ مشن
مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہوگا اور تنازع کے فریقین سے الگ رہے گا اور حالات
سازگار ہوتے ہی تعینات کیا جائے گا۔‘
تنازعات کو دوبارہ بھڑکانے کے بجائے سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے: چینی وزارتِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہ@MFA_China
چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کشیدگی میں کمی کی جانب ایک
اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان
نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’چین اس بات کی اُمید کرتا ہے کہ جنگ بندی
برقرار رہے گی، تنازعات کو دوبارہ بھڑکانے کے بجائے سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل
کیا جائے گا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’چین اس
بات کا خواہش مند ہے کہ خلیجی خطے میں جلد امن کی بحالی کے لیے سازگار حالات پیدا
ہوں گے۔‘
ہنگو میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ، ایک پولیس اہلکار ہلاک اور چار زخمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں نا معلوم افراد نے انسداد پولیو ٹیم پر حملہ کیا ہے جس میں ایک اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جس میں دو حملہ آوروں کی ہلاکت کی اطلاع ہے لیکن ان کی لاشیں حملہ آور ساتھ لے گئے ہیں۔
ہنگو پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ یہ حملہ ہنگو کے علاقے چھپری وزیران میں پیش آیا ہے ۔ پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں نے پولیس پارٹی پر اچانک فائرنگ کی ہے جس میں پانچ پولیس اہلکاروں کو زخم آئے ہیں ان میں ایک اہلکار کی جان چلی گئی ہے۔
ڈی آئی جی کوہاٹ عرفان طارق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے شدت پسندوں کا بھرپور مقابلہ کیا ہے جس کے نتیجے میں دو شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
ایسی اطلاع ہے کہ اس علاقے میں انسداد پولیو مہم جاری تھی جس کے لیے پولیس بھی تعینات کی گئی تھی۔
پولیس ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز مزید سدت پسندوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ ہنگو میں جاری پولیو مہم معمول کے مطابق جاری رہے گی اور شدت پسند قوم کے حوصلے ہرگز پست نہیں کر سکتے۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع ہنگو میں انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ کا نوٹس لیا ہے اور انسپکٹر جنرل پولیس سے اس بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیر اعلی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی فریضے پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنانا انتہائی بزدلانہ فعل ہے۔
وزیر اعلیٰ کی زخمی پولیس اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
آبنائے ہرمز میں ایران کی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی میں برطانیہ شامل نہیں ہوگا
بی بی سی کو علم ہوا ہے برطانیہ ایران کی بندرگاہوں کے خلاف امریکی فوجی ناکہ بندی کے نفاذ میں حصہ نہیں لے گا۔
برطانوی بحری جہاز اور فوجی اہلکار ایرانی بندرگاہوں کو روکنے کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے، تاہم برطانیہ کے بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز اور اینٹی ڈرون صلاحیتیں خطے میں اپنا کام جاری رکھیں گی۔
برطانوی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ہم جہازرانی کی آزادی اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں، جو عالمی معیشت اور ملک میں زندگی گزارنے کے اخراجات کے لیے نہایت ضروری ہے۔‘
ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کا مقصد ایران کو تیل فروخت کرنے سے روکنا ہے
دفاعی تجزیہ کار جسٹن کرمپ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا منصوبہ ایران کی جنگ میں مزید شدت کا باعث بنے گا اور یہ ’امن معاہدہ حاصل نہ ہونے پر ٹرمپ کے غصے‘ کی عکاسی کرتا ہے۔
بی بی سی بریک فاسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کرمپ نے کہا کہ ان تجاویز کے نتیجے میں ایران اپنے خریداروں، جیسے چین، کو تیل فروخت نہیں کر سکے گا، جس سے ایران پر دباؤ بڑھے گا۔
کرمپ کا خیال ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک دوسرے پر برتری ہے، اور دونوں فریق ’یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اصل میں وہی جیتے ہیں تاکہ دوسرے کو نیچے لایا جا سکے‘۔
ان کے مطابق اس سے کشیدگی اور خلل میں اضافہ ہوتا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اختتامِ ہفتہ ہونے والی بات چیت میں ایک ’مثبت پہلو‘ موجود تھا، چاہے وہ کسی حل تک نہ پہنچی ہو۔
انھوں نے کہا، ’کافی گفتگو ہوئی، جو اچھی بات ہے۔ اگر بات کرنے کو کچھ نہ ہوتا تو یہ بہت جلد ختم ہو جاتا۔‘
لداخ کے شناختی کارڈ میں ترمیم، سٹیٹ کے خانے میں جموں کشمیر کی جگہ لداخ درج ہوگا, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے مشرقی خطے لداخ کے باشندوں کی شناخت اب کشمیر نہیں بلکہ لداخی کے طور ہوگی۔
پیر کے روز انڈیا کے یُونیک آئیڈنٹفکیشن اتھارٹی آف انڈیا نے اپنے ڈیٹا بیس میں لداخیوں کے شناختی کارڈ ’آدھار‘ میں اب ریاست کی جگہ جموں کشمیر کی بجائے اب لداخ لکھا جائے گا۔
اس فیصلے پر لداخ کے سیاسی و سماجی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کرکے لداخ کو باقاعدہ ریاستی درجہ دینے کا مطالبہ دوہرایا ہے، تاہم آر ایس ایس کی حامی جماعت شِوسینا نے اسے ’جموں کشمیر کی جغرافیائی اور ثقافتی وحدت کے خلاف سازش‘ قرار دیا ہے۔
واضح رہے 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے وقت لداخ کو کشمیر سے الگ کرکے علیٰحدگہ خطہ بنایا گیا جس کا انتظام براہ راست نئی دلی کے ہاتھ میں ہوگا۔
لداخ انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق، لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کی ذاتی مداخلت کے بعد یہ دیرینہ مسئلہ حل ہوا ہے۔ اس سے پہلے لداخ کا پن کوڈ ڈالنے پر بھی ریاست کے خانے میں جموں و کشمیر ہی ظاہر ہوتا تھا، جس سے لداخی عوام کو شناختی دستاویزات اور سرکاری مراعات حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
اب عوام کو انفرادی طور پر آدھار سینٹرز پر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ ڈیٹا بیس میں خودکار طریقے سے یہ تبدیلی کر دی گئی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
شِو سینا کا سخت ردعمل
جہاں لداخ کی انتظامیہ اس فیصلے کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے، وہیں جموں میں شیو سینا (یو بی ٹی) نے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور اسے دونوں خطوں کے درمیان دوری پیدا کرنے کی گہری سازش قرار دیا ہے۔
جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیو سینا جموں و کشمیر یونٹ کے صدر منیش ساہنی نے اس فیصلے کی سخت مذمت کی۔
ساہنی نے الزام لگایا کہ ’مرکزی حکومت نے پہلے جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ چھینا، اسے ریاست سے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنایا، اور اب وہ سرکاری کاغذات پر لکیریں کھینچ کر لوگوں کے دلوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘
شِو سینا کے رہنما نے مزید کہا کہ، ’لداخ اور جموں و کشمیر کا رشتہ محض جغرافیائی نہیں ہے، بلکہ یہ صدیوں پرانی مشترکہ ثقافت، روایات، تجارت اور بھائی چارے پر مبنی ہے۔ کسی بھی نوکر شاہی کے فیصلے سے اس رشتے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔‘
انھوں نے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کو فوری طور پر مکمل ریاست کا درجہ بحال کیا جائے اور یہاں کے لوگوں کی زمین، ملازمت اور ثقافتی شناخت کو تحفظ دینے کے لیے آئین کے آرٹیکل 371 کے تحت خصوصی دفعات نافذ کی جائیں۔
اگرچہ لداخ کی مقامی اور بی جے پی نواز قیادت نے اس فیصلے کو انتظامی سہولت اور لداخی خود مختاری کی علامت کے طور پر خوش آئند قرار دیا ہے، لیکن جموں و کشمیر کی مقامی اور لداخ کی چند اہم اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کی تنقید کی ہے۔
حکمراننیشنل کانفرنس کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ ’ حکومت ایسے علامتی اقدامات کے ذریعے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا چاہتی ہے۔ اصل مسئلہ لداخ اور جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے جمہوری حقوق، ریاستی درجہ، اور زمین و ملازمت کے تحفظ کی ضمانت دینا ہے جو 5 اگست 2019 کو چھین لیے گئے تھے۔‘
اپوزیشن رہنمامحبوبہ مفتی کی جماعت پی ڈی پی نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت مسلسل ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے جموں، کشمیر اور لداخ کے عوام کے درمیان نفسیاتی اور جغرافیائی لکیریں مزید گہری ہو جائیں۔
آبنائے ہرمز ایران کے لیے ’جوہری بم‘ سے بھی زیادہ مؤثر ہتھیار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے دوران ہر جانب آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بازگشت رہی۔
40 روزہ لڑائی کے دوران ایران کے جوہری ہتھیاروں یا اس کی جوہری صلاحیت سے زیادہ اس کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو روکنے کا معاملہ زیرِ بحث رہا۔
جنگ کے آغاز پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ ایران کے اہم مقامات اور رہنماؤں کو نشانہ بنا کر اسے حکومت کی تبدیلی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایران نے امریکہ کے خلیجی اتحادیوں پر میزائل اور ڈرون سے حملے کر کے جواب دیا۔
لیکن جیسے جیسے لڑائی میں تیزی آئی، ایران نے خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے ملانے والی تنگ آبی گزرگاہ کے ذریعے سمندری ٹریفک میں خلل ڈالنے کی طرف اپنی توجہ مرکوز کر لی۔
اس اقدام نے جلد ہی امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل کے بلاتعطل بہاؤ پر انحصار کرتے ہیں۔
تو ایران مستقبل میں آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے لے مزید کیا کر سکتا ہے؟
آبی گزرگاہ کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز سے سختی سے نمٹا جائے گا: ایرانی بحریہ
ایران نے امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی کرنے کے اپنے ارادے کے اعلان پر متعدد ردعمل جاری کیے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ اور ایران پاکستان میں امن مذاکرات کے دوران ایک معاہدے تک پہنچنے کے ’بہت قریب‘ تھے، لیکن تہران نے ’زیادہ مطالبات، بدلتے ہوئے حالات اور ناکہ بندی‘ کے بارے میں بیان کیے جانے پر حیرانی کا اظہار کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا جانے کی کوشش کرنے والے ’کسی بھی جہاز‘ پر ناکہ بندی عائد کرنے کی دھمکی کے جواب میں، ایرانی بحریہ نے کہا کہ آبی گزرگاہ کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز سے ’انتہائی سختی‘ سے نمٹا جائے گا۔
ناکام مذاکرات کے بعد عالمی معیشت کے حوالے سے بڑھتے خدشات, سورنجنا تیواری، ایشیا بزنس رپورٹر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امن مذاکرات کے خاتمے اور اس کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے عالمی معیشت کو ایک اور جھٹکا دیا ہے۔
بنیادی تشویش رسد کے بارے میں ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازرانی میں خلل جاری رہا تو روزانہ بیس لاکھ بیرل تک تیل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
جہازرانی کے اعداد و شمار پہلے ہی ظاہر کر رہے ہیں کہ ٹینکرز کی آمد و رفت نہایت کم ہو گئی ہے، اور امریکہ کی مجوزہ ناکہ بندی کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
اس صورتحال نے قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے اور توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بڑھا دیا ہے۔
وسیع تر معیشت پر اس کے اثرات نسبتاً براہِ راست ہیں۔ تیل کی بلند قیمتیں نقل و حمل، خوراک اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں شامل ہو کر مہنگائی بڑھاتی ہیں اور گھریلو بجٹ پر دباؤ ڈالتی ہیں۔
بہت سے بڑے مرکزی بینکوں نے حال ہی میں ہی بلند شرحِ سود سے ہٹنا شروع کیا ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو انھیں شرحِ سود میں کمی مؤخر کرنا پڑ سکتی ہے۔
یورپ اور ایشیا کے بیشتر ممالک، جو درآمدی توانائی پر انحصار کرتے ہیں، میں ترقی اور اخراجات پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ برآمد کنندگان طلب میں کمی پر تشویش کا شکار ہیں۔
منڈیاں پہلے ہی کمزور حصص، بلند تیل کی قیمتوں اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ردِعمل دے رہی ہیں، یہ امتزاج سست ترقی کے ساتھ بلند مہنگائی کے خدشات کو جنم دیتا ہے۔
ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی سے امریکہ اور اسرائیل کو کیسے حیران کیا؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
28 فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملوں کا آغاز کیا تھا، تو اس وقت بنیادی سوال یہی تھا کہ یہ جنگ کب تک جاری رہے گی؟
پھر معاملہ دنوں سے ہفتوں اور اب مہینوں پر محیط ہوتا نظر آ رہا ہے اور بظاہر یہ جنگ ختم ہونے کی کوئی واضح ڈیڈ لائن موجود نہیں ہے۔ اس جنگ کے آغاز کے بعد سے وہ تمام چیزیں ہوئیں جن کی ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید امید نہیں کی تھی۔
جیسے جیسے یہ جنگ طوالت اختیار کر رہی ہے امریکہ اور اسرائیل بین الاقوامی تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس تنازع کے خلاف خود امریکہ میں بھی بڑے مظاہرے ہوئے ہیں۔
تو کیا اس پس منظر میں ایران اپنی جنگی حکمت عملی اور سفارتکاری کے ذریعے کسی حد تک امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ماحول بنانے میں کامیاب رہا ہے؟
اگر امریکہ نے ہمارے ارادوں کا دوبارہ امتحان لیا تو وہ بڑا سبق سیکھے گا: قالیباف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اہم رکن محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے حکم کے ردعمل میں کہا ہے کہ ’ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کا ایرانی قوم پر کوئی اثر نہیں ہوا، یہ کوئی نعرہ نہیں ہے، ہم نے اسے ثابت کر دیا ہے۔‘
انھوں نے خبردار کیا کہ ’اگر امریکیوں نے ایک بار پھر ہمارے ارادوں کا امتحان لیا تو ہم انہیں بڑا سبق سکھائیں گے۔‘
اتوار کو صحافیوں سے اپنے دورہ پاکستان اور جے ڈی وینس کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے قالیباف نے زور دیا کہ ’ہم نے شروع سے اعلان کیا ہے کہ ہمیں امریکیوں پر بھروسہ نہیں ہے۔ ہماری بے اعتمادی کی دیوار 77 سال پرانی ہے اور انھوں نے ایک سال سے بھی کم عرصے میں مذاکرات کے وسط میں ہم پر دو بار حملہ کیا۔ لہذا وہ وہی ہیں جنہیں ہمارا اعتماد حاصل کرنا چاہیے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے بیانات اور آبنائے ہرمز کے بارے میں ان کے انتباہ کے جواب میں قالیباف نے کہا: ’اس طرح کی دھمکیوں کا ایرانی قوم پر کوئی اثر نہیں ہوتا، ہم نے ثابت کیا ہے کہ یہ نعرہ نہیں ہے اور دنیا نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ لڑیں گے تو ہم لڑیں گے اور اگر آپ منطق کے ساتھ آگے آئیں گے تو ہم منطق سے نمٹیں گے۔ ہم انھیں ایک بار پھر ایسی دھمکیوں کو آزمانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
ایران اب بھی جوہری ہتھیار چاہتا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہونے کے بعد، ایران کے جوہری عزائم پر ڈونلڈ ٹرمپ کے مزید بیانات سامنے آئے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران اب بھی جوہری ہتھیار چاہتا ہے اور اس ارادے کا اظہار اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران کیا گیا۔
ٹرمپ نے کہا، ’وہ اب بھی یہ چاہتے ہیں، اور انھوں نے گذشتہ رات یہ بات واضح کر دی۔ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
ٹرمپ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ تہران ’اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ نہیں تھا‘۔
اس سے پہلے، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ دونوں فریق معاہدے کے ’بالکل قریب‘ پہنچ چکے تھے، لیکن ایران کو ’انتہائی سخت موقف، بدلتے ہوئے مطالبات، اور رکاوٹوں‘ کا سامنا کرنا پڑا۔