سہیل آفریدی کی وائرل تصویر کی حقیقت اور ایمرجنسی، گورنر راج کے خلاف پشاور میں احتجاج کی روداد

- مصنف, عزیز اللہ خان، محمد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اُردو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے دوسرے روز صوبائی دارالحکومت پشاور میں ریڈ زون اور اُس کے اطراف کے کچھ علاقے پیر کے دن بھی سیل رہے جبکہ شہر کے چند حصوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بند رہی ہیں۔
شہر میں تحریک انصاف کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر پولیس اہلکار بڑی تعداد میں تعینات رہے جبکہ آج دوسرے روز بھی متعدد مقامات کنٹینرز کی مدد سے بند رہے۔
ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف تحریک انصاف نے پیر کے روز ہشتنگری چوک میں احتجاجی مظاہرے کا اعلان کر رکھا تھا، جس کے پیش نظر اس مقام پر پولیس کی بھاری نفری صبح ہی سے تعینات رہی۔
تحریک انصاف کے کچھ کارکن ہشتنگری چوک تک پہنچنے میں کامیاب رہے اور اس مقام پر اُن کی پولیس کے ساتھ آنکھ مچولی بھی جاری رہی، تاہم پی ٹی آئی کارکن کوئی بڑا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو وہ کسی قسم کا ٹکراؤ چاہتے ہیں اور نہ ہی اپنے کارکنوں کو کسی خطرے سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ جاری رہے گا جبکہ اُن کی جماعت گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی۔
پشاور میں آج پورا دن کیا ہوتا رہا، اس سے قبل جان لیتے ہیں سوشل میڈیا پر وائرل ایک تصویر کی حقیقت۔
سہیل آفریدی کی وائرل تصویر کی کہانی

اتوار کی صبح خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے ناصرف تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کہیں نظر آ رہی تھی بلکہ ایک بڑا سوال یہ بھی کیا جا رہا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کہاں ہیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اگرچہ پی ٹی آئی کے چند رہنماؤں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ سہیل آفریدی کو حراست میں لے لیا گیا ہے، تاہم حکام کی جانب سے اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا جا رہا تھا۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے لگ بھگ 30 گھنٹے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ سہیل آفریدی نقض امن کے خدشے کے پیش نظر حراست میں ہیں۔
تاہم اس دورانیے میں معلومات کے فقدان کے بیچ ایک تصویر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی جس میں دکھایا گیا تھا کہ سہیل آفریدی بظاہر پولیس اور رینجرز کی وردی میں ملبوس افراد کی حراست میں ایک عمارت میں داخل ہو رہے ہیں۔
بیشتر سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے یہ تصویر شیئر کی گئی جسے دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے یہ کسی سی سی ٹی وی کیمرے کی ویڈیو سے لیا گیا سکرین شاٹ ہو۔
یہ تصویر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بُک، ایکس، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر سہیل آفریدی کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہے، تاہم کیا یہ تصویر حقیقت پر مبنی ہے۔
بی بی سی اُردو نے اِس تصویر کو مختلف آن لائن ٹولز کے ذریعے ویریفائی کرنے کی کوشش کی۔
گوگل (جیمنائی) سنتھ آئی ڈی اور ہائیو ماڈریٹر ٹولز اس تصویر کی تصدیق میں ناکام رہے جبکہ امیج وسپرر نامی پلیٹ فارم نے اس تصویر میں رد و بدل کی نشاندہی کی۔
تاہم ہمیں اوپن اے آئی کے ایمیج ویریفیکیشن ٹول نے اِس تصویر میں سنتھ آئی ڈی واٹر مارک کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ تصویر اوپن اے آئی (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے بنائی گئی ہے۔
سنتھ آئی ڈی ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جسے گوگل ڈیپ مائنڈ نے تیار کیا ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ مواد میں ناقابلِ دید ڈیجیٹل واٹر مارکس شامل کرتی ہے۔
یہ نظر نہ آنے والے واٹر مارکس ان تصاویر، آڈیو اور ویڈیو میں موجود ہوتے ہیں جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی جاتی ہیں۔ یوں بعد میں ان واٹر مارکس کی مدد سے یہ شناخت کی جا سکتی ہے کہ آیا مواد مصنوعی ذہانت کے کسی ماڈل نے تیار کیا ہے یا نہیں۔
اس کے علاوہ سنتھ اے آئی ڈی ٹیکٹر نے بھی اس تصویر کے اے آئی سے بنائے جانے کی تصدیق کی ہے۔
یہ پلیٹ فارم این ویڈیا، اوپن اے آئی، گوگل اور کاکاؤ سے بنائے گئے مواد کو ڈیٹیکٹ (نشاندہی) کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس پلیٹ فارم پر اس تصویر کو اپ لوڈ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس تصویر کو اوپن اے آئی سے بنایا گیا ہے اور اس کی ویریفیکیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس میں مزید رد و بدل کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
پشاور کے ہشتنگری چوک پر دن بھر کیا ہوتا رہا؟

تحریک انصاف کے احتجاج کے پیش نظر پشاور کے ہشتنگری چوک میں پولیس کی بھاری نفری صبح سے موجود تھی جن کے ساتھ قیدیوں کو لے جانے والی گاڑیاں تھیں۔
پیر کے روز دن بھر وقفے وقفے سے ہشپتنگری چوک کے قریب گلیوں اور مختلف راستوں پر موجود پی ٹی آئی کے کارکن باہر نکلتے، نعرہ بازی کرتے اور پھر واپس چلے جاتے۔
اس دوران پولیس کی جانب سے چند کارکنوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
پشاور شہر کے اہم راستوں کو آج دوسرے روز بھی کنٹینروں کے ساتھ بلاک کیا گیا تھا اور شہر کے مختلف مقامات پر پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی مرکزی اور دوسرے درجے کی قیادت کے رہنما احتجاج کے دوران کہیں نظر نہیں آئے۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ صوبے کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو نقض امن کے خدشے کے پیش نظر تحویل میں کیا گیا ہے۔ شوکت یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ سہیل آفریدی کے علاوہ جنید اکبر، بابر سلیم سواتی اور دیگر رہنما بھی پولیس کی تحویل میں ہے اور فی الحال کسی کو کچھ نہیں پتا کہ انھیں کہاں رکھا گیا ہے۔
ہشتنگری پر موجود تحریک انصاف کے ایک کارکن نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا میں کام کرتے ہیں اور اُن کے لوگ یہاں موجود ہیں، لیکن پولیس کے خوف سے وہ سامنے نہیں آ رہے ۔ پولیس اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے درمیان ہشتنگری چوک میں آنکھ مچولی کا سلسلہ شام پانچ بجے تک جاری رہا۔
پشاور کے ہشتنگری چوک پر مظاہرین کو روکنے کے لیے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس آپریشن فرحان خان موقع پر موجود رہے، تاہم انھوں نے میڈیا سے بات چیت نہیں کی۔
اُدھر ضلع خیبر میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی، لیکن پولیس کی جانب سے آنسو گیس اور ہوائی فائرنگ کی گئی جس کے بعد مظاہرین منتشر ہو گئے۔
خیبر پختونخوا کے ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ضلع خیبر میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے محدود پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا، جسے پولیس نے منتشر کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی رہنما شفیع جان نے گذشتہ روز کہا تھا کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمر جنسی نافذ کی گئی تو اُن کی جماعت گورنر ہاوس کا گھیراؤ کرے گی، تاہم پولیس کی بھاری موجودگی کے باعث آج دوسرے روز بھی پی ٹی آئی کے کارکن بڑی تعداد میں پشاور کے کسی مقام پر نہیں نکلے۔
اس بارے میں پی ٹی آئی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت علی یوسفزئی سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ احتجاج اُن کا آئینی حق ہے لیکن جس طرح کے اقدامات پشاور میں کیے گئے ہیں، جیسے کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں اور پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے ایسے میں ان کی جماعت کے قائدین نہیں چاہتے کہ کسی سے ٹکراؤ ہو۔
’ہم ٹکراؤ ہرگز نہیں چاہتے، ہم پرامن ہیں اور پرامن رہیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت وفاقی حکومت کے اقدام کے خلاف ہر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرے گی اور اس دوران پرامن احتجاج جاری رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ ان کا لانگ مارچ جاری رہے گا اور اس میں ان کی کوشش ہو گی کہ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو بھی اس میں دعوت دی جائے۔

پی ٹی آئی کے صوبائی جوائنٹ سیکریٹری اکرام کھٹانہ سے جب صوابی میں موجود لانگ مارچ کا پوچھا گیا، تو انھوں نے ایک ویڈیو بھیجی جس میں پولیس کو وہاں موجود مظاہرین کومنتشر کرتے دکھایا گیا۔
پشاور کے ریڈ زون اور اس کے قریبی علاقوں کو آج دوسرے روز بھی سیل رکھا گیا تھا۔
پشاور کینٹ، خیبر روڈ ، وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ ، گورنر ہاؤس، کور کمانڈ ہاؤس، سول سیکریٹریٹ، پولیس لائن اور سینٹرل پولیس آفس کی طرف جانے والے راستوں کو مختلف مقامات سے بند کیا گیا تھا۔
اِن مقامات کی طرف جانے والے راستوں پر بڑے بڑے کنٹینرز رکھے گئے تھے۔ شہر میں آج بھی بعض علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کام نہیں کر رہی۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز وفاقی حکومت کے فیصلے کے اعلان سے قبل ہی پشاور سمیت صوبے کے متعدد شہروں میں موبائل فون سروس اور موبائل فون انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی تھی، جبکہ ریڈ زون کے علاقے میں کنٹینرز لگا دیے گئے تھے۔
پاکستان میں وکلا نے گورنر راج اور ایمر جنسی کے نفاذ کے فیصلے کے خلاف عدالتوں کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا تھا۔
پشاور کے ہشتنگری چوک پر موجود سعید آفریدی ایڈووکیٹ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ منگل کے روز تحریک انصاف لائرز ونگ کا اجلاس منعقد ہو گا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
پشاور میں اتوار کے روز بھی سڑکوں پر ٹریفک انتہائی کم رہی تھی جبکہ بیشتر کاروباری مراکز اور مارکیٹس بند رہیں۔
اگرچہ پیر کے روز کاروبار کی وجہ سے لوگوں کا رش رہتا ہے، لیکن کچھ علاقوں جیسے رنگ روڈ اور حیات آباد کے علاوہ جی ٹی روڈ پر ٹریفک کم رہی ہے، جبکہ اندرون شہر کے علاقوں میں کنٹینرز کی وجہ سے ٹریفک جام بھی دیکھی گئی ہے۔




















