لائیو, ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ کسی نے نہیں دیکھا، تنقید کرنے والوں کی بات نہ سنی جائے: امریکی صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کا معاہدہ ’نہ کسی نے دیکھا ہے اور نہ ہی کسی کو معلوم ہے کہ وہ ہے کیا۔ اس پر ابھی مکمل طور پر مذاکرات بھی نہیں ہوئے۔‘ انھوں نے کہا کہ معاہدے پر تنقید کرنے والوں کی بات نہ سنی جائے۔

خلاصہ

  • پاکستان کے امریکہ اور ایران میں ثالث کا کردار ادا کرنے پر انڈیا نے کبھی اعتراض نہیں کیا: امریکی وزیر خارجہ
  • امریکہ، ایران معاہدہ ’نہ کسی نے دیکھا، نہ کوئی جانتا ہے کہ وہ ہے کیا‘: ٹرمپ
  • اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور اُن کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ’ایران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔‘
  • امریکہ، ایران امن معاہدے کی امیدوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی
  • ہمارے خاندان کو بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی کی محسن نقوی سے ملاقات کا کوئی علم نہیں تھا: علیمہ خان

لائیو کوریج

  1. صوابی سوات موٹروے پر بس اور کوچ میں تصادم، 11 افراد ہلاک

    موٹروے پولیس کے مطابق خیبر پختونخوا میں سوات صوابی موٹروے پر اسمعاعلہ کے قریب بس اور کوچ میں تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں 11 مسافر ہلاک اور سات شدید زخمی ہو گئے۔

    موٹروے پولیس کا مؤقف ہے کہ حادثہ وین ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا جس نے سڑک کے کنارے کھڑی بس کو پیچھے سے ٹکر مار دی۔

  2. پاکستان کے امریکہ اور ایران میں ثالث کا کردار ادا کرنے پر انڈیا نے کبھی اعتراض نہیں کیا: امریکی وزیر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    انڈیا کے دورے پر آئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے پوچھا گیا کہ امریکہ، ایران تنازع میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، کیا انڈیا نے اس پر کسی تشویش کا اظہار کیا۔

    مارکو روبیو کا جواب تھا: ’انڈیا ہمیشہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان کی سر زمین سے مسلح دہشت گرد گروہ کام کر رہے ہیں جو انڈیا کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اس پر فکر مند رہتے ہیں۔‘

    تاہم، امریکی وزیر خارجہ کے مطابق: ’جہاں تک ایران کے معاملے میں ثالث اور سہولت کار کے طور پر پاکستان کے کردار کی بات ہے، یہ موضوع کبھی سامنے نہیں آیا۔‘

    مارکو روبیو کا کہنا تھا: ’مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس پر اعتراض کریں گے۔ پاکستان کے ساتھ ان کا مسئلہ مختلف ہے۔‘

  3. آبنائے ہرمز کھول کر وقت کا تعین کر کے جوہری امور پر مذاکرات شروع کرنے کی تجویز ہے: مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    انڈیا کے دورے پر آئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے پوچھا گیا کہ کیا ایران پر کوئی نئی خبر ہے؟

    امریکی وزیر خارجہ کا جواب تھا: ’اس پر ابھی کام چل رہا ہے۔‘

    صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ہمارے پاس ایک خاصی مضبوط تجویز ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق اس تجویز کے خد و خال یہ ہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی جائے اور وقت کا تعین کر کے جوہری امور پر مذاکرات شروع کیے جائیں۔

    مارکو روبیو نے امید ظاہر کی کہ ’ہم اسے ممکن بنا لیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس تجویز کو خلیجی ممالک اور عالمی سطح پر بھرپور حمایت حاصل ہے۔

    مارکو روبیو کے مطابق: ’جس ملک سے ہم نے بات کی، وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ نہ صرف معقول ہے بلکہ دنیا کے لیے درست اقدام ہے۔‘

    ان سے پوچھا گیا کہ پھر تاخیر کس بات کی ہے؟ مارکو روبیو نے جواب دیا کہ ایران کا نظام جواب دینے میں وقت لیتا ہے۔

    انھوں نے کہا: ’یا تو ہم ایک اچھا معاہدہ کریں گے یا پھر اس معاملے سے کسی اور طرح نمٹیں گے۔‘

    سوال ہوا کہ کیا لبنان بھی اس معاہدے کا حصہ ہو گا؟

    اس پر امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’لبنان پر الگ سے کام ہو رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ جب تک لبنان میں مسلح حزب اللہ کا وجود ہے، تب تک امن کا حصول مشکل ہو گا۔

  4. وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کرنے والے ملزم کی شناخت ظاہر کر دی گئی

    وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ سے شیشے پر گولی کا نشان

    ،تصویر کا ذریعہAaron Schwartz/Bloomberg via Getty Images

    بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کرنے والے مبینہ حملہ آور کی شناخت ناصر بیسٹ کے نام سے کی گئی جو میری لینڈ کے علاقے ڈنڈالک کے رہائشی تھے۔

    سی بی ایس نیوز کو حاصل دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیسٹ نے جون 2025 میں بھی وائٹ ہاؤس کے ایک داخلی راستے کو بند کر دیا تھا اور اہلکاروں کو بتایا تھا کہ وہ یسوع مسیح ہیں اور گرفتاری چاہتے ہیں۔ بیسٹ کو ذہنی معائنے کے لیے بھیجا گیا تھا اور انھوں نے جولائی 2025 میں دوبارہ وائٹ ہاؤس کے علاقے تک رسائی کی کوشش کی تھی۔

    اس کے بعد بیسٹ کو سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے گرفتار کیا اور واشنگٹن میں وفاقی کنٹرول والی جگہ پر غیر قانونی داخلے کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق ایک جج نے انھیں وہاں سے دور رہنے کا حکم دیا تھا۔

    ڈی سی سپیریئر کورٹ کے ریکارڈ کے مطابق غیر قانونی داخلے کے الزام میں ابتدائی پیشی کے بعد بیسٹ کو رہا کر دیا گیا تھا، تاہم وہ سات اگست 2025 کی سماعت میں پیش نہ ہوئے، جس کے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔

    قانون نافذ کرنے والے ذرائع نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ سنیچر کے روز بیسٹ وائٹ ہاؤس کے باہر دوبارہ نمودار ہوئے، جہاں انھوں نے ایک بیگ سے ریوالور نکالا اور امریکی سیکرٹ سروس کے ایک چیک پوائنٹ پر فائرنگ شروع کر دی۔

    قانون نافذ کرنے والے ذرائع کے مطابق جوابی فائرنگ کر کے حملہ آور کو ہلاک کر دیا گیا۔

  5. امریکہ، ایران امن معاہدے کی امیدوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی

    پیٹرول پمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ، اسرائیل اور ایران میں جنگ بندی کے معاہدے کی امید پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور ایشیائی سٹاک مارکیٹوں میں تیزی آئی ہے۔

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز کہا کہ تہران کے ساتھ معاہدہ ’بڑی حد تک طے ہو چکا ہے‘ اور اس کی تفصیلات کا اعلان جلد ہی کر دیا جائے گا۔

    تاہم ایک دن بعد انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم سے کہا کہ معاہدے تک پہنچنے میں جلدی نہ کریں۔

    پیر کی صبح ایشیا میں برینٹ خام تیل کی قیمت پانچ فیصد کمی کے ساتھ 98 ڈالر اور 36 سینٹ پر آ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 3.5 فیصد کمی کے بعد 91 ڈالر اور 50 سینٹ ہو گئی۔

    جاپان کا نکئی 225 انڈیکس بھی 2.5 فیصد اضافے کے ساتھ پہلی بار 65 ہزار پوائنٹس کی سطح سے تجاوز کر گیا۔ اس اضافے کو آبنائے ہرمز جلد کھلنے کی توقع سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

    برطانیہ اور امریکہ کی توانائی اور مالیاتی مارکیٹیں پیر کے روز سرکاری تعطیل کی وجہ سے بند ہیں۔

  6. امریکہ، ایران معاہدہ ’نہ کسی نے دیکھا، نہ کوئی جانتا ہے کہ وہ ہے کیا‘: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہRoberto Schmidt/Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کا معاہدہ ’نہ کسی نے دیکھا ہے اور نہ ہی کسی کو معلوم ہے کہ وہ ہے کیا۔ اس پر ابھی مکمل طور پر مذاکرات بھی نہیں ہوئے۔‘

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر میں ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا ہوں تو وہ ایک اچھا اور مناسب معاہدہ ہو گا، اس طرح کا نہیں جیسا کہ اوباما نے کیا تھا، جس نے ایران کو بڑی مقدار میں رقم دی اور جوہری ہتھیار کے لیے ایک واضح اور کھلا راستہ فراہم کیا۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ جو معاہدہ وہ کرنے جا رہے ہیں، وہ اوباما والے معاہدے کے ’بالکل برعکس‘ ہے۔ تاہم ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ معاہدہ نہ تو کسی نے دیکھا ہے نہ کسی کو اس کے بارے میں کچھ معلوم ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ اس معاہدے پر تنقید کرنے والوں کی بات نہ سنی جائے، ’میں خراب معاہدے نہیں کرتا۔‘

    امریکی صدر کی ٹروتھ سوشل پوسٹ

    ،تصویر کا ذریعہtruthsocial.com/@realDonaldTrump

  7. ہمارے خاندان کو بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی کی محسن نقوی سے ملاقات کا کوئی علم نہیں تھا: علیمہ خان

    علیمہ خان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے ایکس اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ بیرسٹر گوہر (چیئرمین پی ٹی آئی) اور سہیل آفریدی (وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا) نے محسن نقوی (وفاقی وزیر داخلہ) سے ملاقات کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے خاندان کو اس ملاقات کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا اور نہ ہی خاندان کا کوئی رکن اس ملاقات میں موجود تھا۔‘

    علیمہ خان بنیادی طور پر ایک ایکس پوسٹ کا جواب دے رہی تھیں، جس میں تحریر کیا گیا تھا کہ سہیل آفریدی، علیمہ خان اور محسن نقوی کی ملاقات بیرسٹر گوہر کے گھر میں ہوئی۔

    اس کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر علیمہ خان کی پوسٹ کا حوالہ دے کر اپنا مؤقف بیان کیا۔ انھوں نے لکھا: ’میری محسن نقوی سے ملاقات بنوں میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات اور صوبے کے امن و امان کے حوالے سے تھی اور اس میں کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی۔‘

    گذشتہ روز پریس کانفرنس میں سہیل آفریدی نے ایک بار پھر تحریک انصاف کا یہ مطالبہ دہرایا کہ ’عمران خان کا علاج ان کی فیملی کی موجودگی میں اور ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں الشفا انٹرنیشنل ہسپتال سے کرایا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ’ہمارا رویہ مزید سخت ہو گا۔‘

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے پریس کانفرنس میں ممبران صوبائی اسمبلی اور وزرا کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کے تحت جمعے کے روز احتجاج میں شرکت کی ہدایت بھی کی۔

  8. کانگریس ٹرمپ کے ایران سے متعلق اقدامات کو روک سکتی ہے: ڈیموکریٹ رکن کانگریس

    ڈیموکریٹ رکن کانگریس رو کھنہ

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    امریکہ میں ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس رو کھنہ نے این بی سی نیوز کے پروگرام میٹ دی پریس میں کہا ہے کہ اب کانگریس میں ’وار پاورز ریزولوشن‘ منظور کرانے کے لیے مطلوبہ حمایت موجود دکھائی دیتی ہے۔

    پس منظر کے طور پر یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن قیادت نے جمعرات کو اس قرارداد پر ووٹنگ منسوخ کر دی تھی، جس کے تحت صدر ٹرمپ کو ایران سے امریکی افواج واپس بلانے پر مجبور کیا جا سکتا تھا، کیونکہ واضح ہو گیا تھا کہ ریپبلکن اراکین کے پاس اس قانون سازی کو روکنے کے لیے ووٹ ناکافی ہیں۔

    رو کھنہ نے کہا کہ ’بہت سے ریپبلکن یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ ختم ہونی چاہیے۔ انھوں نے کسانوں سے بات کی ہے جو کہہ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور کنٹرول کے باعث نائٹروجن، امونیا اور یوریا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ عوام مہنگے پیٹرول کی وجہ سے بھی مشکلات کا شکار ہیں۔‘

    رو کھنہ کے بقول ’یہ تمام صورتحال ٹرمپ پر مذاکرات کی طرف آنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کانگریس اہم ہے۔ حتیٰ کہ اگر قرارداد منظور نہ بھی ہو، تب بھی ہم صدر پر دباؤ ڈالتے ہیں اور امید ہے کہ یہ جنگ ختم ہو جائے گی۔‘

  9. کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرہ مکمل طور پر ختم ہونا چاہیے: اسرائیلی وزیرِاعظم

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انھوں نے گزشتہ رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کی تازہ صورتحال پر بات چیت کی۔

    ایکس پر جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور اُن کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ’ایران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس عمل میں ایران سے ’افزودہ جوہری مواد‘ کا خاتمہ اور تہران کی یورینیم افزودگی کی تنصیبات کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔

    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ’میری پالیسی، صدر ٹرمپ کی طرح، تبدیل نہیں ہوئی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔‘

    دوسری جانب ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ اسرائیل لبنان سمیت ہر محاذ پر خطرات کے خلاف ’آزادانہ طور پر کارروائی کرنے کا حق برقرار رکھے گا۔‘

    عہدیدار کے مطابق امریکہ، اسرائیل کو اس مفاہمتی یادداشت سے متعلق مذاکرات پر مسلسل آگاہ کر رہا ہے، جس کا مقصد ’آبنائے ہرمز کو کھولنا اور متنازع نکات پر حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کرنا‘ ہے۔

    اسرائیلی عہدیدار نے مزید کہا ہے کہ ’صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے اور اس کی سرزمین سے تمام افزودہ یورینیم ہٹانے کے اپنے مستقل مؤقف پر سختی سے قائم رہیں گے اور ان شرائط کو تسلیم کیے بغیر کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی یہ بات کہہ چُکے ہیں کہ جب تک ’جوہری خطرہ‘ مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، ایران کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ ممکن نہیں۔

  10. ایران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے مکمل بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا سابق جوہری معاہدہ امریکی تاریخ کے ’بدترین معاہدوں میں سے ایک‘ تھا، جو باراک اوباما اور ان کی انتظامیہ کے دور میں طے پایا۔

    انھوں نے کہا کہ وہ معاہدہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کی طرف ایک ’براہ راست قدم‘ تھا، تاہم ان کی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اس کے برعکس ہیں۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ’منظم اور تعمیری انداز میں‘ جاری ہیں اور انھوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ کسی معاہدے میں جلد بازی نہ کی جائے کیونکہ ’وقت امریکہ کے حق میں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایران پر امریکی پابندیاں کسی معاہدے کے طے، تصدیق اور دستخط ہونے تک برقرار رہیں گی اور فریقین کو مکمل احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

    ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’کوئی غلطی کی گنجائش نہیں‘ اور امریکہ و ایران کے تعلقات زیادہ پیشہ ورانہ اور مثبت سمت میں جا رہے ہیں، تاہم ایران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جوہری ہتھیار یا بم حاصل نہیں کر سکتا۔‘

    انھوں نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کا تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا، خصوصاً ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت کے ذریعے۔

    انھوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ممکن ہے کہ ایران بھی مستقبل میں ان معاہدوں کا حصہ بننے میں دلچسپی لے۔

  11. ٹرمپ کا مذاکرات کاروں کو جلد بازی نہ کرنے کا مشورہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے مذاکرات کاروں کو کسی بھی معاہدے میں جلد بازی نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں‘ اور انھوں نے امریکی ٹیم کو ’کسی معاہدے میں جلدی نہ کرنے‘ کا کہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’وقت ہمارے حق میں ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کسی بھی حتمی معاہدے تک برقرار رہے گی۔

    انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے مکمل بیان جلد جاری کیا جائے گا۔

  12. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • بحرین کی ایک عدالت نے پاسدارانِ انقلاب سے تعاون کے الزام میں 11 افراد کو قید کی سزائیں سنا دیں
    • اسرائیلی دفاعی افواج نے جنوبی لبنان کے 10 دیہات کے رہائشیوں کو ’فوری طور‘ پر علاقے سے نکل جانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ’حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے پیشِ نظر‘ فوج کو ان کے خلاف ’سخت کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔‘
    • ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کے لیے تیار ہے‘ کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں۔‘
    • ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر علی عبداللہی نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج ’تاریخ کے دردناک تجربات کو دوبارہ دہرانے کی اجازت نہیں دیں گی‘ اور ’کسی بھی جارحیت کا سخت اور انتہائی شدید انداز میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔‘
  13. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔