عدالت کا ریپ کرنے والے لڑکوں کو جیل نہ بھیجنے کا فیصلہ: ’یہ میرے چہرے پر پتھر مارنے جیسا تھا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, لورا کونزبرگ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
دو نوعمر لڑکوں کی جانب سے ریپ کا نشانہ بننے والی ایک لڑکی نے بی بی سی کو بتایا کہ جج کا ان لڑکوں کو جیل نہ بھیجنے کا فیصلہ ’میرے چہرے پر پتھر مارنے جیسا تھا۔‘
لورا کونزبرگ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے 16 سالہ لڑکی نے کہا کہ ’مجھے اس سب سے گزارنے کا کیا فائدہ ہوا؟‘
یہ لڑکی، جس نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے اپنے خاندان کی موجودگی میں بات کی، نے بتایا کہ جج کے فیصلے نے ’تقریباً یہ تاثر دیا جیسے لڑکوں کا عمل ٹھیک تو نہیں تھا لیکن قانون کی نظر میں ٹھیک ہی تھا کیونکہ وہ ابھی بچے تھے۔‘
اٹارنی جنرل، جج نکولس رولینڈ کی جانب سے دی گئی سزا کا جائزہ لینے والے ہیں، جنھوں نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ ’بہت کم عمر‘ لڑکوں کو ’مجرم بنانے‘ سے بچانا چاہتے تھے۔
تنبیہ: اس خبر میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جو بعض افراد کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں
متاثرہ لڑکی 15 سال کی تھیں، جب ہیمپشائر کے فورڈنگ برج میں دریائے ایون کے قریب ایک انڈرپاس میں اُن کا ریپ ہوا۔
وہ نومبر سنہ 2024 میں ان لڑکوں میں سے ایک سے پہلی بار ملنے کے لیے گئی تھیں، جس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سنیپ چیٹ پر اس کے ساتھ ’تعلق‘ قائم کیا تھا۔
دونوں ملزمان، جن کی عمر اب 15 سال ہے، ایک دوسری متاثرہ لڑکی پر حملے کے بھی مجرم قرار پائے، جن کا جنوری سنہ 2025 میں ایک کھیت میں ریپ کیا گیا تھا۔ ایک اور لڑکا، جس کی عمر اب 14 سال ہے، بھی دوسرے حملے میں ملوث ہونے پر مجرم قرار دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
لڑکوں نے ریپ کے دوران اپنے فون پر ویڈیو بنائی اور بعد میں کچھ ویڈیوز آن لائن شیئر بھی کیں۔
ساؤتھیمپٹن کراؤن کورٹ میں سزا سنانے کی سماعت کے دوران جج نے جرائم کی ’سنگینی‘ پر زور دیا اور کہا کہ حملوں کی ویڈیو بنائے جانے سے یہ جرائم مزید ’سنگین‘ ہو گئے ہیں۔
لڑکوں کی عمر سے متعلق تبصرہ کرنے کے بعد جج نے مقدمے کے دوران ان کے رویے کی تعریف بھی کی۔
لیکن لڑکی اور ان کا خاندان چاہتے ہیں کہ سزاؤں میں تبدیلی کی جائے اور لڑکوں کو جیل بھیجا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں ’بس ایک ہلکی سی تنبیہ‘ کے مترادف ہیں۔
لڑکی نے کہا کہ ’میں کیوں عدالت گئی، مقدمہ بھگتا، تمام درد سے گزری، ثبوتوں کے باوجود سب کچھ دوبارہ جھیلا۔‘
’اس سے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ آخر اس سب کا کیا فائدہ تھا۔۔۔ مجھے یہ سب کچھ سہنے کا کیا فائدہ تھا، صرف یہ سننے کے لیے کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔‘
متاثرہ لڑکی نے کہا کہ حملے کے بارے میں بات کرنے میں انھیں چھ ماہ لگے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے اس لیے اس بارے میں بات کی کیونکہ میں اندر سے ٹوٹ رہی تھی۔ میں سنبھل نہیں پا رہی تھی۔ مجھے مدد چاہیے تھی لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کیسے حاصل کروں، اس لیے میں نے بولنا شروع کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ حملے کے بعد سے ’میں صرف اداسی، غصہ، دباؤ، تھکن، سکول، نوکری کی ضرورت اور اپنی زندگی کو سنبھالنے کی کوشش کے بارے میں سوچتی ہوں جبکہ مجھے لگتا ہے سب بکھر رہا ہے۔‘
اٹارنی جنرل کے پاس 28 دن ہوں گے کہ وہ فیصلہ کرے کہ آیا سزاؤں کو کورٹ آف اپیل میں بھیجا جائے یا نہیں۔
کابینہ کے وزیر ڈیرن جونز نے بتایا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ اٹارنی جنرل اس سے پہلے ہی فیصلہ کریں گے اور کہا کہ ’ہم سب چاہتے ہیں کہ اس معاملے کو فوری طور پر دیکھا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ لڑکیاں ’انصاف کی مستحق ہیں اور ان کے خاندان بھی، نہ صرف ان کے لیے بلکہ ان دوسری لڑکیوں کے لیے بھی جو ایسی صورتحال کا سامنا کرتی ہیں۔‘
لڑکی کی والدہ نے کہا کہ حملے کے بارے میں معلوم ہونے کے بعد ان کی دنیا ’رک گئی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سب کچھ رک گیا تھا۔‘
انھوں نے براہِ راست وزیرِاعظم سے اپیل کرتے ہوئے کہا ’براہِ کرم مدد کریں۔ اگر یہ آپ کی بیٹی، بھتیجی، بیٹا، بھانجا یا خاندان کا کوئی فرد ہوتا تو کیا آپ خوش ہوتے؟‘
’کیونکہ ہم خوش نہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ عوام کا کوئی اور فرد بھی خوش ہوگا۔ آپ کے پاس اختیار ہے کہ مدد کر سکیں، اس لیے براہِ کرم مدد کریں۔‘
ان کی والدہ کے ساتھی، جو ان کے ساتھ عدالت میں اس وقت موجود تھے، نے کہا کہ جج کا فیصلہ سن کر انھیں ’جسمانی طور پر شدید دھچکا پہنچا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ متاثرین ہی تکلیف اٹھا رہے ہیں اور مجرم گویا بالکل صاف بچ نکلے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہCPS
سزا سنائے جانے کے حوالے سے ہونے والی عدالتی کارروائی میں ایک 15 سالہ لڑکے کو دونوں لڑکیوں کے ساتھ ریپ کے دو الزامات اور فحش تصاویر کے دو الزامات پر تین سالہ یوتھ ریہیبلیٹیشن آرڈر دیا گیا، جس میں 180 دن کی سخت نگرانی شامل ہے۔
دوسرے 15 سالہ لڑکے کو ہر متاثرہ کے خلاف ریپ کے تین الزامات اور فحش تصاویر بنانے کے چار الزامات پر یہی سزا دی گئی۔
14 سالہ لڑکے کو جنوری سنہ 2025 کے حملے میں دوسرے ملزمان میں سے ایک کو اکسانے کے ذریعے ریپ کے الزامات پر 18 ماہ کا یوتھ ریہیبلیٹیشن آرڈر دیا گیا۔
ریفارم یو کے کے رکنِ پارلیمان رابرٹ جینرک نے کہا کہ ’انصاف نہیں ہوا۔‘
انھوں نے پروگرام کو بتایا کہ ’اگر کسی جج نے بہت بڑی غلطی کی، جیسا کہ میرے خیال میں اس کیس میں ہوا تو انھیں اس کا جوابدہ ہونا چاہیے۔‘
کنزرویٹو رہنما کیمی بیڈنوک نے جمعہ کو کہا کہ وہ اس کیس سے ’شدید صدمے میں‘ ہیں اور مزید کہا کہ ’جرم اس سے زیادہ سنگین شاید ہی ہو سکتا تھا مگر سزا بالکل سزا نہیں تھی۔‘
انگلینڈ میں بچوں کی کمشنر ڈیم ریچل ڈی سوزا نے کہا کہ وہ ’اس سب کے بعد بہت زیادہ پریشان ہیں‘ اور ان کا دفتر متاثرہ خاندانوں سے رابطہ کر کے مدد فراہم کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نہیں چاہتی کہ اس ملک کی کوئی لڑکی یہ محسوس کرے کہ اس کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے اور اس کا درست ازالہ نہیں ہو گا۔‘
حکومتی ترجمان نے کہا کہ ’ہم اس ہولناک کیس کی تفصیلات پر عوامی صدمے میں برابر کے شریک ہیں اور اس مشکل وقت میں ہماری ہمدردیاں متاثرہ نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ہیں۔‘
’قانونی حکام اس کیس کا نہایت سنجیدگی اور فوری طور پر جائزہ لے رہے ہیں۔‘
























