پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کی بندش سے دونوں ملکوں کی معیشت کو کتنا نقصان ہوا؟

Getty Images
    • مصنف, ابراہیم امیری
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باعث تجارتی راستے ایک سال سے بند ہیں جس کے گہرے اثرات نہ صرف دونوں ملکوں کی معیشتوں بلکہ خطے کی تجارت پر بھی پڑے ہیں۔

اکتوبر سنہ 2025 میں دونوں ملکوں کے درمیان مسلح جھڑپوں اور حملوں کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تمام تجارتی راستے بند کر دیے تھے۔

ان راستوں کی بندش سے پاکستان اور افغانستان میں لاکھوں کسانوں، صنعت کاروں، تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور دیگر متعلقہ شعبوں سے وابستہ افراد کی زندگیوں اور کاروبار پر اثر پڑا ہے۔

تجارتی راستوں کی بندش سے افغانستان پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تمام تجارتی راستے اتنے طویل عرصے سے بند ہیں۔

طورخم، سپین بولدک، غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ وہ پانچ اہم تجارتی راستے ہیں جن کے ذریعے ہر سال پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کے علاوہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے مابین اربوں ڈالر کی تجارت بھی ہوتی ہے۔

افغانستان کی طالبان حکومت نے تجارتی راستوں کی بندش کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ پاکستان تجارت کو دباؤ ڈالنے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ طالبان حکومت کا مطالبہ ہے کہ تجارت کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔

تجارتی راستوں کی بندش کے ایک ماہ بعد طالبان حکومت کے نائب وزیرِاعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر نے افغان تاجروں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ تجارت کے لیے متبادل راستے اختیار کریں اور نئی منڈیاں تلاش کریں۔

اگرچہ افغانستان کے تاجروں اور حکومت نے متبادل تجارتی راستوں اور ذرائع کی تلاش پر زیادہ توجہ دی ہے، تاہم پاکستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش کے اثرات افغان معیشت کے مختلف شعبوں میں واضح طور پر محسوس کیے گئے ہیں۔

سرحد بند ہونے سے افغانستان میں تازہ پھلوں اور سبزیوں کی تجارت متاثر

Getty Images

افغانستان اور پاکستان کے مشترکہ چیمبر آف کامرس کے سربراہ خان جان الکوزئی کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش نے کاروبار پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں، خصوصاً تازہ پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات بہت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔‘

ان کے مطابق افغانستان کے کچھ تازہ پھل دیگر ملکوں کو بھی برآمد کیے جا رہے ہیں، تاہم پاکستانی منڈی افغان تازہ پھلوں کے لیے ایک اہم منڈی ہے۔

افغانستان میں تازہ پھلوں کے تاجروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارت بند ہونے کے بعد تازہ اور خشک میوہ جات کی وہ مقدار عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہی جو پہلے پاکستان کے راستے اور پھر وہاں سے انڈیا بھیجی جا سکتی تھی۔ اس کے نتیجے میں افغانستان کی مقامی منڈیوں میں ان پھلوں کی قیمتیں بھی گر گئی ہیں۔

قندھار میں تازہ پھلوں کے تاجر حاجی سعداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ تازہ پھلوں کی قیمتوں میں 80 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔

کراچی کی بندرگاہ سے تجارت متاثر

افغانستان کو پھلوں کی برآمدات میں مشکلات کے علاوہ پاکستان کی کراچی بندرگاہ کے ذریعے ہونے والی تجارت میں بھی نقصان کا سامنا ہے۔

افغان چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بجائے دوسرے راستوں سے افغانستان میں اشیا درآمد کرنا مہنگا پڑ رہا ہے، تاہم مجموعی طور پر افغان تجارت کو کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہے۔

اس وقت افغانستان ایران، روس، ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان، چین، بیلاروس اور ترکی سے زیادہ اشیا درآمد کر رہا ہے۔ ان ملکوں سے تجارت کے لیے استعمال ہونے والے راستے پاکستان کے مقابلے میں طویل ہیں۔

افغانستان اور پاکستان کے مشترکہ چیمبر آف کامرس کے سربراہ خان جان الکوزئی کے مطابق چین اور مشرقِ وسطیٰ کے راستے افغانستان پہنچنے والی اشیا نسبتاً مہنگی پڑ رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’پہلے پاکستان کے راستے ایک کنٹینر افغانستان پہنچانے پر زیادہ سے زیادہ 2,500 ڈالر خرچ ہوتے تھے، لیکن اب متبادل راستوں سے ایک کنٹینر کی ترسیل پر یہ لاگت بڑھ کر 10 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔‘

ایران اور امریکہ جنگ کے اثرات

پاکستان کے ساتھ تجارتی راستے بند ہونے کے چار ماہ بعد امریکہ اور انڈیا نے ایران کے خلاف جنگ شروع کر دی، جس سے نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا بلکہ ایران کے ساتھ افغانستان کی تجارت بھی انتہائی مشکل ہو گئی۔

افغانستان کے لیے تجارت کا مختصر ترین اور سستا ترین راستہ پاکستان سے گزرتا ہے۔ اس راستے کی بندش کے باعث افغانستان میں بعض اشیا کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

بی بی سی نے کابل اور قندھار میں دکانداروں سے بات کی، جن کا کہنا تھا کہ بعض اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ان کے منافع میں بھی کمی ہوئی ہے۔

قندھار میں کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والے حضرت ولی قیس نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے انھیں 80 افغانی منافع ہوتا تھا، جو اب کم ہو کر 20 افغانی رہ گیا ہے۔

مقامی پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ

پاکستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش نے جہاں افغان تاجروں اور حکام کی توجہ متبادل تجارتی راستوں اور منڈیوں کی تلاش پر بڑھائی ہے، وہیں افغانستان میں مقامی پیداوار اور سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

افغانستان میں صنعت کاروں کی انجمن کے سربراہ عبدالجبار صافی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دباؤ نے افغانستان میں خود انحصاری کی ضرورت اور صلاحیت کو بڑھایا ہے۔

ان کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران کئی کارخانوں نے کام شروع کیا ہے اور اب ضروریات پوری کرنے کے لیے پیداواری صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔

ایک سال گزرنے کے باوجود افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور تجارتی راستے بدستور بند ہیں۔ انھیں دوبارہ کھولنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے، جس کے باعث دونوں ملکوں کو معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

تجارتی راستوں کی بندش سے پاکستان کی معیشت بھی متاثر

Getty Images
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان کی جانب سے ایک سال قبل افغانستان کے ساتھ تجارتی راستے بند کیے جانے کے منفی اثرات ملک کی مجموعی معاشی صورتِ حال کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں پر بھی پڑے ہیں۔

پاکستان کے صوبوں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے تاجروں اور کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ تجارتی راستوں کی بندش سے نہ صرف بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں بلکہ کئی کارخانوں میں پیداوار بھی بند ہو گئی ہے یا شدید حد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی اور ٹرانزٹ کے بند ہونے سے پہلے پاکستان سے ہر سال کروڑوں ڈالر مالیت کا سامان افغانستان برآمد کیا جاتا تھا۔ ان اشیا میں مصالحے، ادویات، چاول، ٹیکسٹائل مصنوعات اور مختلف اقسام کے تازہ پھل اور سبزیاں شامل تھیں۔

پاکستان افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ملکوں کے ساتھ بھی تجارت کرتا تھا اور ہر سال ہزاروں ٹن سامان ان راستوں سے منتقل کیا جاتا تھا۔ تاہم، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راستوں کی بندش سے اس تجارت پر انحصار کرنے والے پاکستان کے بہت سے افراد بھی متاثر ہوئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں پاکستان افغانستان مشترکہ ایوانِ تجارت کے سربراہ زاہداللہ شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبے کی 90 فیصد تجارت اور کاروبار کا تعلق افغانستان سے تھا، لیکن اب راستے بند ہونے کے باعث کئی کارخانے بند ہو چکے ہیں یا ان میں پیداوار کم ہو کر صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔

سرحد بند ہونے سے ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی شدید متاثر

Getty Images

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت اور افغانستان کے راستے تجارت کے لیے دسیوں ہزار ٹرک اور ٹریلر استعمال ہوتے تھے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، تجارتی راستوں کی بندش سے پہلے روزانہ 800 سے 1200 ٹرک طورخم، 500 سے 800 ٹرک چمن - سپین بولدک، جبکہ 300 سے 500 ٹرک خرلاچی، غلام خان اور انگور اڈہ کے راستوں سے سامان کی ترسیل کرتے تھے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان سے افغانستان سیمنٹ، ادویات، ٹیکسٹائل مصنوعات، آٹا، چاول اور دیگر اشیا پہنچانے والی پاکستانی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو اب بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔

خیبر پختونخوا میں افغان ٹرانسپورٹ کمپنی کے سربراہ ملک بلال کا کہنا ہے کہ طورخم کے راستے تجارت سے وابستہ ہزاروں افراد اب بے روزگار ہو چکے ہیں، جبکہ ان کے ہزاروں ٹرک بھی کھڑے ہیں اور استعمال نہیں ہو رہے۔

اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ

Getty Images

پاکستان کے صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے متعدد دکانداروں کا کہنا ہے کہ تجارتی راستوں کی بندش نے ان کے کاروبار کو متاثر کیا ہے اور اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں خاص طور پر وہ اشیا شامل ہیں جو پہلے افغانستان سے درآمد کی جاتی تھیں، مثلاً تازہ اور خشک میوہ جات اور سبزیاں۔

پشاور کے ایک دکاندار عمیر نے بی بی سی کو بتایا کہ قیمتوں میں اضافے کے باعث بہت سے لوگ بے روزگار بھی ہو گئے ہیں۔

تجارتی راستوں کی مکمل بندش سے پہلے بھی پاکستان کی جانب سے وقتاً فوقتاً راستے بند کرنے، تجارتی محصولات بڑھانے، ڈرائیوروں کے لیے ویزے لازمی قرار دینے اور کراچی سمیت دیگر بندرگاہوں پر افغان تاجروں کے سامان کو روکنے جیسے اقدامات کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان تجارت متاثر ہو رہی تھی۔

تاہم، اب تجارتی راستوں کی مکمل بندش کے نتیجے میں پاکستان کے صوبوں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں افغانستان کے ساتھ تجارت پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔

اسی وجہ سے گذشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں تاجروں اور صنعت کاروں سمیت مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد بارہا حکومت سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ تجارتی راستے دوبارہ کھولے جائیں۔

خیبرپختونخوا میں پاکستان افغانستان مشترکہ ایوانِ تجارت کے سربراہ زاہداللہ شنواری کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش اور اس کے ذریعے وسطی ایشیائی ملکوں کے ساتھ پاکستان کی تجارت رکنے سے گذشتہ ایک سال کے دوران ملکی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

تجارتی راستوں کی بندش کے منفی اثرات کے پیشِ نظر نہ صرف پاکستانی تاجر اور خیبر پختونخوا و بلوچستان کے رہائشی عمومی طور پر تجارت بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ افغانستان میں بھی لوگ اور تاجر سیاست کو تجارت سے الگ رکھنے کے خواہاں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ تجارتی راستوں کی بندش سے سب سے زیادہ نقصان ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب رہنے والے لوگوں کو اٹھانا پڑے گا۔