ایران-امریکہ جنگ بندی: پاکستان کی سفارتی کوششوں نے کیسے دو حریفوں کو مذاکرات پر راضی کیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, روحان احمد اور سارہ حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
جب 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا تنازع کھڑا ہوا تو شاید کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان نہ صرف مرکزی کردار ادا کرے گا بلکہ اسلام آباد کی سفارتکاری ہی جنگ بندی کا باعث بنے گی۔
بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر اپنی ڈیڈلائن میں دو ہفتوں کا اضافہ کر رہے ہیں اور ایران کے ساتھ مذاکرات پر راضی ہیں۔
ایران کی جانب سے بھی جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا گیا، آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادگی کا اظہار کیا اور یہ تصدیق کی گئی کہ وہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لے گا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے تصدیق کر دی ہے کہ اسلام آباد میں 10 اپریل کو مذاکرات ہوں گے اور پاکستان ایرانی اور امریکی وفود کی میزبانی کرے گا۔
اس تحریر کا مقصد یہ جاننا ہے کہ ماضی میں ’بین الاقوامی تنہائی‘ کا شکار سمجھا جانے والا ملک اچانک اپنی سفارتی کوششوں کے سبب دنیا بھر کی توجہ کا مرکز کیسے بنا اور امریکہ اور ایران اس کی ثالثی میں بات چیت پر تیار کیسے ہوئے۔
پاکستان کی ’متوازن‘ پالیسی
ایران نے امریکہ کے حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔ جہاں ایران پاکستان کا پڑوسی ملک ہے وہیں اسلام آباد کے خلیجی ممالک سے بھی دیرینہ اور قریبی تعلقات ہیں۔
پاکستان نے گذشتہ برس سعودی عرب کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے۔
صرف یہی نہیں پاکستان کے امریکی انتظامیہ سے بھی قریبی تعلقات ہیں۔ خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ایک ’قابلِ احترام‘ شخص اور عاصم منیر کو ’میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسے میں پاکستان نے اس تنازع کے ابتدا سے ہی تمام فریقین کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن رکھنے کی کوشش کی ہے۔ جہاں اس نے ایران پر حملوں کی مذمت کی، وہیں خلیجی ممالک پر بھی تہران کے حملوں کے خلاف بھی اسلام آباد کی طرف سے بیانات جاری کیے جاتے رہے۔
پاکستانی وزیرِ اعظم نے امریکی اور اسرائیلی حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کو بھی ’بین الاقوامی قوانین‘ کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہSuzanne Plunkett - Pool / Getty Images
گذشتہ پانچ ہفتوں کے دوران پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دنیا بھر کے رہنماؤں سے رابطہ کیا، پاکستان کی سربراہی میں چار اسلامی ممالک ترکی، سعودی عرب، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان اور چین نے پانچ نکاتی معاہدے پر اتفاق کیا گیا۔
تجزیہ کاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اسی پالیسی کے سبب اسے تمام فریقین کا اعتماد حاصل رہا ہے۔
ماضی میں امریکہ اور اقوامِ متحدہ میں بطور پاکستانی سفیر خدمات سرانجام دینے والی ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی ایک پیچیدہ عمل تھا لیکن پاکستان اپنی پالیسی میں ’توازن برقرار رکھنے کے چیلنج‘ پر پورا اُترا، جس سے عارضی جنگ بندی ممکن ہو سکی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ایران اور امریکہ دونوں ہی تھک چکے تھے اور دونوں ہی کشیدگی میں کمی کے لیے موقع کی تلاش میں تھے اور پاکستان نے دونوں کے درمیان ثالثی اور پیغام رسانی کے ذریعے انھیں یہ موقع انھیں فراہم کیا۔‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ملیحہ لودھی سمجھتی ہیں کہ فریقین کو اس تنازع کے سبب معاشی مشکلات بھی پیش آ رہی تھیں، ٹرمپ کو ملک کے اندر بھی تنقید کا سامنا تھا اور ان کی مقبولیت بھی کم ہو رہی تھی۔
پاکستان کو ثالثی کے اس عمل میں خلیجی ممالک کی حمایت بھی حاصل تھی۔ سابق پاکستانی سفیر کے مطابق اس تنازع کے دوران ’پاکستان کا خلیجی ممالک سے مسلسل رابطہ رہا، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ان ممالک کے سربراہوں کو اعتماد میں لیا اور یہ بات ان کی جانب سے کی فون کالز سے ظاہر ہوتی ہے۔‘
ماضی میں پاکستانی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی سربراہی کرنے والے مشاہد حسین سید بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تعریف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاکستانی قیادت کے’بہتر تعلقات، توازن اور اُصول پر مبنی موقف‘ کی وجہ سے ہی امریکہ اور ایران نے پاکستان پر اعتماد کیا اور عارضی جنگ بندی پر راضی ہوئے۔
’جہاں پاکستان نے سعودی عرب کی آئل فیلڈ پر ایران کے حملے کی مذمت کی، وہیں آبنائے ہرمز سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی یکطرفہ قرارداد کی پاکستان نے حمایت نہیں کی۔‘
’یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو تہران، واشنگٹن، ریاض اور بیجنگ میں وہ پوزیشن ملی جو کسی اور کے پاس نہیں تھی۔‘
یروشلم کی ہیبریو یونیورسٹی سے منسلک ایسوسی ایٹ پروفیسر سائمن وولفگینگ سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے حالیہ وقتوں میں امریکہ کے قابلِ اعتماد پارٹنر کی حیثیت سے اپنی اہمیت منوائی ہے۔
’اس کے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ گہرے مراسم ہیں، ایران کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں، اس نے امریکی انتظامیہ سے قریب سمجھے جانے والے افراد کے ساتھ کرپٹو معاہدے کیے اور ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہوا۔‘
’پاکستان نے تمام سفارتی چینلز کھولنے کے لیے ایک قابلِ اعتماد پارٹنر کی طرف کام کیا کیونکہ اس جنگ کے سبب اس کی اپنی معیشت بھی دباؤ میں تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہAndrew Harnik/Getty Images
ٹرمپ کی ڈیڈلائن اور آخری 48 گھنٹے
صدر ٹرمپ نے ایران کو امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے 7 اپریل تک کا وقت دیا تھا اور ناکامی کی صورت میں ’پوری تہذیب مٹا دینے‘ کی بھی دھمکی دی تھی۔
اس دوران اسرائیل نے ایران پر ایک بڑا حملہ کیا جس کے بعد تہران نے جواب میں سعودی عرب میں پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملے کیے۔
سعودی عرب پاکستان کا دفاعی پارٹنر ہے اور ایرانی حملوں کے بعد پاکستانی فوج کی کور کمانڈر کانفرنس کے بعد ایک سخت بیان سامنے آیا، جس میں ایران کا نام لے کر سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کی گئی۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں سعودی عرب پر ایران کے حملے کو غیر ضروری کیشدگی قرار دیا گیا اور بلاجواز جارحیت پرامن اقدامات اور سازگار ماحول کو متاثر کرتی ہے۔
کنگ فیصل سینٹر فور ریسرچ اینڈ اسلامِک سٹڈیز سے منسلک محقق عمر کریم کہتے ہیں کہ ’یہ پاکستان کی طرف سے واضح اشارہ تھا کہ سعودی عرب پر حملے روکنے کی ضرورت ہے۔‘
’یہ اشارے ایران کو جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے مجبور کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، اور اس لیے بھی کہ ایران آگاہ رہے کہ سعودی عرب پر مزید حملوں کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کے درمیان ’ذاتی تعلقات‘
بین الاقوامی میڈیا میں یہ اطلاعات منظرِعام پر آتی رہی ہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی قیادت سے رابطے میں رہے ہیں۔
خود وائٹ ہاؤس نے کچھ دنوں قبل بی بی سی اردو کو تصدیق کی تھی کہ صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان بھی فون پر بات چیت ہوئی تھی۔
پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی بھی سمجھتی ہیں کہ ’ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ذاتی تعلقات نے بھی پاکستان کی ثالثی کی کوششوں میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔‘
مشاہد حسین سید بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ مصالحت کے اس عمل کی قیادت ’ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ عاصم منیر کر رہے تھے۔
کیا پاکستان عارضی جنگ بندی کو کسی جامع معاہدے میں تبدیل کر سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ پاکستان نے کشیدہ صورتحال میں فریقین کو بات چیت پر راضی کر لیا ہے لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام آباد اس عارضی جنگ بندی کو کسی جامع معاہدے میں تبدیل کروا سکتا ہے؟
پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ ’اس لڑائی نے ثابت کیا ہے کہ جنگ کے تقاضے اب بدل گئے ہیں اور ضروری نہیں ہے کہ وہی ملک جنگ جیتے جو زیادہ طاقتور ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس جنگ نے پہلے ہی بہت نقصان کر دیا ہے، ایران میں تباہی ہوئی، خطے میں امریکہ کے اڈوں کو نقصان پہنچا، عالمی معیشت متاثر ہوئی اور اب وقت ہے کہ دونوں ممالک ممالک اخلاص کے ساتھ پائیدار امن کو حاصل کرنے کی جانب بڑھیں۔‘
’جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے اگلا مرحلہ مشکل ہے اور پاکستان کو چاہیے کہ بہتری کی اُمید کے ساتھ سہولت کاری کرتا رہے۔‘
پاکستان نے اس ثالثی کے تمام عمل میں چین کو اعتماد میں لیا ہے اور مبصرین سمجھتے ہیں کہ بیجنگ اور دیگر ممالک اس مذاکرات کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یروشلم یونیورسٹی سے منسلک ایسوسی ایٹ پروفیسر سائمن وولفگینگ کہتے ہیں کہ ’پاکستان کی سفارتی کوششوں نے جنگ بندی کروانے میں بڑا کردار ضرور ادا کیا ہے لیکن میرے خیال میں اس میں چین کا کردار بھی نتیجہ خیز رہا ہے۔‘
’جب ایران یہ تاثر دے رہا تھا کہ دراصل وہ یہ جنگ جیت رہا ہے تو ایسے میں چین ہی ایسا ملک تھا جو تہران پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈال سکتا تھا، جو شاید پاکستان نہیں ڈال سکتا تھا۔‘
مشاہد حسین سید بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس موقع پر اقوام متحدہ اور خاص کر سلامتی کونسل کے اراکین جیسے چین اور روس کو اس عمل میں شامل کرنا چاہیے تاکہ پائیدار امن کی راہ ہموار ہو۔‘
تاہم پاکستان کی تمام تر کوششوں کے باوجود اب بھی اس پورے عمل پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
سائمن وولفگینگ کہتے ہیں کہ لبنان پر اسرائیلی حملے ایران اور امریکہ کے درمیان کسی متوقع معاہدے میں خلل ڈال سکتے ہیں۔
’اسرائیل نے عوامی سطح پر شہباز شریف کے بیان کی نفی کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ شروع میں امریکہ نے پاکستان کے موقف کی تائید کی تھی لیکن اب وہ اسرائیلی موقف کی حمایت کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔‘
’مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس کے سبب پورا عمل ہی خطرے میں نہ پڑ جائے، لیکن اس میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں ہوگا۔‘

























