دو راہباؤں کے درمیان محبت اور شادی کی کہانی: ’ہمیں خدا نے ملوایا‘

Primer plano de dos mujeres que sonríen a la cámara. La de la izquierda luce hábito religioso y la de la derecha una banda en la cabeza.

،تصویر کا ذریعہArchivo Personal

،تصویر کا کیپشنابتدا میں دونوں ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتی تھیں
    • مصنف, آئن الویس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز برازیل
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

فرانسیلیا کوستا اور لوئیزا سیلوِیریو کی ملاقات ایک کانوینٹ میں ہوئی اور ابتدا میں وہ ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتی تھیں۔

لوئیزا ہنستے ہوئے یاد کرتی ہیں کہ جب انھوں نے پہلی بار فران کو دیکھا تو سوچا کہ ’واہ! کیسی مغرور، ناخوشگوار نن ہے۔‘

ناپسندیدگی کا یہ احساس باہمی تھا۔ فران کہتی ہیں کہ ’آپ کو پتا ہے جب آپ کسی کو بغیر کسی وجہ کے پسند نہیں کرتے؟ بس ویسا ہی تھا۔‘

’اور میں نے بھی ان کے بارے میں یہی سوچا۔ اے خدا! کوئی لڑکی اتنی خود پسند کیسے ہو سکتی ہے؟‘

دونوں نے نن بننے کے لیے کانوینٹ میں داخلہ لیا تھا۔

لوئیزا کا کہنا ہے کہ وہ برازیل کی ریاست میناس جیراٖئس میں اپنی نوجوانی کے دوران ایک ’خلا‘ محسوس کرتی تھیں اور کسی مقصد کو پورا کرنے کی پکار محسوس کرتی تھیں۔

فران شمال مغربی برازیل کی ریاست پیشاؤئی کے دیہی علاقے میں نہایت مذہبی دادا دادی کے ساتھ پلی بڑھی تھیں اور انھیں بھی زندگی میں ایک مذہبی مشن کا احساس تھا۔

وقت کے ساتھ ان کی باہمی ناپسندیدگی ختم ہو گئی اور دوستی میں بدل گئی۔ لوئیزا یاد کرتی ہیں کہ ’ہم ایک مقصد کے ساتھ کانوینٹ میں داخل ہوئے تھے اور وہ مقصد خدا کی خدمت تھا۔‘

Dos mujeres sentada en un sillón al aire libre, con árboles al fondo. Ambas se miran sonrientes en actitud afectuosa.

،تصویر کا ذریعہArchivo Personal

،تصویر کا کیپشندونوں نوجوان خواتین نے اپنی ذہنی صحت سے متعلق وجوہات کے باعث کانوینٹ چھوڑنے کا فیصلہ کیا

کانوینٹ سے رخصتی

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

چند برسوں بعد اور ذہنی صحت سے جڑے مختلف ذاتی اسباب کی وجہ سے لوئیزا اور فران دونوں نے مذہبی زندگی ترک کر دی۔

لوئیزا نے اپنی نانی کو کھو دیا اور اس کے بعد انھیں شدید اضطراب کے دورے پڑنے لگے جس کے نتیجے میں ان میں ڈپریشن کی تشخیص ہوئی۔

اس عرصے میں وہ مذہبی تربیت کے ایک ایسے مرحلے سے گزر رہی تھیں جس میں بہت سخت معمول تھا اور جس میں مطالعہ اور کمیونٹی سے باہر سرگرمیاں شامل تھیں۔

علاج اور اپنی ذہنی صحت کی بہتر سمجھ کے بعد انھوں نے جانا کہ انھیں اپنی دیکھ بھال کرنی چاہیے اور اسی بنیاد پر انھوں نے مذہبی زندگی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

فران نے بھی اسی طرح کا راستہ اختیار کیا۔

کووڈ وبا کے دوران وہ حد سے زیادہ خوف محسوس کرنے لگیں: وائرس کا خوف، بیماری دوسروں کو منتقل کرنے کا خوف یا خاندان اور دوستوں سے بُری خبر ملنے کا اندیشہ۔

اس وقت ڈاکٹروں نے ان میں ’پینک سنڈروم‘ کی تشخیص دی جو اچانک اور شدید خوف کے دوروں کی ایک کیفیت ہے۔ اس کے ساتھ جسمانی اور جذباتی علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں۔

علاج کے دوران تھراپی سیشنز میں انھوں نے کانوینٹ میں اپنی زندگی کے معمول پر سوال اٹھانا شروع کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مذہبی زندگی بہت خوبصورت ہے لیکن اس کے لیے جسمانی اور ذہنی صحت ضروری ہے۔ صرف دعا کرنا یا صرف دعوت دینا کافی نہیں اور اس وقت میری زندگی میں میری ذہنی صحت پہلے ہی متاثر ہو چکی تھی۔‘

Dos mujeres sentadas al aire libre se miran sonrientes. La de la izquierda le muestra a la otra lo que parecen ser dos anillos en una cajita.

،تصویر کا ذریعہArchivo Personal

،تصویر کا کیپشنفران نے فلم ’لو اِن ویرونا‘ دیکھنے کے بعد لوئیزا سے اپنے دل کی بات کہنے کا فیصلہ کیا

لیکن کانوینٹ چھوڑنے کے خیال سے فران گھبرا گئیں۔ لوئیزا کے ساتھ گفتگو نے انھیں یہ حوصلہ دیا کہ وہ آخری قدم اٹھا سکیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’لوئیزا کو بھی اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنا تھا اور جب انھوں نے جانے کا فیصلہ کیا تو یہ میرے لیے ایک جھٹکا تھا۔ میں نے سوچا ’اے خدا! اس عمر کی ایک لڑکی زندگی دوبارہ شروع کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ میں ایک نئی شروعات کا تصور بھی نہیں کر پا رہی جبکہ حقیقت میں، میں نے یہاں سے باہر زیادہ وقت گزارا ہے۔‘

ایک نئی زندگی

جلد ہی دونوں کو کئی عملی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

فران کو کانوینٹ چھوڑنے کے لیے نئے کپڑے خریدنے پڑے کیونکہ ان کے تمام کپڑے مشنری مرحلے سے متعلق تھے۔

لوئیزا کہتی ہیں کہ ’آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کوئی تعلیم حاصل کر سکیں گے یا نہیں۔ یا آپ کو ملازمت ملے گی یا نہیں کیونکہ یہ مشکل ہے۔ یہاں کی زندگی آسان نہیں۔‘

فران اس سے اتفاق کرتی ہیں کہ ’تصور کریں کہ آپ ملازمت کے انٹرویو میں ہیں اور وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے کیا پڑھا۔ ’تھیولوجی‘۔ میں کہاں کام کروں گی؟‘

سب سے بڑا معاشی مسئلہ کرایہ ادا کرنا تھا۔

اسی لیے انھوں نے بطور دوست ایک اپارٹمنٹ مشترکہ طور پر لینے کا فیصلہ کیا۔ اسی دوران دوستی محبت میں بدلنا شروع ہوئی۔

مگر پہل فران نے کی تھی۔

انھوں نے ایک رومانوی کامیڈی فلم ’لو اِن ویرونا‘ دیکھنے کے بعد لوئیزا سے اپنے جذبات کا اظہار کیا جس میں کردار ابتدا میں ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں پھر محبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

دونوں کے درمیان احساس یکساں تھا اور دوستی ایک رشتے میں بدلی جو بعد میں شادی تک جا پہنچی۔

Dos mujeres vestidas de blanco se besan en su boda.

،تصویر کا ذریعہArchivo Personal

،تصویر کا کیپشنفرانسیلیا اور لوئیزا کی ملاقات کانوینٹ میں ہوئی اور وہ شادی کے بندھن میں بندھ گئیں

دونوں آج بھی مذہبی طور پر سرگرم کیتھولک ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہی احساسِ مشن جس نے انھیں ماضی میں کانوینٹ پہنچایا تھا، اب ایک اور میدان میں جاری ہے، یعنی سوشل میڈیا۔

کانوینٹ کی ساتھیوں سے شادی تک، وہ اپنی روزمرہ زندگی اور اس غیر معمولی سفر کی تفصیلات شیئر کرتی ہیں۔

وقت کے ساتھ انھیں مختلف صارفین کی جانب سے سوالات ملنے لگے، کچھ مسیحیوں کے جو اپنی شناخت کے بارے میں شکوک رکھتے تھے اور کچھ ایل جی بی ٹی افراد جو مذہب کے قریب آنے سے ہچکچاتے تھے۔

لوئیزا کہتی ہیں کہ ’اس نے واقعی ہمیں اپنی کہانی کھل کر بیان کرنے کی خواہش دی، اپنی شناخت اور اپنے ایمان کے بارے میں، جو ہمارے لیے مکمل طور پر معنی رکھتا ہے اور آج بہت سے لوگوں کی مدد کر رہا ہے۔‘

انسٹاگرام پر مواد بنانے کے علاوہ دونوں آج کل مائیکرو کاروبار سے بھی وابستہ ہیں۔

لوئیزا رئیل اسٹیٹ میں کام کرتی ہیں جبکہ فران ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی مینجمنٹ اور حکمت عملی پر کام کرتی ہیں۔

’کانوینٹ کوئی فرار نہیں تھا‘

ان کی کہانی کے بارے میں ایک عام تاثر ہے جس کی لوئیزا تصحیح کرنا چاہتی ہیں، یعنی یہ خیال کہ کانوینٹ چھوڑنا ایک دبی ہوئی شناخت جینے کا واحد راستہ تھا۔

لوئیزا کہتی ہیں کہ ’یہ ہم سب سے زیادہ سنتے ہیں کہ ’وہ اپنی شناخت سے بچنے کے لیے کانوینٹ گئیں اور پھر باہر نکل آئیں کیونکہ وہ کچھ اور چاہتی تھیں‘ مگر حقیقت ایسی نہیں۔‘

’اس وقت ہماری توجہ خدا کی خدمت پر تھی، اس راستے پر جو اس نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا۔‘

Dos mujeres jóvenes con gafas y ropas apretadas sonríen a la cámara. Tras ellas cuelga de la pared un cartel que dice "Diversidade catolica".

،تصویر کا ذریعہArchivo Personal

،تصویر کا کیپشنلوئیزا کہتی ہیں کہ جب وہ کانوینٹ گئیں تو ان کا ارادہ واقعی تنہائی کی زندگی گزارنے کا تھا

مشنری زندگی میں داخل ہونے سے پہلے دونوں خود کو بائی سیکشوول سمجھتی تھیں، یعنی وہ لوگ جو مرد و خواتین دونوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر سکتے ہیں۔ اس کا ان کے کانوینٹ میں جانے کے فیصلے پر اثر نہیں پڑا۔

لوئیزا کہتی ہیں کہ ’اس نے ہمیں خدا سے ڈرنے یا وہاں رہنے سے نہیں روکا۔‘

’میں کسی سے تعلق نہیں رکھنا چاہتی تھی۔ میں واقعی تنہائی کی زندگی گزارنا چاہتی تھی، مذہب میں رہنا چاہتی تھی، چرچ میں۔‘

’میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میں چلی جاؤں گی اور کسی کے ساتھ تعلق قائم کروں گی۔‘

فران بھی اتفاق کرتی ہیں کہ ’کسی اور چیز کے بارے میں سوچنے کا وقت ہی نہیں تھا۔‘

’یہی اس زندگی کو چھوڑنے کی مشکل بھی تھی۔ داخل ہونا بہت آسان تھا، نکلنا سب سے مشکل چیز تھی جس کا مجھے سامنا کرنا پڑا۔‘

بعد میں جب وہ اکٹھی رہنے لگیں اور انھیں ایک دوسرے کے لیے محبت کا احساس ہوا تو نئے سوالات سامنے آئے۔

یہ مسائل خاندان سے متعلق نہیں تھے۔ ’ہمیں کبھی گھر میں اس ردعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑا جس کا سامنا ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے بہت سے لوگوں کو ہوتا ہے۔‘

ان کے مطابق خاندان کا قبول کرنا ان کی کہانی کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک رہا۔

سب سے پہلے ان کی بہنوں کو اس بارے میں پتا چلا۔ اصل سوالات مذہبی نوعیت کے تھے۔ وہ کیسے اسی کیتھولک عقیدے میں رہ کر ایمان پر عمل جاری رکھیں جو ان کے تعلق کو تسلیم نہیں کرتا؟

لوئیزا کے مطابق جواب وقت کے ساتھ سامنے آیا۔ انھیں احساس ہوا کہ دینی اور دنیاوی زندگیاں الگ نہیں بلکہ ایک ہی ہیں۔ ’ہماری شناخت اور ہمارا ایمان الگ نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ ہمارے وجود کا حصہ ہیں۔ ہم ایک ایسا جوڑا ہیں جس کے پاس ایمان ہے، اسے الگ نہیں کیا جا سکتا۔‘

Dos mujeres sonrientes sujetan juntas una foto de Nuestra Señora Aparecida. La de la derecha lleva un vestido de novia; la de la izquierda, una camisa blanca con una flor en el pecho.

،تصویر کا ذریعہArchivo Personal

ایک نیا مشن

فران اور لوئیزا ہم جنس رجحان رکھنے والے کیتھولک افراد کے گروپوں، پادری تنظیموں اور تحریکوں کے ایک نیٹ ورک میں شامل ہیں۔

لوئیزا کہتی ہیں کہ ’یہ جگہ ہمارے ایمان کی راہ کو، بطور فرد اور بطور جوڑا، مزید مضبوط کرتی ہے۔‘

شادی کے دن کانوینٹ دور کے دوست بھی موجود تھے جو اب مذہبی زندگی چھوڑ چکے ہیں۔

تقریب میں مذہبی شخصیات موجود نہیں تھیں تاہم وہ آج بھی اس وقت کے راہبوں اور راہباؤں سے رابطے میں ہیں۔ ’ہمیں بہت محبت، پیغامات اور دعائیں موصول ہوئی ہیں جو ہمارے لیے اور ہمارے دن کے لیے تھیں۔‘

’ہو سکتا ہے ہمارے پاس چرچ کے محراب پر کوئی تصویر نہ ہو لیکن ہمارے پاس ہماری لیڈی آف اپاریسیڈا کی تصویر ہے۔ ہمارے لیے یہ شکرگزاری، شفاعت اور اپنے خاندان کو خدا کے سپرد کرنے کی علامت ہے۔‘

سوشل میڈیا پر آنے والے تمام سوالات صرف شناخت اور مذہب سے متعلق نہیں ہوتے۔

’بہت سے افراد جو ایل جی بی ٹی کمیونٹی کا حصہ نہیں اور کانوینٹ کے اندر ہیں، وہ بھی اس اذیت کا سامنا کرتے ہیں کیونکہ وہ وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔ انھیں اس پیشے کا احساس نہیں ہوتا اور وہ باہر کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔‘

’مگر وہ باہر نکلنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ انھیں نہیں معلوم کہ وہ تعلیم حاصل کر سکیں گے یا ملازمت ملے گی یا نہیں کیونکہ یہاں کی زندگی آسان نہیں ہے۔ مذہبی زندگی خوبصورت ہے لیکن بہت آرام دہ بھی ہے۔‘

فران کہتی ہیں کہ آج یہ کام ان کے لیے نیا مشن بن چکا۔ ’ہمارا مشن یہاں ہونا ہے تاکہ لوگوں کی کہانیاں سنیں اور ان کی مدد کریں۔‘

’سوشل میڈیا کے ذریعے کام کرنے میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ کیسے سننا اور کیسے بات کرنی ہے۔‘

فران کہتی ہیں کہ اپنی ذاتی زندگی میں انھیں خاص طور پر فخر محسوس ہوتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ ایک خاندان بنانا چاہتی تھیں مگر انھیں کبھی وہ ماڈل نہیں ملا تھا جو وہ چاہتی تھیں۔ ’یقین کرنا شاید مشکل ہو لیکن اگر دنیا میں کوئی کیوپڈ (محبت کرنے والوں کو ملانے والا افسانوی کردار) ہے تو ہمارا خدا تھا۔‘

’کیونکہ میں ہمیشہ کہتی تھی کہ اگر مجھے کبھی خاندان بنانا ہوا تو خدا مجھے وہ خاندان دکھائے گا جو وہ چاہتا ہے کہ میں بناؤں۔‘