ایران کی فوجی حکمت عملی میں مرکزی کردار نبھاتے شاہد ڈرونز: کیا انڈیا کو بھی ایسے ہی کسی ہتھیار کی ضرورت ہے؟

،تصویر کا ذریعہMorteza Nikoubazl/NurPhoto via Getty Images
- مصنف, سچیت ویر سنگھ
- عہدہ, دفاعی ماہر
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
آپریشن ایپک فیوری کے شروع ہونے کے بعد مغربی ایشیا میں تباہی مچانے اور جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹمز کو ناکام بنانے میں ایران کے کم لاگت والے کامیکازی شاہد ڈرون کافی مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ ان ڈرونز نے جدید جنگ اور اس کے اقتصادی فارمولے میں ایک نیا پہلو متعارف کروا دیا ہے۔
ایران نے بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ اپنے شاہد ڈرون کا استعمال پورے مغربی ایشیا میں سینسرز، ریڈارز، فوجی ٹھکانوں، تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا ہے۔
گذشتہ ایک ماہ میں خلیجی خطے میں پھیلی افراتفری نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ جدید جنگی میدان میں ڈرون اور فضائی طاقت کی اہمیت کتنی زیادہ ہو گئی ہے۔ 2022 میں روس اور یوکرین کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ عسکری حکمت عملی ہر جگہ اپنائی جا رہی ہے۔
شاہد ڈرون سے ہونے والا بھاری نقصان اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کم لاگت والے کامیکازی ڈرون کو بڑے پیمانے پر فوجی ہتھیاروں کے ذخیرے میں شامل کرنے کا کتنا سٹریٹجک فائدہ ہو سکتا ہے۔
جنگ کے بدلتے اقتصادی فارمولے

،تصویر کا ذریعہLockheed Martin
انڈیا کے لیے یہ سبق بہت اہم ہے۔ کیونکہ یہ ملک موجودہ تنازع کے علاقے سے ہزاروں میل دور ہے لیکن اس کی سرحدیں ’دشمنوں‘ سے گھری ہوئی ہیں۔
فروری میں جھڑپیں شروع ہونے کے بعد سے ایران بڑی تعداد میں ڈرون استعمال کر کے فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ خاص طور پر شاہد-136، شاہد-107 اور شاہد-238 ڈرون کا استعمال خلیج کے علاقے میں امریکی اور اسرائیلی ایئر ڈیفنس سسٹمز پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا گیا۔
شاہد 136 اور شاہد 107 پسٹن انجن اور یک طرفہ حملہ کرنے والے لوئٹرنگ مشن ہیں (ایسے ہتھیار جو ہدف کے علاقے میں گھومتے رہتے ہیں)، جبکہ شاہد 238 جیٹ انجن سے چلنے والا لوئٹرنگ مشن ہے۔
ایرانی ڈرون کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ یہ سستے ہیں اور باآسانی بنائے جا سکتے ہیں۔ جنگ میں استعمال کیے گئے شاہد ڈرون کی قیمت 20,000 سے 50,000 ڈالر فی ڈرون پڑتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس کے برعکس انھیں روکنے کے لیے استعمال کیے گئے امریکی اور اسرائیلی ایئر ڈیفنس سسٹم بے حد مہنگے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ کے ٹرمینل ہائی الٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس سسٹم یا پیٹریاٹ میزائل سسٹم (پی اے سی 3) سے کیے گئے ہر ایک انٹرسیپشن (حملہ آور میزائل یا ڈرون کو راستے میں مارنے) پر 10 لاکھ سے 40 لاکھ ڈالر تک کا خرچ آتا ہے۔
لاگت کے بھاری فرق کے علاوہ اور بھی پیچیدگیاں ہیں، جیسے کہ انٹرسپٹر میزائلوں کے سٹاک کا تیزی سے ختم ہونا اور انھیں دوبارہ بنانے اور نصب کرنے کا طویل عمل۔
اطلاعات کے مطابق سپلائی چین کی کمزوریوں کی وجہ سے جنگ میں استعمال ہونے والے ٹاما ہاک میزائلوں کی تلافی میں پانچ سال سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایرانی ڈرون اور میزائلوں کو روکنے میں 800 سے زیادہ انٹرسپٹر میزائل استعمال کیے۔ اس کے برعکس لاک ہیڈ مارٹِن نے سال 2025 میں صرف 620 پی اے سی-3 میزائل بنائے ہیں۔
ایران کے ڈرون کی قیمت اور انھیں غیر فعال بنانے یا روکنے کے لیے امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے انٹرسپٹر سسٹم کی قیمت میں بڑا فرق ہے۔
لاگت کے اسی عدم توازن کو سپلائی چین کے مسائل نے اور گہرا کر دیا ہے۔ اس تنازع نے ایک منفی اقتصادی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اس سے ایران کو اتحادیوں کے مقابلے میں اپنی تقابلی عسکری کمزوری کی تلافی کرنے کا موقع ملا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGailan Haji / Middle East Images / AFP via Getty Images
جنگ کے بدلے ہوئے اقتصادی فارمولے نے ایران کو ایسی حکمت عملی اپنانے میں مدد دی ہے جو اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی ہیں۔
ایرانی ڈرون کو بنانے کے ساتھ ساتھ انھیں دوبارہ تعینات کرنا بھی آسان ہے۔ اس لیے اسرائیل، امریکہ اور خلیجی ممالک کے لیے انٹرسپٹر داغنے کے فیصلے اور اس سے جڑے اقتصادی بوجھ، دونوں کے اثرات مزید بڑھ گئے ہیں۔
لاگت کی یہ منفی اقتصادی صورتحال اتنی مؤثر ہے کہ کچھ خلیجی ممالک کو انٹرسیپٹرز کے اپنے ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے متبادل حکمت عملی اپنانی پڑی ہے۔
خلیجی ممالک نے شاہد ڈرونز کو گرانے کے لیے ایف 16 لڑاکا طیارے فعال کیے ہیں۔ تاہم یہ طریقہ بھی کافی مہنگا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ایف 16 کی پرواز پر فی گھنٹہ لاگت تقریباً 25,000 ڈالر آتی ہے۔
موجودہ صورت حال میں لاگت اور جنگی فائدے کا تناسب ایران کے حق میں ہے اور مغربی صنعتی صلاحیت پر نئے ہتھیار اور انٹرسیپٹر مہیا کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
جنگ کی یہ بدلتی ہوئی اقتصادی صورت حال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ تکنیکی طور پر ترقی یافتہ اور امیر فوجیں بھی کم لاگت والے ہتھیاروں سے لیس ہوشیار اور ماہر مخالف کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اوپن سورس انٹیلی جنس، سیٹلائٹ امیجری اور مصنوعی ذہانت نے جنگ کی تکنیکی ساخت کو مزید بدل کر رکھ دیا ہے۔
انڈیا کے لیے سبق
اگرچہ تکنیکی طور پر جدید ہتھیار افواج کی صلاحیت کو بلاشبہ کئی گنا بڑھا دیتے ہیں، لیکن اب ان افواج کو مستقبل کے تنازعات کے لئے کم لاگت والے جارحانہ اور دفاعی وسائل کی بھی ضرورت ہوگی۔
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کم خرچ کرنے والی اور کم درجے کی ٹیکنالوجی والی افواج ہی فاتح ہوں گی، لیکن اس سے جنگ کے میدان یقینی طور پر کہیں زیادہ پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ اس عدم توازن کے اثرات صرف مغربی ایشیا کے موجودہ تنازع تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ آگے بھی وسیع تر اثر ڈالیں گے۔
انڈیا مغربی ایشیا میں جاری لڑائی سے اگرچہ دور ہے، لیکن اس سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔ اس جنگ کے انڈیا کے لئے کئی اہم معنی ہیں۔
جیسا کہ پچھلے سال گرمیوں میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والے فضائی تصادم میں سامنے آیا تھا کہ ڈرونز اب جنوبی ایشیا کے تنازعات میں بھی ایک مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہاں تک کہ میانمار میں بھی فوجی حکومت اور باغیوں کے درمیان ڈرون جنگ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مغربی ایشیا کے موجودہ تنازع سے سامنے آنے والی تیز تکنیکی ترقی اور غیر متناسب ڈرون حکمت عملی سے برصغیر میں جنگ اور بھی پیچیدہ ہو جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہNasir Kachroo/NurPhoto via Getty Images
انڈین فوج کے ڈرون ہتھیاروں کے ذخیرے میں کئی ہائی ٹیک ڈرون ہیں۔ ان میں اسرائیلی جاسوس ڈرون آئی اے آئی سرچَر اور ہارپر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل سے آئے ہوئے لوئٹرنگ گولہ بارود، جیسے ہاروپ اور ہارپی بھی ہیں، جن کا استعمال آپریشن سندور کے دوران کیا گیا تھا۔
ہارپی کا ایک ورژن- سکائی سٹرائکر انڈیا میں مشترکہ طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ امریکی ساخت کے ایم کیو-9 ریپر ڈرون بھی وقت کے ساتھ انڈین ذخیرے میں شامل کیے جائیں گے۔ ڈومسٹک کامیکازی ڈرون، جیسے کہ ناگاستر 1، کو بھی آپریشن سندور کے دوران تعینات کیا گیا تھا۔
انڈین فوجی ذخائر میں ایک بڑی اور واضح کمی یہ ہے کہ سستے اور آسانی سے بنائے جانے والے کامیکازی ڈرونز بہت محدود تعداد میں دستیاب ہیں۔
انڈیا کو کامیکازی ڈرونز خریدنے، ان کی تیاری اور خریداری دونوں منصوبوں کو نمایاں طور پر بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے پاس ناگاستر اور شیش ناگ جیسے ڈرونز تو موجود ہیں، لیکن چھوٹی چھوٹی اور ٹکڑوں میں کی گئی خریداری سے یہ بڑے پیمانے پر استعمال کے قابل نہیں بن پاتے۔

،تصویر کا ذریعہImad Basiri/Anadolu via Getty Images
ضرورت اس بات کی ہے کہ فوج کم لاگت والے کامیکازی ڈرونز کو اگر دسوں ہزار کی تعداد میں نہ سہی تو ہزاروں کی تعداد میں آرڈر کرے۔
موجودہ طریقے کے تحت محدود تعداد میں آرڈر دیے جاتے ہیں اور انھیں حاصل کرنے میں طویل وقت لگتا ہے۔ طویل مدت میں یہ طریقہ کار فائدہ مند نہیں ہوگا۔
خلیج کے ممالک کے پاس اس طرح کے سسٹم کی کمی ہے اور اس کے منفی اثرات موجودہ جنگ میں دیکھنے کو ملے ہیں۔ یہ کم قیمت یا سستے سسٹمز موجودہ فضائی دفاعی نظام کے اوپر ایک اضافی تہہ کے طور پر کام کریں گے۔
اس سے مہنگے فضائی دفاعی نظام کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے گا اور دشمن کے کم قیمت کے کامیکازی ڈرون سے نمٹنے میں ان کا استعمال محدود رہے گا۔
ان اقدامات کو نافذ کرنے کے لیے انڈیا میں ادارہ جاتی اور سیاسی، دونوں سطحوں پر عزم کی ضرورت ہوگی۔
یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ فوج کتنی جلدی اور مؤثر طریقے سے بڑے پیمانے پر خریداری کے عمل کو انجام دے پاتی ہے۔ لیکن اصل مشکل یہی ہے کیونکہ پورا فارمولہ خریداری کے عمل پر مرکوز ہے اور یہ عمل ہر سطح پر پیچیدہ ہوتا ہے۔



























