سٹاک مارکیٹ میں ٹرمپ کی سرمایہ کاری پر اٹھتے سوال: امریکی صدر نے کن کمپنیوں کے حصص خریدے؟

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
- مصنف, عمیر محمود
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
’مجھے اپنے سوال کا جواب دینے کی اجازت دیں، یہ ایک ڈوزی تھا۔‘
صحافی کے سوال پر یہ تبصرہ امریکہ کے نائب صدر نے کیا تھا۔ اب یہ ’ڈوزی‘ کیا ہوتا ہے، اس کی وضاحت سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ صحافی نے پوچھا کیا تھا۔
19 مئی کو نائب امریکی صدر جے ڈی وینس پریس کانفرنس کے لیے آئے تو صحافی نے ان سے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت کا پوچھا۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی تفصیلات حال ہی میں سامنے آئی ہیں۔
امریکہ کے دفتر برائے سرکاری اخلاقیات نے 14 مئی کو 113 صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سال کے پہلے تین ماہ میں، یعنی ایران جنگ سے پہلے اور ایران جنگ کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ نے کن کمپنیوں کے سٹاکس (حصص) خریدے اور بیچے۔
دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے سودوں کی تعداد تین ہزار 642 ہے۔
بعض سودوں پر اور ان کی ٹائمنگ پر سوال اٹھ رہے ہیں، انھی میں سے ایک سوال امریکہ کے نائب صدر سے بھی کیا گیا۔
امریکی صدر نے کن کمپنیوں کے حصص خریدے؟
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال کے آغاز میں امریکی کمپنیوں کے شیئرز میں 22 کروڑ ڈالرز سے لے کر 75 کروڑ ڈالرز مالیت تک کے سودے کیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
امریکی دفتر برائے سرکاری اخلاقیات کی جانب سے جاری دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سنہ 2026 کے پہلے تین ماہ کے دوران امریکی صدر نے مائیکروسافٹ، میٹا، اوریکل اور بینک آف امریکہ سمیت کئی کمپنیوں کے شیئرز خریدے۔
اینویڈیا اور ایپل جیسی کمپنیوں کے شیئرز کی خریداری کے لیے 10 لاکھ سے 50 لاکھ ڈالرز تک کی رقم خرچ کی گئی، جبکہ مائیکروسافٹ، ایمازون اور میٹا کے شیئرز میں 50 لاکھ سے لے کر ڈھائی کروڑ ڈالرز تک کی سرمایہ کاری کی گئی۔
ڈونلڈ ٹرمپ جب 14 مئی کو چین کا دورہ کیا تھا تو ٹیسلا، ایپل، بوئنگ اور اینویڈیا سمیت ایک درجن سے زیادہ کمپنیوں کے سربراہان بھی ان کے ہمراہ گئے تھے۔
دفتر برائے سرکاری اخلاقیات کی جاری کردہ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے ایک کمپنی کارگل کے علاوہ ان سبھی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے جن کے سربراہان کو وہ اپنے ساتھ چین لے کر گئے تھے۔
روئٹرز کے مطابق ٹرمپ آرگنائزیشن کے ایک ترجمان نے ای میل کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی سرمایہ کاری ایسے اکاؤنٹس کے ذریعے کی جاتی ہے جنھیں آزاد مالیاتی ادارے خود مختاری سے چلاتے ہیں۔ سرمایہ کاری کے تمام فیصلے ایک خود کار نظام کے تحت یہی ادارے کرتے ہیں۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا: ’نہ صدر ٹرمپ، نہ ان کا خاندان اور نہ ہی ٹرمپ آرگنائزیشن سرمایہ کاری میں کوئی کردار ادا کرتی ہے۔ انھیں شیئرز کی خرید و فروخت کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع بھی نہیں دی جاتی۔‘
ٹرمپ آرگنائزیشن کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ، ان کا خاندان یا ٹرمپ آرگنائزیشن سرمایہ کاری کے فیصلوں پر کوئی رائے بھی نہیں دیتے۔
اگر ٹرمپ آرگنائزیشن کے ترجمان کی بات درست ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت کے فیصلے امریکی صدر نے خود نہیں کیے بلکہ ایک آزاد اور خود مختار مالیاتی ادارے نے کیے۔
تو کیا صدر ٹرمپ اپنے پورٹفولیو میں موجود کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت پر اثر انداز بھی نہیں ہوئے ہوں گے؟ اور پھر ٹرمپ کی جانب سے چند شیئرز کی خریداری سے پہلے اور بعد میں جو کچھ ہوا، وہ بھی قابل توجہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ٹرمپ کے سودوں کا وقت
14 جنوری کو امریکی محکمہ تجارت نے اینویڈیا کی بنائی گئی ایچ 200 چپ چین کو برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ اینویڈیا کے مطابق یہ چپ مصنوعی ذہانت اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کی رفتار میں نمایاں اضافہ کرتی ہے اور مصنوعی ذہانت کے لارج لینگوئج ماڈلز کو تیزی سے چلانے میں مدد دیتی ہے۔
محکمہ تجارت کے بیان میں کہا گیا: ’چین کو کنٹرولڈ (مخصوص یا طے شدہ) شرائط کے تحت ایچ 200 فروخت کرنے کی اجازت دینے سے امریکی ٹیکنالوجی کا نظام مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب امریکی محکمہ تجارت 14 جنوری کو اینویڈیا کو اپنی چپس چین برآمد کرنے کی اجازت دے رہا تھا، اس سے آٹھ دن قبل، چھ جنوری کو امریکی صدر پانچ سے 10 لاکھ ڈالرز مالیت کے اینویڈیا کارپوریشن کے شیئرز خرید چکے تھے۔
دستاویزات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے 10 فروری کو 10 لاکھ سے 50 لاکھ ڈالرز مالیت کے اینویڈیا کمپنی کے شیئرز خریدے۔ اور 17 فروری کو میٹا نے اینویڈیا کے ساتھ ڈیل کر لی جس کے تحت میٹا مصنوعی ذہانت کے اپنے ڈیٹا سینٹرز میں اینویڈیا کی لاکھوں چپس استعمال کرے گا۔
اور کم از کم ایک موقع پر یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ امریکی صدر نے جس کمپنی میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی، اس کے حق میں سوشل میڈیا پوسٹ بھی کی۔ پھر ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد اس کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چھ جنوری، دو مارچ، 11 مارچ، 12 مارچ، 17 مارچ، 18 مارچ، 25 مارچ اور پھر 26 مارچ کو پیلانٹر کمپنی کے لاکھوں ڈالرز مالیت کے شیئرز خریدے۔
ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق پیلانٹر ایک ٹیکنالوجی کمپنی ہے جو ایسی مصنوعات بناتی ہے جن میں ڈیٹا کا تجزیہ کر کے پیچیدہ سوالات کا جواب تلاش کیا جاتا ہے اور فیصلہ سازی میں اداروں کی مدد کی جاتی ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق پیلانٹر دفاعی ضروریات کے لیے ایسے سافٹ ویئر بھی بناتی ہے جن میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جاتا ہے۔
25 مارچ تک اس کمپنی کے شیئر کی قیمت تقریباً 155 ڈالرز تھی۔ لیکن اس کے بعد سے شیئر کی قیمت میں مسلسل گراوٹ دیکھی گئی۔ 10 اپریل کو یہ اپنی چھ ماہ کی کم ترین سطح، تقریباً 128 ڈالرز فی شیئر پر آ چکا تھا۔
اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی۔

،تصویر کا ذریعہtruthsocial.com/@realDonaldTrump
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر انھوں نے لکھا: ’پیلانٹر ٹیکنالوجیز (PLTR) نے جنگی صلاحیتوں اور آلات کے میدان میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے۔ ہمارے دشمنوں سے پوچھ لیں!!!‘
واضح رہے کہ جس کمپنی کے صدر ٹرمپ نے سٹاکس خرید رکھے تھے، اس کی تعریف کرتے ہوئے نہ صرف انھوں نے کمپنی کا نام لیا بلکہ سٹاک مارکیٹ میں اس کی نشاندہی کے لیے استعمال ہونے والی علامت PLTR بھی درج کی۔
ڈیٹا چارٹس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کی اس پوسٹ کے بعد کمپنی کے شیئرز کی قیمت بڑھتی ہی چلی گئی اور 22 اپریل تک تقریباً 153 ڈالرز پر چلی گئی۔

،تصویر کا ذریعہfinance.yahoo.com
ڈوزی کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
یہ تو تھا اس سوال کا پس منظر جو رپورٹر نے امریکی نائب صدر سے کیا تھا۔
رپورٹر نے جے ڈی وینس سے پوچھا: ’جب آپ برسوں پہلے سینیٹ کے لیے انتخاب لڑ رہے تھے تو آپ نے کہا تھا کہ سرکاری عہدے داروں کو انفرادی حصص کی خرید و فروخت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
’اور اس کے باوجود صدر، جن کے پاس غالباً ایک عام سینیٹر کے مقابلے میں غیر عوامی معلومات تک زیادہ رسائی ہے، نہ صرف انفرادی حصص خرید اور بیچ رہے ہیں بلکہ یہ کام اپنے ٹرسٹ کے ذریعے کر رہے ہیں۔‘
اپنے سوال کے دوران رپورٹر نے یہ بھی کہا کہ ’حالیہ رائے شماری کے مطابق امریکی شہریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد صدر کو بد عنوان قرار دے رہی ہے۔‘
اس موقع پر امریکی نائب صدر نے بظاہر سوال کی طوالت سے تنگ آ کر پوچھا: ’آپ کا سوال کیا ہے؟‘
رپورٹر نے کہا: ’سوال یہ ہے کہ آپ اور آپ کی انتظامیہ امریکیوں کو یہ دلیل کیسے دے سکتی ہے کہ آپ بدعنوانی کا خاتمہ کر رہے ہیں اور فراڈ کو روک رہے ہیں جبکہ صدر ایسے حصص کی تشہیر کرتے دکھائی دیتے ہیں جن کے وہ مالک ہیں، انھیں فروخت کرتے ہیں اور خود کو مالا مال کرتے ہیں؟‘
اس پر جے ڈی وینس نے کہا: ’مجھے اپنے سوال کا جواب دینے کی اجازت دیں، یہ ایک ڈوزی تھا۔‘
یعنی نائب امریکی صدر نے رپورٹر کے سوال کو ہی ’ڈوزی‘ قرار دے دیا۔
رپورٹر نے سوال کے لیے جن الفاظ کا چناؤ کیا تھا، جے ڈی وینس اس پر برہم نظر آئے اور کہا ’کچھ تو معروضیت رکھیں۔‘
تاہم صدر کی جانب سے شیئرز کی خریداری پر نائب صدر کا مؤقف تھا کہ ٹرمپ ’اوول آفس میں اپنے کمپیوٹر پر بیٹھ کر حصص کی خرید و فروخت خود نہیں کرتے۔ ان کے پاس آزاد مالیاتی مشیر ہیں جو ان کا سرمایہ سنبھالتے ہیں۔‘
امریکہ کے نائب صدر نے رپورٹر کے اس سوال کو ’ڈوزی‘ قرار دیا تو سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ڈوزی (doozy) کا مطلب کیا ہے؟
کیمبرج کی آن لائن ڈکشنری سے پوچھا جائے تو جواب ملے گا کہ کسی خاص چیز کو، یا غیر معمولی چیز کو ڈوزی کہتے ہیں۔ خاص طور پر ایسی چیز جو غیرمعمولی طور پر بُری ہو۔
کیا امریکی صدر پر سٹاک مارکیٹ میں حصص خریدنے کی پابندی ہے؟
امریکی قانون کے تحت صدر کو سٹاک مارکیٹ میں حصص خریدنے یا فروخت کرنے سے واضح طور پر منع نہیں کیا گیا۔ صدر دیگر سرکاری عہدیداروں کی طرح اپنی مالی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری اور لین دین کی معلومات عوام کے سامنے ظاہر کریں۔
جیسا کہ حال ہی میں امریکی صدر کی سرمایہ کاری کی تفصیلات دفتر برائے سرکاری اخلاقیات کے ذریعے سامنے لائی گئی ہیں۔
امریکی حکومت میں شامل عہدے داروں پر سٹاک مارکیٹ میں شیئرز خریدنے یا بیچنے کی پابندی تو نہیں ہے تاہم اس پابندی کے لیے قانون سازی پر غور ضرور کیا جا چکا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی 26 جولائی 2023 کی خبر کے مطابق ڈیموکریٹ سینیٹر کرسٹن گلیبرینڈ نے کہا تھا کہ انھوں نے اور ریپبلکن سینیٹر جوش ہالی نے ’سرکاری عہدیداروں کے لیے سٹاک ٹریڈنگ پر پابندی کا بل‘ پیش کیا۔
اس بل کی کاپی سینیٹر گلیبرینڈ کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ اس میں اعلیٰ سرکاری عہدیداروں پر سٹاک رکھنے پر پابندی لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔
تو پھر اس بل کا کیا بنا؟
ویب سائٹ گوو ٹریک ڈاٹ یو ایس (govtrack.us) پر امریکی کانگریس میں پیش کیے جانے والے بلز اور قانون سازی کے عمل کی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
اس کے مطابق ’سرکاری عہدیداروں کے لیے سٹاک ٹریڈنگ پر پابندی کا بل‘ 25 جولائی 2023 کو کانگریس کے ایک اجلاس میں پیش کیا گیا تھا، تاہم اس پر ووٹنگ نہیں ہوئی۔
مطلب یہ کہ اس طرح کا پابندی کا سوچا تو ضرور گیا تھا، ایک بل کی دستاویز بھی تیار کی گئی لیکن اس وقت وہ بل سرد خانے میں ہے۔
اور یوں، امریکی صدر یا کوئی بھی اعلیٰ امریکی عہدے دار جب اور جیسے چاہے سٹاکس کا لین دین کر سکتا ہے۔ تاہم خود امریکی نائب صدر اس پر پابندی کے حامی ہیں، اور ان کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ بھی ایسا ہی چاہتے ہیں۔
19 مئی کی پریس کانفرنس کے دوران رپورٹر کے سوال کے جواب میں جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا تھا: ’میں اس بات کا بڑا حامی ہوں کہ امریکی ممبران کانگریس پر حصص کی خرید و فروخت کی پابندی لگائی جائے اور امریکی صدر کا بھی یہی مؤقف ہے۔‘
نائب صدر نے مزید کہا: ’ہم سب کا ماننا ہے کہ کسی بھی شخص کو اپنے عوامی عہدے کی وجہ سے جن معلومات تک رسائی ہوتی ہے، ان کا استعمال کرتے ہوئے وہ حصص کی خرید و فروخت نہ کرے۔‘
ان کا کہنا تھا: ’ہم اس عمل پر پابندی لگانا چاہتے ہیں اور اس کی عملی مثال قائم کرنے کا یہی طریقہ ہو گا کہ یہ عمل غیر قانونی قرار دے دیا جائے۔ اور صدر نے بھی یہی تجویز پیش کی ہے۔‘
ٹرمپ کے منڈیوں پر اثرات: پانچ نمایاں مثالیں

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
یہ پہلی بار نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ سے متعلق شبہات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے پہلے بھی ان کے بیانات اور اقدامات کے منڈیوں پر نمایاں اثرات دیکھے گئے ہیں۔
متعدد مارکیٹوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے سے بی بی سی کو معلوم ہوا تھا کہ صدر ٹرمپ کی کسی سوشل میڈیا پوسٹ یا انٹرویو کے منظرِ عام پر آنے سے چند گھنٹے، اور بعض اوقات محض چند منٹ پہلے ہی کاروباری سرگرمیوں میں مسلسل اور غیر معمولی اضافے کا پیٹرن دیکھنے میں آیا۔
بی بی سی کی 20 اپریل 2026 کی رپورٹ میں اس رجحان کی وضاحت کے لیے پانچ نمایاں مثالیں پیش کی گئیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صدر کے بیانات سے پہلے ہی منڈیوں میں غیر معمولی سرگرمی سامنے آئی یا صدر ٹرمپ کی جانب سے چند اقدامات کا پہلے ہی اندازہ لگا کر اس سے رقم کمائی گئی۔
پہلی مثال
نو مارچ 2026: صدر ٹرمپ نے بیان دیا کہ ایران جنگ ختم ہونے سے قریب ہے۔ اس بیانت کے فوراً بعد تیل کی قیمتیں تقریباً 25 فیصد گر گئیں۔ تاہم، مارکیٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ تیل کی قیمت میں کمی پر بہت بڑی تعداد میں شرطیں صدر ٹرمپ کے بیان سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے ہی لگ چکی تھیں۔
جن تاجروں نے یہ شرطیں لگائی تھیں، انھوں نے ٹرمپ کے بیان کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی اس تبدیلی سے لاکھوں ڈالر کمائے ہوں گے۔
دوسری مثال
23 مارچ 2026: ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ’مثبت بات چیت‘ سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ کی۔ اس پوسٹ سے 14 منٹ پہلے امریکی تیل کی قیمت سے متعلق پیش گوئیوں پر غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں شرطیں لگائی گئی تھیں۔
تیسری مثال
9 اپریل 2025: ٹرمپ نے عالمی ٹیرف میں 90 دن کے وقفے کا اعلان کیا تو سٹاک مارکیٹیں تیزی سے اوپر گئیں (اس سے پہلے انھوں نے دنیا کے تقریباً ہر ملک سے آنے والی اشیا پر وسیع پیمانے پر ٹیرف (محصولات) عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی تھی)۔
لیکن 90 دن کے وقفے کے ٹرمپ کے اعلان سے پہلے ہی کچھ تاجر 20 لاکھ ڈالرز سے زیادہ کی شرطیں لگا چکے تھے کہ سٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہو گا۔ حالاں کہ مارکیٹ کو گذشتہ مسلسل سات دن کے انتہائی خسارے کا سامنا تھا۔
چوتھی مثال
دسمبر 2025 میں بلاک چین پر مبنی پلیٹ فارم پولی مارکیٹ پر ’برڈنسم مکس‘ نامی اکاؤنٹ بنایا گیا۔
جنوری 2026 میں اس کاؤنٹ نے 32 ہزار ڈالرز رقم کی شرط لگائی کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس کے بعد مادورو کو حراست میں لیا گیا اور برڈنسم مکس نامی اکاؤنٹ نے 4 لاکھ 36 ہزار ڈالر جیت لیے۔
پانچویں مثال
فروری میں پولی مارکیٹ پر چھ اکاؤنٹس بنائے گئے تھے۔
تمام اکاؤنٹس نے 28 فروری تک ایران پر امریکی حملے ہونے کی پیش گوئی کی اور شرطیں لگائیں۔ جب صدر ٹرمپ نے اسی دن حملوں کی تصدیق کی تو ان اکاؤنٹس نے مجموعی طور پر 12 لاکھ ڈالر کمائے۔
ان چھ میں سے پانچ صارفین نے اس کے بعد کوئی مزید شرط نہیں لگائی، تاہم ایک اکاؤنٹ کی حالیہ سرگرمی سے ظاہر ہوتا ہے ہے کہ اس نے سات اپریل تک امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہونے پر درست شرط لگا کر ایک لاکھ 63 ہزار ڈالر کمائے، جس کا اعلان اُسی روز واشنگٹن اور تہران نے کیا تھا۔
تاہم، بی بی سی کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر امریکی حکام میں سے کسی نے بھی اندرونی معلومات کی بنیاد پر تجارت کے الزامات کو تسلیم نہیں کیا۔

























