جرابوں اور شیمپو کی بوتلوں میں چھپائے گئے 90 زہریلے سانپ اور چھپکلیوں کی سمگلنگ کی کوشش ناکام

Two green snakes on the ground, one partially on top of a green plastic stand
،تصویر کا کیپشنسانپوں اور چھپکلیوں میں سے بعض سفر کے دوران ہلاک ہو چکے تھے
    • مصنف, پولین کولا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 3 منٹ

جرمنی کے شہر کولون کے ایئرپورٹ پر ایک شخص کو 90 سے زیادہ چھپکلیاں اور زہریلے سانپ سمگل کرنے کی کوشش کے دوران روک لیا گیا۔

کسٹمز حکام کے مطابق 45 سالہ میکسیکن فائر فائٹر ہوائی اڈے کے گرین چینل (جہاں کچھ بھی بتائے بغیر مسافروں کو باہر نکلنے کی سہولت دی جاتی ہے) کے راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس دوران وہ غیر معمولی طور پر گھبرایا ہوا لگ رہا تھا جس نے وہاں موجود عملے کو شک میں مبتلا کر دیا۔

حکام نے پہلے اس شخص کا منشیات کا ٹیسٹ کیا جس میں کوکین کے اثرات مثبت پائے گئے۔ اس کے بعد اس مشتبہ شخص کے سوٹ کیس کو تفصیلی چیک کیا گیا۔

اگرچہ سوٹ کیس سے منشیات برآمد نہیں ہوئیں تاہم اس میں وائپرز اور ریٹل سمیت کئی زہریلے اقسام کے سانپ، چھپکلیاں یہاں تک کے ایگوانا بھی موجود تھے۔

حکام کے مطابق ان رینگنے والے جانوروں کو شیمپو اور کریم کی بوتلوں، پلاسٹک کے ڈبوں اور جرابوں میں چھپایا گیا تھا۔

کولون ایئرپورٹ کے کسٹم کے شعبے کے ترجمان جینز اہلینڈ نے کہا کہ ہوائی اڈے پر کام کرنے والے اہلکار سوٹ کیسوں میں غیر معمولی اشیا دیکھتے آئے ہیں، تاہم میکسیکو سے 37 زندہ زہریلے سانپوں اور 55 چھپکلیوں کی آمد جیسا معاملہ پہلے کبھی سامنے نہیں آیا۔

حکام کے مطابق سوٹ کیس سے برآمد ہونے والے تمام سانپ اور چھپکلیاں زندہ نہیں تھیں۔

ان کے مطابق بعض جانوروں کو انتہائی نامناسب حالات میں رکھا گیا تھا جبکہ کچھ میکسیکو سٹی سے استنبول کے راستے آنے والے سفر کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

اس شخص (جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی) نے حکام کو بتایا کہ وہ یہ جانور برازیل سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک جاننے والے کے کہنے پر لا رہا تھا۔

حکام نے اسے جرمنی میں داخلے کی اجازت نہیں دی اور اسے واپس استنبول بھیج دیا گیا۔

دوسری جانب زندہ بچ جانے والے جانوروں کو جرمنی میں سانپوں کی دیکھ بھال کے ایک مرکز میں رکھا گیا ہے۔

کسٹمز کے ترجمان نے کہا کہ ’گذشتہ سال ملک بھر میں 1300 سے زیادہ ایسی کارروائیاں کی گئیں جن میں معدومیت کے خطرے سے دوچار 56 ہزار 600 سے زیادہ جانوروں، پودوں یا ان سے تیار کردہ مصنوعات کو ضبط کیا گیا۔‘

چھ سال قبل بھی کولون بون ہوائی اڈے پر کسٹمز حکام نے میکسیکو سے کھلونوں اور مٹھائیوں کے پارسلوں میں سمگل کیے گئے 26 نایاب رینگنے والے جانور برآمد کیے تھے جن میں سے 10 ہلاک ہو چکے تھے۔

یہ جانور جرمنی میں نجی خریداروں تک پہنچائے جانے تھے تاہم سمگلنگ کی یہ کوشش ناکام بنا دی گئی تھی۔