شام: داریا میں چار سال بعد پہلی امداد

وقت اشاعت

عالمی ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ نومبر 2012 کے بعد سے پہلی بار امدادی سامان دمشق کے مضافاتی علاقے داریا پہنچایا گیا ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ داریا میں اشیائے خوردو نوش، صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت ہے۔

بدھ کی صبح 48 گھنٹے کی جنگ بندی ہوئی جس کے دوران ویکسین، بچوں کا دودھ، ادویات اور دیگر اشیا علاقے میں پہنچائی گئی ہیں۔

دوسری جانب داریا کے شمالی مغرب میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے معضمیہ میں بھی امدادی سامان پہنچایا گیا۔ اس علاقے میں ایک ماہ قبل امدادی سامان پہنچایاگیا تھا۔

اپریل میں اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ داریا میں شامی فوج کے ہاتھوں چار ہزار افراد محاصرے میں ہیں۔ اس علاقے کی بجلی تین سال قبل ہی کاٹ دی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ متعدد بار شامی فوج سے درخواست کی گئی تھی کہ امدادی سامان داریا میں جانے کی اجازت دی جائے۔ تاہم شامی فوج نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔

گذشتہ ماہ تمام فریقوں کے سمجھوتے کے باوجود ایک امدادی کاروان کو داریا میں جانے سے روک دیاگیا تھا۔

بدھ کو داریا میں امدادی سامان اقوام متحدہ، عالمی ریڈ کراس اور شامی ہلال احمر کی ٹیموں نے پہنچائی ہے۔

روس کی وزارت دفاع نے بدھ کو کہا کہ روس نے شامی حکام کے ساتھ مل کر 48 گھنٹوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا تاکہ داریا میں امدادی سامان پہنچایا جا سکے۔

داریا کے قریب ہی فوجی ہوائی اڈہ ہے جو کہ روسی فوج کے زیر استعمال ہے۔

یاد رہے کہ داریا ان شہروں میں سے ہے جہاں شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔