’کیمرا ہی آپ کا ہتھیار ہے‘: موت کی دھمکیوں کے باوجود جنسی تشدد کے خلاف ڈٹ جانے والی عراقی خواتین کی کہانیاں

- مصنف, سیلی نبیل
- عہدہ, بی بی سی عربی، بغداد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
انتباہ: اس تحریر میں جنسی تشدد کی تفصیلات موجود ہیں جو بعض قارئین کے لیے تکلیف کا باعث بث سکتی ہیں۔
’گاڑی سے باہر نکلو!‘ ایک خاتون چیختے ہوئے ایک ڈرائیور کو یہ کہتی ہیں۔
خاتون نے اُس ڈرائیور پر الزام لگایا تھا کہ اس نے انھیں اپنے جنسی اعضا دکھائے اور فحش جملے کہے۔ اس ہنگامے کے دوران وہ خاتون عراقی دارالحکومت بغداد کی ایک مصروف سڑک پر اپنے فون سے اِس پورے منظر کی ویڈیو بنا رہی تھیں۔
کیمرے میں یہ بھی ریکارڈ ہوا کہ خاتون کی جانب سے گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش پر ڈرائیور مزاحمت کر رہا ہے۔
یہ اور اس جیسی دیگر ویڈیوز عراقی خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن سارہ جاسم کے انسٹاگرام پیج پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ وہ ان خواتین کی جانب سے یہ ویڈیوز پوسٹ کرتی ہیں جنھیں عراقی مردوں اور لڑکوں کی جانب سے استحصال اور ہراسانی کی شکایت ہوتی ہے۔
سارہ جاسم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کا کیمرا آپ کا ہتھیار ہے۔ اگر کوئی خاتون ہراسانی کرنے والے شخص کے خلاف مقدمہ کرنے یا قانونی کارروائی کا فیصلہ کرے، یا کم از کم اسے شرمندہ کرنے کا فیصلہ کرے تو یہ شواہد محفوظ کرنے کا بھی ایک طریقہ ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ان کی پوسٹ کردہ ایک ویڈیو کے نتیجے میں مبینہ طور پر ایک واقعے میں ملوث شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔ وہ ایک پولیس اہلکار تھا جس پر سکول کی طالبات کو ہراسانی کا شکار بنانے کا الزام تھا۔
سارہ جاسم کا کہنا ہے کہ ’اس نوعیت کی ویڈیوز پوسٹ کرنا ان کے اپنے لیے اور متاثرہ خواتین کے لیے بھی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ہم نے عراق میں استحصال کا نشانہ بننے والی متعدد خواتین سے بات کی ہے، جن کا کہنا ہے کہ معاشرہ اکثر متاثرہ فرد ہی کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

سارہ جاسم کہتی ہیں کہ یہ کام کرنے پر ’مجھے قتل کی دھمکیاں دی گئیں اور مجھ پر تیزاب پھینکنے کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔ مجھ پر بے حیائی کو فروغ دینے کا الزام لگایا گیا ہے، کیونکہ میں ایسی خواتین کو بولنے کی ترغیب دیتی ہوں جن سے معاشرہ خاموش رہنے کی توقع کرتا ہے۔‘
سارہ جاسم اب اپنی حفاظت کے پیشِ نظر بہت کم گھر سے باہر نکلتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’سخت قوانین کی ضرورت ہے، جن میں ایسے قوانین بھی شامل ہوں جو واضح طور پر ’ہراسانی‘ اور ’صنفی بنیاد پر تشدد‘ کو جرم قرار دیں۔ یہ اصطلاحات فی الحال عراق کے ضابطۂ تعزیرات میں موجود نہیں ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’مسئلے کو تسلیم کرنا ہی اس سے نمٹنے کا بہترین طریقہ ہے۔ ہمیں تحفظ کی ضرورت ہے، اور بدسلوکی کرنے والوں کو باز رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات ہونے چاہییں۔‘
’اگر میں تمھیں مار دوں تو کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
عراق کی متعدد خواتین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھیں محسوس ہوتا ہے کہ نظامِ انصاف اور پولیس نے انھیں مایوس کیا ہے۔
استحصال کرنے والے یا ریپ کے مرتکب شخص کے خلاف قانونی کارروائی کرنا عراق میں ایک طویل قانونی عمل ہے، جس میں پیچیدہ طریقۂ کار اور غیر یقینی نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم نے متعدد سماجی کارکنوں اور وکلا سے بات کی ہے جنھوں نے اس صورتِحال کی نشاندہی کی۔
اقوامِ متحدہ میں خواتین کے خلاف امتیازی سلوک سے متعلق کمیٹی کی مئی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق عراق میں خواتین اور لڑکیوں پر تشدد ’وسیع پیمانے پر موجود ہے اور اس کی رپورٹنگ بھی کم ہوتی ہے۔‘ کمیٹی نے اس حوالے سے مزید سخت قانون سازی کا مطالبہ کیا۔
درجنوں سفارشات میں کمیٹی نے حکام پر زور دیا کہ وہ ایسے ’امتیازی‘ قوانین ختم کریں جن کے تحت ریپ کے مجرم کو اس صورت میں سزا سے بری کر دیا جاتا ہے جب وہ متاثرہ خاتون سے شادی کر لیتے ہیں۔
کمیٹی نے ان قوانین کو بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا جو نام نہاد ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے مرتکب افراد کو کم سزا دینے کی اجازت دیتے ہیں۔
امل (فرضی نام) گذشتہ تقریباً پانچ برس سے عدالت میں قانونی جنگ لڑ رہی ہیں۔ اُن کا الزام ہے کہ ان کے سابق شوہر نے ان کی بیٹی، جو اس وقت 18 برس سے کم عمر تھی، کو بار بار بندوق کی نوک پر ریپ کا نشانہ بنایا۔
امل کو اپنی بیٹی کی جانب سے اس واقعے کی بیان کردہ ہولناک تفصیلات یاد ہیں۔ ان کے مطابق لڑکی کے والد اس کے کمرے میں داخل ہوئے اور اپنا ہتھیار اس کے بستر پر رکھ دیا۔ امل کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی سے کہا گیا کہ ’اگر میں تمھیں مار دوں تو کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا۔‘
عراق میں جنسی بدسلوکی پر بات کرنا معیوب خیال کیا جاتا ہے۔ میرا رابطہ اس تشدد سے بچ جانے والی متعدد خواتین سے رہا ہے جن کا کہنا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر خاندان کی جانب سے ردِعمل کے خوف سے اس معاملے پر بات کرنا پسند نہیں کرتی ہیں۔
چند دوسری خواتین نے ہمیں بتایا کہ وہ سماجی سطح پر بدنامی اور ممکنہ ہراسانی کے خوف سے پولیس کے پاس جانے سے ڈرتی تھیں۔ تاہم، امل انصاف کے حصول کے لیے پُرعزم تھیں اور واقعے کی رپورٹ درج کرانے کے لیے فوراً پولیس کے پاس پہنچیں۔
امل کہتی ہیں کہ ’ان کی کلائیوں کے گرد بہت سے نیل پڑے ہوئے تھے، اور ایسا اس وجہ سے تھا کیونکہ ان کے ہاتھ لمبے وقت تک کے لیے مضبوطی سے پکڑ کر رکھے گئے تھے۔ جب بھی وہ چیخنے کی کوشش کرتیں، وہ (شوہر) اپنے ہاتھوں سے ان کا منھ بند کر دیتے تھے۔‘

امل نے مجھے میڈیکل دستاویزات بھی دکھائیں، جن میں ڈی این اے کے شواہد بھی شامل تھے، جو اُن کے بیان کی تائید کرتے ہیں۔
امل کے مطابق، اُن کے سابق شوہر کے ظالمانہ رویے کا ایک اور ثبوت اُس وقت سامنے آیا جب انھوں نے انھیں خاندان کے ایک فرد سے یہ کہتے سُنا کہ اگر اسے گرفتار کر لیا جائے تو ’ہماری بدنامی کے اس داغ کو دھو دینا‘۔
عراق میں یہ جملہ نام نہاد ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے قتل اس عقیدے کے تحت کیے جاتے ہیں کہ کسی خاتون نے خاندان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
امل کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ان کی بیٹی کے والد نے اسے جان سے مارنے کی دھمکی اس لیے دی تھی ’تاکہ طبی رپورٹ سامنے نہ آ سکے اور اس پر ہونے والے حملے کو ثابت نہ کیا جا سکے۔‘
ان کے مطابق، ان کے سابق شوہر اب فرار ہیں اور عدالتی مقدمہ اب بھی زیرِ سماعت ہے۔
امل کہتی ہیں کہ ’میں نے یہ جنگ بالکل اکیلے لڑی۔‘ یہ کہتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے سابق شوہر نے کئی وکلا کی خدمات حاصل کیں، لیکن وہ خود وکیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھیں اور ان کے خاندان نے بھی اس صورتِ حال سے آنکھیں پھیر لیں۔‘
اب انھیں اس بات کی کوئی امید نہیں رہی کہ عدالت کا فیصلہ ان کے حق میں آئے گا۔
وہ مایوسی بھری آہ بھرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میں بس چاہتی ہوں کہ وہ ہمیشہ کے لیے میرے راستے سے دور رہے۔‘
سماجی کارکن کا قتل
امل کی بیٹی کو عراق میں گھریلو جنسی تشدد کا سامنا کرنے والی بعض دوسری خواتین کے مقابلے میں زیادہ محفوظ جگہ میسر ہے، جہاں وہ رہ سکتی ہے۔
تشدد کا سامنا کرنے والی بہت سی خواتین کی اپنی کوئی آمدنی نہیں اور نہ ہی ان کے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ ہے۔ عراق میں تشدد کا شکار خواتین کے لیے محفوظ پناہ گاہیں بھی بہت کم ہیں۔
جن پناہ گاہوں کے بارے میں ہمیں معلوم ہے، وہ ایک ایسی تنظیم نے قائم کی تھیں جس کی شریک بانی یانار محمد تھیں۔ وہ خواتین کے حقوق کی ایک معروف کارکن تھیں اور بین الاقوامی سطح پر پہچانی جاتی تھیں۔ گذشتہ مارچ میں بغداد میں اپنے گھر کے باہر مسلح افراد نے انھیں قتل کر دیا تھا۔ ان کے قتل میں ملوث افراد تاحال نامعلوم ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے لیے کام کرنے والے ماہرین نے اپریل میں اپنی رپورٹ میں لکھا کہ یانار محمد کو کئی برس سے قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں اور آن لائن بھی انھیں ہراساں کیا جاتا تھا۔ ماہرین کے مطابق، ان دھمکیوں اور ہراسانی کے پیچھے ’انتہا پسند مذہبی ملیشیا‘ کا ہاتھ ہونے کا شبہ تھا۔
کارکنوں نے بارہا ہمیں بتایا کہ حالیہ برسوں میں ان کے ساتھیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

خواتین کے حقوق کی ایک اور نمایاں کارکن ہناء ادوار کا کہنا ہے کہ انھوں نے یانار محمد کو قتل سے صرف دو روز قبل دیکھا تھا۔ ان کے مطابق انھیں بھی دھمکیاں دی گئی ہیں۔
انھوں نے مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عراق میں خواتین کے لیے نہ قوانین ہیں، نہ تحفظ اور نہ ہی انصاف۔‘
عراقی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ مصطفیٰ سعدون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’عراق میں مسئلہ یہ نہیں کہ خواتین خاموش رہتی ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ جب وہ بولتی ہیں تو نظام میں ان کی بات سننے والے لوگ بہت کم ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جنسی تشدد کی شکایت کرنے والی خاتون کو پہلے اپنے خاندان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پھر پولیس سٹیشن جانا ہوتا ہے اور اس کے بعد عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔ ان میں سے ہر جگہ پر کوئی نہ کوئی انھیں یہ ضرور کہتا ہے کہ معاملے کو خاموشی سے نمٹا لیا جائے۔‘
’گاڑی میں میرا پیچھا کیا گیا‘
عراق میں ایسی خواتین میں سمیرا بھی شامل ہیں جو سمجھتی ہیں کہ نظام نے انھیں تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ سمیرا ان کا اصل نام نہیں بلکہ ایک فرضی نام ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بار بار ہراسانی کے واقعات کے بعد اب سڑک پر چلتے ہوئے بھی وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔
ان کے بقول ایک مرتبہ پبلک ٹرانسپورٹ میں ایک شخص اپنے فون پر فحش فلم دیکھ رہا تھا اور پھر اچانک سے اس نے اپنے فون کا رُخ ان کی طرف کر دیا۔
بغداد میں پیش آنے والے ایک اور واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ایک شخص نے دس منٹ سے زیادہ وقت تک گاڑی میں ان کا پیچھا کیا۔
سمیرا کے مطابق ’یہ انتہائی پریشان کن تھا۔ میں نے اسی دوران ایک پولیس کی گاڑی دیکھی تو میں اُن کے پاس گئی اور اہلکاروں کو بتایا کہ کیا ہوا ہے۔ اہلکاروں نے کہا کہ ان کے پاس کچھ کرنے کا اختیار نہیں۔‘
اگرچہ سمیرا کی والدہ ان سے بہت محبت کرتی ہیں اور ہر معاملے میں اُن کا ساتھ دیتی ہیں، تاہم اس سب کے باوجود وہ انھیں جنسی ہراسانی کے واقعات کے بارے میں نہیں بتاتیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر میں اپنے گھر والوں کو بتاؤں گی تو وہ فوراً کہیں گے کہ اپنی حفاظت کے لیے گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دو۔‘
سمیرا کا سرکاری اداروں پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پولیس اہلکاروں سمیت بہت سے مرد جنسی ہراسانی کو کوئی غلط بات نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک تو اگر ایک مرد کسی کو ہراساں نہیں کرتا تو وہ مرد ہی نہیں۔‘

عراق میں جن خواتین سے میں نے بات کی، ان میں سے کئی نے پولیس پر بھی جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔ میں نے یہ الزامات عراقی وزارتِ داخلہ کے ترجمان مقداد میری کے سامنے رکھے۔
انھوں نے کہا کہ ’پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے پر ہراسانی کے واقعات پیش آتے ہیں، لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ ایسے اہلکاروں کو سخت سزا دی جاتی ہے، جو دس سال تک قید ہو سکتی ہے اور انھیں ملازمت سے بھی برطرف کر دیا جاتا ہے۔‘
میں نے ان سے کہا کہ بعض خواتین اب پولیس کو شکایت کرنے سے خوف زدہ ہونے کے باعث سوشل میڈیا پر ہراسانی کے واقعات کی تفصیلات اور شواہد شیئر کر رہی ہیں۔ اس پر مقداد میری نے کہا کہ خواتین سوشل میڈیا پر اس لیے پوسٹ کرتی ہیں کیونکہ یہ باضابطہ شکایت درج کرانے سے زیادہ آسان ہے اور کسی مسئلے کی جانب توجہ دلانے کے لیے بھی اب یہ ایک عام طریقہ بن چکا ہے۔
میں نے ان کے سامنے سمیرا کا واقعہ بھی رکھا، جن کے مطابق ایک پولیس اہلکار نے انھیں بتایا تھا کہ وہ ہراسانی روکنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ مقداد میری نے کہا کہ سمیرا اس اہلکار کے خلاف شکایت درج کرا سکتی تھیں۔

عراق میں جنسی تشدد اور ہراسانی کے واقعات کے بارے میں قابلِ اعتماد اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ مقداد میری نے مجھے بتایا کہ پولیس کو رواں سال کے آغاز سے اب تک جنسی تشدد کی تقریباً 300 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ تاہم، وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایسے واقعات کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’معاشرتی دباؤ، رسم و رواج اور روایات کے باعث بہت سے واقعات پولیس تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔‘
بی بی سی سے بات کرنے والی خواتین کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں صرف جنسی تشدد ہی کے خلاف نہیں لڑنا پڑتا، بلکہ ان گہری جڑیں رکھنے والی سوچ اور سماجی تصورات کا بھی سامنا ہے جو ایسے واقعات کے جاری رہنے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
ہناء ادوار 50 برس سے زیادہ عرصے سے خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں، لیکن صورتِ حال کے بارے میں ان کی رائے مایوس کن ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’صدام حسین کی حکومت ختم ہوئے 23 برس گزر چکے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ خواتین کے حقوق کے معاملے میں ہم آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے جا رہے ہیں۔‘
تاہم، ہناء ادوار اور جاسم دونوں کا کہنا ہے کہ وہ ہمت ہارنے کو تیار نہیں۔ سارہ کہتی ہیں کہ ’اگر ہم سب خوف زدہ ہو جائیں گے تو کچھ بھی نہیں بدلے گا۔‘




















