آسٹریلیا کی سب سے مالدار شخصیت جنھیں اب اپنی دولت کے بڑے حصے سے محروم ہونا پڑے گا

Gina Rinehart

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ نے رائن ہارٹ کو ہدایت دی کہ وہ ماضی اور مستقبل دونوں کی رائلٹیز فریقین کو ادا کرنے کی پابند ہیں
    • مصنف, لانا لیم
    • عہدہ, سڈنی
  • مطالعے کا وقت: 3 منٹ

آسٹریلیا کی سب سے مالدار شخصیت گینا رائن ہارٹ کو اپنی دولت کے ایک حصے سے ہاتھ دھونا ہو گا اور وہ بھی ایک عدالتی فیصلے کی وجہ سے جو ان کی معدنیات کی سلطنت سے جڑے ایک ہائی پروفائل تنازع سے متعلق ہے۔

ان کی دولت کا تخمینہ 27 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ 1992 میں انھیں اپنے والد سے لوہے کی کانیں وراثت میں ملی تھیں لیکن اس کے بعد انھوں نے مغربی آسٹریلیا میں معدنیات سے بھرے خطے پیلبارا میں نئی کانیں قائم کیں اور اپنی سلطنت کو وسعت دی۔

ان کے اپنے دو بچوں سمیت ان کے والد کے کاروباری شراکت داروں نے دعوی کیا کہ ان کو بھی وراثت میں رائلٹیز اور کان کنی کے حقوق ملنے چاہییں۔

یہ تنازع ایک قانونی جنگ کی شکل اختیار کر گیا جو تیرہ سال جاری رہی۔ بدھ کے دن ملک کی سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے رائن ہارٹ کو ہدایت دی کہ وہ ماضی اور مستقبل دونوں کی رائلٹیز فریقین کو ادا کرنے کی پابند ہیں تاہم کان کنی کے حقوق پر ان کا اختیار تسلیم کر لیا گیا۔

اس قانونی جنگ کا مرکز ہوپ ڈاونز ہے جو آسٹریلیا میں لوہے کی کان کنی کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔

عدالت میں بتایا گیا کہ رائن ہارٹ کے والد لانگ ہینکوک اور ان کے کاروباری شراکت دار پیٹر رائٹ، جنھیں اس شعبے کا بانی سمجھا جاتا تھا، نے اپنے مشترکہ مفادات کو ایک معاہدے کی شکل دی تھی۔

2023 میں اکیاون دن تک چلنے والے مقدمے کے دوران پیٹر رائٹ کے بچوں نے کہا کہ رائن ہارٹ نے اس معاہدے کی خلاف وزری کی اور ان کو ہوپ ڈاونز سے حاصل شدہ رائلٹیز سمیت کان کنی کے حقوق بھی ملنے چاہییں۔

یہ سائٹ گلوبل مائننگ کمپنی ریو ٹنٹو اور ہینکوک پروسپیکٹنگ مل کر چلا رہے ہیں اور گزشتہ سال اندازوں کے مطابق رائن ہارٹ کی کمپنی نے آسٹریلوی آٹھ سو بتیس ملین ڈالر یہاں سے حاصل کیے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ریو ٹنٹو ہینکوک پراسپیکٹنگ کو 2.5 فیصد رائلٹی ادا کرتی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ اس میں سے نصف رائٹ خاندان کو ملنا چاہیے۔

سمتھ نے کہا کہ رائٹ پراسپیکٹنگ نے نصف مقدمہ جیت لیا، نصف ہار دیا اور ہینکوک پراسپیکٹنگ نے بھی نصف مقدمہ جیتا اور ہارا۔

قانونی مقدمے میں رائن ہارٹ کے دو بچے، بیانکا رائن ہارٹ اور جان ہینکوک، بھی شامل تھے جن کا دعوی تھا کہ ان کی والدہ نے کان کنی کے حقوق خاندانی ٹرسٹ سے لے کر ایک ایسے کاروبار کو سونپ دیے ہیں جس کو وہ چھو تک نہیں سکتے۔

دونوں نے کہا کہ ان کے دادا کا مقصد تھا کہ وہ ہوپ ڈاونز سے حاصل دولت ان کو بھی دیں گے لیکن رائن ہارٹ نے جان بوجھ کر انھیں اس دولت سے محروم رکھا۔

رائن ہارٹ کے وکلا نے موقف اپنایا کہ انھوں نے اس وقت خاندانی ٹرسٹ سے کان کنی کے حقوق لیے جب انھیں اپنے والد کے کاروباری طریقوں پر شک ہوا لیکن ان کے بچوں کا الزام ہے کہ انھوں نے ایسا اس لیے کیا اپنے شوہر کی دوسری بیوی اور سابق ہاوس کیپر روز پورٹیوس کو پیسے نہ دینے پڑیں۔

رائن ہارٹ کے بچوں کا کان کنی کے حقوق پر دعوی مسترد کر دیا گیا لیکن سابق انجینیئر ڈون روڈز کے خاندان کی جانب سے ہوپ ڈاوئنز سے حاصل شدہ رائلٹیز کی درخواست تسلیم کر لی گئی۔

ہینکوک پروسپیکٹنگ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر جے نیوبی نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی ہوپ ڈاونز کی ملکیت کو تسلیم کر لیا گیا اور رائٹ خاندان اور رائن ہارٹ کے دو بچوں کا دعوی مسترد کر دیا گیا۔

رائٹ پروسپیکٹنگ کے ترجمان نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ آخرکار ہمارے حق میں فیصلہ آنے پر خوشی ہوئی۔

رائن ہارٹ آسٹریلیا میں کھیلوں، خیراتی اداروں اور قدامت پسند سیاسی جماعتوں کی مالی مدد کرنے والی سب سے بڑی نجی شخصیت بھی ہیں۔